عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ کی نگاہ آپ کے اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔
It was narrated from Amir bin Abdullah bin Az-Zubair, from his father, that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat to say the tashahhud, he placed his left hand on his left thigh and pointed with his forefinger, and his gaze did not go beyond he finger with which he was pointing.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1275
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں دعا کے وقت لوگ اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آجائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People should certainly stop lifting their gaze to the sky when they supplicate during the prayer, or they will lose their eyesight."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1276
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت حالت نماز میں ہے، نماز سے باہر دعا کرنے والا آسمان کی طرف نظر اٹھا سکتا ہے۔
ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز میں تشہد کے فرض کئے جانے سے پہلے السلام على اللہ السلام على جبريل وميكائيل سلام ہو اللہ پر، سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو:التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر اللہ کی جانب سے سلامتی ہو، اور آپ پر اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
It was narrated that Ibn Masud said: "Before the tashahhud was enjoined, when we prayed we used to say: Peace (As-Salam) be upon Allah (SWT), pace be upon Jibril, peace be upon Mikail. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not say this, for indeed Allah (SWT), the Mighty and Sublime, is As-Salam. Rather say: "At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina a ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1277
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to teach us the tashahhud just as he used to teach us a surah from the Quran."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1278
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل خود سلام ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی (تشہد میں) بیٹھے تو وہ یوں کہے: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر، اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے جو چاہے دعا کرے ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah, the Mighty and Sublime, is As-Salam the source of peace; the One free from all faults), so when any one of you sits (during the prayer), let him say: At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina a ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger.)" Then after that, let him choose whatever words he wants."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1279
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ نے ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہم سے ہماری نماز کے طریقے بیان کیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے، جب وہ اللہ اکبر کہے، تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ ولا الضالين کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری اس کی ہوئی دعا کو قبول کرے گا، پھر جب وہ اللہ اکبر کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر سے پوری ہوجائے گی، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام حمد ہے کہو، اس لیے کہ اللہ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان سے کہلوا دیا ہے کہ اس نے اپنے حمد کرنے والے کی حمد سن لی ہے، پھر جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے، تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، بیشک امام تم سے پہلے سجدہ میں جائے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہوجائے گی، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کو یہ کہنا چاہیئے: التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام قولی، فعلی، اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت آپ پر نازل ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
It was narrated from Hittan bin Abdullah that Al-Ashari said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and taught us our Sunnahs and our prayer. He said: When you stand for the prayer, make your rows straight, then let one of you lead the others. When he says the takbir, then say the takbir; when he says : "Wa lad-dallin" then say "Amin" and Allah (SWT) will answer you. Then when he says the takbir and bows, then say the takbir and bow, for the Imam bows before you and stands up before you. The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This makes up for that. When he says: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), say: Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You be praise), Allah will hear you, for indeed Allah (SWT), the Mighty and Sublime, has said on the tongue of His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Allah hears the one who praises Him." Then when he says the takbir and prostrates, say the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and rises before you. The Prophet (صلی اللہ علیProphet of وسلم) said: This makes up for that. Then when you are sitting, let the following be among what one of you says: At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina a ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1280
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ (جہنم) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔
t was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to teach us the tashahhud just as he would teach us a surah of the Quran: Bismillah, wa billahi. At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina a ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. Asal Allahal-jannah wa author billahi min an-nar (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger. I ask Allah for Paradise and I seek refuge with Allah from the Fire.)"
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1281
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٧٦ (ضعیف) (اس کے راوی ” أیمن “ حافظہ کے کمزور ہیں اور اس میں وارد اضافہ پر کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے امتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah (SWT) has angels who travel around on Earth conveying to me the Salams of my Ummah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1282
ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، ہم نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اس لیے کہ میرے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا رب کہتا ہے: کیا آپ کے لیے یہ خوشی کی بات نہیں کہ جو کوئی آپ پر ایک بار صلاۃ (درود) بھیجے گا، تو میں اس پر دس بار صلاۃ (درود) بھیجوں گا ١ ؎، اور جو کوئی آپ پر ایک بار سلام بھیجے گا، میں اس پر دس بار سلام بھیجوں گا ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Talha, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came one day with a cheerful expression on his face, and we said: "We see you looking cheerful". He said: "The Angel came to me and said: O Muhammad, your Lord says: Will it not please you (to know) that no one will send salah upon you that I will send salah upon him tenfold, and no one will send salams upon you but I will send salams upon him tenfold?"
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1283
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے صلاۃ (درود) بھیجنے کا مطلب آپ ﷺ کی مدح و ستائش اور تعظیم کرنا ہے، اور فرشتوں وغیرہ کے صلاۃ (درود) بھیجنے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے اس مدح و ستائش اور تعظیم میں طلب زیادتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٤/٢٩، ٣٠، سنن الدارمی/الرقاق ٥٨ (٢٨١٥)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٢٩٦ (حسن) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” سلیمان “ مجہول ہیں )
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نہ تو اللہ کی بزرگی بیان کی، اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ وسلام (درود) بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے نمازی! تم نے جلد بازی کردی ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے سکھایا (کہ کس طرح دعا کی جائے) اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں اللہ کی بزرگی اور حمد بیان کرتے، اور نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ وسلام (درود) بھیجتے سنا تو فرمایا: آپ دعا کریں آپ کی دعا قبول کی جائے گی، اور مانگو آپ کو دیا جائے گا ۔
Fadalah bin Ubaid said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard a man supplicating during the prayer without glorifying Allah (SWT) nor sending salah upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You are in a hurry, O worshipper. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) taught them. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard a man praying; he glorified and praised Allah (SWT) and sent salah upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Supplicate, you will be answered; ask, you will be given."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1284
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سعد بن عبادہ ؓ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ (درود) بھیجیں؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو اللہم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم في العالمين إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ (درود) بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے) اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو ۔
It was narrated that Abu Masud Al-Ansari siad: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us in the Majlis of Sad bin Ubadah and Bashir bin Sad said to him: Allah has commanded us to send Salah upon you, O Messenger of Allah; so how should we send salah upon you? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) remained silent until we wished that he had not asked him. Then he said: Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)" And the salam is as you know."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1285
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٣ (٩٨٠، ٩٨١)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الأحزاب (٣٢٢٠)، موطا امام مالک/السفر ٢٢ (٦٧)، مسند احمد ٤/١١٨، ١١٩، ٥/٢٧٣، سنن الدارمی/ ال صلاة ٨٥ (١٣٨٢) (صحیح )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) وسلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے، رہا سلام تو اسے ہم جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو اللہم صل على محمد کما صليت على آل إبراهيم اللہم بارک على محمد کما بارکت على آل إبراهيم اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) و رحمت بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی ہیں ۔
It was narrated that Abu Masud Al-Ansari said: "It was said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): We have been commanded to send salah and salams upon you. We know how to send salams, but how should we send salah? He said: Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim)."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1286
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: اللہم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللہم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ وعلينا معهم اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ١ ؎۔
It was narrated that Kab bin Ujrah said: "We said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we know about sending salams upon you, but how should we send salah upon you? He said: "Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)" (One of the narrators) Ibn Abi Laila said: "We used to say: And also upon us." Abu Abdur-Rahman (An-NasaI) said: It was narrated from his book, and this is a mistake.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1287
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ اگلی روایت میں امام نسائی خود بیان کر رہے ہیں۔
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کو ہم جان چکے ہیں مگر آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو اللہم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم وآل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! تو صلاۃ (درود) بھیج محمد اور آل محمد پر اسی طرح جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اور ہم وعلينا معهم اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ سند اس سے پہلے والی سے زیادہ قرین صواب ہے (یعنی عمرو کی جگہ حکم کا ہونا) اور ہم قاسم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن مرہ کا ذکر کیا ہو، واللہ اعلم ١ ؎۔
It was narrated that Kab bin Ujrah said: We said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we know about sending salams upon you, but how should we send salah upon you?" He said: Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)" (One of the narrators) abdur Rahman said: "We used to say: And also upon us." Abu Abdur-rahman (An Nasai) said: This is more worthy of being correct than the one that is before it. And we do not know of anyone who said "Amr bin Murrah" in it other than in this case. And Allah (SWT) knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1288
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ؓ نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو اللہم صل على محمد وآل محمد کما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اللہم بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! درود بھیج محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
It was narrated that Ibn Abi Laila said: "Kab bin Ujrah said to me: Shall I not give you a gift? We said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we know about sending salams upon you, but how should we send salah upon you?" He said: Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1289
طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجا جائے، تو آپ نے فرمایا: کہو اللہم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم وآل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! صلاۃ (درود) بھیج محمد اور آل محمد پر ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر، ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
It was narrated from Musa bin Talha that: His father said: "We said: O Messenger of Allah, how should we send salah upon you? He said: Say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1290
طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو: اللہم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! صلاۃ (درود) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
It was narrated from Musa bin Talha, from his father, that: A man came to the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "How should we send blessings upon you, O Prophet (صلی اللہ علیProphet of : Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad, kama sallaita ala Ibrahima wa barik ala Muhammad kama barakta ala ali Ibrahim fil-alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1291
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن خارجہ ؓ سے پوچھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مجھ پر صلاۃ (درود و رحمت) بھیجو، اور دعا میں کوشش کرو، اور کہو: اللہم صل على محمد وعلى آل محمد اے اللہ! صلاۃ (درود و رحمت) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ۔
It was narrated that Musa bin Talha said: "I asked Zaid bin Kharijah who said: I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Send salah upon me and strive hard in supplication, and say: Alahumma salli ala Muhammad wa ala ali Muhammad (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1292
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم جان چکے ہیں، پر مگر آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح کہو: اللہم صل على محمد عبدک ورسولک کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على إبراهيم اے اللہ! درود و رحمت بھیج اپنے بندے اور رسول محمد پر جس طرح تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں ۔
It was narrated that abu Saeed Al-Khudri said: "We said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we know how to send salams upon you, but how should we send salah upon you? He said: Say: "Allahumma salli ala Muhammadin abdika wa rasulika kama salaita ala Ibrahim wa barik ala Muhammadin wa ala ali Muhammadin kama barakta ala Ibrahim (O Allah, send salah upon Muhammad, Your slave and Messenger , as You sent Salah upon Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon Ibrahim)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1293
ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ان لوگوں (صحابہ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ (درود و رحمت) کیسے بھیجیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللہم صل على محمد وأزواجه وذريته، یہ صرف حارث کی روایت میں ہے كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته۔ یہ دونوں کی روایت میں ہے كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: قتیبہ نے اس حدیث کو مجھ سے دو بار بیان کیا، اور شاید کہ ان سے کچھ حصہ اس حدیث کا چھوٹ گیا ہے۔
It was narrated that Amr bin Sulam Az-Zuraqi said: "Abu Humaid As-Saidi told me that they said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), how should we send salah upon you? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Say: Allahumma sali ala Muhammadin wa azwajihi wa dhuriyatihi ( O Allah, send salah upon Muhamad and his wives and progeny)- in the narration of Al-Harith (one of the two who narrated it)-kama salaita ala Ibraim wa barik alaMuhammad wa azwajihi wa dhuriyatti (as You sent salah upon Irahim and send blessings upon Muhammad and his wives and progeny)- both of them said that- kama barakta ala ali Ibrahima innaka hamidun majid (as You sent blessings upon Ibrahim, You are indeed worthy of praise, Full of glory.)" Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Qutaibah informed us of this Hadith two times, and perhaps he had missed a part of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1294
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٩)، الدعوات ٣٣ (٦٣٦٠)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٣ (٩٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٥ (٩٠٥)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٦)، مسند احمد ٥/٤٢٤، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٦) (صحیح )