Sunan An Nasai 3480

طلاق سے متعلقہ احادیث

3480Sunan An Nasai

اس باندی کے اختیار دینے سے متعلق جو کہ آزاد کردی گئی ہو اور اس کا شوہر آزاد ہو

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا، وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُتِيَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ ؓ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے ولاء (میراث) خود لینے کی شرط رکھی، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے ١ ؎، اور (رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانے کے لیے) گوشت لایا گیا اور بتا بھی دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ ؓ کو صدقہ میں دیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بریرہ ؓ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے تو ہدیہ و تحفہ ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اسے (یعنی بریرہ کو) اختیار دیا، بریرہ کا شوہر آزاد شخص تھا۔

It was narrated from Aishah that she wanted to buy Barirah, but her masters stipulated that her Wala should go to them. She mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Buy her and set her free, for Al-Wala is to the one who sets the slave free." Some meat was brought and it was said: "This is some of that which was given in charity to Barirah." He said: "It is charity for her and a gift for us." And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave her the choice, and her husband was a free man.

صحيح دون قوله حر والمحفوظ أنه کان عبداصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3450
Notes · وضاحت
١ ؎: لہٰذا بیچنے والا اگر شرط لگائے تو وہ شرط فاسد ہے اور شرط فاسد کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦١٥) (صحیح دون قولہ: ”…حرا “ والمحفوظ أنہ کان عبدا مملوکا کما یأتی فی الباب التالی )