عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ وضو کرلے (تو سو سکتا ہے) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that ‘Umar said: “Messenger of Allah ﷺ ! May any one of us sleep while he is Junub?” He said: “When he performs Wudu’.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 259
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو کرلو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Umar mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he became Junub at night, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu and wash your penis, then sleep.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 260
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو ۔
It was narrated from ‘Ali that the Prophet ﷺ said: “The angels do not enter a house where there is an image, a dog or a Junub person.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 261
Notes · وضاحت
اس سے مراد رحمت اور برکت کے فرشتے ہیں، نہ کہ وہ فرشتے جو جنبی اور غیر جنبی کسی سے جدا نہیں ہوتے۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے۔ کتا سے مراد وہ کتا ہے جو شکار یا گھر اور کھیت وغیرہ کی رکھوالی کے لیے نہ ہو۔ جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو غسل میں سستی کرتا ہو، اور دیر سے غسل کرنا اس کی عادت ہوگئی ہو، یا وہ جنبی ہے جس نے وضو نہ کیا ہو جیسا کہ مصنف نے باب کے ذریعہ اشارہ کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٩٠ (٢٢٧)، اللباس ٤٨ (٤١٥٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٥٠)، (بدون قولہ ” ولاجنب “ )، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩١)، مسند احمد ١/٨٣، ١٠٤، ١٣٩، سنن الدارمی/الاستئندان ٣٤، ٢٧٠٥، وأعادہ المؤلف برقم: ٤٢٨٦ (ضعیف) (اس کے راوی ” نجی “ اور ان کا اضافہ ” ولاجنب “ ہی ضعیف ہے، ورنہ اس کے سوا باقی ٹکڑے صحیحین میں دیگر صحابہ سے مروی ہیں )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Prophet ﷺ said: “When any one of you wants to return (to have intercourse again), let him perform Wudu. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 262
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ went around all his wives and only performed Ghusl once. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 263
Notes · وضاحت
١ ؎:(یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہوجانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو آدمی علی ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو قرآن مجید پڑھتے۔ آپ ﷺ ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Salimah said: “I came to ‘Ali with two other men and he said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to come Out of the toilet and recite Qur’an, and he would eat meat with us and nothing would prevent him from (reciting) Qur’an except Janabah.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 265
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٩١ (٢٢٩) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة ١١١ (١٤٦)، بلفظ ــ” یقرء نا القرآن “ مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠٥ (٥٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٦)، مسند احمد ١/٨٣، ٨٤، ١٠٧، ١٢٤، ١٣٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” عبد اللہ بن سلمہ “ مختلط ہوگئے تھے، اور عمرو کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ used to recite Qur’an in all circumstances except when he was Junub.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 266
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عموم سے جنابت کی طرح عین پاخانہ و پیشاب کی حالت بھی خارج ہے، چوں کہ عقلاً یہ دونوں اس عموم میں داخل نہیں ہیں اسی لیے ان کے استثناء کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ ﷺ کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that Huthaifah said: “When the Messenger of Allah ﷺ met a man from among his Companions, he would shake hands with him and supplicate for him. I saw him one day in the early morning, and I tried to avoid him, then I came to him later in the day. He said: ‘I saw you but you were avoiding me.’ I said: ‘I was Junub and I was afraid that you would touch me.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Muslim is not made impure (Najis).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 267
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنبی ہونے سے اس کا جسم اس طرح نجس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھو لے تو ہاتھ نجس ہوجائے، اس کی نجاست حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے، اور وہ (حذیفہ) جنبی تھے، تو آپ ﷺ میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated from Huthaifah that the Prophet ﷺ met him when he was Junub: “And he came close to me and reached out his hand. I said: ‘I am Junub.’ He said: ‘The Muslim is not made impure (Najis).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 268
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں راوی نے اختصار سے کام لیا ہے، ورنہ یہ واقعہ بھی وہی ہے جو اوپر گذرا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور (جا کر) غسل کیا، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! ١ ؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ met him in one of the streets of Al-Madinah while he was Junub, so he slipped away from him and performed Ghusl. The Prophet ﷺ noticed he was not there, and when he came he said: ‘Where were you, Abu Hurairah (RA)?’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , you met us but I was Junub, and I did not want to sit in your presence until I had performed Ghusl.’ He said: ‘Subhan Allah! The believer is not made impure (Najis).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 269
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ کہہ کر ان کے ایسا کرنے اور مومن کے نجس ہونے کا عقیدہ رکھنے پر آپ نے تعجب کا اظہار کیا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا دے دو ، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ، تو انہوں نے آپ ﷺ کو کپڑا دیا ٢ ؎۔
Abu Hurairah (RA) said: “While the Messenger of Allah ﷺ was in the Masjid, he said: ‘Aishah (RA) , hand me the garment.’ She said: ‘I am not praying.’ He said: ‘It is not in your hand.’ So she gave it to him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 270
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حائضہ ہوں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں کوئی چیز رکھ سکتی ہے یا مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٤٣)، مسند احمد ٢/٤٢٨، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٨ (برقم: ٣٨٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو ، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give me the mat from the Masjid.” She said: “I am menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Your menstruation is not in your hand.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 271
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٨)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٤ (٢٦١)، سنن الترمذی/فیہ ١٠١ (١٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٠ (٦٣٢)، مسند احمد ٦/٤٥، ١٠١، ١١٢، ١١٤، ١٧٣، ٢١٤، ٢٢٩، ٢٤٥، سنن الدارمی/الطھارة ٨٢ (٧٩٨)، ١٠٨ (١١١١)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٨ (برقم: ٣٨٤) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے (مسجد میں) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔
Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lay his head in the lap of one of us while she was menstruating and recite Qur’an, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out while she was menstruating.” (Da’if)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 273
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٦)، مسند احمد ٦/٣٣١، ٣٣٤، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٩ برقم: ٣٨٥ (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The head of the Messenger of Allah ﷺ would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur’an.”(Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 274
Notes · وضاحت
١ ؎: اور وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ ہی ہوتیں، جیسا کہ مؤلف کے علاوہ دیگر رواۃ نے اس کی صراحت کی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اعتکاف کی حالت میں میری طرف اپنا سر بڑھاتے، تو میں اسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out while he was in I’tikaf and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 275
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out for me while he was perforing I’tikaf and I would wash it, when I was menstruating.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 276