سحری میں تاخیر کی فضیلت
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ.
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ ؓ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہوگئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔
Zirr bin Hubaish said: “I had Sahar with Hudhaifah, then we went out to pray. When we came to the Masjid we prayed two Rak’ahs, then the Iqamah for prayer was said, and there was only a short time between them.” (Sahih)