عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ (رکعت) پڑھائی ہے، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
It was narrated from Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in praying Zuhr with five (rakahs). They said: You prayed five. So he prostrated twice after he had said the taslim, while he was sitting.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1255
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٥٥، وتفرد بہ النسائي من طریق مغیرة بن مقسم، (تحفة الأشراف: ٩٤٤٩) (صحیح )
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ (رکعت) نماز پڑھی، تو ان سے (اس زیادتی کے بارے میں) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے (ایسا) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں (دیتا ہوں) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کردیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا (کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں) ، تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں (بھی) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔
It was narrated that Ibrahim bin Suwaid said: "Alqamah prayed five (rakahs) and was told about that. He said: Did I really do that? I nodded yes. He said: What about you, O odd-eyed one? I said: Yes. So he prostrated twice, then he narrated to us from Abdullah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed five (rakahs), and the people whispered to one another, then they said to him: Has something been added the prayer? He said: No. So they told him, and he turned around and prostrated twice, then he said: I am only human; I forget as you forget."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1256
مالک بن مغول کہتے ہیں کہ میں نے (عامری شراحیل) شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ بن قیس سے نماز میں سہو ہوگیا، تو لوگوں نے آپ سے میں گفتگو کرنے کے بعد ان سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے، اے اعور! (ابراہیم بن سوید نے) کہا: ہاں، تو انہوں نے اپنا حبوہ ١ ؎ کھولا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، اور کہنے لگے: اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے، (مالک بن مغول) نے کہا: اور میں نے حکم (ابن عتیبہ) کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھی تھیں۔
t was narrated that Malik bin Mighwal said: "I heard Ash-Shabi say: Alqamah bin Qais forgot (and made a mistake) in his prayer, and they told him about that after he had spoken, He said: Is that true, O odd-eyed one? He said: Yes. So he undid his cloak, then he performed two prostrations of forgtfulness,and said: This is what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did. He said: And I heard Al-Hakam say: Alqamah had prayed five."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1257
Notes · وضاحت
١ ؎: حبوہ: ایک طرح کی بیٹھک ہے جس میں سرین کو زمین پر ٹکا کر دونوں رانوں کو دونوں ہاتھ سے باندھ لیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ١/٤٣٨ (صحیح) (اس حدیث میں علقمہ نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر نہیں کیا ہے، جن سے اوپر صحیح حدیث گزری، اس لیے یہ سند مرسل ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے )
ابراہیم سے روایت ہے کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل (علقمہ) ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہوا ہے اے اعور؟ (انہوں نے کہا: ہاں) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔
It was narrated that Ibrahim said: "Alqamah prayed five (rakahs) and when he said the taslim, Ibrahim bin Suwaid said : O Abu Shibl, you prayed five! He said: Is that true, O odd-eyed one? Then he prostrated two prostrations of forgetfulness, then he said: This is what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1258
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٥٧ (صحیح) (علقمہ نے اس حدیث میں صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، لیکن اصل حدیث علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شام کی دونوں نمازوں (یعنی ظہر اور عصر) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو آپ سے کہا گیا: کیا نماز میں اضافہ کردیا گیا ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے، ہو اور مجھے بھی یاد رہتا ہے جیسے تمہیں یاد رہتا ہے ، پھر آپ نے دو سجدے کیے، اور پیچھے کی طرف پلٹے۔
It was narrated from Abdullah that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) offered one of the afternoon prayers with five (rakahs), and it was said to him: "Has something been added to the prayer?" He said: Why are you asking? They said: You prayed five. He said: I am only human, I forget as you forget, and I remember as you remember. Then he prostrated twice then ended his prayer.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1259
یوسف سے روایت ہے کہ معاویہ ؓ نے لوگوں کے آگے نماز پڑھی (یعنی ان کی امامت کی) تو وہ نماز میں کھڑے ہوگئے، حالانکہ انہیں بیٹھنا چاہیئے تھا، تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، پر وہ کھڑے ہی رہے، اور نماز پوری کرلی، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھے، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ ان دونوں سجدوں کی طرح سجدے کرلے ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Yusuf, the freed slave of Uthman, from his father Yusuf, that: Muawiyah prayed in front of them, and he stood up during the prayer when he should have sat. The people said tasbih, but he remained standing, then he prostrated twice while he was sitting, after he completed the prayer. Then he sat on the Minbar and said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever forgets something in his prayer, let him prostrate twice like this.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1260
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، دوسرے اس میں مذکور بھول بالکل عام نہیں ہے، بلکہ رکن کے سوا کسی اور چیز کی بھول مراد ہے، معاویہ ؓ قعدہ اولیٰ بھولے تھے جو رکن نہیں ہے، اس طرح کی بھول کا کفارہ سجدہ سہو ہوسکتا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٤/١٠٠، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” یوسف “ اور ان کے بیٹے ” محمد “ دونوں لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی دوسری رکعت کے بعد (بغیر قعدہ کے) کھڑے ہوگئے، پھر (واپس) نہیں بیٹھے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی تو جو تشہد آپ بھول گئے تھے اس کے عوض بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، اور ہر سجدہ میں اللہ اکبر کہا، آپ کے ساتھ لوگوں نے (بھی) یہ دونوں سجدے کیے۔
It was narrated from Abdur-Rahman Al Araj that: Abdullah bin Buhainah told him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up following two rakahs of Zuhr and did not sit down (for tashahhud). When he finished the prayer he prostrated twice, saying Takbir for each prostration, while he was sitting, before he said the taslim, and the people prostrated with him. (He did that) in place of the sitting that he had forgotten.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1261
ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب ان دو رکعتوں میں ہوتے تھے جن میں نماز ختم ہوتی ہے، تو آپ (قعدہ میں) اپنا بایاں پاؤں (داہنی طرف) نکال دیتے، اور اپنی ایک سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Humaid As-Saidi said: "At the end of the last two rakahs of the prayer, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would move his left foot forward and sit on his left buttock, Mutawarrikan, then he would say the taslim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1262
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیٹھک کو تورک کہتے ہیں، اس سے پتہ چلا کہ قعدہ اخیرہ میں اس طرح بیٹھنا سنت ہے، بعض لوگ اسے کبرسنی پر محمول کرتے ہیں لیکن اس پر محمول کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں، نیز بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ فجر کے قعدہ اخیرہ میں تورک ثابت نہیں، اس حدیث کے الفاظ سے صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تورک کرتے تھے، اب خواہ یہ قعدہ اخیرہ فجر و مغرب کا ہو یا چار رکعتوں والی نمازوں کا۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح اٹھاتے) اور جب آپ (قعدہ میں) بیٹھتے تو بایاں (پاؤں) لٹاتے، اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ١ ؎۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he raised his head from bowing. And when he sat, he would ay his left foot on the ground and keep his right foot upright, and he placed his left hand on his left thigh, and his right hand on his right thigh, making a circle with his middle finger and thumb, and pointing."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1263
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ بیان آخری قعدہ کے بارے میں ہے، اس لیے باب سے مناسبت واضح نہیں، یا یہ مراد ہے کہ یہ بیان دونوں قعدوں کے بارے میں ہے، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ ابو حمید ساعدی ؓ کی حدیث صحیحین کی ہے نیز تورک کے بارے میں واضح ہے۔
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، آپ اس کے ذریعہ دعا کر رہے تھے۔
It was narrated from Wail bin Hujr that : He saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sitting during the prayer. He lay his left foot on the ground and placed his forearms on his thighs, and pointed with his forefinger, supplicating with it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1264
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہوگئے، پھر اپنے دائیں (ہاتھ) سے اپنے بائیں (ہاتھ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ١ ؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I said: I am going to watch the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and see how he prays. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and faced the Qiblah, then he raised his hands until they were in level with his ears, then he held his left hand with his right. When he wanted to bow, he raised them (his hands) likewise, then placed his hands on his knees. When he raised his head from bowing, he raised them (his hands) likewise. When he prostrated he put his hands in the same position in relation to his head, then he sat up and lay his left foot on the ground. He placed his left hand on his left thigh and his right elbow on his right thigh, and made a circle with two of his fingers. And I saw him doing like this"- Bishr (one of the narrators) pointed with the forefinger of his right hand and made a circle with the thumb and middle finger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1265
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہوگئے۔
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، تو میں کنکریوں کو الٹنے پلٹنے لگا، (نماز سے فارغ ہونے پر) انہوں نے مجھ سے کہا: (نماز میں) کنکریاں مت پلٹو، کیونکہ کنکریاں کو الٹنا پلٹنا شیطان کی جانب سے ہے، (بلکہ) اس طرح کرو جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے، میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے کرتے دیکھا ہے؟، انہوں نے کہا: اس طرح سے، اور انہوں نے دائیں پیر کو قعدہ میں کھڑا کیا، اور بائیں پیر کو لٹایا ١ ؎، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ٢ ؎۔
Ali bin Abdur-Rahman said: "I prayed beside Ibn Umar and I turned over the pebbles. Ibn Umar said to me: Do not turn over the pebbles, for turning over the pebbles comes from Shaitan. Do what I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) do. I said: What did you see the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) do? He said; This- and he held his right foot upright and lay his left foot on the ground, and placed his right hand on his right thigh and his left hand on his left thigh, and pointed with his forefinger."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1266
Notes · وضاحت
١ ؎: دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنے والی ساری روایتیں مبہم ہیں، اور ابوحمید ؓ والی روایت کہ جس میں قعدہ اخیرہ میں تورک کا ذکر ہے، مفصل ہے اس لیے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مبہم کو مفصل پر محمول کیا جائے۔ ٢ ؎: دونوں قعدوں میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنا کر دائیں گھٹنے پر رکھنا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے اس اشارہ کا کوئی وقت متعین نہیں ہے، شروع تشہد سے اخیر تک اشارہ کرتے رہنا چاہیئے، اور اس اشارہ میں کبھی انگلی کو حرکت دینا اور کبھی نہ دینا دونوں ثابت ہے، اس بابت تمام روایات کا یہی حاصل ہے، صرف أشھد أن لا إلہ إلا اللہ پر اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا: اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، میں نے کہا: آپ ﷺ کس طرح کرتے تھے؟ کہا: جب آپ ﷺ نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ١ ؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ٢ ؎۔
It was narrated that Ali bin Abdur-Rahman said: "Ibn Umar saw me playing with the pebbles while praying. When he finished (praying), he told me not to do that and said: Do what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to do. I said: What did he used to do? He said: When he sat during the prayer, he placed his right hand on his thigh and clenched all his fingers, and pointed with the finger that is next to the thumb, and he put his left hand on his left thigh."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1267
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے داہنے گھٹنے پر۔ ٢ ؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے بائیں گھٹنے پر۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ تو میں نے دیکھا، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی، اور کہا: پھر آپ ﷺ بیٹھے اور آپ ﷺ نے اپنا بایاں پیر بچھایا، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا، اور (باقی انگلیوں میں سے دو سے) حلقہ بنایا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے۔
Wail bin Hujr said: "I am going to watch the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and see how he prays. So, I watched him." And he described (his prayer): "Then he sat and lay his left foot on the ground, and placed his left hand on his left thigh and knee. He put his right elbow on his right thigh, then he made a circle with two fingers of his (right) hand, then he raised his finger and I saw him moving it, supplicating with it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1268
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، اور جو انگلی انگوٹھے سے لگی ہوتی اسے اٹھاتے، اور اس سے دعا مانگتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ آپ کے بائیں گھٹنے پر پھیلا ہوتا تھا، (یعنی: بائیں ہتھیلی کو حلقہ بنانے کے بجائے اس کی ساری انگلیاں بائیں گھٹنے پر پھیلائے رکھتے تھے) ۔
It was narrated from Ibn Umar that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat during the prayer, he put his hands on his knees and raised the finger that is next to the thumb, and supplicates with it, and his left hand was on his knee laid on it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1269
عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Az-Zubair: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to point with his finger when he supplicated, but he did not move it. Ibn Jurayj said: "And Amr added: Amir bin Abdullah bin Az-Zubair told me that his father saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) supplicating like that, putting his weight on his left arm, leaning on his left leg."
شاذ بزيادة ولا يحركهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1270
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کے اس ٹکڑے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے کو بعض علماء نے شاذ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل ؓ نے ہلاتے رہتے تھے سے تعبیر کردیا ہے، اور ابن زبیر ؓ نے اصل حقیقت بیان کردی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں: تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلا تعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کردیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل ؓ نے ہلاتے تھے سے تعبیر کردیا، اصل کام اشارہ تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٨٩، ٩٩٠)، مسند احمد ٤/٣، سنن الدارمی/الصلاة ٨٣ (١٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٤) (شاذ) صرف ” ولا یحرکھا “ کا جملہ شاذ ہے ۔
نمیر خزاعی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔
It was narrated from Malik bin Numair Al-KhuzaI that his father said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) putting his right hand on his right thigh when praying and pointing with his finger."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1271
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٩١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٧ (٩١١)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٠)، مسند احمد ٣/٤٧١، ویأتي عند المؤلف برقم: ١٢٧٥ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” مالک “ لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: A man used to supplicate with two fingers and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Make it one, make it one."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1272
سعد ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ١ ؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے ، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
It was narrated from Sa`d who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by me when I was supplicating with my fingers and he said: Make it one, make it one and pointed with his forefinger."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1273
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
نمیر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔
Malik bin Numair Al-KhuzaI, one of the inhabitants of Al-Basrah, narrated that: His father told him that he saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sitting when praying, putting his right forearm on his right thigh and raising his forefinger, which he had bent slightly, and he was supplicating.
منکر بزيادة الإحناءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1274
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٧٢ (منکر) (انگلی کو جھکانے کا ” تذکرہ “ منکر ہے، اس کے راوی ” مالک “ لین الحدیث ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں) ۔