روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 4 of 18

2152Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Eat Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2150
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2153Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: In this narration of Yayah bin Saeed, its chain is Hasan but it is Munkar, and I fear that the error is from Muhammad bin Fudail.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2151
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: عطاء عن أبي هريرة کی بجائے أبو سلمة عن أبي هريرة محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥٤) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے )
2154Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ.

زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً ) دن ١ ؎ مگر سورج ٢ ؎ نکلا نہیں تھا۔

It was narrated that Zirr said: “We said to Hudhaifah: ‘At what time did you take Saht with the Messenger of Allah ﷺ?’ He said: ‘It was daytime, but before the sun had risen.” (Da’if)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2152
Notes · وضاحت
١ ؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہوجاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٢٥)، مسند احمد ٥/٣٩٦، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٥ (حسن الإسناد )
2155Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ.

زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ ؓ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہوگئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔

Zirr bin Hubaish said: “I had Sahar with Hudhaifah, then we went out to pray. When we came to the Masjid we prayed two Rak’ahs, then the Iqamah for prayer was said, and there was only a short time between them.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2153
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
2156Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا.

صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، (اتنے میں) نماز کھڑی کردی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔

It was narrated that Silah bin Zufar said: “I had Sahur with Iludhaifah, then we went out to the Masjid. We prayed the two Rak’ahs of Fajr, then the Iqamah for prayer was made, and we prayed.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٥٤ (صحیح الإسناد )
2157Sunan An Nasai

نماز فجر اور سحری کھانے میں کس قدر فاصلہ ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

Hisham reported from Qatadah, from Anas, that Zaid bin Thabit said: “We took Sahar with the Messenger of Allah ﷺ then we went to pray.” I said: “How long was there between them?” He said: “As long as it takes a man to recite fifty verses.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2155
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٧ (٥٧٥)، والصوم ١٩ (١٩٢١)، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٧)، سنن الترمذی/الصوم ١٤ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٦)، مسند احمد ٥/١٨٢، ١٨٥، ١٨٦، ١٨٨، ١٩٢، سنن الدارمی/الصوم ٨ (١٧٣٧) (صحیح )
2158Sunan An Nasai

اسی حدیث میں ہشام اور سعید کا قتادہ کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا (کہا جاتا کہ قلت کا قائل انس ہیں ١ ؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

It was narrated from Anas that Zaid bin Thabit said: “We had Sa with the Messenger of Allah ﷺ then we went to pray.” I (one of the narrators) said: “It is claimed that Anas said: ‘How long was there between them?’ He said: ‘As long as it takes a man to recite fifty verses.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2156
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ معترضہ ہے جو قول اور مقولہ کے درمیان واقع ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2159Sunan An Nasai

اسی حدیث میں ہشام اور سعید کا قتادہ کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ثُمَّ قَامَا فَدَخَلَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا، وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الْإِنْسَانُ خَمْسِينَ آيَةً.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کردی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس ؓ سے پوچھا: ان دونوں کے (سحری سے) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ Zaid bin Thabit had Sahz r, then they went and started to pray Subh. We said to Anas (RA) : “How long was there between their finishing (Sahar) and their starting to pray?” He said: “As long as it takes a man to recite fifty Verses.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2157
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٧ (٥٧٦)، والتھجد ٨ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧)، مسند احمد ٣/١٧٠، ٢٣٤ (صحیح )
2160Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں سلیمان بن مہران کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: ہم میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔

It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “I said to Aishah (RA) : ‘Among us there are two of the Companions of the Prophet ﷺ, One of whom hastens Iftar and delays Sahur and the other delays Iftar and hastens Sahur.’ She said: ‘Which of them is the one who hastens Iftar and delays Sahur? I Said: “Abdullah bin Mas’ud.’ She Said: ‘That is what the Messenger of Allah ﷺ used to do.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2158
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٩)، سنن ابی داود/الصوم ٢٠ (٢٣٥٤)، سنن الترمذی/الصوم ١٣ (٧٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٩)، مسند احمد ٦/٤٨، ١٧٣ (صحیح )
2161Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں سلیمان بن مہران کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فِينَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “I said to Aishah (RA) : ‘Among us there are two men, one of whom hastens Iftar and delays Sahur, and the other delays Iftar and hastens Sahur.’ She said: ‘Which of them is the one who hastens Iftar and delays Sahur?’ I said: “Abdullah bin Mas’ud.’ She said: ‘This is what the Messenger of Allah ﷺ used to do.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2159
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2162Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں سلیمان بن مہران کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، وَالْآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، (لیکن) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں، تو عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے ہیں۔

It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “Masruq and I came to Aishah (RA), and Masruq said to her: ‘There are two men from among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ both of whom are good; one of them delays the prayer and Iftar, and the other hastens the prayer and Iftar.’ Aishah (RA) said: ‘Which of them is the one who hastens the prayer and Iftar?’ Masruq said: ‘Abdullah bin Mas’ud.’ Aishah (RA) said: ‘That is what the Messenger of Allah ﷺ used to do.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2160
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٦٠ (صحیح )
2163Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں سلیمان بن مہران کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَىعَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَايَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ (دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری ؓ تھے۔ )

It was narrated that Abu Atiyyah said: “Masruq and I came to Aishah (RA) and we said to her: ‘O Mother of the Believers, two men from among the Companions of Muhammad ﷺ; one of them hastens the Iftars and hastens the prayer, and delays Iftar and delays the prayer.’ She said: ‘Which one of them hastens Iftar and hastens the sprayer?’ We said: ‘Abdullah bin Mas’ud.’ She said: ‘That is what the Messenger of Allah ﷺ used to do.” And the other was Abu Musa. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2161
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٦٠ (صحیح )
2164Sunan An Nasai

سحری کھانے کے فضائل

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ: إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ.

نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو ۔

‘Abdullah bin Al-Harith narrated that a man from among the Companions of the Prophet ﷺ Said: “I entered upon the Prophet ﷺ when he was having Sahur. He Said: ‘It is a blessing that Allah has given to you, so do not neglect it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2162
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٥)، مسند احمد ٥/٣٦٧، ٣٧٠، ٣٧١ (صحیح )
2165Sunan An Nasai

سحری کھانے کے واسطے بلانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِالْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَقَالَ: هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ.

عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: آؤ صبح کے مبارک کھانے پر ۔

It was narrated that Al ‘Irbad bin Sariyah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ inviting people to have Sahur in Ramadan. He said: ‘Come to the blessed breakfast.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2163
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ١٦ (٢٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٣)، مسند احمد ٤/١٢٦، ١٢٧ (صحیح) (سند میں یونس بن سیف مقبول راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح لغیرہ ہے )
2166Sunan An Nasai

سحری کو صبح کا کھانا کہنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ.

مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم صبح کا کھانا (سحری کو) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے ۔

It was narrated from Al Miqdam bin Ma’dikarib that the Prophet ﷺ said: “You should take Sahur for it is the blessed breakfast.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2164
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٠)، مسند احمد ٤/١٣٢ (صحیح الإسناد )
2167Sunan An Nasai

سحری کو صبح کا کھانا کہنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي السَّحُورَ.

( تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے کہا: صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ۔

It was narrated that Khalid bin Madan said: "The Messenger of Allah said to a man: Come to the blessed breakfast, - meaning Sahur."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2165
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2168Sunan An Nasai

ہم لوگوں کے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ.

عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، (وہ ہے) سحری کھانا ۔

It was narrated that ‘Amr bin Al-’As said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The difference between our fasting and the fasting of the people of the Book, is eating Sahur”. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2166
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٦)، سنن ابی داود/الصوم ١٥ (٢٣٤٣)، سنن الترمذی/الصوم ١٧ (٧٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٩)، مسند احمد ٤/١٩٧، ٢٠٢، سنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٩) (صحیح )
2169Sunan An Nasai

سحری میں ستو اور کھجور کھانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ: يَا أَنَسُ ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا أَنَسُ ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سحری کے وقت فرمایا: اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال ؓ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ (سحری) کھائے ، تو میں نے زید بن ثابت ؓ کو بلایا، چناچہ وہ آئے (اور) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں (بھی) روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، (پھر) زید بن ثابت ؓ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور (فجر کی) دو رکعت (سنت) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ said, at the time of Sahur: O ‘Anas, I want to fast, so give me something to eat.’ So I brought him some dates and a vessel of water.That was after the Adhan of Bilal (RA). He said:O Anas, find a man to come and eat with me.’ So I called Zaid bin Thabit, who came and said: ‘I drank some Sawiq and I want to fast.’ The Messenger of Allah ﷺ : said: ‘I also want to fast.’ So he ate Sahur with him, then he got up and prayed two Rak’ahs, then he went out to the prayer.” (Da’if)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2167
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨)، مسند احمد ٣/١٩٧ (صحیح الإسناد )
2170Sunan An Nasai

تفسیر ارشاد باری تعالی

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى، لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا، وَلَا يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا إِلَى الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً، فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ، فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا، وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ.

براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: وکلوا واشربوا سے لے کر الخيط الأسود تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، (ہوا یہ کہ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے (گھر والوں سے) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ (بھی) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چناچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، (تو) انہیں جگایا (لیکن) انہوں نے کچھ (بھی) نہیں کھایا، اور (اسی حال میں) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہوگئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔

It was narrated from Al Bara’ bin ‘ Azib (RA) that if one of them went to sleep before eating supper, it was not permissible for him to eat or drink anything that night or the following day, until the sun had set. (That continued) until this Verse was revealed: “And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of night).” He said: “This was revealed concerning Abu Qais bin ‘Amr who came to his family after Maghrib when he was fasting, and said: ‘Is there anything to eat?’ His wife said: ‘No, but I will go out and try to find something for you to eat.’ So she went out, and he lay down and slept. She came back and found him sleeping, so she woke him up, but he did not eat anything. He spent the night fasting and woke up the next day fasting, until he passed out at midday. That was before this Verse was revealed, and Allah revealed it concerning him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2168
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٤٣)، مسند احمد ٤/٢٩٥، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ١٥ (١٩١٥)، سنن ابی داود/الصوم ١ (٢٣١٤)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٧٢)، سنن الدارمی/الصوم ٧ (١٧٣٥) (صحیح )
2171Sunan An Nasai

تفسیر ارشاد باری تعالی

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ.

عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت کریمہ: حتى يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود کے متعلق سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: خيط الأسود (سیاہ دھاری) رات کی تاریکی ہے، (اور خيط الأسود سفید دھاری) دن کا اجالا ہے ۔

It was narrated from ‘Adiyy bin Hatim that he asked the Messenger of Allah ﷺ about the Verse “Until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of night).” He said: “It is the blackness of the night and the whiteness of the day.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2169
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٦ (١٩١٦)، و تفسیر البقرة ٢٨ (٤٥١٠)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام ٨ (١٠٩٠)، سنن ابی داود/الصیام ١٧ (٢٣٤٩)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٧٤)، مسند احمد ٤/٣٧٧، سنن الدارمی/الصوم ٧ (١٧٣٦) (صحیح )