بائیں جانب سلام میں کیا کہنا چاہئے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ ؟ قَالَ: فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ قَالَ: يَعْنِي وَذَكَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ.
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہنے، اور بائیں طرف السلام عليكم ١ ؎ کہنے کا ذکر کیا۔
It was narrated that Wasi bin Habban said: "I said to Ibn Umar: "Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); how was it?" He mentioned the takbir and he mentioned: As-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his right and: As-salamu alaykum (peace be upon you) to his left."