طلاق سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 27 · 175 hadiths · Page 4 of 9

3478Sunan An Nasai

باندی کو اختیار دینے سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ، أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا، وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُعْتِقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا، فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوهُ فَإِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ کی ذات سے تین قضیے (مسئلے) سامنے آئے: بریرہ ؓ کے مالکان نے ان کو بیچ دینا اور ان کی ولاء (وراثت) کا شرط لگانا چاہا، میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا: (ان کے شرط لگانے سے کچھ نہیں ہوگا) تم اسے خرید لو اور اسے آزاد کر دو، ولاء (میراث) اس کا حق ہے جو اسے آزاد کرے ، اور وہ (خرید کر) آزاد کردی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے آپ کو منتخب کرلیا (یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا) ، اسے صدقہ دیا جاتا تھا تو اس صدقہ میں ملی ہوئی چیز میں سے ہمیں ہدیہ بھیجا کرتی تھی، میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کو بتائی تو آپ نے فرمایا: اسے کھاؤ وہ (چیز) اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "Three judgments were established because of Barirah. Her masters wanted to sell her but they stipulated that Al-Wala should still be to them. I mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Buy her and set her free, for Al-Wala, is to the one who sets the slave free. She was set free and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave her the choice, and she chose herself. And she used to be given charity and she would give some of it as a gift to us. I mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Eat it for it is charity for her and a gift for us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3448
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ہدیہ قبول کرنا ہمارے لیے جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٥)، العتق ٢ (١٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٨)، مسند احمد (٦/٤٥)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٦، ٢٣٣٧) (صحیح )
3479Sunan An Nasai

اس باندی کے اختیار دینے سے متعلق جو کہ آزاد کردی گئی ہو اور اس کا شوہر آزاد ہو

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، قَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا أَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ ؓ کو خریدا تو اس کے (بیچنے والے) مالکان نے اس کی ولاء (وراثت) کی شرط لگائی (کہ اس کے مرنے کا ترکہ ہم پائیں گے) ، میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء (میراث) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو پیسہ خرچ کرے (یعنی لونڈی یا غلام خرید کر آزاد کرے) ، چناچہ میں نے اسے آزاد کردیا پھر (میرے آزاد کردینے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کرلینے کا اختیار دیا۔ اس نے کہا: اگر وہ مجھے اتنا اتنا دیں تب بھی میں ان کے پاس نہیں رہوں گی، اس نے اپنے حق خود اختیاری کا استعمال کیا (اور علیحدگی ہوگئی) ، اس کا شوہر آزاد شخص تھا ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "I bought Barirah and her masters stipulated that her Wala should go to them. I mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Set her free, and Al-Wala is to the one who pays the silver. So I set her free and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called her and gave her the choice concerning her husband. She said: Even if you gave me such and such, I would not stay with him, so she chose herself and her husband was a free man.

صحيح دون قوله وکان زوجها حرا فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3449
Notes · وضاحت
١ ؎: عائشہ رضی الله عنہا سے ایک دوسری حدیث رقم ( ٣٤٨١ ) میں بریرہ رضی الله عنہا کے شوہر سے متعلق آیا ہے وکان عبدا یعنی وہ آزاد نہیں بلکہ غلام تھے، اسی طرح ابن عباس کی حدیث میں بھی ہے کہ وہ غلام تھے۔ اس لیے اس سلسلہ میں مناسب اور معقول توجیہ یہ ہے کہ وہ غلام تھے پھر آزاد کر دئے گئے، جن کو ان کی آزادی کی اطلاع نہیں ملی انہوں نے اصل کی بنیاد پر انہیں عبد کہا، ممکن ہے عائشہ رضی الله عنہا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو۔ صحیح روایات کی موجودگی کہ بریرہ رضی الله عنہا کے شوہر آزاد تھے، اس حدیث میں یہ ذکر کرنا کہ وہ آزاد تھے شاذ اور ضعیف ہے اس لیے کہ یہ ثقات کی روایت کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ العتق ١٠ (٢٥٣٦)، الفرائض ٢٠ (٦٧٥٤)، ٢٢ (٦٧٥٨)، سنن الترمذی/البیوع ١٢ (١٢٥٦)، الولاء ١ (٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٩٢) (صحیح) (حدیث میں ” وکان زوجہاحرا “ کا لفظ شاذ ہے )
3480Sunan An Nasai

اس باندی کے اختیار دینے سے متعلق جو کہ آزاد کردی گئی ہو اور اس کا شوہر آزاد ہو

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا، وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُتِيَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ ؓ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے ولاء (میراث) خود لینے کی شرط رکھی، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے ١ ؎، اور (رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانے کے لیے) گوشت لایا گیا اور بتا بھی دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ ؓ کو صدقہ میں دیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بریرہ ؓ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے تو ہدیہ و تحفہ ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اسے (یعنی بریرہ کو) اختیار دیا، بریرہ کا شوہر آزاد شخص تھا۔

It was narrated from Aishah that she wanted to buy Barirah, but her masters stipulated that her Wala should go to them. She mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Buy her and set her free, for Al-Wala is to the one who sets the slave free." Some meat was brought and it was said: "This is some of that which was given in charity to Barirah." He said: "It is charity for her and a gift for us." And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave her the choice, and her husband was a free man.

صحيح دون قوله حر والمحفوظ أنه کان عبداصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3450
Notes · وضاحت
١ ؎: لہٰذا بیچنے والا اگر شرط لگائے تو وہ شرط فاسد ہے اور شرط فاسد کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦١٥) (صحیح دون قولہ: ”…حرا “ والمحفوظ أنہ کان عبدا مملوکا کما یأتی فی الباب التالی )
3481Sunan An Nasai

اس مسئلہ سے متعلق کہ جس باندی کا شوہر غلام ہے اور وہ آزاد ہوگئی تو اس کو اختیار ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِأُوقِيَّةٍ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ فَكَلَّمَتْ فِي ذَلِكَ أَهْلَهَا، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهَا: مَا قَالَ أَهْلُهَا، فَقَالَتْ: لَا، هَا اللَّهِ إِذًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا ؟فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُ بِي عَلَى كِتَابَتِهَا، فَقُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ يَقُولُونَ: أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي، كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَكُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، وَكَانَ عَبْدًا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ عُرْوَةُ: فَلَوْ كَانَ حُرًّا، مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ نے اپنی آزادی کے لیے نو اوقیہ ١ ؎ پر مکاتبت کی اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے کی شرط ٹھہرائی اور عائشہ ؓ سے مدد حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آئی۔ انہوں نے کہا: میں اس طرح مدد تو نہیں کرتی لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ میں انہیں ایک ہی دفعہ میں پوری رقم گن دوں اور ولاء (وراثت) میرا حق ہو (تو میں ایسا کرسکتی ہوں) ، بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی اور ان لوگوں سے اس معاملے میں بات کی، تو انہوں نے بغیر ولاء (وراثت) کے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا (کہا ولاء (میراث) ہم لیں گے) تو وہ لوٹ کر عائشہ ؓ کے پاس آئی، اور اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے، بریرہ ؓ نے اپنے مالک کے جواب سے انہیں (عائشہ کو) آگاہ کیا، انہوں نے کہا: نہ قسم اللہ کی جب تک ولاء (میراث) مجھے نہ ملے گی (میں اکٹھی رقم نہ دوں گی) ، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا قصہ ہے؟ انہوں کہا: اللہ کے رسول! (بات یہ ہے کہ) بریرہ اپنی مکاتبت ؓ پر مجھ سے امداد طلب کرنے آئی تو میں نے اس سے کہا میں یوں تو مدد نہیں کرتی مگر ہاں اگر وہ ولاء (میراث) کو میرا حق تسلیم کریں تو میں ساری رقم انہیں یکبارگی گن دیتی ہوں، اس بات کا ذکر اس نے اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا: نہیں، ولاء (میراث) ہم لیں گے (تب ہی ہم اس پر راضی ہوں گے) ، رسول اللہ ﷺ نے (عائشہ سے) کہا: تم اسے خرید لو اور ان کے لیے ولاء (میراث) کی شرط مان لو، ولاء اس شخص کا حق ہے جو اسے آزاد کرے (اس طرح جب تم خرید کر آزاد کر دو گی تو حق ولاء (میراث) تم کو مل جائے گا) پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے لوگوں کو خطاب کیا (سب سے پہلے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ (قرآن) میں نہیں ہیں، کہتے ہیں: (ہم سے خرید کر) آزاد تم کرو لیکن ولاء (وراثت) ہم لیں گے۔ اللہ عزوجل کی کتاب برحق و صحیح تر ہے اور اللہ کی شرط مضبوط، ٹھوس اور قابل اعتماد ہے اور ہر وہ شرط جس کا کتاب اللہ میں وجود و ثبوت نہیں ہے باطل و بےاثر ہے، اگرچہ وہ ایک نہیں سو شرطیں ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہوجانے کا اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا تو اس نے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا۔ عروہ کہتے ہیں: اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے (علیحدہ ہوجانے کا) اختیار نہ دیتے۔

It was narrated that Aishah said: "Barirah made a contract that she would be freed in return for nine Awaq, one Uqiyyah to be paid each year." She came to Aishah (RA) asking for help and she said: "No, not unless they agree to accept the sum in one payment, and that the Wala will go to me." Barirah went and spoke to her masters but they insisted that the Wala should be for them. She came to Aishah and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came, and she told her what her masters had said. She said: "No, by Allah, not unless Wala is to me." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What is this?" She said: "O Messenger of Allah, Barirah came to me and asked me to help her with her contract of manumission, and I said no, not unless they agree to accept the sum in one payment, and that the Wala will be for me. She mentioned that to her masters and they insisted that the Wala should be for them." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Buy her, and stipulate that the Wala is for the one who sets the slave free." Then he stood up and addressed the people and said: "What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah, the Mighty and Sublime? They say: I set so-and-so free but the Wala will be to me. Every condition that is not in the Book of Allah, the Mighty and Sublime, is a false condition, even if there are a hundred conditions." And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave her the choice with regard to her husband who was still a slave, and she chose herself. Urwah said: "If he had been free the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would not have given her the choice.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3451
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن ابی داود/الطلاق ١٩ (٢٢٣٣) مختصراً، سنن الترمذی/الرضاع ٧ (١١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٧٠)، مسند احمد (٦/١٧٠) (صحیح )
3482Sunan An Nasai

اس مسئلہ سے متعلق کہ جس باندی کا شوہر غلام ہے اور وہ آزاد ہوگئی تو اس کو اختیار ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ کا شوہر غلام شخص تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The husband of Barirah was a slave.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3452
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٥٤)، مسند احمد (٦/٢٦٩) (صحیح )
3483Sunan An Nasai

اس مسئلہ سے متعلق کہ جس باندی کا شوہر غلام ہے اور وہ آزاد ہوگئی تو اس کو اختیار ہے

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ: أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ وَضَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ ؟قَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو کچھ انصاری لوگوں سے خریدا جنہوں نے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط رکھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولاء (میراث) کا حقدار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے اسے (یعنی بریرہ کو) اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا (اس نے اس حق کا اپنے حق میں استعمال کیا اور شوہر کو چھوڑ دیا) ، اس نے (بریرہ نے) عائشہ ؓ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا ، عائشہ ؓ نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے (صدقہ نہیں) ہدیہ ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Aishah that she bought Barirah from some of the Ansar who stipulated that her Wala should go to them. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Al-Wala is to the one who did the favor (of setting the slave free)." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave her the choice, as her husband was a slave. And she gave some meat to Aishah as a gift, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Why dont you give me some of this meat?" Aishah (RA) said: "It was given in charity to Barirah." He said: "It is a charity for her, and a gift for us.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3453
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو خریدے اور خرید کر آزاد کرے۔ ٢ ؎: نبی اور اس کے اہل بیت کے لیے صدقہ کھانا حرام ہے، ہدیہ کھانا حرام نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن ابی داود/الطلاق ١٩ (٢٢٣٤)، مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٠) (حسن صحیح )
3484Sunan An Nasai

اس مسئلہ سے متعلق کہ جس باندی کا شوہر غلام ہے اور وہ آزاد ہوگئی تو اس کو اختیار ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: وَكَانَ وَصِيَّ أَبِيهِ، قَالَ: وَفَرِقْتُ أَنْ أَقُولَ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِيكَ، قَالَتْعَائِشَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَرِيرَةَ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا، وَاشْتُرِطَ الْوَلَاءُ لِأَهْلِهَا، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ: وَخُيِّرَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَدْرِي ؟ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقَالُوا: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بریرہ ؓ کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط لگائی گئی ہے (پھر میں کیا کروں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: (اس شرط کے ساتھ بھی) تم اسے خرید لو (یہ شرط لغو و باطل ہے) ولاء (میراث) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے ۔ راوی کہتے ہیں: (عائشہ ؓ نے خرید کر آزاد کردیا) اور اسے اختیار دیا گیا (شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا) اس کا شوہر غلام تھا۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں: میں نہیں جانتا (کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا) ، رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے (اس لیے ہم کھا سکتے ہیں) ۔

Yahya bin Abi Bukair Al-Karmani said: "Shubah narrated to us, from Abdur-Rahman bin Al-Qasim, from his father, from Aishah (RA). He (Shubah) said: "And he (Abdur-Rahman) was the executor for his father." He (Shubah) said: "I was afraid to say to him: Did you hear this from your father." -- Aishah (RA) said: "I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about Barirah, as I wanted to buy her but it was stipulated that the Wala would go to her (former) masters. He said: Buy her, for the Wala is to the one who sets the slave free. And she was given the choice, as her husband was a slave." Then he said, after that: "I do not know." --"And some meat was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and they said: This is some of that which was given in charity to Barirah. He said: It is charity for her and a gift for us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3454
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ١٣ (٢٥٨٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٥)، العتق ٢ (١٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩١)، مسند احمد (٦/١٧٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٦٤٧) (صحیح )
3485Sunan An Nasai

ایلاء سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: تَذَاكَرْنَا الشَّهْرَ عِنْدَهُ، فَقَالَ بَعْضُنَا: ثَلَاثِينَ، وَقَالَ بَعْضُنَا: تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ أَبُو الضُّحَى: حَدَّثَنَاابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِينَ، عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ مَلْآنٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عُلِّيَّةٍ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَرَجَعَ فَنَادَى بِلَالًا، فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَدَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ.

ابویعفور کہتے ہیں کہ ہم ابوالضحیٰ کے پاس تھے اور ہماری بحث مہینہ کے بارے میں چھڑ گئی، بعض نے کہا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا: انتیس ( ٢٩) دن کا۔ ابوالضحیٰ نے کہا: (سنو) ابن عباس ؓ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح ہم سب کی ایسی آئی کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں رو رہی تھیں اور ان سبھی کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے، میں مسجد میں پہنچا تو مسجد (کھچا کھچ) بھری ہوئی تھی، (اس وقت) عمر ؓ آئے اور اوپر چڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ اپنے بالا خانہ میں تھے، آپ کو سلام کیا تو کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، عمر ؓ نے پھر سلام کیا پھر کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، پھر سلام کیا پھر انہیں کسی نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر لوٹ پڑے اور بلال کو بلایا ١ ؎ اور اوپر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن میں نے ان سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ہے، پھر آپ انتیس ( ٢٩) دن (اوپر) وہاں قیام فرما رہے، پھر نیچے آئے اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔

Ibn Abbas said: "One morning, we saw the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) weeping, and each one of them had her family with her. I entered the Masjid and found it filled with people. Then Umar (RA) came, and went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who was in his room. He greeted him with the Salam but no one answered. He greeted him again but no one answered. He greeted him (a third time) but no one answered. So he went back and called out: Bilal! He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Have you divorced your wives? He said: No, but I have sworn an oath of abstention from them for a month. So he stayed away from them for twenty-nine days, then he came and went into his wives.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3455
Notes · وضاحت
١ ؎: نادی بلالا ( بلال کو بلایا ) کے بجائے نادی بلال ہے جیسا کہ فتح الباری ٩/٣٠٢ میں مذکور ہے، یعنی عمر رضی الله عنہ کو بلال نے آواز دی۔ ایلاء کے لغوی معنی ہیں قسم کھانا اور شرع میں ایلاء یہ ہے کہ جماع پر قدرت رکھنے والا شوہر اللہ کے نام یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی قسم اس بات پر کھائے کہ وہ اپنی بیوی کو چار ماہ سے زائد عرصہ تک کے لیے اپنے سے جدا رکھے گا اور اس سے جماع نہیں کرے گا۔ اس تعریف کی روشنی میں آپ ﷺ کا یہ ایلاء لغوی اعتبار سے تھا اور مباح تھا، کیونکہ آپ نے صرف ایک ماہ تک کے لیے ایلاء کیا تھا اور اس ایلاء کا سبب یہ تھا کہ ازواج مطہرات ؓ نے آپ سے مزید نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔ ایلاء کرنے والا اگر اپنی قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ یمین لازم ہے، اور کفارہ یمین یہ ہے : دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑا پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا، اگر ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو تین دن روزے رکھنا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٩٢ (٥٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٥) (صحیح )
3486Sunan An Nasai

ایلاء سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: آلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ ؟ قَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کا عہد کیا (یعنی ایلاء کیا) اور انتیس ( ٢٩) راتیں اپنے بالاخانے پر رہے پھر آپ ﷺ اتر آئے، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مہینہ بھر کا ایلاء نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: مہینہ انتیس ( ٢٩) دن کا (بھی) ہوا کرتا ہے ۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) swore an oath of abstention from his wives for a month and stayed in his room for twenty-nine days. It was said: O Messenger of Allah, did you not swear an oath of abstention for a month? He said: This month is twenty-nine days.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3456
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، المظالم ٢٥ (٢٤٦٩)، النکاح ٩١ (٥٢٠١)، الطلاق ٢١ (٥٢٨٩)، الأیمان والنذور ٢٠ (٦٦٨٤)، سنن الترمذی/الصوم ٦ (٦٨٩، ٦٩٠)، مسند احمد (٣/٢٠٠) (صحیح )
3487Sunan An Nasai

ظہار سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي، فَوَقَعْتُ قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ، قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، فَقَالَ: لَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے ؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھا) آپ نے فرمایا: (اچھا اب) اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ وہ نہ کرلو جس کا اللہ نے (ایسے موقع پر کرنے کا) حکم دیا ہے (یعنی کفارہ ادا کر دو ) ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who had declared Zihar from his wife, then he had intercourse with her. He said: "O Messenger of Allah, I declared Zihar on my wife, then I had intercourse with her before I offered the expiation." He said: "What made you do that, may Allah have mercy on you?" He said: "I saw her anklets in the light of the moon." He said: "Do not approach her until you have done that which Allah, the Mighty and Sublime, has commanded.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3457
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرد کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ ٢ ؎: ظہار کا کفارہ یہ ہے : ایک مؤمن غلام آزاد کرنا اگر اس کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٧ (٢٢٢٥)، سنن الترمذی/الطلاق ١٩ (١١٩٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٦ (٢٠٦٥)، تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (حسن )
3488Sunan An Nasai

ظہار سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: تَظَاهَرَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَأَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟قَالَ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا أَوْ سَاقَيْهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا (یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کرلیا) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کرلی، پھر جا کر نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا (کہ ایسا ایسا ہوگیا ہے) تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تمہیں اس قدر بےقابو کردیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہوگئے ، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی (راوی کو شبہ ہوگیا کہ یہ کہا یا یہ کہا) کہ میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی (چمکتی ہوئی) پنڈلیاں دیکھ لیں (تو مجھ سے رہا نہ گیا) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے دور رہو جب تک کہ وہ نہ کرلو جس کا اللہ عزوجل نے تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے (یعنی کفارہ ادا کر دو ) ۔

It was narrated that Ikrimah said: "A man declared Zihar to his wife, then had intercourse with her before he had offered the expiation. He mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: What made you do that? He said: May Allah have mercy on you, O Messenger of Allah. I saw her anklets, or her calves, in the light of the moon. The Messenger of Allah said: Keep away from her until you have done that which Allah, the Mighty and Sublime, has commanded.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3458
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3489Sunan An Nasai

ظہار سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُالْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ، قَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ، وَقَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ: فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں (تو بےقابو ہوگیا) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے (یعنی کفارہ دے دو ) ۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں فاعتزل کے بجائے فاعتزلہا بیان کیا ہے اور یہ فاعتزل لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ١ ؎۔

Ikrimah said: "A man came to the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Prophet of Allah, and that he had declared Zihar to his wife, then he had intercourse with her before he did what he had to do. He said: What made you do that? He said: O Prophet of Allah! I saw the whiteness of her calves in the moonlight. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Keep away until you have done what you have to do. (One of the narrators) Ishaq said in his Hadith: "Keep away from her until you have done what you have to do." The wording is that of Muhammad.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3459
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ حدیث مسنداً ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے اور مرسلاً عکرمہ سے اور مسند کی بنسبت مرسل روایت صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٨٧ (حسن )
3490Sunan An Nasai

ظہار سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتْ خَوْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَشْكُو زَوْجَهَا، فَكَانَ يَخْفَى عَلَيَّ كَلَامُهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا سورة المجادلة آية 1.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں (کہ انہوں نے ان سے ظہار کرلیا ہے) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں، تو اللہ عزوجل نے قد سمع اللہ قول التي تجادلک في زوجها وتشتکي إلى اللہ واللہ يسمع تحاورکما اتاری (جس سے ہم سبھی کو معلوم ہوگیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں) ۔

It was narrated from Aishah (RA) that she said: "Praise be to Allah Whose hearing encompasses all voices. Khawlah came to the Messenger of Allah complaining about her husband, but I could not hear what she said. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3460
Notes · وضاحت
١ ؎: یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے والا ہے ( المجادلہ : ١ ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٩ (٧٣٨٥) (تعلیقاً )، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٨)، الطلاق ٢٥ (٢٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٢)، مسند احمد (٦/٤٦) (صحیح )
3491Sunan An Nasai

خلع سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمَخْزُومِيُّ وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِالْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمُنْتَزِعَاتُ، وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ، قَالَ الْحَسَنُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہروں سے بلا عذر کے خلع اور طلاق مانگنے والیاں منافق عورتیں ہیں ٢ ؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے ابوہریرہ کے سوا کسی اور سے نہیں سنی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: حسن بصری نے (یہ حدیث ہی کیا) ابوہریرہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے۔

It was narrated from Ayyub, from Al-Hasan, from Abu Hurairah, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Women who seek divorce and Khul are like the female hypocrites." Al-Hasan said: "I did not hear it from anyone other than Abu Hurairah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3461
Notes · وضاحت
١ ؎: خلع کچھ مال دے کر بیوی اپنے شوہر سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرلے اسے خلع کہتے ہیں۔ وضاحت ٢ ؎: آپ ﷺ نے ان عورتوں کو منافق بطور زجر و توبیخ کہا ہے یعنی یہ عورتیں ایسی ہیں کہ جنت میں دخول اولیٰ کا مستحق نہیں قرار پائیں گی، کیونکہ بظاہر یہ اطاعت گزارو فرمانبردار ہیں لیکن باطن میں نافرمان ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٦)، مسند احمد (٢/٤١٤) (صحیح )
3492Sunan An Nasai

خلع سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذِهِ ؟قَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا شَأْنُكِ ؟قَالَتْ: لَا أَنَا، وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ، فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ: خُذْ مِنْهَا، فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا.

حبیبہ بنت سہل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ ﷺ (نماز کے لیے) صبح صادق میں نکلے تو ان کو اپنے دروازے پر تاریکی میں کھڑا ہوا پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہے یہ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے، کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا: نہ میں اور نہ ثابت بن قیس (یعنی دونوں بحیثیت میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ ہم میں علیحدگی کرا دیجئیے) پھر جب ثابت بن قیس بھی آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں، اللہ کو ان سے جو کہلانا تھا وہ انہوں نے کہا حبیبہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے (وہ یہ لے سکتے ہیں) رسول اللہ ﷺ نے ثابت ؓ سے کہا: وہ ان سے لے لو (اور ان کو چھوڑ دو ) تو انہوں نے ان سے لے لیا اور وہ (وہاں سے آ کر) اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگیں۔

It was narrated from Yahya bin Saeed, from Amrah bint Abdur-Rahman, that she told him about Habibah bint Sahl: "She was married to Thabit bin Qais bin Shammas. The Messenger of Allah ﷺ went out to pray As-Subh and he found Habibah bint Sahl at his door at the end of the night. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is this? She said: I am Habibah bint Sahl, O Messenger of Allah. He said: What is the matter? She said: I cannot live with Thabit bin Qais -her husband. When Thabit bin Qais came, the Messenger of Allah ﷺ said to him: Here is Habibah bint Sahl and she has said what Allah willed she should say. Habibah said: O Messenger of Allah, everything that he gave me is with me. The Messenger of Allah ﷺ said: Take it from her. So he took it from her and she stayed with her family.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3462
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٨ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٢)، موطا امام مالک/ الطلاق ١١ (٣١)، سنن الدارمی/الطلاق ٧ (٢٣١٧) (صحیح )
3493Sunan An Nasai

خلع سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَمَا إِنِّي مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ، وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کسی کمی و کوتاہی کا الزام نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر و ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے اس کا باغ واپس کر دو گی؟ (وہ باغ انہوں نے انہیں مہر میں دیا تھا) انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس سے فرمایا: اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the wife of Thabit bin Qais came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, I do not find any fault with Thabit bin Qais regarding his attitude or religious commitment, but I hate Kufr after becoming Muslim." The Messenger of Allah said: "Will you give him back his garden?" She said: "Yes." The Messenger of Allah ﷺsaid: "Take back the garden and divorce her once.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3463
Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے میرے انہیں ناپسند کرنے کی وجہ سے ان کی خدمت کرنے میں کوئی کمی و کوتاہی، نافرمانی و ناشکری ہوجائے اور میں گناہ گار ہوجاؤں، اس لیے میں ان سے علیحدگی چاہتی ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٢ (٥٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦٠٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ١٨ (٢٢٢٩)، سنن الترمذی/الطلاق ١٠ (١١٨٥) (صحیح )
3494Sunan An Nasai

خلع سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، فَقَالَ: غَرِّبْهَا إِنْ شِئْتَ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَّبِعَهَا نَفْسِي، قَالَ: اسْتَمْتِعْ بِهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ١ ؎ آپ نے فرمایا: چاہو تو طلاق دے دو، اس نے کہا میں اسے طلاق دے دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرا دل اٹکا نہ رہے۔ آپ نے فرمایا: پھر تو اس سے اپنا کام نکالتے رہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man came to the Messenger of Allah and said: My wife does not object if anyone touches her. He said: Divorce her if you wish. He said: I am afraid that I will miss her. He said: Then stay with her as much as you need to.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3464
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے دو مفہوم ہیں ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتی ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کا مال ہر مانگنے والے کو اس کی اجازت کے بغیر دے دیتی ہے، یہ مفہوم مناسب اور بہتر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل (رح) کا کہنا ہے : یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی فاجرہ عورت کو روکے رکھنے کا مشورہ دیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤ (٢٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٦١) (صحیح الإسناد )
3495Sunan An Nasai

خلع سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ تَحْتِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ: طَلِّقْهَا، قَالَ: إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنْهَا، قَالَ: فَأَمْسِكْهَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی، آپ نے فرمایا: اسے طلاق دے دو ۔ اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہیں پاؤں گا۔ آپ نے فرمایا: پھر تو اسے رہنے دو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، اس کا متصل ہونا غلط ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas that a man said: "O Messenger of Allah, I have a wife who does not object if anyone touches her." He said: "Divorce her." He said: "I cannot live without her." He said: "Then keep her.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3465
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے دو مفہوم ہیں ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتی ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کا مال ہر مانگنے والے کو اس کی اجازت کے بغیر دے دیتی ہے، یہ مفہوم مناسب اور بہتر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل (رح) کا کہنا ہے : یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی فاجرہ عورت کو روکے رکھنے کا مشورہ دیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٣١ (صحیح )
3496Sunan An Nasai

لعان شروع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: جَاءَنِي عُوَيْمِرٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: أَيْ عَاصِمُ، أَرَأَيْتُمْ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا عَاصِمُ ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، وَكَرِهَهَا، فَجَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ يَا عَاصِمُ ؟ فَقَالَ: صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ، وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَأْتِ بِهَا، قَالَ سَهْلٌ: وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بِهَا، فَتَلَاعَنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْسَكْتُهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا، فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.

سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کردیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھو تو عاصم ؓ نے اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ (مسئلہ پوچھا یا نہیں؟ ) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو (یعنی پوچھا تو) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا (جواب کیا ملتا) رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ ﷺ سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا (یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے) پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو (جاؤ) اسے لے کر آؤ، سہل ؓ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ١ ؎۔ پھر اس نے (یعنی عویمر نے) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا (یہ کہہ کر) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ (راوی کہتے ہیں) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہوگیا (یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہوجائیں) ۔

It was narrated from Sahl bin Sad, from Asim bin Adiyy who said: "Uwaimir, a man from Banu Ajlan, came and said: O Asim, what do you think if a man sees another man with his wife, should he kill him and be killed in retaliation, or what should he do? O Asim, ask the Messenger of Allah ﷺ about that for me." So Asim asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and the Messenger of Allah disapproved of the question and criticized the asking of too many questions. Then Uwaimir came to him and said: "What happened, O Asim?" Asim said to Uwaimir: "What happened?! You have not brought me any good. The Messenger of Allah ﷺ disapproved of the question I asked." Uwaimir said: "By Allah, I will go and ask the Messenger of Allah." So he went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him. The Messenger of Allah said: "Allah the Mighty and Sublime has revealed (something) concerning you and your wife, so bring her here." Sahl said: "I was among the people in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and he brought her and they engaged in the procedure of Lian. He said: O Messenger of Allah, by Allah! If I keep her I would have been telling lies about her. So he parted from her before the Messenger of Allah ﷺ told him to separate from her, and that became the way of Lian.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3466
Notes · وضاحت
١ ؎: لعان کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مرد چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دے کہ میں سچا ہوں اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی طرح عورت بھی اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہے اگر اس کا شوہر سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٠٣١)، مسند احمد (٥/٣٣٧) (صحیح )
3497Sunan An Nasai

حمل کے وقت لعان کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، وَكَانَتْ حُبْلَى.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah conducted the procedure of Lian between the Ajlani and his wife, who was pregnant.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3467
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٣٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق ٣١ (٥٣١٠)، ٣٦ (٥٣١٦)، الحدود ٤٣ (٦٨٥٦)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٧)، مسند احمد (١/٣٣٥، ٣٣٦، ٣٥٧) (صحیح )