روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 5 of 18

2172Sunan An Nasai

فجر کس طرح ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِكَفِّهِ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کردیں، (تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے) اور تہجد پڑھنے والوں کو (گھر) لوٹا دیں، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی ، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا، بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔

It was narrated from Ibn Mas’ud that the Prophet ﷺ said: “ Bilal calls the Adhan at night to awaken those of you who are asleep, and so that those who are praying Qiyam can return. Dawn is not when the light appears like this” - and he gestured with his hand — “rather dawn is when it appears like this” - and he gestured with his two forefingers. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2170
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٤٢ (صحیح )
2173Sunan An Nasai

فجر کس طرح ہوتی ہے؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي مُعْتَرِضًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالًا مَادًّا يَدَيْهِ.

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح ، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد (طیالسی) کہتے ہیں: (شعبہ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔

Samurah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not be confused by the Adhan of Bilal (RA), or by this whiteness, until dawn appears like this” - meaning horizontally. (One of the narrators) Abu Dawud said: “And he spread out his hands gesturing to the right and left.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2171
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٨ (١٠٩٤)، سنن ابی داود/الصوم ١٧ (٢٣٤٦)، سنن الترمذی/الصوم ١٥ (٧٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٤)، مسند احمد ٥/٧، ٩، ١٣، ١٨ (صحیح )
2174Sunan An Nasai

ماہ رمضان المبارک کا استقبال کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ الشَّهْرِ بِصِيَامٍ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا أَتَى ذَلِكَ الْيَوْمُ عَلَى صِيَامِهِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کا مہینہ (شروع ہونے) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو، اور (اتفاق سے) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آپڑے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not fast ahead of the month, except for a man who habitually fasts, and that day happens to be one of his regular fasts.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2172
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٤ (١٩١٤)، صحیح مسلم/الصوم ٣ (١٠٨٢)، سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٥)، سنن الترمذی/الصوم ٢ (٦٨٤)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥ (١٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٩١)، مسند احمد ٢/٢٣٤، ٤٣٧، ٤٠٨، ٤٣٨، ٤٧٧، ٤٩٧، ٥١٣، سنن الدارمی/الصوم ٤ (١٧٣١)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢١٩٢ (صحیح )
2175Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ابوسلمہ پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَحَدٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا قَبْلَهُ فَلْيَصُمْهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے، البتہ جو اس سے پہلے (اس دن) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے ١ ؎۔

Abu Hurairah (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “None should fast one or two days ahead of the month except, someone who had a prior habit for fasting, in which case let him fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2173
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنا اگر پہلے سے اس کے معمولات میں داخل ہو تو وہ رکھے کیونکہ یہ استقبال رمضان کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ اس کے مستقل معمولات کا ایک حصہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2176Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ابوسلمہ پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَتَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ يَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (رمضان) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آپڑے جس دن تم میں کا کوئی (پہلے سے) روزہ رکھتا رہا ہو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not fast one or two days ahead of the month, unless that happens to be a day that one of you habitually fasts.”Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake. (Sahih).

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2174
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٦٤) (حسن صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے اس سند کو غلط بتایا ہے، اس لئے کہ بیشتر راویوں نے اسے ” عن ابی سلمہ عن ابن عباس “ کے بجائے ” عن ابی سلمہ عن ابی ہریرة “ روایت کیا ہے، واللہ اعلم
2177Sunan An Nasai

اس سلسلہ میں حضرت ابوسلمہ کی حدیث شریف

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Salamah that Umm Salamah said: “I never saw the Messenger of Allah ﷺ fast two consecutive months, but he used to join Sha’ban to Ramadan.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2175
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٦)، سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٤ (١٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٢)، مسند احمد ٦/٢٩٣، ٣٠٠، ٣١١، سنن الدارمی/الصوم ٣٣ (١٧٨٠)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٣٥٤ (صحیح )
2178Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعنبري، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔

It was narrated that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to join Sha’ban to Ramadan.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2176
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٨)، مسند احمد ٦/٣١١ (صحیح )
2179Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (پے در پے اتنے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے، اور (پھر) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزے نہیں رکھیں گے، اور آپ (پورے) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔

It was narrated from Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman that he asked Aishah (RA) about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ ,She said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast until we said: ‘He will not stop fasting,’ and he used not to fast until we said: ‘He will not fast.’ And he used to fast Sha’ban, or most of Sha’ban.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2177
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ١١ (٢٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٨)، مسند احمد ٦/٣١١ (صحیح )
2180Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ، وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہم (ازواج مطہرات) میں سے کوئی رمضان میں (حیض کی وجہ سے) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آجاتا، رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ (بسا اوقات) پورے (ہی) ماہ روزے رکھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “One of us (women) would miss some fasts in Ramadan and she would not be able to make it up until Sha’ban began, and the Messenger of Allah ﷺ did not fast in any month as he fasted in a’ban; he used to fast all of it, except a little, he used to fast all of it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2178
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢٦ (١١٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٤١)، مسند احمد ٦/٨٩ (صحیح )
2181Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں بتائیے؟ تو انہوں نے کہا: آپ (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے، اور آپ (اس تسلسل سے) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے۔

It was narrated that Ab Salamah said: “I asked Aishah (RA) : ‘Tell me about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ She said: ‘He used to fast until we said: He is going to fast (continually), and he used not to fast until we said: He is not going to fast. He never fasted any month more than Sha’ban. He used to fast (all) of Sha’bán except a little, he used to fast all of Sha’ban.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2179
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٣٤ (١١٥٦)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٠ (١٧١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٩)، مسند احمد ٦/٣٩ (صحیح )
2182Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ (تقریباً ) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ did not fast in any month of the year more than he did in Sha’ban. He used to fast all of Sha’ban.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2180
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٧٠)، صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٠)، مسند احمد ٦/٨٤، ١٢٨، ١٨٩، ٢٣٣، ٢٤٤، ٢٤٩ (صحیح )
2183Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to fast Sha’ban.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2181
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٣) (صحیح الإسناد )
2184Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I do not know that the Messenger of Allah ﷺ recited the whole Qur’an in one night, or prayed Qiyam until morning, or ever fasted an entire month except Ramadan.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2182
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٤٢، ٢٣٥٠ (صحیح )
2185Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے متعلق پوچھا: (تو) انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزے (ہی) رکھتے رہیں گے، اور (کبھی آپ اس تسلسل سے) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq said: “I asked Aishah (RA) about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ .She said: ‘The Messenger of Allah ﷺ : used to fast until we said that he is going to fast (continually), and he used not to fast until we said: He is not going to fast. And he did not fast for a whole month from the time he came to Al-Madinah, apart from Ramadan.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2183
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٣٤ (١١٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٣) (صحیح )
2186Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُلِعَائِشَةَأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى ؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، (پھر) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq said: “I said to Aishah (RA) : ‘Did the Messenger of Allah ﷺ offer Duha prayer?’ She said: ‘No, unless he was returning from a journey.’ I said: ‘Did the Messenger of Allah ﷺ fast an entire month?’ She said: ‘No, I do not remember him fasting any month in full apart from Ramadan, and he did not break his fast for a whole month, rather he would fast some of (each month) until he passed away.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2184
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧)، والصوم ٣٤ (١١٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٠١ (١٢٩٢)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٢ (٤)، مسند احمد ٦/١٧١، ٢١٨، ٢٠٤ (صحیح )
2187Sunan An Nasai

حضرت محمد بن ابراہیم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى ؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq said: “I said to Aishah (RA) : ‘Did the Messenger of Allah ﷺ offer Duha prayer?’ She said: ‘No, unless he was returning from a journey.’ I said: ‘Was the Messenger of Allah ﷺ known to observe any fast regularly apart from Ramadan?’ She said: ‘By Allah, he did not observe any fast regularly apart from Ramadan until he passed away, and he did not break his fast for a whole month, rather he would fast some of it (each month).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2185
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠١ (١٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١١)، مسند احمد ٦/٢١٨ (صحیح )
2188Sunan An Nasai

اس حدیث میں خالد بن معدان کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔

It was narrated from Jubair bin Nufair that a man askedAishah (RA) about fasting and she said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast all of Sha’ban, and he made sure to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيح ق الشطر الأول فقطصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2186
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٤٤ (٧٤٥)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٤٢ (١٧٣٩)، مسند احمد ٦/٨٠، ٨٩، ١٠٦ (صحیح )
2189Sunan An Nasai

اس حدیث میں خالد بن معدان کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast Sha’ban and Ramadan, and he made sure to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2187
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤٤ (٧٤٥)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٤٢ (١٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨١)، ویأتي عند المؤلف: ٢٣٦٣ (صحیح )
2190Sunan An Nasai

شک کے دن کا روزہ

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار ؓ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

It was narrated that Silah said: “We were with ‘Ammar and a roast sheep was brought and he said: ‘Eat.’ One of the people turned away and said: ‘I am fasting. ‘Ammar said: Whoever fasts on the day concerning which there is doubt, has disobeyed Abu Al Qasim (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2188
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٦) (تعلیقاً )، سنن ابی داود/الصوم ١٠ (٢٣٣٤)، سنن الترمذی/الصوم ٣ (٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣ (١٦٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٤)، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٤) (صحیح )
2191Sunan An Nasai

شک کے دن کا روزہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا، فَقَالَ لِي: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ، قُلْتُ: هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، وَلَا تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ.

سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاء اللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: روزہ رکھو (چاند) دیکھ کر، اور افطار کرو (چاند) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہوجائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ۔

It was narrated that Simak said: “I entered upon ‘Ikrimah on the day concerning which there was doubt as to whether it was Ramadan or Sha’ban, and he was eating bread, vegetables and milk. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He adjured me by Allah to break my fast. I said Subhan-Allah twice. When I saw that he was insisting, I went forward and said: ‘Give me what you have.’ He said: ‘I heard Ibn ‘Abbas say: The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it (the crescent) and stop fasting when you see it, and if clouds or darkness prevent you from seeing it, then complete the number of days of Sha’ban, and do not fast ahead of the month, and do not join Ramadhan to a day of Sha’ban.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2189
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٣١ (صحیح )