زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی ؓ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر (پاکی) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا (جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کردیا (اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا) ١ ؎ یہ بات نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ٢ ؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: "Three men were brought to Ali (RA) while he was in Yemen; they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle. He asked two of them: Do you affirm that this child belongs to (the third man)? And they said: No. He asked another two of them: Do you affirm that this child belongs to (the third man)? And they said: No. So he cast lots between them, and attributed the child to the one whom the lot fell, and obliged him to pay two-thirds of the Diyah. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was told of this, and he laughed so much that his back teeth became visible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3488
Notes · وضاحت
١ ؎: دیت کے دو تہائی کا مفہوم یہ ہے کہ لونڈی کی قیمت کا دو ثلث اسے ادا کرنا پڑا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرعہ کے ذریعہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور کسی لڑکے کے جب کئی دعویدار ہوں تو قیافہ کے بجائے قرعہ کے ذریعہ فیصلہ ہوگا، جو لوگ قرعہ کے بجائے قیافہ کے قائل ہیں ممکن ہے انہوں نے علی رضی الله عنہ کی اس حدیث کو اس حالت پر محمول کیا ہو جب قیافہ شناس موجود نہ ہو ( واللہ اعلم ) ۔ ٢ ؎: یعنی علی رضی الله عنہ کے اس انوکھے و عجیب فیصلے پر آپ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣٢ (٢٢٧٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٠) مسند احمد (٤/٤٧٣) (صحیح )
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں یمن سے ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو وہاں کی باتیں بتانے اور آپ سے باتیں کرنے لگا، ان دنوں علی ؓ یمن ہی میں تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! تین اشخاص ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے علی ؓ کے پاس آئے۔ ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا اور آگے وہی حدیث بیان کی جو گزر چکی ہے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: "While we were with the Messenger of Allah, a man came to him from Yemen and started telling him (about an incident) while Ali was still in Yemen. He said: O Messenger of Allah, three men were brought to Ali who were disputing about a child, and they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle." And he quoted the same Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3489
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا اور علی ؓ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی ؓ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے (کہ یہ بیٹا ہمارا ہے) علی ؓ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی ؓ نے (دوسرے سے) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی ؓ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کردیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہوگا (جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا) یہ قصہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے (اور ایسے زور سے ہنسے) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: "I was with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and Ali (RA) was in Yemen at that time. A man came to him and said: I saw Ali when three men were brought to him who all claimed (to be the father) of a child. Ali (RA) said to one of them: Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. Ali (RA) said: You are disputing partners. I will cast lots among you, and whoever wins the draw, the child is for him, and he has to pay two-thirds of the Diyah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) laughed so much that his back teeth became visible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3490
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کردی (جو پہلے گزر چکی ہے) نسائی کہتے ہیں: خالفہم سلم ۃ بن کہیل سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
It was narrated from a man from Hadramawt, that Zaid bin Arqam (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Ali (RA) to (be the governor of) Yemen, and a child was brought to him concerning whom three men were disputing." Then he quoted the same Hadith. Salamah bin Kuhail contradicted them.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3491
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت یہ ہے کہ اوپر کی روایتوں میں سے ایک روایت میں صالح ہمدانی نے، ایک روایت میں اجلح نے اور ایک روایت میں شیبانی نے زید بن ارقم کو سند میں ذکر کر کے حدیث مرفوع بیان کیا ہے لیکن سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت میں زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا ہے۔
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی (ایک عورت سے) ایک ہی طہر میں (جماع کرنے میں) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا (جیسا کہ اوپر بیان ہوئی) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔
Salamah bin Kuhail said: "I heard Ash-Shabi narrating from Abu Al-Khalil or Ibn Abi Al-Khalil that three men had intercourse (with the same woman) during a single menstrual cycle;" and he mentioned something similar, but he did not mention Zaid bin Arqam (RA) or attribute anything to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز (قیافہ شناس ہے) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to me looking happy and cheerful, and he said: Did you not see that Mujazziz looked at Zaid bin Harithah and Usamah and said: These feet belong to one another.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3493
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کے خوش ہونے کا سبب یہ تھا کہ لوگ اسامہ رضی الله عنہ کے نسب میں شک و شبہ کرتے تھے کہ زید رضی الله عنہ گورے ہیں اور اسامہ رضی الله عنہ کالے ہیں، ساتھ ہی یہ لوگ قیافہ شناس کی بات پر اعتماد بھی کرتے تھے اور جب قیافہ شناس نے یہ کہہ دیا کہ اسامہ کا نسبی تعلق زید سے ہے تو آپ بےحد خوش ہوئے کیونکہ قیافہ شناس کی بات سن کر لوگ اب اسامہ کے سلسلہ میں طعن و تشنیع سے کام نہیں لیں گے، قیافہ شناس کی بات سے آپ ﷺ کا خوش ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ قیافہ سے نسب کا اثبات صحیح ہے، جمہور کا یہی مسلک ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوش خوش آئے اور کہا: عائشہ! ارے تم نے نہیں دیکھا مجزز مدلجی (قیافہ شناس) میرے پاس آیا اور (اس وقت) میرے پاس اسامہ بن زید تھے، اس نے اسامہ بن زید اور (ان کے والد) زید بن حارثہ ؓ دونوں کو دیکھا، ان کے اوپر ایک چھوردار چادر پڑی ہوئی تھی جس سے وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر دکھائی پڑ رہے تھے، اس نے ان کے پیر دیکھ کر کہا: یہ وہ پیر ہیں جن کا بعض بعض سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to me one day looking happy and said: O Aishah! Did you not see that Mujazziz Al-Mudliji came to me when Usamah bin Zaid was with me. He saw Usamah bin Zaid and Zaid with a blanket over them; their heads were covered but their feet were exposed, and he said: These feet belong to one another.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3494
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا (ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہوجا) اور ساتھ ہی کہا (یعنی دعا کی) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔
It was narrated from Abdul-Hamid bin Salamah Al-Ansari, from his father, from his grandfather, that he became Muslim but his wife refused to become Muslim. A young son of theirs, who had not yet reached puberty, came, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) seated the father on one side and the mother on the other side, and he gave him the choice. He said: "O Allah, guide him," and (the child) went to his father.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3495
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٦ (٢٢٤٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٤)، مسند احمد (٥/٤٤٦، ٤٤٧) (صحیح )
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ (و آرام) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی (لا کر) پلاتا ہے، (اتنے میں) اس کا شوہر بھی آگیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا (اور اختلاف) کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے (اس کے بیٹے سے کہا:) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چناچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
It was narrated that Abu Maimunah said: "While I was with Abu Hurairah he said: A woman came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: May my father and mother be ransomed for you! My husband wants to take my son away, but he helps me, and brings me water from the well of Abu Inabah. Her husband came and said: Who is going to take my son from me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O boy, this is your father and this is your mother; take the hand of whichever of them you want." He took his mothers hand and she left with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3496
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس ؓ نے اپنی بیوی کو مارا اور (ایسی مار ماری کہ) اس کا ہاتھ (ہی) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا (جب وہ آئے تو) آپ نے ان سے فرمایا: تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو ١ ؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے (یعنی عورت جمیلہ کو) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ٢ ؎۔
Ar-Rubayy bint Muawwidh bin Afra narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Messenger of Allah to complain about him, and the Messenger of Allah sent for Thabit and said: "Take what she owes you and let her go." He said: "Yes." And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3497
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کر دو۔ ٢ ؎: یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ خلع فسخ ہے طلاق نہیں ہے۔
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ (حدیث) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان ؓ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہوگی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں (یعنی طہر سے فراغت کے بعد) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ١ ؎۔
Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit narrated from Rubayy bint Muawwidh. He said: "I said to her: Tell me your Hadith. She said: I was separated from husband by Khul, then I came to Uthman and asked him: What Iddah do I have to observe? He said: You do not have to observe any Iddah, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated. He said: In that I am following the ruling of the Messenger of Allah concerning Mariam Al-Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and was separated by Khul from him.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3498
Notes · وضاحت
١ ؎: ثابت بن قیس کی بیوی کے مختلف نام لوگوں نے لکھے ہیں، انہیں میں سے ایک مریم غالیہ بھی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما (سورۃ البقرہ کی) آیت: ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها جس آیت کو ہم منسوخ کردیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں ۔ (البقرہ: ١٠٦) ( اور سورة النمل کی) آیت: وإذا بدلنا آية مکان آية واللہ أعلم بما ينزل اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے ۔ (النحل: ١٠١) ( اور سورة الرعد کی) آیت: يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الکتاب اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ۔ (الرعد: ٣٩) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ١ ؎، اور (اس کے بعد) ابن عباس ؓ نے فرمایا: (اور یہ جو سورة البقرہ کی) آیت:والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ۔ (البقرہ: ٢٢٨) اور (سورۃ الطلاق کی) آیت: واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہوگئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ۔ (الطلاق: ٤) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے (ان کا عموم) منسوخ ہوگیا (سورۃ الاحزاب کی اس) آیت:وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن سے اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو ۔ (الاحزاب: ٤٩) ۔
It was narrated from Ibn Abbas with regard to Allahs saying: "Whatever a Verse (revelation) do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and He said: "And when We change a Verse in place of another --and Allah knows best what He sends down." and He said: "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." "The first thing that was abrogated in the Quran was the Qiblah." And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods." and He said: "And those of your women as have passed the age of monthly courses, for them the Iddah, if you have doubt (about their periods), is three months." So (some) of that was abrogated, (according to) His, Most High, saying: "And then divorce them before you have sexual intercourse with them, no Iddah have you to count in respect of them.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3499
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بیت المقدس کے بجائے قبلہ خانہ کعبہ بنادیا گیا۔
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی ۔
It was narrated that Zainab bint Umm Salamah said: "Umm Habibah said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband; (she mourns for him for) four months and ten (days).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3500
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨٠، ١٢٨١)، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٤)، ٤٧ (٥٣٣٨)، ٥٠ (٥٣٤٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٦)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٣ (٢٢٩٩)، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦، ٤٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠)، ویأتي عند المؤلف في ٥٩، ٦٣ (بأرقام ٣٥٥٧، ٣٥٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مرگیا ہو اور سرمہ (و کا جل) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہوجانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: (زمانہ جاہلیت میں) تمہاری ہر عورت (اپنے شوہر کے سوگ میں) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا (اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں (سال پورا ہونے پر) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟ ١ ؎۔
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah -I (the narrator) said: "From her mother?" He said: "Yes" - "that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a woman whose husband had died but they were worried about her eyes - could she use kohl?" He said: "One of you used to stay in her house wearing her shabbiest clothes for a year, then she would come out. No, (the mourning period is) four months and ten (days).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3501
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام کی رو سے وہ چار ماہ دس دن صبر نہیں کرسکتی؟ یہ مدت تو سال کے مقابلہ میں اللہ کی جانب سے ایک رحمت ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر (یعنی میرے داماد) کا انتقال ہوگیا ہے اور مجھے (عدت میں بیٹھی) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہوجانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں (سوگ منانے والی) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہوجاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی ۔
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah, that Umm Salamah and Umm Habibah said: "A woman came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: My daughters husband has died, and I am worried about her eyes. Can I apply kohl to her? The Messenger of Allah said: One of you used to stay (in mourning) for a year. Rather (the mourning period is) four months and ten (days). And when that year had passed she would go out and fling a piece of dung behind her.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3502
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی ۔
It was narrated from Safiyyah bint Abi Ubaid that she heard Hafsah bint Umar, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), (narrate) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3503
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩٠)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٥ (٢٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٧)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١٨٤، ٢٨٦، ٢٨٧) (صحیح )
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی ۔
It was narrated from Safiyyah bint Abi Ubaid from one of the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and from Umm Salamah, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3504
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی سے اور بیوی سے مراد ام سلمہ ؓ ہیں اور وہ نبی اکرم ﷺ سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔
A similar report was narrated from Safiyyah bint Abi Ubaid from one of the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) -and she is Umm Salamah- from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی ؓ کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کرلی۔
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth one day after her husband died. She came to the Messenger of Allah and asked his permission to marry, and he gave her permission to marry and she married.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3506
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢٧٢)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٠ (٨٥)، مسند احمد (٤/٣٢٧)، ویأتي فیما یلي (صحیح )