Sunan An Nasai 2154

روزوں سے متعلقہ احادیث

2154Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ.

زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً ) دن ١ ؎ مگر سورج ٢ ؎ نکلا نہیں تھا۔

It was narrated that Zirr said: “We said to Hudhaifah: ‘At what time did you take Saht with the Messenger of Allah ﷺ?’ He said: ‘It was daytime, but before the sun had risen.” (Da’if)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2152
Notes · وضاحت
١ ؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہوجاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٢٥)، مسند احمد ٥/٣٩٦، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٥ (حسن الإسناد )