ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی، آپ نے فرمایا: یہ (خوشی اس لیے ہے کہ) میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے، اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Talhah, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came one day with a joyful expression on his face. He said: "Jibril came to me and said: Will it not please you, O Muhammad, (to know) that no one of your Ummah will send salah upon you but I will send salah upon him tenfold, and no one will send salams upon you but I will send salams upon him tenfold?"
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1295
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٨٤ (حسن) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” سلیمان “ مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک (مرتبہ) صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sends salah upon me once, Allah (SWT) will send salah upon him tenfold."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1296
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر ایک بار صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا، تو اللہ اس پر دس بار صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا، اور اس کے دس گناہ معاف اور دس درجے بلند کردیئے جائیں گے ۔
Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sends salah upon me once, Allah (SWT) will send salah upon him tenfold, and will erase ten sins from him, and will raise him ten degrees in status."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1297
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: السلام على اللہ نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہوگا، (پھر کہے) : أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے ۔
It was narrated that Abdullah said: "When we sat during the prayer with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we used to say: Peace (salam) be upon Allah(SWT), peace be upon so-and-so and so-and-so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not say peace (salam) be upon Allah (SWT), for Allah (SWT) is As-Salam (the Source of peace; the One free from all faults). Rather say: At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina a ala ibad illahis-salihin (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah.) If you say that, it will be for every righteous slave in the heavens and on earth, "ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu (I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger.) Then let him choose any supplication that he likes to say after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1298
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا: دس بار سبحان اللہ، دس بار الحمد لله، دس بار اللہ أكبر کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا ، (یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Umm Sulaim came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), teach me some words that I may supplicate with during my prayer. He said: Glorify Allah (by saying SubhanAllah) ten times, and praise Him (by saying Alhamdulilah) ten times, and magnify Him (by saying Allahu Akbar) ten times, then ask Him for what you need; He will say: Yes, yes.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1299
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مسجد میں) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کرلیا، اور تشہد سے فارغ ہوگیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: اللہم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإکرام يا حى يا قيوم إني أسألك اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and a man was standing and praying. When he bowed, prostrated and recited the tashahhud, he supplicated, and in his supplication he said: "Allahumma inni asaluka bi-anna lakal-hamd, lailaha illa ant, al-mannanu badius-samawati wal-ard, ya dhal-jalali wal-ikram! Ya hayyu ya qayyum! Inni asaluka. (O Allah, indeed I ask You since all praise is due to You, there is none worthy of worship but You, the Bestower, the Creator of the heavens and earth, O Possessor of majesty and honor, O Ever-living, O-Eternal, I ask of You.) The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you know what he has supplicated with? They said: "Allah (SWT) and His Messenger know best." He said: By the One in Whose Hand is my soul, he called upon Allah by His greatest Name, which, if He is called by it, He responds, and if He is asked by it, He gives."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1300
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٥)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٥٥١)، مسند احمد ٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥ (صحیح )
محجن بن ادرع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کرچکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے:اللہم إني أسألك يا اللہ بأنک الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بےنیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے ۔
Hanzalah bin Ali narrated that: Mihjan bin Al-Adra narrated to him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered the masjid and there was a man who had finished his prayer and he was reciting the tashahhud. He said: "Allahumma inni asaluka ya Allah! Bi-annakal-Wahidul-Ahad us-Samad, alladhi lam yalid wa lam yowled, wa lam yakun lahu kufuwan ahad, an taghfirali dhunubi, innaka antal-Ghafurur-Rahim (O Allah, I ask of You, O Allah, as You are the One, the Only, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was He begotten, and there is None equal or comparable to Him, forgive me my sins, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.)" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "He has been forgiven," three times.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1301
ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: اللہم إني ظلمت نفسي ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندک وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr, from Abu Bakr As-Siddiq, may Allah (SWT) be pleased with them both, that he said to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "Teach me a supplication that I may recite in my prayer." He said: "Say: Alahumma inni zalamtu afsi zulman kathiran wa la yaghfirudhunub illa anta faghfirli maghfiratan min indika warhamni innaka antalGhafurur-Rahim (O Allah, verily I have wronged myself much and there is None who forgives sins except You. Grant me forgiveness from You and have mercy on me for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1302
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے، اور فرمایا: اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تو میں نے عرض کیا: اور میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر تو تم ہر نماز میں یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑو رب أعني على ذکرک وشکرک وحسن عبادتک اے میرے رب! اپنے ذکر اور شکر پر، اور اپنی حسن عبادت پر میری مدد فرما ۔
It was narrated that Muadhbin Jabal said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took my hand and said: I love you, O Muadh! I said: And I love you, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Never forget to say in every prayer: Rabbi ainni ala dhikrika wa shukrika wa husni ibadatik (My Lord, help me to remember You, give thanks to You and worship You well.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1303
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥٢٢)، فی عمل الیوم واللیلة ٤٦ (١٩٠) مسند احمد ٥/٢٤٤، ٢٤٧، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٣) (صحیح )
شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں کہتے تھے: اللہم إني أسألک الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألک شکر نعمتک وحسن عبادتک وأسألک قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألک من خير ما تعلم وأعوذ بک من شر ما تعلم وأستغفرک لما تعلم اے اللہ! میں معاملہ میں تجھ سے ثابت قدمی کا، اور راست روی میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور تیری حسن عبادت کی توفیق مانگتا ہوں، اور تجھ سے تمام برائیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف دل، اور سچ کہنے والی زبان کا طلب گار ہوں، اور تجھ سے ان چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور ان چیزوں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور میں تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں ۔
It was narrated from Shadad bin Aws that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say in his prayer: "Allahumma inni asaluka at-thabbuta fi al-amr wal-azimata alar-rushdi wa asaluka shukr nimatik wa husna ibadatik wa asaluka qalban saliman wa lisanan sadiqan wa asaluka min khairi ma atlamu wa author bika min sharri ma atlamu wastaghfiruka lima talam (O Allah, I ask You for steadfastness in all my affairs and determination in following the right path, I ask You to make me thankful for Your blessings and to make me worship You properly. I ask You for a sound heart and a truthful tongue. I ask You for the best of what You know and I seek refuge in You from the worst of what You know and I seek Your forgiveness for what You know.)"
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1304
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٨٢٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٢٣ (٣٤٠٧)، مسند احمد ٤/١٢٥ (حسن) (اس کی سند میں ” ابو العلاء یزید بن عبداللہ العامري “ اور ” شداد ؓ “ کے درمیان انقطاع ہے، ترمذی اور احمد کی سند میں یہاں پر کوئی ” رجل من بنی حنظلہ “ ہے جو مجہول ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٣٢٢٨، و صحیح موارد الظمآن ٢٠٤٧، ٢٠٤٩، وتراجع الالبانی ٥٦٨ )
سائب کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار سے کام لیا، قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے نماز ہلکی کردی ہے، راوی کو شک ہے خففت کہا یا أوجزت (ہلکی کردی یا مختصر کردی) تو انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو جب وہ جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے ہو لیا (وہ کوئی اور نہیں میرے والد تھے مگر انہوں نے اپنا نام چھپایا ہے) ١ ؎ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا، پھر آ کر لوگوں کو اس کی خبر دی، وہ دعا یہ تھی: اللہم بعلمک الغيب وقدرتک على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللہم وأسألک خشيتک في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضا والغضب وأسألک القصد في الفقر والغنى وأسألک نعيما لا ينفد وأسألک قرة عين لا تنقطع وأسألک الرضاء بعد القضاء وأسألک برد العيش بعد الموت وأسألک لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری مشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور تنگ دستی و خوشحالی دونوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے ۔
Ata bn As-Saib narrated that his father said: "Ammar bin Yasir led us in prayer and he made it brief. Some of the people said to him: You made the prayer sort (or brief). He said: Nevertheless I still recited supplications that I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). When he got up and left, a man- he was my father but he did not name himself- followed him and asked him about that supplication, then he came and told the people. "Allahumma bi ilmikal-ghaiba wa qudratika alal-khalqi ahini ma alimtal-hayata khairan li, wa tawaffani idha alimtal-wafata khairan li. Allahumma asaluka khashyataka fil-ghaibi wash-shahadati wa asaluka kalimatul-aqua fir-ridai wal ghadab, wa asalukal-qasda fil faqr wal-ghina, wa asaluka naiman la yanfadu wa asaluka qurrata ainan la tanqatiu wa asalukar-ridai badal-qadai wa asaluka bardal aishi badal-mawti, wa asaluka ladhatan-nazari ila wajhika wash-shawqa ila liqaika fi fitnatin mudillatin, Allahumma zayyina dizinatil-imani wajalna hudatan muhtadin (O Alah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive so long as You know that living is good for me and cause me to die when You know that death is better for me. O Allah, cause me to fear You in secret and in public. I ask You to make me true in speech in times of pleasure and of anger. I ask You to make me moderate in times of wealth and poverty. And I ask You for everlasting delight and joy that will never cease. I ask You to make me pleased with that which You have decreed and for an easy life after death. I askYou for the sweetness of looking upon Your face and a longing to meet You in a manner that does not entail a calamity that will bring about harm or a trial that will cause deviation. O Allah, beautify us with the adornment of faith and make us among those who guide and are rightly guided."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1305
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسے ہلکی پڑھائی، تو گویا کہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے رکوع اور سجدے پورے پورے نہیں کیے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور کیا ہے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں نے اس میں ایسی دعا پڑھی ہے جس کو نبی اکرم ﷺ پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: اللہم بعلمک الغيب وقدرتک على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي وأسألک خشيتک في الغيب والشهادة وکلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألک نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع وأسألک الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك وأعوذ بک من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری خشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ اخلاص کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طلبگار ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تیری اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہنما و ہدایت یافتہ بنا دے ۔
It was narrated that Qais bin Ubad said: "Ammar bin Yasir led the people in prayer and he made the prayer short. It was as if they disliked that, so he said: Did I not do bowing and prostration properly? They said: Yes. He said: And I said a supplication that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say:Allahumma bi ilmikal-ghaiba wa qudratika alal-khalqi ahini ma alimtal-hayata khairan li, wa tawaffani idha alimtal-wafata khairan li. Allahumma asaluka khashyataka fil-ghaibi wash-shahadati wa asaluka kalimatul-aqua fir-ridai wal ghadab, wa asalukal-qasda fil faqr wal-ghina, wa asaluka naiman la yanfadu wa asaluka qurrata ainan la tanqatiu wa asalukar-ridai badal-qadai wa asaluka bardal aishi badal-mawti, wa asaluka ladhatan-nazari ila wajhika wash-shawqa ila liqaika fi fitnatin mudillatin, Allahumma zayyina dizinatil-imani wajalna hudatan muhtadin (O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive so long as You know that living is good for me and cause me to die when You know that death is better for me. O Allah, cause me to fear You in secret and in public. I ask You to make me true in speech in times of pleasure and of anger. I ask You to make me moderate in times of wealth and poverty. And I ask You for everlasting delight and joy that will never cease. I ask You to make me pleased with that which You have decreed and for an easy life after death. I ask You for the sweetness of looking upon Your face and a longing to meet You in a manner that does not entail a calamity that will bring about harm or a trial that will cause deviation. O Allah, beautify us with the adornment of faith and make us among those who guide and are rightly guided."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1306
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے ۔
It was narrated that Farwah bin Nawfal said: "I said to Aishah: Tell me of a supplication that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say in his prayer. She said: Yes. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: Allahumma inni author bika min sharri ma amiltu wa min sharri ma lam amal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done, and the evil of that which I have not done.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1307
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے ، اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔
It was narrated that Aishah said: "I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about the torment of the grave, and he siad: Yes, the torment of the grave is real." Aishah said: "After that I never saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) offer any prayer but he would seek refuge with Allah (SWT) from the torment of the grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1308
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا مانگتے: اللہم إني أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بک من المأثم والمغرم اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں تو کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔
Urwah bin Az-Zbair narrated that: Aishah told him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the following supplication in his prayer: Allahumma inni audhu bika min adhab ilqabri wa audhu bika min fitnatil-masihid-dajjal, wa audhu bika min fitnatil-mahya walmamati, Allahumma inni audhu bika min al-mathami wal-maghram ( O Allah, I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge in You from the tribulation of the Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge with You from the trials of life and death. O Allah, I seek refuge in You from sin and debt.) Someone said to him: "How often you seek refuge from debt!" He said: "If a man gets into debt, when he speaks lies, and when he makes a promise, he betrays it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1309
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے، تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، پھر وہ اپنے لیے جو جی چاہے دعا کرے ۔
It was narrated that Muhammad bin Abi Aishah said: "I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When one of you recites the tashahhud, let him seek refuge with Allah (SWT) from our things: From the torment of hell, from the torment of the grave, from the trials of life and death and from the evils of the Dajjal. Then let him pray for himself asking whatever he wants."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1310
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشہد کے بعد اپنی نماز میں کہتے تھے: أحسن الکلام کلام اللہ وأحسن الهدى هدى محمد صلى اللہ عليه وسلم سب سے عمدہ کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے ۔
It was narrated from Jabir that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say in his prayer, after the tashahhud: "The best of word is the word of Allah (SWT) and the best of guidance is the guidance of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم)."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1311
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اور اچھی طرح نہیں پڑھ رہا ہے، اس میں وہ کمی کر رہا ہے، تو حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا: اس طرح سے نماز تم کب سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے، تو انہوں نے کہا: تم نے چالیس سال سے کامل نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرجاتے تو تمہارا خاتمہ محمد ﷺ کی ملت کے علاوہ پر ہوتا، پھر انہوں نے کہا: آدمی ہلکی نماز پڑھے لیکن پوری اور اچھی پڑھے۔
It was narrated from Hudhaifah that: He saw a man praying (And his bowing and prostration) were lacking. Hudhaifah said to him: For how long have you been praying like this? He said: "For forty years. He said: You have not been praying for forty years and if you die praying like this, you will have died following a path other than the path of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم). Then he said: It is possible for a man to pray briefly, but still do it properly."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1312
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز میں تطفیف (تقصیر و کوتاہی) یہ ہے کہ رکوع، و سجود اور قیام کو قدر واجب سے کم کرے، اور دونوں سجدوں کے بیچ میں اچھی طرح سے نہ ٹھہرے اسی طرح رکوع کے بعد سیدھا کھڑا نہ ہو، یہ مذموم ہے، اور نماز میں تخفیف یہ ہے کہ رکوع، سجود اور قیام وغیرہ اچھی طرح کرے، لیکن لمبی سورتوں کے بجائے مختصر سورتیں پڑھے، ایسا کرنا درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ ﷺ اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے (جواب دینے کے بعد) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چناچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے (ابھی بھی) نماز نہیں پڑھی ہے ، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کرچکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ۔
It was narrated from Ali- who is bin Yahya- from his father that: A paternal uncle of his who was present at Badr told him, that a man entered the masjid and prayed, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was watching, but we did not realize. When he had finished, he came and greeted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) with salam. He said: "Go back and pray, for you have not prayed." So he went back and prayed, then he came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Go back and pray, for you have not prayed." (This happened) two or three times. Then the man said to him: "By the One who has honored you , O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), I have tried my best; teach me." He said: "When you get up to pray, perform wudu and do it well, then turn to face the Qiblah and say the takbir. Then recite the Quran, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing straight, then prostrate until you are at ease prostrating, then sit up until you are at ease sitting, then prostrate until you are at ease prostrating, then get up, and continue doing that until you have finished your prayer."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1313
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چناچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کرچکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے (صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہوجائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہوجائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہوگی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔
Ali bin Yahya bin Khallad bin Raf bin Malik Al-Ansari said: "My father narrated to me that a paternal uncle of his, who had been at Badr, said: I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in the masjid when a man came in and prayed two rakahs, then he came and greeted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with salam. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had been watching him as he prayed, so he returned his salam, then he said: "Go back and pray, for you have not prayed." So he went back and prayed, then he came back and greeted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with salam. He returned the salam, then he said: "Go back and pray, for you have not prayed." The third or fourth time this happened, then the man said: "By the One Who revealed the Book to you, I have done my best and have tried hard; show me and teach me." He said: When you want to pray, perform wudu and do it well, then turn to face the Qiblah and say the takbir. Then recite the Quran, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing straight, then prostrate until you are at ease prostrating, then sit up until you are at ease sitting, then prostrate until you are at ease prostrating, then get up. If you complete the prayer in this manner you wil hve done it properly, and whatever you do less than this is lacking from you prayer."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1314