بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کردیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کرسکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، (کر سکتا ہے) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Al-Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: "Ibn Abbas (RA) was asked about a slave who divorced his wife twice, then they were set free; could he marry her? He said: Yes. He said: From whom (did you hear that)? He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) issued a Fatwa to that effect." (One of the narrators) Abdur-Razzaq said: "Ibn Al-Mubarak said to Mamar: Which Al-Hasan is this? He has taken on a heavy burden.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3428
Notes · وضاحت
١ ؎: غلام دو طلاق دیدے تو عورت بائنہ ہوجاتی ہے، بائنہ ہوجانے کے بعد عورت جب تک کسی اور سے شادی نہ کرلے اور طلاق یا موت کسی بھی وجہ سے اس کی علیحدگی نہ ہوجائے تو وہ عورت پہلے شوہر سے دوبارہ شادی نہیں کرسکتی ہے۔ لیکن یہاں دونوں کو آزاد ہوجانے کے بعد بغیر حلالہ کے شادی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اب یہ روایت - اللہ نہ کرے - غلط ہوئی تو اس طرح کی سبھی شادیوں کا وبال اس راوی حسن کے ذمہ آئے گا اور وہ گویا ایک بڑی چٹان کے نیچے دب کر رہ جائے گا۔
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب (یعنی بنو قریظہ کے نوجوان) قریظہ کے (فیصلے کے) دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے (جوان قرار دے کر) قتل کردیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Kathir bin As-Saib said: "The sons of Quraizah told me that they were presented to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Quraizah, and whoever (among them) had reached puberty, or had grown pubic hair, was killed, and whoever had not reached puberty and had not grown pubic hair was left (alive).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3429
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہوجائے اور اچھا برا سمجھنے نہ لگے اسے طلاق دینے کا اختیار نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٦٦١)، مسند احمد (٤/٣٤، ٥/٣٧٢) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
أخبرنا محمد بن منصور قال حدثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال: كنت يوم حكم سعد في بني قريظة غلاما فشكوا في فلم يجدوني أنبت فاستبقيت فها أنا ذا بين أظهركم .
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد ؓ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا (کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چناچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔
It was narrated that Atiyyah Al-Qurazi said: "On the day that Sad passed judgment on Banu Quraizah I was a young boy and they were not sure about me, but they did not find any pubic hair, so they let me live, and here I am among you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3430
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٧ (٤٤٠٤)، سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤١)، مسند احمد (٤/٣١٠، ٣٨٣، و ٥/٣١١، ٣١٢، سنن الدارمی/السیر ٢٦ (٢٥٠٧)، ویأتي عند المؤلف في القطع ١٧ برقم: ٤٩٨٤، ٤٤٠٥ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر (جنگ میں شریک ہونے کے لیے) ١٤ سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہوچکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی (اور مجاہدین میں شامل کرلیا) ۔
It was narrated from Ibn Umar that he presented himself to the Messenger of Allah on the Day of Uhud when he was fourteen years old, but he did not permit him (to join the army). He presented himself on the Day of Al-Khandaq when he was fifteen years old, and he permitted him (to join the army).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3431
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پندرہ سال کا لڑکا جوان ہوجاتا ہے اور جب تک جوان نہیں ہوجاتا جس طرح جنگ میں شریک نہیں ہوسکتا اسی طرح طلاق بھی نہیں دے سکتا، ابن عمر رضی الله عنہما نے جو یہ کہا کہ جنگ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں اور غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں پیش ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سال کی عمر میں داخل ہوچکے تھے اور پندرہ سال کا مطلب ہے اس سے تجاوز کرچکے تھے، اس توجیہ سے غزوہ خندق کے وقوع سے متعلق جو اختلاف ہے اور اس اختلاف سے ابن عمر رضی الله عنہما کی عمر سے متعلق جو اشکال پیدا ہوتا ہے وہ رفع ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ١ ؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ٢ ؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آجائے ۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The pen has been lifted from three: From the sleeper until he wakes up, from the minor until he grows up, and from the insane until he comes back to his senses or recovers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3432
Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ٢ ؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کردیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that -(one of the narrators) Abdur-Rahman said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah, the Most High, has forgiven my Ummah for everything that enters the mind, so long as it is not spoken of or put into action.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3433
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Allah, the Mighty and Sublime, has forgiven my Ummah for what is whispered to them or what enters their minds, so long as they do not act upon it or speak of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3434
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Most High, has forgiven my Ummah for whatever enters the mind, so long as it is not spoken of or put into action.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3435
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ کے پاس عائشہ ؓ بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: کیا انہیں بھی لے کر آؤں ، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had a Persian neighbor who was good at making soup. He came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one day when Aishah (RA) was with him, and gestured to him with his hand to come. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gestured toward Aishah -meaning: What about her?- and the man gestured to him like this, meaning, No, two or three times.
صحيح م نحوه وزاد قال رسول الله لا ثم عاد يدعوه فقال رسول الله وهذه قال نعم في الثالثة فقاما يتدافعان حتى أتيا منزلهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3436
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اشارۃً طلاق دے اور معلوم ہوجائے کہ طلاق دے رہا ہے تو طلاق پڑجائے گی۔
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی (اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہوگی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہوگا ۔
It was narrated that Umar bin Al-Khattab (RA) said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Actions are but by intentions, and each man will have but that which he intended. Whoever emigrated for the sake of Allah and His Messenger, his emigration was for the sake of Allah and His Messenger, and whoever emigrated for the sake of some worldly gain or to marry some woman, his emigration was for that for which he emigrated.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3437
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذرا دیکھو تو (غور کرو) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں ١ ؎۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Look at how Allah diverts the insults and curses of Quraish from me. They insult Mudhammam and curse Mudhammam -but I am Muhammad.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3438
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نام اور وصف دونوں اعتبار سے میں محمد ہوں، لہٰذا مجھ پر مذمم کا اطلاق کسی بھی صورت میں ممکن ہی نہیں، کیونکہ محمد کا مطلب ہے جس کی تعریف کی گئی ہو تو مجھ پر ان کی گالیوں اور لعنتوں کا اثر کیونکر پڑ سکتا ہے۔ گویا ایسا لفظ جو طلاق کے معنی و مفہوم کے منافی ہے اس کا اطلاق طلاق پر اسی طرح نہیں ہوسکتا جس طرح مذمم کا اطلاق محمد پر نہیں ہوسکتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے اس (اختیار دہی) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا ٢ ؎، آپ ﷺ بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ ﷺ نے آیت: يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ (الاحزاب: ٢٨) تک پڑھی (یہ آیت سن کر) میں نے کہا: میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں؟ (مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں (یہی میرا فیصلہ ہے) آپ ﷺ کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا (اور کہا) جیسا میں نے کیا (اور کہا) تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ ﷺ کو منتخب کرلینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ٤ ؎۔
It was narrated that Aishah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was commanded to give his wives the choice, he started with me and said: I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents." She said: "He knew that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited this Verse: O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner. I said: Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger, and the home of the Hereafter." Aishah (RA) said: "Then the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) all did the same as I did, and that was not counted as a divorce, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave them the choice and they chose him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3439
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا اور اس کی زینت اور نبی کی مصاحبت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرلیں۔ ٢ ؎: معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے عائشہ رضی الله عنہا کے خیار کی مدت ماں باپ سے مشورہ لینے تک متعین کی۔ ٤ ؎: اس لیے کہ وہ بیویاں تو پہلے ہی سے تھیں، اگر وہ آپ کو منتخب نہ کرتیں تب طلاق ہوجاتی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: إن کنتن تردن اللہ ورسوله اتری تو نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کرلینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها میں نے (یہ آیت سن کر) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کرلینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں (اس بارے میں مشورہ کیا کرنا؟ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ (یعنی حدیث معمر عن الزہری عن عائشہ غلط ہے اور اول (یعنی حدیث یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔
It was narrated that Aishah said: "When the following was revealed: But if you desire Allah and His Messenger, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came and started with me. He said: O Aishah, I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents." She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. Then he recited to me: O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter." "I said: Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah and His Messenger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3440
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ١٥ (٤٧٨٦ م) تعلیقًا، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٠ (٢٠٩)، تحفة الأشراف: ١٦٦٣٢)، مسند احمد (٦/٣٣، ١٦٣، ١٨٥، ٢٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (ازواج مطہرات) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی) ۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah gave us the choice and we chose him; was that a divorce?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3441
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو (انتخاب کا) اختیار دیا تو کیا یہ (اختیار) طلاق تھا؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں تھا) ۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah gave his wives the choice; was that a divorce?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3444
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کرلیا، تو آپ ﷺ نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave us the choice and we chose him, and that was not counted as anything.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3445
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی (یہ دونوں میاں بیوی تھے) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ ﷺ سے کردیا تو آپ نے فرمایا: لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو (پھر لونڈی کو) ١ ؎۔
It was narrated that Al-Qasim bin Muhammad said: "Aishah had a male slave and a female slave. She said: I wanted to set them free, and I mentioned that to the Messenger of Allah. He said: Start with the male slave before the female slave.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3446
Notes · وضاحت
١ ؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٢ (٢٢٣٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ١٠ (٢٥٣٢) (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن موہب ضعیف ہیں )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ سے تین سنتیں تھیں ١ ؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، (آزادی کے باعث) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا (اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کرلینے کا) اور (دوسری سنت یہ کہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے ، اور (تیسری سنت یہ کہ) رسول اللہ ﷺ (ان کے) گھر گئے (اس وقت ان کے یہاں) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے؟ (تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے؟ ) لوگوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! (آپ نے صحیح دیکھا ہے) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ ؓ کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے (اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن (جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو) وہ میرے لیے ہدیہ ہوگا (اس لیے اسے پیش کرسکتے ہو) ٣ ؎۔
It was narrated that Aishah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: Three Sunan were established because of Barirah. One of those Sunan was that she was set free and was given the choice concerning her husband; the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Al Wala is to the one who set the slave free; and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered when some meat was being cooked in a pot, but bread and some condiments were brought to him. He said: Do I not see a pot in which some meat is being cooked? They said: Yes, O Messenger of Allah, that is meat that was given in charity to Barirah and you do not eat (food given in) charity. The Messenger of Allah said: It is charity for her and a gift for us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3447
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بریرہ رضی الله عنہا کے سبب تین سنتیں وجود میں آئیں۔ ٢ ؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔ ٣ ؎: معلوم ہوا کہ کسی چیز کی ملکیت مختلف ہوجائے تو اس کا حکم بھی مختلف ہوجاتا ہے۔