Sunan An Nasai 2242

روزوں سے متعلقہ احادیث

2242Sunan An Nasai

حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ، وَأَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا ؟ فَدَعَاعَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ.

علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ؓ ، عثمان ؓ سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان ؓ عنہ نے ابن مسعود ؓ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آجاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آگئے) تو انہوں نے عثمان ؓ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے وجاء ہے (یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا) ۔

It was narrated from ‘Alqamah that Ibn Mas’ud met ‘Uthman at ‘Arafat and spoke to him in private. ‘Uthman said to Ibn Mas’ud: “Are you interested in a girl so that I marry her to you?” ‘Abdullah called ‘Alqamah and he told him that the Prophet ﷺ said:‘Whoever among you can afford to get married, let him do so. Whoever cannot afford it, let him fast, for fasting will be a restraint (Wija for him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2240
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٠ (١٩٠٥) مختصراً، النکاح ٢ (٥٠٦٥)، صحیح مسلم/الصوم ١ (١٤٠٠)، سنن ابی داود/النکاح ١ (٢٠٤٦)، سنن الترمذی/الصوم ١ (١٠٨١) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الصوم ١ (١٨٤٥) مطولًا، تحفة الأشراف: ٩٤١٧، مسند احمد ١/ ٣٧٨، ٤٤٧، سنن الدارمی/النکاح ٢ (٢٢١٢)، ویأتي عند المؤلف ٣٢٠٩، ٣٢١٠، ٣٢١٣ (صحیح )