طلاق سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 27 · 175 hadiths · Page 5 of 9

3498Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص مقررہ آدمی کا نام لے کر عورت پر تہمت لگائے ان کے درمیان لعان کی صورت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: سُئِلَ هِشَامٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَحَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ، وَأَنَا أَرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا، فَقَالَ: إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، وَكَانَ أَخُو الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: ابْصُرُوهُ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ.

عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے (اس کے جواب میں) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہوگا تو انہوں نے کہا: ہلال بن امیہ ؓ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو (سمجھو) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ وہ (یعنی انس ؓ) کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ٢ ؎۔

It was narrated that Muhammad said: "I asked Anas bin Malik (RA) about that, as I thought that he had knowledge of that. He said: Hilal bin Umayyah accused his wife (of committing adultery) with Sharik bin As-Sahma, who was the brother of Al-Bara bin Malik through his mother. He was the first one who engaged in the procedure of Lian. The Messenger of Allah conducted the procedure of Lian between them, then he said: "Look and see, if she produces a child who is white, with straight hair and Qadiya eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, and if she produces a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma." I was told that she produced a child who has dark lines around his eyes, curly hair and narrow calves.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3468
Notes · وضاحت
١ ؎: ان سے پہلے کسی نے لعان نہیں کیا تھا ان کے لعان کرنے سے لعان کا طریقہ معلوم ہوا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت حمل میں حاملہ عورت سے لعان کرنا منع نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١)، مسند احمد (٣/١٤٢) (صحیح )
3499Sunan An Nasai

لعان کا طریقہ

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ لِعَانٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ شَرِيكَ بْنَ السَّحْمَاءِ بِامْرَأَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا، فَقَالَ لَهُ هِلَالٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَعَا هِلَالًا، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ دُعِيَتِ الْمَرْأَةُ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقِّفُوهَا، فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ، فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى مَا شَكَكْنَا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ عَلَى الْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا مَا سَبَقَ فِيهَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَالْقَضِيءُ: طَوِيلُ شَعْرِ الْعَيْنَيْنِ، لَيْسَ بِمَفْتُوحِ الْعَيْنِ، وَلَا جَاحِظِهِمَا، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی (کوڑے پڑیں گے) آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور (مجھے یقین ہے) اللہ بزرگ و برتر آپ ﷺ پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: والذين يرمون أزواجهم۔ آخر تک نازل ہوئی ١ ؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر (یعنی قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر (قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے (راوی کو شک ہوگیا) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ذرا) اسے روکے رکھو (آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہوسکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کرلے) کیونکہ یہ گواہی (اللہ کی لعنت و غضب کو) واجب و لازم کر دے گی ، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا (سمجھا) کہ (شاید) وہ اعتراف گناہ کرلے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کرسکتی، یہ کہہ کر (آخری) قسم بھی کھا گئی۔ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید (گورا) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو (سمجھو کہ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو (سمجھو) وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، (اس کے جننے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آچکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ (یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا) ۔ واللہ اعلم

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The first Lian in Islam was when Hilal bin Umayyah accused Sharik bin As-Sahma (of committing adultery) with his wife. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: (Bring) four witnesses, otherwise (you will feel) the Hadd punishment on your back. And he repeated that several times. Hilal said to him: By Allah, O Messenger of Allah! Allah, the Mighty and Sublime, knows that I am telling the truth, and Allah, the Mighty and Sublime, will certainly reveal to you that which will spare my back from the whip. While they were like that, the Verse of Lian was revealed to him: As to those who accuse their wives. He called Hilal and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time he invoked the curse of Allah upon him if he were lying. Then he called the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying. When it came to the fourth or fifth time, the Messenger of Allah ﷺ said: Stop her, for it will inevitably bring the punishment of Allah upon the liar. She hesitated until we thought that she was going to confess, then she said: I will not dishonor my people today. Then she went ahead with the oath. The Messenger of Allah said: Wait and see. If she produces a child who is white, with straight hair and Qadiya eyes, then he belongs to Hilal bin Umayyah, but if she produces a child who is dark with curly hair, of average size and with narrow calves, then he belongs to Sharik bin As-Sahma. She produced a child who was dark with curly hair, of average size and with narrow calves. The Messenger of Allah ﷺ said: Had not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3469
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں ( النور : ٦ ) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت لعان ہلال رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے وقت نازل ہوئی جب کہ عاصم رضی الله عنہ کی حدیث رقم ( ٣٤٩٦ ) میں ہے کہ یہ آیت عویمر رضی الله عنہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ یہ واقعہ سب سے پہلے ہلال کے ساتھ پیش آیا پھر اس کے بعد عویمر بھی اس سے دو چار ہوئے پس یہ آیت ایک ساتھ دونوں سے متعلق نازل ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي وانظر ماقبلہ (صحیح )
3500Sunan An Nasai

امام کا دعا کرنا کہ اللہ تو میری رہبری فرما

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ: أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، قَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا بِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ، أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ الشَّرَّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی ؓ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم ؓ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ١ ؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی (یعنی شوہر) زردی مائل، کم گوشت والا (چھریرا بدن) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا (موٹا بدن) تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہم بین اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے ، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہا: (ابن عباس! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کردیتا، ابن عباس ؓ نے فرمایا: نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ٢ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Mention of Lian was made in the presence of the Messenger of Allah and Asim bin Adiyy said something about that, then he went away. A man from among his people came to him, complaining that he had found a man with his wife. Asim said: I was only put to this test because of what I said. He took him to the Messenger of Allah and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well-built. The Messenger of Allah said: O Allah, make it clear to me. Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah conducted the procedure of Lian between them." A man in the gathering said to Ibn Abbas: "Was she the one of whom the Messenger of Allah said: If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?" Ibn Abbas said: "No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3470
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ میں کہتا اور نہ یہ شخص میرے پاس یہ مقدمہ و قضیہ لے کر آتا۔ ٢ ؎: یعنی فاحشہ تھی، بدکاری کرتی تھی لیکن اس کے خلاف ثبوت نہیں تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣١ (٥٣١٠)، ٣٦ (٥٣١٦)، الحدود ٤٣ (٦٨٥٦)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٣٢٨) (صحیح )
3501Sunan An Nasai

امام کا دعا کرنا کہ اللہ تو میری رہبری فرما

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ: أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ: أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ، أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ الشَّرَّ فِي الْإِسْلَامِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کی بات آئی تو عاصم بن عدی ؓ نے اس معاملے میں کوئی بات کہی پھر واپس چلے گئے، ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس پہنچا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ (زنا کرتا ہوا) پایا ہے تو وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے، اس نے آپ کو اس شخص سے باخبر کیا جس کے ساتھ اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ آدمی (یعنی شوہر) زردی مائل، دبلا، سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ، بھری ہوئی پنڈلیوں والا، فربہ، گھونگھریالے چھوٹے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اللھم بیّن اے اللہ تو اسے واضح کر دے پھر اس نے بچہ جنا، وہ بچہ بالکل اسی طرح تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا، ایک آدمی نے جو (اس وقت) مجلس میں موجود تھا ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو کردیتا۔ ابن عباس ؓ نے کہا: نہیں، یہ عورت تو اسلام میں رہتے ہوئے شر پھیلاتی تھی ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "Mention of Lian was made in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and Asim bin Adiyy said something about that, then he went away. He was met by a man from among his people who told him that he had found a man with his wife. He took him to the Messenger of Allah ﷺ and told him of the situation in which he found his wife. That man was pale and slim with straight hair, and the one whom he claimed to have found with his wife was dark and well built, with very curly hair. The Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, make it clear to me. Then she gave birth to a child who resembled the one whom her husband said he had found with her. So the Messenger of Allah ﷺ conducted the procedure of Lian between them." A man in the gathering said to Ibn Abbas: "Was she the one of whom the Messenger of Allah said: If I were to have stoned anyone without evidence I would have stoned this one?" Ibn Abbas said: "No, that was a woman who used to do mischief even after becoming Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3471
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بدکاری کراتی تھی، لیکن اقرار اور ثبوت نہ ہونے کے باعث قانون کی گرفت سے بچی ہوئی تھی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٠٠ (صحیح )
3502Sunan An Nasai

پانچویں مرتبہ قسم کھانے کے وقت لعان کرنے والوں کے چہرہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو (یہ بھی) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded the two who were engaging in Lian to utter the fifth oath, he commanded a man to place his hand over his mouth, and he said: "It will inevitably bring the punishment upon the liar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3472
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ وہ ایک بار پھر سوچ لے کہ وہ کتنی بڑی اور بھیانک قسم کھانے جا رہا ہے۔ ٢ ؎: یعنی جھوٹے ہوں گے تو اللہ کی لعنت و غضب کے سزاوار ہونے سے بچ نہ سکیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ٦٣٧٢) (صحیح )
3503Sunan An Nasai

امام کا لعان کے وقت مرو و عورت کو نصیحت کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ مِنْ مَقَامِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ ؟ وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى عَلَى امْرَأَتِهِ فَاحِشَةً، إِنْ تَكَلَّمَ فَأَمْرٌ عَظِيمٌ ؟ وَقَالَ عَمْرٌو: أَتَى أَمْرًا عَظِيمًا، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّالْأَمْرَ الَّذِي سَأَلْتُكَ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَوَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَوَعَظَهَا، وَذَكَّرَهَا، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا (کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کردی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر ؓ کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا (ابن عمر ؓ نے ان کا نام نہیں لیا) اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! (ارأیت عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں ارأیت کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے (تو کیا کرے؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ١ ؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے (جو ناقابل برداشت ہے) ، آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا (اس روایت میں ـ فأمر عظیم کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے اتی امراً عظیماً کے الفاظ استعمال کیے ہیں) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آگیا تو وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہوگیا، (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی یہ آیت: والذين يرمون أزواجهم سے لے کر والخامسة أن غضب اللہ عليها إن کان من الصادقين تک نازل فرمائیں، (اس کارروائی کا) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ (اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی) تو آپ نے (یہ کارروائی) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ (شوہر) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ٢ ؎۔

Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said: "I heard Saeed bin Jubair say: I was asked about the two who engage in Lian during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn Umar (RA)and said: "O Abu Abdur-Rahman, should the two who engage in Lian be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter? He did not answer him, then after that, he came to him and said: I was tried with the matter that I asked you about, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed these Verses in Surat An-Nur.: And for those who accuse their wives until he reached: And the fifth (testimony) should be that the Wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth. So he started with the man, exhorting him, reminding him, and telling him that the punishment in this world was less severe than the punishment in the Hereafter. He said: By the One Who sent you with the truth, I am not lying. Then he turned to the woman and exhorted her and reminded her. She said: By the One Who sent you with the truth, he is lying. So he started with the man, and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time (he invoked) the curse of Allah upon himself if he was lying. Then he turned to the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying, and the fifth time (she invoked) the wrath of Allah upon herself if he was telling the truth. Then he separated them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3473
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سے کہا جائے گا کہ چار گواہ لاؤ، چار گواہ نہ پیش کرسکو تو کوڑے کھاؤ۔ ٢ ؎: لعان کرنے والوں کے مابین جدائی کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ لعان کے بعد دونوں کے مابین جدائی ہوجائے گی، حاکم کے فیصلہ کی ضرورت نہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے زادالمعاد ( ٥/٣٨٨ ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١١٠٢)، صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١١)، ٣٥ (٥٣١٥)، ٥٣ (٥٣٥٠)، الفرائض ١٧ (٦٧٤٨)، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٨)، مسند احمد (٢/١٢)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٥) (صحیح )
3504Sunan An Nasai

لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْعَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی (لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کردی تھی۔

It was narrated that Saeed bin Jubair said: "Al-Musab did not separate the two who engaged in Lian." Saeed said: "I mentioned that to Ibn Umar and he said: The Messenger of Allah ﷺ separated the couple from Banu Ajlan.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3474
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٠٦١) (صحیح )
3505Sunan An Nasai

لعان کرنے والے لوگوں سے لعان کے بعد توبہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ قَالَ لَهُمَا ثَلَاثًا: فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: مَالِي، قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهِيَ أَبْعَدُ مِنْكَ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا (تو کیا کرے) ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کردی تھی۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے ، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے (توبہ کرنے سے) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کردی۔ (ایوب کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے؟ کہتے ہیں: اس شخص نے کہا: میرے مال کا کیا ہوگا (ملے گا یا نہیں)؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کرچکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ayyub, that Saeed bin Jubair said: "I said to Ibn Umar: A man accused his wife. He said: The Messenger of Allah separated the couple from Banu Ajlan and said: Allah knows that one of you is lying, so will either of you repent? He said that to them three times and they did not respond, then he separated them." (One of the narrators) Ayyub said: "Amr bin Dinar said: In this Hadith there is something that I think you are not narrating. He said: The man said: My wealth. He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth, you have consummated the marriage with her, and if you are lying then you are even less entitled to it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3475
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس عورت سے فائدہ اٹھایا، اس پر تہمت لگائی اور پھر مال کی حرص بھی رکھتا ہے، اس لیے تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١١)، ٣٣ (٥٣١٢)، ٥٣ (٥٣٤٩)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧ (٢٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٠)، مسند احمد (١/٧٥، ٢/٤، ٣٧) (صحیح )
3506Sunan An Nasai

لعان کرنے والے افراد کا اجتماع

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَعَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، وَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي، قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، (مرد سے کہا:) تمہارا اب اس (عورت) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ١ ؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہوگیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Amr said: "I heard Saeed bin Jubair say: I asked Ibn Umar about the two who engage in Lian. He said: The Messenger of Allah ﷺ said to the two who engaged in Lian: Your reckoning will be with Allah. One of you is lying, and you cannot stay with her. He said: O Messenger of Allah, my wealth! He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth about her, then it is in return for having been allowed intimacy with her, and if you are lying then you are even less entitled to it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3476
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ لعان کے بعد دونوں میں جدائی ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوجائے گی، حدیث رسول اور اقوال صحابہ سے یہی ثابت ہے۔ ٢ ؎: یعنی تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال بھی کیا، اس پر جھوٹا الزام بھی لگایا اور اس سے اپنا مال بھی لینے وپانے کا متمنی ہے یہ تو اور بھی غیر ممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٣ (٥٣١٢)، ٥٣ (٥٣٥٠)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥١)، مسند احمد ٢/١١) (صحیح )
3507Sunan An Nasai

لعان کی وجہ سے لڑکے کا نکار کرنا اور اس کو اس کی والدہ کے سپرد کرنے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأُمِّ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ conducted the procedure of Lian between a man and his wife, and he separated them and attributed the child to his mother.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3477
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٥ (٥٣١٥)، الفرائض ١٧ (٦٧٤٨)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٤)، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٩)، سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٢)، موطا امام مالک/الطلاق ١٣ (٣٥)، مسند احمد (٢/٧، ٣٨، ٦٤، ٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٨) (صحیح )
3508Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کس رنگ کے ہیں؟ ، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں) ، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہوسکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: (یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہوسکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man from Banu Fazarah came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "My wife has given birth to a black boy." The Messenger of Allah said: "Do you have camels?" He said: "Yes." He said: "What color are they?" He said: "Red." He said: "Are there any gray ones among them?" He said: "There are some gray ones among them." He said: "Where do you think they come from?" He said: "Perhaps it is hereditary." He said: "Likewise, perhaps this is hereditary.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3478
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ٢ ؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہوگا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آگیا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، سنن ابی داود/الطلاق ٢٨ (٢٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٨ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٩)، صحیح البخاری/الطلاق ٢٦ (٥٣٠٥)، والحدود ٤١ (٦٨٤٧)، والاعتصام ١٢ (٧٣١٤)، سنن الترمذی/الولاء ٤ (٢١٢٩)، مسند احمد (٢/٣٣٤، ٢٣٩، ٤٠٩) (صحیح )
3509Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ ، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہوگا۔ آپ نے فرمایا: (یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہوگا ، آپ ﷺ نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man from Banu Fazarah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: My wife has given birth to a black boy -and he wanted to disown him. He said: Do you have camels? He said: Yes. He said: What color are they? He said: Red. He said: Are there any gray ones among them? He said: There are some gray camels among them. He said: Why is that do you think? He said: Perhaps it is hereditary. He said: Perhaps this is hereditary. And he did not permit him to disown him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3479
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠)، سنن ابی داود/الطلاق ٢٨ (٢٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٣)، مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٧٩) (صحیح )
3510Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي ؟ قَالَ: فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ ؟ قَالَ: فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ، قَالَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟ ، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ ، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں؟ ، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟ ، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟ ، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہوسکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو (یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو) ، آپ ﷺ نے فرمایا: اور یہ بھی ہوسکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو ۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "While we were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), a man stood up and said: O Messenger of Allah, a black boy has been born to me. The Messenger of Allah ﷺ said: How did that happen? He said: I do not know. He said: Do you have camels? He said: Yes. He said: What color are they? He said: Red. He said: Are there any gray camels among them? He said: There are some gray camels among them. He said: Where do they come from? He said: I do not know, O Allahs Messenger! Perhaps it is hereditary. He said: Perhaps this is also hereditary. Because of this, the Messenger of Allah decreed the following: It is not allowed for a man, to disown a child who was born on his bed, unless he claimed that he had seen an immoral act (Fahishah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3480
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣١٧٠) (صحیح )
3511Sunan An Nasai

بچے کا انکار کرنے پر وعید شدید کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ رہا (اور سمجھ بوجھ رہا) ہو (کہ وہ بیٹا اسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرلے گا ١ ؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah say when the Verse of Mulaanah (Lian) was revealed: "Any woman who falsely attributes a man to people to whom he does not belong, has no share from Allah, and Allah will not admit her to His Paradise. Any man who denies his son while looking at him (knowing that he is indeed his son), Allah, the Mighty and Sublime, will cast him away, and disgrace him before the first and the last on the Day of Resurrection.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3481
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٩ (٢٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبداللہ بن یونس “ مجہول ہیں )
3512Sunan An Nasai

جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The child is the beds and for the fornicator is the stone.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3482
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زنا کار اگر کہتا ہے کہ یہ بچہ ہمارے نطفہ کا ہے تو وہ پتھر کا مستحق ہے۔ اور اگر زنا کار شادی شدہ ہے تو ضابطے و قانون شریعت کے مطابق اسے پتھروں سے رجم کردیا جائے گا، یعنی اس کے لیے بالکل یہ محرومی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ١٧ (٦٧٥٠)، والحدود ٢٣ (٦٨١٨)، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨)، سنن الترمذی/الرضاع ٨ (١١٥٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٤)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٠٨)، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨١) (صحیح )
3513Sunan An Nasai

جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لڑکا فراش والے (یعنی شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے (یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کردیا جائے گا) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "The child is the beds and for the fornicator is the stone.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3483
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٢)، مسند احمد (٢/٢٨٠) (صحیح )
3514Sunan An Nasai

جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ؓ کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہوگیا۔ سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے (میں اسے حاصل کرلوں) ، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے (کتنی زیادہ ہے) ، عبد بن زمعہ ؓ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا (لیکن) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عبد (عبد بن زمعہ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے (قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سرپرست ہو) ، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو ١ ؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ ؓ کو کبھی نہیں دیکھا (وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا) ۔

It was narrated that Aishah said: "Sad bin Abi Waqqas and Abd bin Zamah disputed over a boy. Sad said: O Messenger of Allah! This is the son of my brother Utbah bin Abi Waqqas, who made me promise to look after him because he is his son. Look at whom he resembles. Abd bin Zamah said: He is my brother who was born on my fathers bed to his slave woman. The Messenger of Allah looked to determine at whom he resembled, and saw that he resembled Utbah. He said: He is for you, O Abd! The child is the beds and for the fornicator is the stone. Veil yourself from him, O Sawdah bint Zamah. And he never saw Sawdah again.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3484
Notes · وضاحت
١ ؎: مشابہت کے پیش نظر آپ نے یہ بات کہی، گویا آپ ﷺ نے اس جانب رہنمائی کردی کہ بچہ اگرچہ صاحب فراش کا ہے لیکن احکام شریعت کے سلسلہ میں احوط اور مناسب طریقہ اپنایا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣ (٢٠٥٣)، ١٠٠ (٢٢١٨)، الخصومات ٦ (٢٤٢١)، العتق ٨ (٢٥٣٣)، الوصایا ٤ (٢٧٤٥) المغازي ٥٣ (٤٣٠٣)، الفرائض ١٨ (٤٣٤٩)، ٢٨ (٦٧٦٥)، الحدود ٢٣ (٦٨١٧)، الأحکام ٢٩ (٧١٨٢)، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٣٤ (٢٢٧٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٤)، موطا امام مالک/الأقضیة ٢١ (٢٢٨١)، مسند احمد (٦/١٢٩، ٢٠٠، ٢٧٣، ٢٤٧)، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨٢) (صحیح )
3515Sunan An Nasai

جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤُهَا هُوَ، وَكَانَ يَظُنُّ بِآخَرَ يَقَعُ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ شِبْهِ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ بِهِ، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ.

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چناچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہوگیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ام المؤمنین سودہ (سودہ بنت زمعہ) ؓ نے کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے ١ ؎ اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ (فی الواقع) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Az-Zubair said: "Zamah had a slave woman with whom he used to have intercourse, but he suspected that someone else was also having intercourse with her. She gave birth to a child who resembled the one whom he suspected. Zamah died when she was pregnant, and Sawdah mentioned that to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: The child is the beds, but veil yourself from him, O Sawdah, for he is not a brother of yours.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3485
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بیوی یا لونڈی جس کی ہوگی بچہ اس کا مانا جائے گا جب تک کہ وہ خود ہی اس کا انکار نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ یہ بچہ میرے نطفے کا نہیں ہے، اگرچہ خارجی اسباب سے معلوم بھی ہوتا ہو کہ یہ اس کے نطفہ کا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٢٩٣)، مسند احمد (٤/٥) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3516Sunan An Nasai

جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَا أَحْسَبُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکا فراش والے کا ہے ١ ؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے ٢ ؎۔

It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah said: "The child is the beds, and for the fornicator is the stone. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not think that this is from ‘Abdullah bin Mas’ud, and Allah, Most High, knows best.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3486
Notes · وضاحت
١ ؎: بیوی اور لونڈی جس سے مرد کی صحبت جائز ہے اسے فراش ( بچھونا ) کہا گیا ہے، تو بچھونا جس کا ہوگا یعنی عورت یا لونڈی جس کی ہوگی لڑکا بھی اس کا کہا یا مانا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی غیر شادی شدہ ہوگا تو کوڑے لگیں گے جو پتھر کی مار کی طرح تکلیف دہ ہیں اور شادی شدہ ہوگا تو ( فی الواقع ) پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٢٩٤) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3517Sunan An Nasai

باندی کے ہمبستر ہونے (یعنی باندی سے صحبت) سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ زَمْعَةَ، قَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ، فَانْظُرِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَهُوَ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هُوَ ابْنُ أَمَةِ، أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ؓ کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا (کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے) سعد ؓ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو (اور اسے حاصل کرلو) وہ میرا بیٹا ہے۔ چناچہ عبد بن زمعہ ؓ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر (یعنی اس کی ملکیت میں) پیدا ہوا ہے (اس لیے وہ میرا بھائی ہے) ، رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو (اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے) اور اے سودہ (اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن) تم اس سے پردہ کرو (کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے) ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "Sad bin Abi Waqqas and Abd bin Zamah disputed concerning a son of Zamah. Sad said: My brother Utbah urged me, if I came to Makkah: Look for the son of the slave woman of Zamah, for he is my son. Abd bin Zamah said: He is the son of my fathers slave woman who was born on my fathers bed. The Messenger of Allah ﷺ saw that he resembled Utbah, but he said: The child is the beds. Veil yourself from him, O Sawdah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3487
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخصومات ٦ (٢٤٢١)، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٧)، سنن ابی داود/الطلاق ٣٤ (٢٢٧٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٥)، مسند احمد (٦/٣٧، ١٢٩، ٢٠٠) (صحیح )