اس سے متعلق تذکرہ کہ جس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طریقہ سے ارشاد فرمایا اور حضرت جابر کی روایت میں محمد بن عبدالرحمن پر اختلاف
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ، فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟ ) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کردیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ saw some people gathered around a man, so he asked (what was happening) and they said: “It is a man who is exhausted because of fasting.” The Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)