طلاق سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 27 · 175 hadiths · Page 2 of 9

3438Sunan An Nasai

طلاق قطعی سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَاب، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ١ ؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید ؓ دروازے پر کھڑے تھے، آپ ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے (ابوبکر ؓ کو مخاطب کر کے) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے، آپ ﷺ نے (ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The wife of Rifaah Al-Qurazi came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when Abu Bakr (RA) was with him, and she said: O Messenger of Allah! I was married to Rifaah Al-Qurazi and he divorced me, and made it irrevocable. Then I married Abdur-Rahman bin Az-Zabir, and by Allah, O Messenger of Allah, what he has is like this fringe; and she held up a fringe of her Jilbab. Khalid bin Saeed was at the door and he did not let him in. He said: O Abu Bakr? Do you not hear this woman speaking in such an audacious manner in the presence of the Messenger of Allah? He said: Do you want to go back to Rifaah? No, not until you taste his sweetness and he tastes your sweetness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3409
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ تو عورت کے قابل ہی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٦٨ (٦٠٨٤)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣١)، مسند احمد (٦/٣٤، ٢٢٦) (صحیح )
3439Sunan An Nasai

لفظ امرک بیدک کی تحقیق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا، قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ، أَنَّهَا ثَلَاثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ ؟ فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ، فَلَقِيتُ كَثِيرًا، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: نَسِيَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو أمرک بیدک کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں (میں کسی کو بھی نہیں جانتا) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں تو (اس کا حال یہ ہے کہ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے (اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں (کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی (کہ وہ ایسا کہتے ہیں) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے (انہوں نے ایسی بات کہی ہے) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔

Hammad bin Zaid said: "I said to Ayyub: Do you know anyone who said concerning the phrase It is up to you that it is equivalent to three (divorces) except Al-Hasan? He said: No. Then he said: O Allah! Grant forgiveness, sorry." Qatadah narrated to me from Kathir the freed slave of Ibn Samurah, from Abu Salamah, from Abu Hurairah, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Three." I met Kathir and asked him, and he did not know of it. I went back to Qatadah and told him, and he said: "He forgot.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3410
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٣ (٢٢٠٤، ٢٢٠٥) مختصرا، سنن الترمذی/الطلاق ٣ (١١٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٢) (مرفوعا ضعیف، موقوفا صحیح) (مرفوع کی سند میں ” کثیر “ لین الحدیث ہیں، اور قتادہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے مرفوع حدیث ضعیف ہے، اور مؤلف نے بھی حدیث کو منکر کہا ہے، لیکن حسن کے قول کی سند صحیح ہے، اس لیے اثر موقوفا صحیح ہے )
3440Sunan An Nasai

تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور (آپ سے) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی (کہ وہ رجوع نہیں کرسکتے) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو؟ (سن لو) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ (یعنی دوسرا شوہر) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The wife of Rifaah came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My husband divorced me and made it irrevocable. After that I married Abdur-Rahman bin Az-Zabir and what he has is like the fringe of a garment. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: Perhaps you want to go back to Rifaah? No, not until he tastes your sweetness and you taste his sweetness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3411
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٨٥ (صحیح )
3441Sunan An Nasai

تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ فَقَالَ: لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کرلی۔ اس (دوسرے شخص) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا (ایسی صورت میں) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ (دوسرا) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Aishah that a man divorced his wife three times and she married another husband who divorced her, before having intercourse with her. The Messenger of Allah ﷺ was asked: "Is she permissible for the first (husband to remarry her)?" He said: "No, not until he tastes her sweetness as the first tasted her sweetness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3412
Notes · وضاحت
١ ؎: جب دوسرا شوہر اس سے مکمل صحبت کرلے گا اور طلاق دیدے گا یا انتقال کر جائے گا تو وہ عدت گزار کر پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی بشرطیکہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٤ (٥٢٦١)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، تحفة الأشراف: ١٧٥٣٦)، مسند احمد (٦/١٩٣) (صحیح )
3442Sunan An Nasai

تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوْ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ.

عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آگیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے (اس لیے ایسا کہہ رہی ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو ۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas that Al-Ghumaisa or Ar-Rumaisa came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) complaining that her husband would not have intercourse with her. It was not long before her husband came and said: "O Messenger of Allah, she is lying; he is having intercourse with her, but she wants to go back to her first husband." The Messenger of Allah said: "She cannot do that until she tastes his sweetness.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3413
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٦٧٠ ألف) مسند احمد (١/٢١٤) (صحیح )
3443Sunan An Nasai

تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ: لَا، حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کرلیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ عورت ایسا نہیں کرسکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said, concerning a man who had a wife and he divorced her, then she married another man who divorced her before consummating the marriage with her, and (it was asked) whether she could go back to her first husband: "No, not until she tastes his sweetness.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3414
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سے جماع نہ کرلے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٣) مسند احمد (٢/٨٥) (صحیح بما قبلہ )
3444Sunan An Nasai

تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب: وَيُرْخِي السِّتْرَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ؟ قَالَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کرلیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کرلیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آسکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a man who divorced his wife three times, then another man married her and he closed the door and drew the curtain, then divorced her before consummating the marriage with her. He said: "She is not permissible for the first one (to remarry her) until the second one has had intercourse with her.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3415
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٧١٥)، مسند احمد (٢/٢٥، ٦٢، ٨٥) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
3445Sunan An Nasai

طلاق مغلظہ دی گئی خاتون سے حلالہ اور تین طلاق دینے والے پر وعید

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed the woman who tattoos and the one tattooed, the woman who fixed hair extensions and the one who had her hair get extended, the consumer of Riba and the one who pays it, and Al-Muhallil and Al-Muhallal Lahu.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3416
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢٨ (١١٢٠) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٩٥٩٥)، مسند احمد (١/٤٤٨، ٤٦٢، سنن الدارمی/النکاح ٥٣ (٢٣٠٤) (صحیح )
3446Sunan An Nasai

اگر مرد عورت کا چہرہ دیکھتے ہی (یعنی خلوت کے بغیر ہی) طلاق دے دے

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ.

اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ ؓ کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ ﷺ کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی أعوذباللہ منک میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے (فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی) ۔

It was narrated from Aishah (RA) that when the Kilabi woman entered upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) she said: "I seek refuge with Allah from you." The Messenger of Allah ﷺ said: "You have sought refuge with One Who is Great. Go back to your family.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3417
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣ (٥٢٥٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٨ (٢٠٥٠)، تحفة الأشراف: ١٦٥١٢) (صحیح )
3447Sunan An Nasai

کسی شخص کی زبانی بیوی کو طلاق کہلوانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُفَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَمْ طَلَّقَكِ ؟فَقُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَآذِنِينِي، مُخْتَصَرٌ.

فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس (نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر) پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟ میں نے کہا: تین، آپ نے فرمایا: پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہوجائیں تو مجھے خبر دو ، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔

It was narrated that Abu Bakr -the son of Abu Al-Jahm- said: "I heard Fatimah bint Qais say: My husband sent word to me that I was divorced, so I put on my garments and went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: How many times did he divorce you? I said: Three. He said: You are not entitled to maintenance. Observe your Iddah in the house of your paternal cousin Ibn Umm Maktum, for he is blind and you can take off your garments there. And when your Iddah is over let me know." This is an abridgment.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3418
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠)، سنن الترمذی/النکاح ٣٨ (١١٣٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٢٠٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٧)، مسند احمد (٦/٤١٢٤١١، ٤١٣، ویأتي برقم: ٣٥٨١ (صحیح )
3448Sunan An Nasai

کسی شخص کی زبانی بیوی کو طلاق کہلوانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، نَحْوَهُ.

مجاہد فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) کے غلام تمیم سے اور وہ فاطمہ ؓ سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں۔

A similar report was narrated from Tamim, the freed slave of Fatimah, from Fatimah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٠)، مسند احمد (٦/٤١١) (صحیح )
3449Sunan An Nasai

اس بات کا بیان کہ اس آیت کریمہ کا کیا مفہوم ہے اور اس کے فرمانے سے کیا مقصد تھا؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا، قَالَ: كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1، عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ، عِتْقُ رَقَبَةٍ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك (اور کہا) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man came to him and said: I have made my wife forbidden to myself. He said: You are lying, she is not forbidden to you. Then he recited this Verse: O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you. (And he said): You have to offer the severest form of expiation: Freeing a slave.

ضعيف الإسناد وهو في ق مختصر دون قوله عليك أغلطصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3420
Notes · وضاحت
١ ؎: سخت ترین کفارہ کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ ایسے عمل سے باز رہیں ورنہ ظاہر قرآن سے کفارہ یمین کا ثبوت ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٥١١) (ضعیف الإسناد و ہو فی المتفق علیہ مختصردون قولہ: ” وعلیک أغلظ…“ (أی بلفظ ” إذاحرم الرجل امرأتہ فہی یمین یکفرہا “ انظرخ الطلاق، وم فیہ ٣ )
3450Sunan An Nasai

مذکورہ بالا آیت کریمہ کی دوسری تاویل

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا، مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ، وَقَالَ: لَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1، إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4، لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا، كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ زینب ؓ کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم ﷺ آئیں وہ کہے کہ (کیا بات ہے) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ١ ؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ ﷺ سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے (اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے) تو آئندہ نہ پیوں گا ۔ چناچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم: ١) اور إن تتوبا إلى اللہ (اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) ۔ (التحریم: ٤) نازل ہوئی اور آپ ﷺ کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی (التحریم: ٣) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔

Ubaid bin Umair narrated from Aishah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to either of us, she would say: I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir? He came to one of them and she said that to him. He said: No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again. Then the following was revealed: O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you. If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you). addressing Aishah and Hafsah (RA); And (remember) when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) disclosed a matter in confidence to one of his wives. refers to him saying: "No, rather I drank honey.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3421
Notes · وضاحت
١ ؎: مغفر ایک قسم کی گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتی ہے ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤١٠ (صحیح )
3451Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيِّ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک ؓ کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا: رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: رسول اللہ ﷺ نے (یہ فرمایا :)

Kab bin Malik narrated the Hadith about when he stayed behind, and did not join the Messenger of Allah on the expedition to Tabuk. He told the story, and said: "The envoy of the Messenger of Allah came to me and said: The Messenger of Allah commands you to stay away from your wife. I said: Shall I divorce her or what? He said: No, just keep away from her and do not approach her. I said to my wife: Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides concerning this matter.

3452Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

ح وأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ قِصَّتَهُ، وَقَالَ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ.

عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک ؓ کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ مذکورہ قصہ بیان کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا قاصد آ کر کہتا ہے: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ تھلگ رہیں، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں؟ یا اس کا کچھ اور مطلب ہے، اس (قاصد) نے کہا، طلاق نہیں، بس تم اس کے قریب نہ جاؤ (اس سے جدا رہو) ، میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ١ ؎ اور جب تک اس معاملہ میں اللہ کا کوئی فیصلہ نہ آجائے وہیں رہو۔

Ka’b bin Malik narrated the Hadith about when he stayed behind, and did not join the Messenger of Allah ﷺ on the expedition to Tabuk. He told the story, and said: “The envoy of the Messenger of Allah ﷺ came to me and said: ‘The Messenger of Allah ﷺ commands you to stay away from your wife.’ I said: ‘Shall I divorce her or what?’ He said: ‘No, just keep away from her and do not approach her.’ I said to my wife: ‘Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides concerning this matter.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا الحقی بأھلک سے طلاق اس وقت واقع ہوگی جب اسے طلاق کی نیت سے کہا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١١٤٥) (صحیح )
3453Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْإِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى صَاحِبَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ.

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے (اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ١ ؎، کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ٢ ؎ کے پاس (ایک شخص کو) بھیجا (اس نے کہا) کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔

Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik narrated that his father said: "I heard my father Kab bin Malik -who was one of the three whose repentance was accepted- say: The Messenger of Allah ﷺ sent word to me and to my two companions saying: The Messenger of Allah commands you to keep away from your wives. I said to his envoy: Shall I divorce my wife, or what should I do? He said: No, just keep away from her, and do not approach her. I said to my wife: Go to your family and stay with them. So she went to them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3423
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔ ٢ ؎: مرارہ بن ربیع العمری، ھلال بن امیہ الواقفی رضی الله عنہما۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١٦ (٢٧٥٧)، الجہاد ١٠٣ (٢٩٥٧)، ١٩٨ (٣٠٨٨)، المناقب ٢٣ (٣٥٥٦)، المغازي ٣ (٣٩٥١)، تفسیر سورة البراء ة ١٤ (٤٦٧٣)، ١٧ (٤٦٧٧)، ١٨ (٤٦٧٦)، ١٩ (٤٦٧٨)، الاستئذان ٢١ (٦٢٥٥)، الأیمان والنذور ٢٤ (٦٦٩٠)، الأحکام ٥٣ (٢٧٢٥)، صحیح مسلم/المسافرین ١٢ (٢٧٦٩)، سنن ابی داود/الطلاق ١١ (٢٢٠٢)، الجہاد ١٧٣ (٢٧٧٣)، ١٧٨ (٢٧٨١)، الأیمان والنذور ٢٩ (٣٣١٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر التوبة (٣١٠١)، (تحفة الأشراف: ١١١٣١)، مسند احمد (٣/٤٥٦، ٤٥٧، ٤٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٤ (١٥٦١) (صحیح )
3454Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبًا يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ، خَالَفَهُمْ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.

عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب ؓ کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے (اس سے) کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: (طلاق نہ دو ) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی (رسول اللہ ﷺ نے) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے (تفصیل آگے حدیث میں آرہی ہے) ۔

Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik narrated that Abdullah bin Kab said: "I heard Kab narrate the Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah ﷺ on the expedition to Tabuk. He said: The envoy of the Messenger of Allah came to me and said: "The Messenger of Allah commands you to keep away from your wife." I said: "Shall I divorce her, or what should I do?" He said: "No, just keep away from her and do not approach her." And he sent similar instructions to my two companions. I said to my wife: "Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides concerning this matter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3424
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٥٣ (صحیح )
3455Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى صَاحِبَيَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَحِقَتْ بِهِمْ، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.

عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اور میرے دونوں (پیچھے رہ جانے والے) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہوجاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، (یہ سن کر) میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Maqil, from Az-Zuhri who said: "Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab narrated that his paternal uncle Ubaidullah bin Kab said: I heard my father Kab say: The Messenger of Allah ﷺ sent word to me and my two companions saying: The Messenger of Allah ﷺ commands you to keep away from your wives. I said to the envoy: Should I divorce my wife, or what should I do? He said: No, just keep away from her and do not come near her. I said to my wife: Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides (concerning me). So she went to them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3425
Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ اس میں اس بات کی طرف ہے کہ معقل اور معمر دونوں امام زہری کے شاگرد ہیں۔ معقل نے اس روایت میں لاتقربھا کے بعد فقلت لامرأتی الحقی باھلک …… ذکر کیا ہے۔ لیکن معمر نے اپنی روایت میں جو اب آرہی ہے اور ان کے استاد زہری ہی کے واسطہ سے آرہی ہے لاتقربھا کے بعد فقلت لامرأتی الحقی باھلک … کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٥٣ (صحیح )
3456Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.

عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا: اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہوجاؤ، میں نے اس سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے الحقی باھلک کا ذکر نہیں کیا ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik that his father said: "The envoy of the Messenger of Allah came to me and said: Keep away from your wife. I said: Should I divorce her? He said: No, but do not approach her." And he (the narrator) did not mention (the words): "Go to your family.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3426
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١١٥٤) (صحیح )
3457Sunan An Nasai

غلام کے طلاق دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي مَمْلُوكَيْنِ، فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.

ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کردیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کرلو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔

It was narrated from Umar bin Muattib that Abu Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: "My wife and I were slaves, and I divorced her twice, then we were both set free. I asked Ibn Abbas (RA) and he said: If you take her back, you have one divorce left. This is how the Messenger of Allah ﷺ ruled.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3427
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٢ (٢٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١)، مسند احمد (١/٢٢٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عمر بن معتب “ ضعیف ہیں )