سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے (تہجد کے) لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ جب آپ کو رات میں بیدار کرنا چاہتا بیدار کردیتا، آپ اٹھ کر مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ١ ؎، ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، اور دعائیں کرتے، پھر اتنی اونچی آواز میں آپ سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے۔
It was narrated that Sad bin Hisham said: "I said: O Mother of the believers! Tell me about the Witr of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: We used to prepare his siwak and water for purification, then Allah (SWT) would wake him when He willed to wake him at night. He would use the siwak and perform wudu, then pray eith rakahs; not sitting until the eighth rakah, when he would sit and remember Allah (SWT) and call upon Him. Then he would say the taslim loud enough for us to hear."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1315
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ رواۃ میں سے کسی راوی کا وہم ہے جیسا کہ مؤلف آگے چل کر حدیث رقم ١٦٠٢ میں اس پر تنبیہ کریں گے، صحیح نو رکعتیں ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٣ (١١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٧)، مسند احمد ٦/٥٤، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٧٢١، ١٧٢٢ (صحیح )
سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔
It was narrated that Sad said: "I used to see the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saying the taslim to his right and to his left until the whiteness of his cheek could be seen."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1317
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم سلام پھیرتے وقت السلام عليكم السلام عليكم کہتے تھے، (مسعر نے اپنے ہاتھ سے دائیں بائیں دونوں طرف اشارہ کر کے بتایا) تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو اپنے ہاتھ اس طرح کرتے ہیں گویا شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں، پھر وہ اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں اپنے بھائی کو سلام کریں ۔
It was narrated that Ubaidullah bin Al-Qibtiyyah said: "I heard Jabir bin Samurah say: When we prayed behind the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) we used to say: As-salamu alaykum, as-salamu alaykum (peace be upon you, peace be upon you)" - and Misar (one of the narrators) pointed with his hand to the right and the left. He (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What is the matter with these people who wave their hands as if they are the tails of wild horses? It is sufficient for one to place his hands on his thighs and to say the salam to his brother to his right and left."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1318
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے اٹھنے اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی، اور میں نے ابوبکر اور عمر ؓ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔
It was narrated that Abdullah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saying the takir every time he went down or came up, or stood or sat, and he said the salam to his right and to his left: As-salamu alaykum wa rahmatullah, as-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah, peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his cheek could be seen . And I saw Abu Bakr and Umar, may Allah (WT) be pleased with them, doing likewise."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1319
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ جب جھکتے تو اللہ أكبر کہتے، اور جب اٹھتے تو اللہ أكبر کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے اور اپنی بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے۔
It was narrated from Wasi bin Habban that: He asked Abdullah bin Umar about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: "Allahu Akbar" every time he went down and "Allahu Akbar" every time he came up, then he said: "As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his right and: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his left."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1320
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہنے، اور بائیں طرف السلام عليكم ١ ؎ کہنے کا ذکر کیا۔
It was narrated that Wasi bin Habban said: "I said to Ibn Umar: "Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); how was it?" He mentioned the takbir and he mentioned: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his right and: As-salamu alaykum (peace be upon you) to his left."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1321
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ داہنی جانب والوں کی تکریم لیے داہنی طرف سلام پھیرتے وقت ورحم ۃ اللہ کا اضافہ فرماتے تھے، اور بائیں طرف السلام عليكم ہی پر اکتفا کرتے تھے، پچھلی روایت میں بائیں طرف بھی ورحم ۃ اللہ کہنے کا ذکر ہے، اور اسی پر عمل ہے، شاید آپ کبھی کبھی اسے چھوڑ دیتے رہے ہوں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہا، اور اپنی بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated from Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is as if I can see the whiteness of his cheek, saying to his right: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) and to his left: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah)." (Sahih
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1322
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور آپ بائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the salam to his right so that the whiteness of his cheek could be seen, and to his left so that the whiteness of his cheek could be seen."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1323
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے، اور (آپ اپنے سر کو اتنا گھماتے) کہ آپ کے رخسار کی سفیدی ادھر سے، اور ادھر سے دکھائی دیتی۔
It was narrated from Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say salam to his right and to his left: As-salamu alaykum wa rahmatullah, as-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah, peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his cheek could be seen from here, and the whiteness of his cheek from here.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1324
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے دائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے بائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔
Abdullah bin Masud narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say salam to his right:As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) , until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his left cheek could be seen.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1325
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے:السلام عليكم السلام عليكم رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہوجائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I prayed with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and when we said the salam we used to gesture with our hands: Asalamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon, peace be upon you). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) looked at us and said: What is the matter with you, pointing with your hands as if they are the tails of wild horses? When any one of you says the salam, let him turn to his companions and not gesture with his hand."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1326
محمود بن ربیع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک ؓ کو کہتے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہوجاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اچھا ان شاء اللہ عنقریب آؤں گا ، چناچہ رسول اللہ ﷺ خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر ؓ بھی تھے، نبی اکرم ﷺ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔
Itban bin Malik said: "I used to lead my people Bani Salim in prayer. I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: I have lost my eyesight and the rainwater prevents me from reaching the masjid of my people. I would like you to come and pray in my house in a place that I can take as a masjid. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I will do that, if Allah (SWT) wills. The next day, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came, and Abu Bakr was with him, after the day had grown hot. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) asked for permission to enter, and I gave him permission. He did not sit own until he asked: Where would you like me to pray in your house? I showed him the place where I wanted him to pray, so the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood there and formed a row behind him, then he said the salam and we said the salam when he did."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1327
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے فجر تک کے بیچ میں گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے ١ ؎، اور ایک سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ کوئی اس سے پہلے کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں پچاس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث کے رواۃ (ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید) ایک دوسرے پر اضافہ بھی کرتے ہیں اور یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر کی گئی ہے۔
It was narrated from Urwah (that) Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven rakahs, making it odd (witr) by one between the time when he finished Isha and dawn, and he would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses before raising his head."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1328
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ سجدہ سلام کے بعد ہوتا تھا، حالانکہ یہاں تہجد کے اندر آپ کے سجدے کی طوالت بیان کرنی مقصود ہے، اس روایت میں صحیح بخاری کی عبارت یوں ہے فیسجد السجد ۃ من ذٰلک قدرما یقرأ أحدکم خمسین آی ۃ قبل أن یرفع (کتاب الوتر باب ١ ) یعنی: تہجد میں آپ کا ایک سجدہ اتنا طویل ہوتا تھا کہ کوئی دوسرا اتنے میں پچاس آیتیں پڑھ لے، مؤلف (رح) سے اس بابت وہم ہوا ہے عفا اللہ عنہ … ایسے کسی سجدہ کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
It was narrated from Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said the salam, then he spoke, then he performed two prostrations of forgetfulness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1329
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the salam then he performed two prostrations of forgetfulness while he was still sitting, then he said the salam." He said: He mentioned it in the Hadith of Dhul-Yadain.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1330
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق ؓ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چناچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔
It was narrated from Imran bin Husain that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed three (rakahs) then said the taslim. Al-Khirbaq said: "You prayed three." So he led them in praying the remaining rakah, then he said the taslim, then he did the two prostrations of forgetfulness, then he said the taslim (again).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1331
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ١ ؎، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "I watched the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he prayed, and I noticed that his standing, his bowing, his standing up after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations and his sitting between the taslim and departing were almost the same in length."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1332
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں قیام کا اضافہ ہلال بن أبی حمید کی روایت میں ہے، ان کے ساتھی حکم بن عتیبہ کی روایت میں قیام کا ذکر نہیں ہے، اور حکم ہلال کے مقابلہ زیادہ ثقہ ہیں، اس لیے ان کی روایت محفوظ ہے، نیز نبی اکرم ﷺ کا قیام تو اکثر رکوع، قومہ، جلسہ بین السجدتین وغیرہ سے لمبا ہی ہوا کرتا تھا، بلکہ کبھی کبھی آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے رہے ہیں، اور ظہر کی پہلی رکعت دوسری سے لمبی ہوا کرتی تھی، اس لیے ہلال کی روایت یا تو شاذ ہے، یا کبھی کبھار آپ ایسا کرتے رہے ہوں، اور اسی وقت براء ؓ نے دیکھا ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٦٦، (تحفة الأشراف: ١٧٨١) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہوجاتیں، اور رسول اللہ ﷺ اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہوجاتے۔
Hind bint Al-Harith Al-Farrasiyyah narrated that: Umm Salamah told her that during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when the women said the taslim at the end of the prayer, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and the men who had prayed with him would stay put for as long as Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) willed. Then, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) got up, the men did too.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1333
یزید بن اسود ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کرلیا۔
It was narrated from Jabir bin Yazid bin Al-Aswad, from his father that: He prayed subh with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and when he finished praying he turned away (from the Qiblah and toward the people.)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1334