طلاق سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 27 · 175 hadiths · Page 7 of 9

3538Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلْأَزْوَاجِ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَمْنَعُهَا قَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا.

ابوسنابل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ ؓ کے شوہر کو مرے ہوئے ٢٣ یا ٢٥ راتیں گزریں تھیں کہ اس نے بچہ جنا پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے (نئی) شادی کی تیاری کی اور اس کے لیے زیب و زینت سے مزین ہوئی تو اس کے لیے ایسا کرنا غیر مناسب سمجھا (اور ناپسند کیا) گیا اور اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے بھی کی گئی تو آپ نے فرمایا: جب اس کی عدت پوری ہوچکی ہے تو اب اس کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ ١ ؎۔

It was narrated that Abu As-Sanabil said: "Subaiah gave birth twenty-three or twenty-five days after her husband died, and when her Nifas ended she expressed her wish to remarry and was criticized for that. Mention of that was made to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: There is nothing to stop her; her term has ended.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3508
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ ایسا کرسکتی ہے یہ کوئی عیب و برائی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ١٧ (١١٩٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٣)، مسند احمد (٤/٣٠٤، ٣٠٥)، سنن الدارمی/الطلاق ١١ (٢٣٢٧) (صحیح )
3539Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تُزَوَّجُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ، فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ، فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ نِصْفِ شَهْرٍ، قَالَتْ: فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ، فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا، فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا، قَالُوا: إِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ میں اس عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور اس نے بچہ جن دیا ہو۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا: (وضع حمل کے بعد نفاس سے فارغ ہو کر) وہ شادی کرسکتی ہے اور ابن عباس ؓ نے کہا: دونوں عدتوں (یعنی وضع حمل اور عدت طلاق) میں سے جس عدت کی مدت لمبی ہوگی اسے وہ عدت پوری کرنی ہوگی (یعنی چار ماہ دس دن، اس کے بعد ہی وہ شادی کرسکے گی) آخر کار ان لوگوں نے کسی کو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج کر اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا سبیعہ ؓ کے شوہر انتقال کر گئے اور ان کے انتقال کے پندرہ دن بعد اس نے بچہ جنا۔ پھر اسے دو آدمیوں نے شادی کا پیغام دیا، جن میں سے ایک کی طرف وہ مائل ہوگئی (اور اس کا بھی خیال اس سے شادی کر ڈالنے کا ہوگیا) تو جب (دوسرا شادی کا خواہشمند اور اس کے ساتھی) لوگ ڈرے کہ یہ تو ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو انہوں نے (شادی روکنے اور رکاوٹ ڈالنے کی خاطر) کہا: ابھی تو تم حلال ہی نہیں ہوئی ہو (تمہاری عدت پوری نہیں ہوئی ہے تم شادی رچانے کیسے جا رہی ہو) وہ کہتی ہیں (جب ان لوگوں نے یہ بات کہی) تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی، آپ نے فرمایا: بلاشبہ تم حلال ہوگئی ہو تو جس سے بھی چاہو اس سے نکاح کرسکتی ہو ۔

Abu Salamah said: "Abu Hurairah and Ibn Abbas differed concerning the widow who gives birth after her husbands death. Abu Hurairah said: She may be married. Ibn Abbas said: (She has to wait) for the longer of the two periods. They sent word to Umm Salamah and she said: The husband of Subaiah died and she gave birth fifteen days -half a month- after her husband died. She said: Two men proposed marriage to her, and she was inclined toward one of them. When they feared that she was becoming single-minded (on this issue, and not consulting her family), they said: It is not permissible for you to marry. She went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: It is permissible for you to marry, so marry whomever you want.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3509
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٣)، مسند احمد (٦/٣١١، ٣١٩) (صحیح )
3540Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْمَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَفَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلِلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، فَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے اس عورت (کی عدت) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ (انتقال کے وقت) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس ؓ نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ١ ؎، اور ابوہریرہ ؓ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہوجائے گی۔ (یہ اختلاف سن کر) ابوسلمہ ام سلمہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچہ جنا پھر دو آدمیوں نے اسے شادی کرنے کا پیغام دیا، ان دونوں میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر کا، وہ جوان کی طرف مائل ہوئی اور اسے شادی کے لیے پسند کرلیا۔ ادھیڑ عمر والے نے اس سے کہا: تو تم ابھی حلال نہیں ہوئی ہو (شادی کرنے کیسے جا رہی ہو) ، اس کے گھر والے غیر موجود تھے ادھیڑ عمر والے نے امید لگائی (کہ میرے ایسا کہنے سے شادی ابھی نہ ہوگی اور) جب لڑکی کے گھر والے آجائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کا اس کے ساتھ رشتہ کردینے کو ترجیح دیں (اور سبیعہ کو اس کے ساتھ شادی کرلینے پر راضی کرلیں) ۔ لیکن وہ تو (سیدھے) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم (بچہ جن کر) حلال ہوچکی ہو، تمہارا دل جس سے چاہے اس سے شادی کرلو ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Salamah said: "Ibn Abbas and Abu Hurairah (RA) were asked about the woman whose husband dies when she is pregnant. Ibn Abbas said: (She should wait) for the longer of the two periods. Abu Hurairah said: When she gives birth it becomes permissible for her to marry. Abu Salamah went to Umm Salamah (RA) and asked her about that, and she said: Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth half a month after her husband died, and two men proposed to her. One was young and one was old, and she was inclined toward the young one. So the old one said: It is not permissible for you to marry. Her family was not there, and he hoped that if he went to her family they would marry her to him. She went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: It is permissible for you to marry, so marry whomever you want.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3510
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت : والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا ( البقرة : 234) کے مطابق ایک عدت چار مہینہ دس دن کی ہے اور دوسری عدت آیت : وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ( الطلاق : 4) کے مطابق وضع حمل ہے۔ ٢ ؎: گویا ابوہریرہ رضی الله عنہ کا جواب حدیث رسول کی روشنی میں درست تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3541Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً: أَيَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الطَّلَاقِ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلَ غُلَامَهُ كُرَيْبًا، فَقَالَ: ائْتِ أُمَّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا: هَلْ كَانَ هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَجَاءَ، فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ، سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَزَوَّجَ، فَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ يَخْطُبُهَا.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کرلینا جائز و درست ہوگا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کرلے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن یعنی جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں ۔ ابن عباس ؓ نے کہا: یہ حکم مطلقہ (حاملہ) کا ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے) اس گفتگو کے بعد ابن عباس ؓ نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں (ساری بات) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل ؓ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "It was said to Ibn Abbas concerning a woman who gives birth one day after her husband died: Can she get married? He said: No, not until the longer of the two periods has ended. He said: Allah says: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden. He said: That only applies in the case of divorce. Abu Hurairah said: I agree with my brothers son --meaning, Abu Salamah. He sent his slave Kuraib and told him: Go to Umm Salamah and ask her: Was this the Sunnah of the Messenger of Allah? He came back and said: Yes, Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth twenty days after her husband died, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to get married, and Abu As-Sanabil was one of those who proposed marriage to her.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3511
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٥)، سنن الترمذی/الطلاق ١٧ (١١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٦)، مسند احمد (٦/٣١٤)، سنن الدارمی/الطلاق ١١ (٢٣٢٥) (صحیح )
3542Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تَذَاكَرُوا عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي، فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ.

سلیمان بن یسار سے روایت ہے، ابوہریرہ، ابن عباس (رضی الله عنہم) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مرگیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی۔ ابن عباس ؓ نے کہا: جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی، ابوسلمہ نے کہا: نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی (دوسرے کے لیے) حلال ہوجائے گی، ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی ان کا ہم خیال ہوں) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا۔

It was narrated from Sulaiman bin Yasir that Abu Hurairah, Ibn Abbas, and Abu Salamah bin Abdur-Rahman were talking about the Iddah of a woman whose husband dies, and she gives birth after her husband dies. Ibn Abbas said: "She should observe Iddah for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "No, it becomes permissible for her to marry when she has given birth." Abu Hurairah said: "I agree with my brothers son." So they sent word to Umm Salamah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and she said: "Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth shortly after her husband died; she consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he told her to get married.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3512
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٤١ (صحیح )
3543Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَزَوَّجَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سبیعہ ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دنوں بعد بچہ جنا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے (اپنی پسند کے شخص سے) شادی کرلینے کا حکم دیا۔

It was narrated that Umm Salamah (RA) said: "Subaiah gave birth a few days after her husband died, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to get married.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3513
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٤١ (صحیح )
3544Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي: أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ حَلَلْتِ.

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان اس عورت (کی عدت) کے بارے میں اختلاف ہوگیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چند ہی راتوں بعد بچہ جنے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس عدت کی مدت زیادہ ہوگی اس پر عمل کرے گی اور ابوسلمہ نے کہا: جب بچہ پیدا ہوجائے گا تو وہ حلال ہوجائے گی، ابوہریرہ ؓ بھی (وہاں) پہنچ گئے (اور باتوں میں شریک ہوگئے) انہوں نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ ہوں (یعنی میری بھی وہی رائے ہے جو ابوسلمہ کی ہے) پھر ان سبھوں نے ابن عباس ؓ کے غلام کریب کو (ام المؤمنین) ام سلمہ ؓ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا وہ پوچھ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند راتوں بعد بچہ جنا پھر اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، آپ نے فرمایا: تو حلال ہوچکی ہے (جس سے بھی تو شادی کرنا چاہے کرسکتی ہے) ۔

It was narrated from Sulaiman bin Yasar that Abdullah bin Abbas and Abu Salamah bin Abdur-Rahman (RA) disagreed concerning a woman who gave birth one day after her husband died. Abdullah bin Abbas (RA) said: "(She should wait) for the longer of the two periods." Abu Salamah (RA) said: "When she has given birth, it becomes permissible for her to remarry." Abu Hurairah (RA) came and said: "I agree with my brothers son" -meaning Abu Salamah bin Abdur-Rahman. They sent Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, to Umm Salamah to ask her about that. He came back to them and told them that she said: "Subaiah gave birth one day after her husband died;" she mentioned that to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "It has become permissible for you to marry.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3514
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١ ش ٣٥ (صحیح )
3545Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فقال ابن عباس: إذا وضعت المرأة بعد وفاة زوجها، فإن عدتها آخر الأجلين، فقال أبو سلمة، فبعثنا كريبا إلى أم سلمة يسألها عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَنَا مِنْ عِنْدِهَا،أَنَّ سُبَيْعَةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَوَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَزَوَّجَ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ (سب) ساتھ میں تھے، ابن عباس ؓ نے کہا: جب عورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنے گی تو وہ عورت دونوں عدتوں میں سے وہ عدت گزارے گی جس کی مدت بعد میں ختم ہوتی ہو۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: ہم نے ام سلمہ (ام المؤمنین) ؓ سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے ان کے پاس کریب کو بھیجا، وہ ہمارے پاس ان کے پاس سے یہ خبر لے کر آئے کہ سبیعہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا، ان کے انتقال چند دنوں بعد سبیعہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "Ibn Abbas, Abu Hurairah and I were together, and Ibn Abbas (RA) said: If a woman gives birth after her husband dies, her Iddah is the longer of the two periods." Abu Salamah said: "We sent Kuraib to Umm Salamah to ask her about that. He came to us and told us from her that the husband of Subaiah died and she gave birth a few days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3515
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٤١ (صحیح )
3546Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ، يُقَالُ لَهَا: سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ: مَا يَصْلُحُ لَكِ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نُفِسَتْ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْكِحِي.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی (اسی دوران) شوہر کا انتقال ہوگیا تو ابوسنابل بن بعکک ؓ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ (اس کے بعد) وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی (اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی) آپ نے فرمایا: تو (جس سے چاہے) نکاح کرلے ۔

It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that Zainab bint Abi Salamah told him, from her mother, Umm Salamah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "That a woman from Aslam who was called Subaiah was married to her husband, and he died while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Bakak proposed to her but she refused to marry him. He said: You cannot get married until you have observed Iddah for the longer of the two periods. Approximately twenty days later she gave birth. She went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Get married.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3516
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٣٥١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٣) (صحیح )
3547Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا، وَأَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمِ مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فقال أبو سلمة: فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لِأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَزَوَّجَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ (ایک روز) میں اور ابوہریرہ ؓ دونوں ابن عباس ؓ کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا (اس کی عدت کیا ہوگی؟ ) ۔ ابن عباس ؓ نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہوگی وہی تمہاری عدت ہوگی، (یہ سن کر) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول ﷺ نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے شادی کرلینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ ؓ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ١ ؎۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "While Abu Hurairah and I were with Ibn Abbas, a woman came and said that her husband had died while she was pregnant, then she had given birth less than four months after the day he died. Ibn Abbas said: (You have to wait) for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "A man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told me that Subaiah Al-Aslamiyyah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said that her husband died while she was pregnant, and she gave birth less than four months after he died. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to get married. Abu Hurairah said: And I bear witness to that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3517
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وضع حمل سے اس کی عدت پوری ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٣) (صحیح )
3548Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ: أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَيَسْأَلَهَا حَدِيثَهَا، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِإِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ، أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ: جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي: بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي.

عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ (عبداللہ بن عتبہ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث ؓ کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے (سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ ؓ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ (سعد) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا (اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں) ، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک ؓ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کرلو۔ سبیعہ ؓ کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے (اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر) رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہوچکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کرلوں اگر میرا جی چاہے ۔

Ubaidullah bin Abdullah narrated that his father wrote to Umar bin Abdullah bin Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subaiah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah and ask her about her Hadith and what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had said to her when she consulted him. Umar bin Abdullah wrote back to Abdullah bin Utbah telling him that Subaiah told him, that she was married to Sahl bin Khawlah -who was from Banu Amir bin Lu-ayy and was one of those who had been present at Badr- and her husband died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant. She gave birth soon after he died, and when her Nifas ended she adorned herself to receive proposals of marriage. Abu As-Sanabil bin Bakak -a man from Banu Abd Ad-Dar- went to her and said to her: Why do I see you adorned? Perhaps you want to get married, but by Allah you will not get married until four months and ten days have passed. Subaiah said: When he said that to me, I put on my clothes in the evening and went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about that. He ruled that it had become permissible for me to marry when I gave birth, and he told me to get married if I wanted to.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3518
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٠ (٣٩٩١) تعلیقًا، الطلاق ٣٩ (٥٣١٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٤)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٧ (٢٣٠٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٠)، مسند احمد (٦/٤٣٢)، ویأتي برقم: ٣٥٤٩، ٣٥٥٠ (صحیح )
3549Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّزُفَرَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْكَكِ بْنِ السَّبَّاقِ، قَالَ لِسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ: لَا تَحِلِّينَ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا أَقْصَى الْأَجَلَيْنِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْتَاهَا أَنْتَنْكِحَ إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، وَكَانَتْ حُبْلَى فِي تِسْعَةِ أَشْهُرٍ حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، فَتُوُفِّيَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَتْ فَتًى مِنْ قَوْمِهَا حِينَ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا.

زفر بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ ابوسنابل بن بعکک بن سباق ؓ نے سبیعہ اسلمیہ ؓ سے کہا کہ تم (نکاح کے لیے) حلال نہ ہوگی جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے لمبی مدت والی عدت کے چار ماہ دس دن تم پر گزر نہ جائیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فتویٰ دیا کہ جب وہ بچہ جن چکی ہے تو نکاح کرلے، وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں جب ان کے شوہر سعد کا انتقال ہوا تو ان کے حمل کا نوواں مہینہ چل رہا تھا، وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا، چناچہ بچہ جننے کے بعد انہوں نے اپنی قوم کے ایک نوجوان سے شادی کرلی۔

It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Muhammad bin Muslim Az-Zuhri wrote to him mentioning that Ubaidullah bin Abdullah told him, that Zufar bin Aws bin Al-Hadathan An-Nasri told him that Abu As-Sanabil bin Bakak bin As-Sabbaq said to Subaiah Al-Aslamiyyah: "It is not permissible for you to get married until four months and ten days, the longer of the two periods, have passed." She went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about that. She said that the Messenger of Allah ruled that she could get married when she had given birth. She was nine months pregnant when her husband died, and she was married to Sad bin Khawlah, who died during the Farewell Pilgrimage with the Messenger of Allah. She married a young man from her people when she had given birth to (the child).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3519
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3550Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ: أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً، فَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ.

عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں (اس خط کے بعد) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ ؓ کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ ؓ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ان صحابہ میں سے تھے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، وہ حجۃ الوداع میں وفات پا گئے اور شوہر کی وفات سے لے کر چار مہینہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئیں تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل ؓ ان کے پاس آئے اور انہیں زیب و زینت میں دیکھا تو کہا (عدت کے) چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی غالباً تم شادی کرنے کا ارادہ کر رہی ہو؟ وہ (سبیعہ) کہتی ہیں: جب میں نے ابوالسنابل سے یہ بات سنی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، میں نے آپ کو اپنی (اور ان کی) بات چیت بتائی۔ آپ نے فرمایا: تم تو اسی وقت سے حلال ہوگئی ہو جب تم نے بچہ جنا ١ ؎۔

It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah that Abdullah bin Utbah wrote to Umar bin Abdullah bin Al-Arqam Az-Zuhri, telling him: "Go to Subaiah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah, and ask her about the ruling of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) concerning her pregnancy." He said: "So Umar bin Abdullah went to her and asked her. She told him that she was married to Sad bin Khawlah, who was one of the Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) who had been present at Badr. He died during the Farewell Pilgrimage, and she gave birth before four months and ten days had passed since her husbands death. When her Nifas ended, Abu As-Sanabil -a man from Banu Abd Ad-Dar- went to her and saw that she had adorned herself. He said: Perhaps you want to get married before four months and ten days has passed? She said: When I heard that from Abu As-Sanabil, I went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him my story. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is permissible for you to marry when you gave birth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3520
Notes · وضاحت
١ ؎: اب تم جب چاہو اور جس کے ساتھ چاہو شادی کرسکتی ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٤٨ (صحیح )
3551Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي نَاسٍ بِالْكُوفَةِ فِي مَجْلِسٍ لِلْأَنْصَارِ عَظِيمٍ، فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرُوا شَأْنَ سُبَيْعَة فَذَكَرْتُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَوْنٍ: حَتَّى تَضَعَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى: لَكِنَّ عَمَّهُ لَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَرَفَعْتُ صَوْتِي، وَقُلْتُ: إِنِّي لَجَرِيءٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، قَالَ: فَلَقِيتُ مَالِكًا، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ ؟ قَالَ: قَالَ: أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ ؟ لَأُنْزِلَتْ: سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے، ان لوگوں نے سبیعہ ؓ کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو (روایت) ابن عون کے قول حتیٰ تضع کے معنی اور حق میں تھی (یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے) ، (اس بات پر) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لیکن ان کے (یعنی عبداللہ بن عتبہ کے) چچا (ابن مسعود ؓ) اس کے قائل نہ تھے (کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور (زور سے) کہا: کیا میں جرات کرسکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں (یہ نہیں ہوسکتا) وہ (عبداللہ بن عتبہ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں (جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے) پھر میں مالک (بن عامر ابن عود) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود ؓ سبیعہ ؓ کے معاملے میں کیا کہتے تھے؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود ؓ نے کہا: کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو (اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے۔ جب کہ چھوٹی سورة النساء (یعنی سورة الطلاق، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے) بڑی سورة (بقرہ) کے بعد اتری ہے ١ ؎۔

It was narrated that Muhammad said: "I was sitting with some people in Al-Kufah in a large gathering of the Ansar, among whom was Abdur-Rahman bin Abi Laila. They spoke about the story of Subaiah and I mentioned what Abdullah bin Utbah bin Masud had said in meaning." (One of the narrators) Ibn Awns saying was: "when she gives birth." Ibn Abi Layla said: But his (paternal) uncle did not say that. I raised my voice and said: Would I dare to tell lies about Abdullah bin Utbah when he is in the vicinity of Al-Kufah?" He said: "Then I met Malik and said: What did Ibn Masud say about the story of Subaiah? He said: He said: "Are you going to be too strict with her and not allow her the concession (with regard to the Iddah)? The shorter Surah about women (At-Talaq) was revealed after the longer one (Al-Baqarah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3521
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ عدت چار ماہ دس دن کی عدت سے مستثنیٰ اور الگ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة ٤١ (٤٥٣٢)، تفسیر سورة الطلاق ١ (٤٩١٠) تعلیقًا، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٤) (صحیح )
3552Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ يَمَامِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وأَخْبَرَنِيمَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شَبْرَمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ، مَا أُنْزِلَتْ: وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ، وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ.

علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود ؓ نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں (کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت متوفی عنہا زوجہا والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مرگیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہوجائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔

It was narrated from Alqamah bin Qais that Ibn Masud said: "Whoever wants, I will meet and debate with him and invoke the curse of Allah upon those who lie. The Verse: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden. was only revealed after the Verse about women whose husbands die. When a woman whose husband has died gives birth, it becomes permissible for her to marry." This is the wording of Maimun (one of the narrators).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3522
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٤٤٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ٤٧ (٢٣٠٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٣٠) (صحیح الإسناد )
3553Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٌ، وَعَبِيدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى نَزَلَتْ بَعْدَ الْبَقَرَةِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی (یعنی طلاق) کی چھوٹی سورة البقرہ کی (بڑی) سورة کے بعد نازل ہوئی ہے۔

It was narrated from Abdullah that the shorter Surah, that speaks of women (At-Talaq), was revealed after Al-Baqarah.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3523
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩١٨٤) (صحیح )
3554Sunan An Nasai

اگر کسی کا شوہر ہمبستری سے قبل ہی انتقال کر جائے تو اس کی عدت؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب:، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: قَضَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ مَا قَضَيْتَ، فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مرگیا تو انہوں نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ، اسے عدت گزارنی ہوگی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی ؓ اٹھے اور کہا: ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق ؓ کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے، یہ سن کر ابن مسعود ؓ خوش ہوئے۔

It was narrated from Ibn Masud, that he was asked about a man who married a woman, but did not name a Mahr or consummate the marriage before he died. Ibn Masud said: "She should have a Mahr like that of women like her, no less and no more; she has to observe the Iddah, and she is entitled to inherit." Maqil bin Sinan Al-Ashjai stood up and said: "The Messenger of Allah passed a similar judgment among us concerning Birwa bint Washiq." And Ibn Masud rejoiced at that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3524
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣٥٦ (صحیح )
3555Sunan An Nasai

سوگ سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے اپنے شوہر کے ۔

It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible for a woman to mourn for anyone who dies for more than three days, except for her husband.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3525
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩١)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٥ (٢٠٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤١)، مسند احمد (٦/٣٧، ١٤٨، ٢٤٩) (صحیح )
3556Sunan An Nasai

سوگ سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو شوہر کے سوا کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days, except for her husband.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3526
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٦٤٦١)، مسند احمد (٦/٢٤٩، ٢٨١)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٢٩) (صحیح )
3557Sunan An Nasai

اگر بیوی اہل کتاب میں سے ہو تو اس پر عدت کا حکم ساقط ہوجاتا ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس (کے مرنے) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی ۔

It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Habibah (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say this on this Minbar: It is not permissible for a woman who believes in Allah and His Messenger to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3527
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣٠ (صحیح )