Sunan An Nasai 2158

روزوں سے متعلقہ احادیث

2158Sunan An Nasai

اسی حدیث میں ہشام اور سعید کا قتادہ کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا (کہا جاتا کہ قلت کا قائل انس ہیں ١ ؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

It was narrated from Anas that Zaid bin Thabit said: “We had Sa with the Messenger of Allah ﷺ then we went to pray.” I (one of the narrators) said: “It is claimed that Anas said: ‘How long was there between them?’ He said: ‘As long as it takes a man to recite fifty verses.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2156
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ معترضہ ہے جو قول اور مقولہ کے درمیان واقع ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )