Sunan An Nasai 1271

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1271Sunan An Nasai

بائیں ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْعَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ، وَزَادَ عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔

It was narrated from Abdullah bin Az-Zubair: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to point with his finger when he supplicated, but he did not move it. Ibn Jurayj said: "And Amr added: Amir bin Abdullah bin Az-Zubair told me that his father saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) supplicating like that, putting his weight on his left arm, leaning on his left leg."

شاذ بزيادة ولا يحركهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1270
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کے اس ٹکڑے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے کو بعض علماء نے شاذ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل ؓ نے ہلاتے رہتے تھے سے تعبیر کردیا ہے، اور ابن زبیر ؓ نے اصل حقیقت بیان کردی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں: تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلا تعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کردیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل ؓ نے ہلاتے تھے سے تعبیر کردیا، اصل کام اشارہ تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٦ (٩٨٩، ٩٩٠)، مسند احمد ٤/٣، سنن الدارمی/الصلاة ٨٣ (١٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٤) (شاذ) صرف ” ولا یحرکھا “ کا جملہ شاذ ہے ۔