جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The child is the beds and for the fornicator is the stone.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3482
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زنا کار اگر کہتا ہے کہ یہ بچہ ہمارے نطفہ کا ہے تو وہ پتھر کا مستحق ہے۔ اور اگر زنا کار شادی شدہ ہے تو ضابطے و قانون شریعت کے مطابق اسے پتھروں سے رجم کردیا جائے گا، یعنی اس کے لیے بالکل یہ محرومی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ١٧ (٦٧٥٠)، والحدود ٢٣ (٦٨١٨)، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨)، سنن الترمذی/الرضاع ٨ (١١٥٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٤)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٠٨)، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨١) (صحیح )