پاکی کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 1 · 327 hadiths · Page 14 of 17

260Sunan An Nasai

جنبی اگر سونے لگے تو وضو کرے

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ: إِذَا تَوَضَّأَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ وضو کرلے (تو سو سکتا ہے) ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that ‘Umar said: “Messenger of Allah ﷺ ! May any one of us sleep while he is Junub?” He said: “When he performs Wudu’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 259
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٦)، سنن الترمذی/الطھارة ٨٨ (١٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨١٧٨، ١٠٥٥٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢٧ (٢٨٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٩ (٥٨٥)، مسند احمد ٢/ ١٧، ٣٥، ٣٦، ٤٤، ١٠٢ (صحیح )
261Sunan An Nasai

جس وقت جنبی شخص سونے کا قصد کرے تو اس کو چاہئے کہ وضو کرے اور عضو مخصوص دھولے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو کرلو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Umar mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he became Junub at night, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu and wash your penis, then sleep.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 260
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٧ (٢٩٠)، صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٦)، سنن ابی داود/الطھارة ٨٧ (٢٢١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٤)، موطا امام مالک/الطہارة ١٩ (٧٦)، مسند احمد ١/٥٠، ٤٦، ٥٦، ٦٤، ٧٥، ١١٦، ٢/٦٤ (صحیح )
262Sunan An Nasai

جس وقت جنبی شخص وضو نہ کرے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو ۔

It was narrated from ‘Ali that the Prophet ﷺ said: “The angels do not enter a house where there is an image, a dog or a Junub person.” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 261
Notes · وضاحت
اس سے مراد رحمت اور برکت کے فرشتے ہیں، نہ کہ وہ فرشتے جو جنبی اور غیر جنبی کسی سے جدا نہیں ہوتے۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے۔ کتا سے مراد وہ کتا ہے جو شکار یا گھر اور کھیت وغیرہ کی رکھوالی کے لیے نہ ہو۔ جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو غسل میں سستی کرتا ہو، اور دیر سے غسل کرنا اس کی عادت ہوگئی ہو، یا وہ جنبی ہے جس نے وضو نہ کیا ہو جیسا کہ مصنف نے باب کے ذریعہ اشارہ کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٩٠ (٢٢٧)، اللباس ٤٨ (٤١٥٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٥٠)، (بدون قولہ ” ولاجنب “ )، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩١)، مسند احمد ١/٨٣، ١٠٤، ١٣٩، سنن الدارمی/الاستئندان ٣٤، ٢٧٠٥، وأعادہ المؤلف برقم: ٤٢٨٦ (ضعیف) (اس کے راوی ” نجی “ اور ان کا اضافہ ” ولاجنب “ ہی ضعیف ہے، ورنہ اس کے سوا باقی ٹکڑے صحیحین میں دیگر صحابہ سے مروی ہیں )
263Sunan An Nasai

اگر جنبی شخص دوبارہ ہمبستری کا ارادہ کرے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعُودَ تَوَضَّأَ.

ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے ۔

It was narrated from Abu Saeed that the Prophet ﷺ said: “When any one of you wants to return (to have intercourse again), let him perform Wudu. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 262
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٨) مطولاً، سنن ابی داود/الطھارة ٨٦ (٢٢٠) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٧ (١٤١) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٠ (٥٨٧) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٠)، مسند احمد ٣/ ٧، ٢١، ٢٨ (صحیح )
264Sunan An Nasai

ایک سے زیادہ عورتوں سے جماع کر کے ایک ہی غسل کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ went around all his wives and only performed Ghusl once. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 263
Notes · وضاحت
١ ؎:(یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہوجانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٨٥ (٢١٨)، (تحفة الأشراف: ٥٦٨) (صحیح )
265Sunan An Nasai

ایک سے زیادہ عورتوں سے جماع کر کے ایک ہی غسل کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی (سبھی) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے (جماع کرتے) تھے۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ used to (go around) all his wives and perform Ghusl once. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 264
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٦ (١٤٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠١ (٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٩)، مسند احمد ٣/١٦١، ١٨٥ (صحیح) ولفظ البخاري من ھذا الطریق: کان یطوف علی نسائہ في الساعة الواحدة وفي روایة: في اللیلة الواحدة “ (وبدون ذکر الغسل) (الغسل ١٢ (٢٦٨)، ٢٤ (٢٨٤)، وانکاح ٤ (٥٠٦٨)، ١٠٢ (٥٢١٥ )
266Sunan An Nasai

جنبی شخص کے واسطے تلاوت قرآن جائز نہیں ہے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قال: أَتَيْتُ عَلِيًّا أَنَا وَرَجُلَانِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ.

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو آدمی علی ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو قرآن مجید پڑھتے۔ آپ ﷺ ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Salimah said: “I came to ‘Ali with two other men and he said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to come Out of the toilet and recite Qur’an, and he would eat meat with us and nothing would prevent him from (reciting) Qur’an except Janabah.” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 265
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٩١ (٢٢٩) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة ١١١ (١٤٦)، بلفظ ــ” یقرء نا القرآن “ مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠٥ (٥٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٦)، مسند احمد ١/٨٣، ٨٤، ١٠٧، ١٢٤، ١٣٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” عبد اللہ بن سلمہ “ مختلط ہوگئے تھے، اور عمرو کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے )
267Sunan An Nasai

جنبی شخص کے واسطے تلاوت قرآن جائز نہیں ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ الرِّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَيْسَ الْجَنَابَةَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ used to recite Qur’an in all circumstances except when he was Junub.” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 266
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عموم سے جنابت کی طرح عین پاخانہ و پیشاب کی حالت بھی خارج ہے، چوں کہ عقلاً یہ دونوں اس عموم میں داخل نہیں ہیں اسی لیے ان کے استثناء کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
268Sunan An Nasai

جنبی شخص کے ساتھ بیٹھ جا نا اور اس کو چھونے وغیرہ سے متعلق فرمان رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ ﷺ کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔

It was narrated that Huthaifah said: “When the Messenger of Allah ﷺ met a man from among his Companions, he would shake hands with him and supplicate for him. I saw him one day in the early morning, and I tried to avoid him, then I came to him later in the day. He said: ‘I saw you but you were avoiding me.’ I said: ‘I was Junub and I was afraid that you would touch me.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Muslim is not made impure (Najis).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 267
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنبی ہونے سے اس کا جسم اس طرح نجس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھو لے تو ہاتھ نجس ہوجائے، اس کی نجاست حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٢)، مسند احمد ٥/٣٨٤، ٤٠٢ (صحیح )
269Sunan An Nasai

جنبی شخص کے ساتھ بیٹھ جا نا اور اس کو چھونے وغیرہ سے متعلق فرمان رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قال: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَهْوَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے، اور وہ (حذیفہ) جنبی تھے، تو آپ ﷺ میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ١ ؎۔

It was narrated from Huthaifah that the Prophet ﷺ met him when he was Junub: “And he came close to me and reached out his hand. I said: ‘I am Junub.’ He said: ‘The Muslim is not made impure (Najis).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 268
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں راوی نے اختصار سے کام لیا ہے، ورنہ یہ واقعہ بھی وہی ہے جو اوپر گذرا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٩ (٣٧٢) مطولاً، سنن ابی داود/الطھارة ٩٢ (٢٣٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٠ (٥٣٥) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٩) (صحیح )
270Sunan An Nasai

جنبی شخص کے ساتھ بیٹھ جا نا اور اس کو چھونے وغیرہ سے متعلق فرمان رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور (جا کر) غسل کیا، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! ١ ؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ met him in one of the streets of Al-Madinah while he was Junub, so he slipped away from him and performed Ghusl. The Prophet ﷺ noticed he was not there, and when he came he said: ‘Where were you, Abu Hurairah (RA)?’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , you met us but I was Junub, and I did not want to sit in your presence until I had performed Ghusl.’ He said: ‘Subhan Allah! The believer is not made impure (Najis).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 269
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ کہہ کر ان کے ایسا کرنے اور مومن کے نجس ہونے کا عقیدہ رکھنے پر آپ نے تعجب کا اظہار کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٣ (٢٨٣)، ٢٤ (٢٨٥)، صحیح مسلم/الحیض ٢٩ (٣٧١)، سنن ابی داود/الطھارة ٩٢ (٢٣١)، سنن الترمذی/فیہ ٨٩ (١٢١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٠ (٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٨)، مسند احمد ٢/٢٣٥، ٢٨٢، ٤٧١ (صحیح )
271Sunan An Nasai

حائضہ سے خدمت لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، نَاوِلِينِي الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أُصَلِّي، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ، فَنَاوَلَتْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا دے دو ، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ، تو انہوں نے آپ ﷺ کو کپڑا دیا ٢ ؎۔

Abu Hurairah (RA) said: “While the Messenger of Allah ﷺ was in the Masjid, he said: ‘Aishah (RA) , hand me the garment.’ She said: ‘I am not praying.’ He said: ‘It is not in your hand.’ So she gave it to him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 270
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حائضہ ہوں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں کوئی چیز رکھ سکتی ہے یا مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٤٣)، مسند احمد ٢/٤٢٨، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٨ (برقم: ٣٨٣) (صحیح )
272Sunan An Nasai

حائضہ سے خدمت لینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو ، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give me the mat from the Masjid.” She said: “I am menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Your menstruation is not in your hand.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 271
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٨)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٤ (٢٦١)، سنن الترمذی/فیہ ١٠١ (١٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٠ (٦٣٢)، مسند احمد ٦/٤٥، ١٠١، ١١٢، ١١٤، ١٧٣، ٢١٤، ٢٢٩، ٢٤٥، سنن الدارمی/الطھارة ٨٢ (٧٩٨)، ١٠٨ (١١١١)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٨ (برقم: ٣٨٤) (صحیح )
273Sunan An Nasai

حائضہ سے خدمت لینا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

ابومعاویہ کی سند سے اعمش سے، پھر اسی کے مثل باقی سند سے حدیث مروی ہے۔

A similar Hadith was narrated from Al-A’mash with the same chain. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 272
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ما قبلہ (صحیح )
274Sunan An Nasai

حائضہ کا مسجد میں چٹائی بچھانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِالْخُمْرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے (مسجد میں) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔

Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lay his head in the lap of one of us while she was menstruating and recite Qur’an, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out while she was menstruating.” (Da’if)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 273
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٦)، مسند احمد ٦/٣٣١، ٣٣٤، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٩ برقم: ٣٨٥ (حسن )
275Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اپنی حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر تلاوت قرآن کرے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The head of the Messenger of Allah ﷺ would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur’an.”(Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 274
Notes · وضاحت
١ ؎: اور وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ ہی ہوتیں، جیسا کہ مؤلف کے علاوہ دیگر رواۃ نے اس کی صراحت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٣ (٢٩٧)، التوحید ٥٢ (٧٥٤٩)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠١)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٣ (٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٠ (٦٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٨)، مسند احمد ٦/١١٧، ١٣٥، ١٤٨، ١٥٨، ١٩٠، ٢٠٤، ٢٥٨، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٦ (برقم: ٣٨١) (حسن )
276Sunan An Nasai

جس خاتون کو حیض ارہا ہو اس کو شوہر کا سر دھونا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُومِئُ إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اعتکاف کی حالت میں میری طرف اپنا سر بڑھاتے، تو میں اسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out while he was in I’tikaf and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 275
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٥ (٣٠١)، الاعتکاف ٤ (٢٠٣١)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٩٠)، مسند احمد ٦/٣٢، ٥٥، ٨٦، ١٧٠، ٢٠٤، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٢١، (برقم: ٣٨٧) (صحیح )
277Sunan An Nasai

جس خاتون کو حیض ارہا ہو اس کو شوہر کا سر دھونا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ آخَرُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out for me while he was perforing I’tikaf and I would wash it, when I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 276
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٩٣) (صحیح )
278Sunan An Nasai

جس خاتون کو حیض ارہا ہو اس کو شوہر کا سر دھونا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کرتی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ when I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 277
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢ (٢٩٥)، اللباس ٧٦ (٥٩٢٥)، الشمائل ٤ (٣١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن الترمذی/الصوم ٨٠ (٨٠٤)، موطا امام مالک/الطہارة ٢٨ (١٠٢)، مسند احمد ٦/١٠٤، ٢٣١، ٢٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٠٩٨، ١٠٩٩)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٣٨٦، ٣٨٩ (صحیح )
279Sunan An Nasai

جس خاتون کو حیض ارہا ہو اس کو شوہر کا سر دھونا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، مِثْلَ ذَلِكَ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے۔

Something similar was narrated by Malik, from Az-Zuhri from ‘Urwah, from Aishah (RA) . (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 278
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٦ (٥٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٠٤) (صحیح )