طلاق سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 27 · 175 hadiths · Page 8 of 9

3558Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کی وجہ سے عدت گزارنے والی خاتون کو چاہیے کہ وہ عدت مکمل ہونے تک اپنے گھر میں رہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، ويحيى بن سعيد، ومحمد بن إسحاق، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ فَقَتَلُوهُ، قَالَ شُعْبَةُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ وكانت في دار قاصية فجاءت ومعها أخوها إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا، فَقَالَ: اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ.

فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر (بھاگے ہوئے) غلاموں کی تلاش میں نکلے (جب وہ ان کے سامنے آئے) تو انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ (شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور (آبادی کے ایک سرے پر) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا (کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے) آپ نے اسے (وہاں سے ہٹ کر رہنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ (گھر جانے کے لیے) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ (قرآن) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہوجائے۔ (اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو)۔

It was narrated from Al-Fariah bint Malik that her husband went out to pursue some slaves and they killed him. Shubah and Ibn Juraij said: "She was in a remote house. She came with her brothers to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him (about the situation) and he granted her a concession. When she was leaving he called her back and said: Stay in your house until the term prescribed is fulfilled.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3528
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٤ (٢٣٠٠) مطولا، سنن الترمذی/الطلاق ٢٣ (١٢٠٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٨ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٥)، موطا امام مالک/الطلاق ٣١، مسند احمد (٦/٣٧٠، ٤٢٠)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٣)، ویأتي فیما یلي و برقم: ٣٥٦٢ (صحیح )
3559Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کی وجہ سے عدت گزارنے والی خاتون کو چاہیے کہ وہ عدت مکمل ہونے تک اپنے گھر میں رہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِزَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ،أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ: افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ.

فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چناچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ایسا کرلو ، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا: کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو) ؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا: جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو ۔

It was narrated from Al-Furaiah bint Malik that her husband hired some slaves to work for him and they killed him. She mentioned that to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I am not living in a house that belongs to him, and I do not receive maintenance from him; should I move to my family with my two orphans and stay with them?" He said: "Do that." Then he said: "What did you say?" So she told him again and he said: "Observe your Iddah where the news came to you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3529
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3560Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کی وجہ سے عدت گزارنے والی خاتون کو چاہیے کہ وہ عدت مکمل ہونے تک اپنے گھر میں رہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّومِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى أَهْلِي، وَذَكَرَتْ لَهُ حَالًا مِنْ حَالِهَا، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا أَقْبَلْتُ نَادَانِي، فَقَالَ: امْكُثِي فِي أَهْلِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ.

فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے (بھاگے ہوئے کچھ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کردیئے گئے، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہوجانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے (وہاں رہنے کی صورت میں) اپنے کچھ حالات (اور پریشانیوں) کا ذکر کردیا تو آپ ﷺ نے مجھے (منتقل ہوجانے کی) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو ۔

It was narrated from Furaiah that her husband went out to pursue some slaves of his and he was killed on the edge of Al-Qadum. She said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and mentioned moving to (join) my family." She told him about her situation. She said: "He allowed me, then, when I turned to leave, he called me back and said: Stay with your family until the term prescribed is fulfilled.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3530
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٥٨ (صحیح )
3561Sunan An Nasai

کہیں بھی عدت گزارنے کی اجازت

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ عَطَاءٌ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت متاعا الی الحول غیر اخراج ... الی آخرہ جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے (اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف (البقرة: 240) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that this Verse abrogated the womans Iddah among her family, and she may observe her Iddah wherever she wants. That is the saying of Allah, the Mighty and Sublime: without turning them out.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3531
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں فریعہ بنت مالک کی حدیث سے استدلال کرنے والوں کی دلیل مضبوط ہے، کیونکہ اس حدیث کا معارضہ کرنے والے کوئی ٹھوس اور مضبوط دلیل نہ پیش کرسکے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر البقرة ٤١ (٤٥٣١)، والطلاق ٥٠ (٥٣٥٥)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٥ (٢٣٠١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٠) (صحیح )
3562Sunan An Nasai

جس کے شوہر کی وفات ہوجائے تو اس کی عدت اسی وقت سے ہے کہ جس روز اطلاع ملے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُومِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ، إِنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ دَعَاهَا، فَقَالَ: امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم (بستی) میں انتقال ہوگیا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر (بستی سے) دور (الگ تھلگ) ہے (تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟ ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے ۔

Furaiah bint Malik, the sister of Abu Saeed Al-Khudri, said: "My husband died in Al-Qadum, so I went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him that our house was remote." He gave her permission then he called her back and said: "Stay in your house for four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3532
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٥٨ (صحیح )
3563Sunan An Nasai

عدت میں بناؤ سنگھار چھوڑ دینا مسلمان عورت کے لئے ہے نہ کہ یہودی اور عیسائی خاتون کے لئے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْأُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. (حديث موقوف) (حديث مرفوع)

زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ١- زینب ؓ کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے والد ابوسفیان بن حرب ؓ کا جب انتقال ہوگیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتادیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر (میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی ۔ (اس لیے میں اپنے والد کے مرجانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں) ۔

It was narrated from Humaid bin Nafi that Zainab bint Abi Salamah told him these three Hadiths. Zainab said: "I entered upon Umm Habibah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), when her father Abu Sufyan bin Harb died. Umm Habibah (RA) called for some perfume and put some on a young girl, then she put some on her cheeks. Then she said: By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.

3563Sunan An Nasai

عدت میں بناؤ سنگھار چھوڑ دینا مسلمان عورت کے لئے ہے نہ کہ یہودی اور عیسائی خاتون کے لئے۔

قَالَتْ زَيْنَبُ: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، وَقَدْ دَعَتْ بِطِيبٍ وَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. (حديث موقوف) (حديث مرفوع)

٢- زینب (زینب بنت ابی سلمہ ؓ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے بھائی کا انتقال ہوگیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر (مسئلہ بتانے کے لیے) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے (و اعلان کرتے) ہوئے سنا ہے: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی ۔

Zainab said: "Then I went into Zainab bint Jahsh when her brother died, and she called for some perfume and put some on. Then she said: By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say on the Minbar: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.

3564Sunan An Nasai

عدت میں بناؤ سنگھار چھوڑ دینا مسلمان عورت کے لئے ہے نہ کہ یہودی اور عیسائی خاتون کے لئے۔

وَقَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَأَكْحُلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ؟ قَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ مَالِكٌ: تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، قَالَ مَالِكٌ: الْحِفْشُ الْخُصُّ.

٣- زینب (زینب بنت ابی سلمہ) کہتی ہیں: میں نے (ام المؤمنین) ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، پھر آپ نے فرمایا: ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے) زمانہ جاہلیت میں تمہاری (بیوہ) عورت (سوگ کا) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی ۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب ؓ سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کرجاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ (چھوٹی کوٹھری) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ (سال پورا ہوجانے کے بعد) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی (دبوچتی) وہ (مر کر ہی چھٹی پاتا) مرجاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی (اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: تفتض کا مطلب تمسح به کے ہیں (یعنی اس سے رگڑتی) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: حفش، خص کو کہتے ہیں (یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا) ۔

Zainab said: "I heard Umm Salamah say: A woman came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, my daughters husband has died and she has a problem in her eye; can I put kohl on her? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No. Then he said: It is four months and ten days. During the Jahiliyyah one of you would throw a piece of dung at the end of the year." Humaid said: "I said to Zainab: What is this throwing a piece of dung at the end of the year? She said: If a womans husband died, she would enter a small room (Hifsh) and wear her worst clothes, and she would not put on perfume or anything until a year. Then an animal would be brought, a donkey or sheep or bird, and she would end her Iddah with it (clean herself with it), and usually any animal used for that purpose would die. Then she would come out and would be given a piece of dung which she would throw, then she would go back to whatever she wanted of perfume, etc." In the narration of Muhammad (bin Salamah) Malik said: Hifsh means hut.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3533
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣١ (صحیح )
3564Sunan An Nasai

شوہر کی موت کا غم منانے والی خواتین کا رنگین لباس سے پرہیز۔

أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، وَلَا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمْتَشِطُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا حِينَ تَطْهُرُ نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا (پہنے) ، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No woman should mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, for whom she should mourn for four months and ten days. She should not wear garments that are dyed or patterned, or put on kohl or comb her hair, and she should not put on any perfume except when purifying herself after her period, when she may use a little of Qust or Azfar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3534
Notes · وضاحت
١ ؎: قسط و اظفار ایک طرح کی دھوئیں دار چیزیں ہیں جنہیں حیض کی ناپسندیدہ بو ختم کرنے کے لیے سلگاتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ایک طرح کی خوشبو ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٢ (٣١٣)، والجنائز ٣٠ (١٢٧٨)، الطلاق ٤٧ (٥٣٣٩، ٤٩ (٥٣٤٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (٩٣٨)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٦ (٢٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٥ (٢٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٤)، مسند احمد (٥/٨٥، ٤٠٨)، ویأتي برقم: ٣٥٦٦، سنن الدارمی/الطلاق ١٣ (٢٣٣٢)، ویأتي برقم: ٣٥٧٢ (صحیح )
3565Sunan An Nasai

شوہر کی موت کا غم منانے والی خواتین کا رنگین لباس سے پرہیز۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا شوہر مرگیا ہے وہ عورت (عدت کے ایام میں) کسم کے رنگ کا اور سرخ پھولوں سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے ۔

It was narrated from Safiyyah bint Shaibah, from Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The woman whose husband has died should not wear clothes that are dyed with safflower or red clay, and she should not use dye nor kohl.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3535
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٦ (٢٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٠)، مسند احمد (٦/٣٠٢) (صحیح )
3566Sunan An Nasai

دوران عدت مہندی لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور سوگ منانے والی نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنے گی ۔

It was narrated from Umm Atiyyah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day, to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband; she should not use kohl, dye nor wear dyed clothes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3536
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨١٣١) (صحیح )
3567Sunan An Nasai

دوران عدت بیری کے پتوں سے سر دھونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا، فَتَكْتَحِلُ الْجَلَاءَ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلُ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ: إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ، فَإِنَّهُ خِضَابٌ، قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ.

ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چناچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا (یعنی اثمد کا) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے (سوگ میں ہونے کے بعد) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آجائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں (تو لگا سکتی ہے) ۔ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: (خوشبو تو نہیں ہے لیکن) یہ چہرے کو جوان (اور تروتازہ کردیتا) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی (بہت ضروری) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو ۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو (اور دھو کر کنگھی کرو) ۔

Umm Hakim bint Asid narrated from her mother that her husband died and she had a problem in her eye, so she applied kohl to clear her eyes. She sent a freed slave woman of hers to Umm Salamah to ask her about using kohl to clear her eyes. She said: "Do not use kohl unless it cannot be avoided. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon me when Abu Salamah died and I had put some aloe juice on my eyes. He said: What is this, O Umm Salamah? I said: It is aloe juice, O Messenger of Allah, there is no perfume in it. He said: It makes the face look bright, so only use it at night, and do not comb your hair with perfume or henna, for it is a dye. I said: With what can I comb it, O Messenger of Allah? He said: With lote leaves -cover your head with them.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3537
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٦ (٢٣٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” مغیرہ “ لین الحدیث ہیں، اور ” ام حکیم “ اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں )
3568Sunan An Nasai

دوران عدت سرمہ لگانا

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى، قَالَ حُمَيْدٌ: وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ، أَفَأَكْحُلُهَا ؟ وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا، فَقَالَ: أَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ثُمَّ قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا، فَقَالَ: لَا، إِلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً، ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی ۔

Zainab bint Abi Salamah narrated that her mother Umm Salamah said: "A woman from the Quraish came and said: O Messenger of Allah, my daughters eyes are inflamed; shall I apply kohl to her? (The daughters) husband had died so (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said: Not until four months and ten days (have passed). Then she said: I fear for her sight. He said: No, not until four months and ten days (have passed). During the Jahiliyyah one of you would mourn for her husband for a year, then when one year had passed she would throw a piece of dung.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3538
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣١ (صحیح )
3569Sunan An Nasai

دوران عدت سرمہ لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ ابْنَتِهَا مَاتَ زَوْجُهَا وَهِيَ تَشْتَكِي، قَالَ: قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَحِدُّ السَّنَةَ، ثُمَّ تَرْمِي الْبَعْرَةَ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کر کے جس کا شوہر مرگیا تھا اور اس کی آنکھیں دکھتی تھیں (اس کے علاج و معالجے کے لیے) مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا: تمہاری ہر عورت (جس کا شوہر مرجاتا تھا) پورے سال سوگ مناتی تھی (اور ہر طرح کی تکلیف اٹھاتی تھی) اور پھر سال پورا ہونے پر مینگنیاں پھینکتی تھی اور اب یہ (اسلام میں گھٹ کر) چار مہینے دس دن ہیں (تو تمہیں آنکھ کی تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی؟ ) ۔

It was narrated from Zainab bint Abi Salamah, from her mother, that a woman came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about her daughter whose husband had died and she was ill. He said: "One of you used to mourn for a year, then throw a piece of dung when a year had passed. Rather it (the mourning period) is four months and ten days.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3539
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣١ (صحیح )
3570Sunan An Nasai

دوران عدت سرمہ لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدْ خِفْتُ عَلَى عَيْنِهَا، وَهِيَ تُرِيدُ الْكُحْلَ، فَقَالَ: قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: مَا رَأْسُ الْحَوْلِ ؟ قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا، فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ، خَرَجَتْ، فَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مرگیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہوجائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری کوئی بھی عورت (جو سوگ منا رہی ہوتی تھی) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے) ۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا رأس الحول (سال بھر کے بعد) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب (بوسیدہ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہوجاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔

It was narrated from Zainab bint Abi Salamah, from Umm Salamah that a woman from the Quraish came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My daughters husband has died, and I am worried about her eyes; she needs kohl." He said: "One of you used to throw a piece of dung after a year had passed. Rather it (the mourning period) is four months and ten days." I (the narrator) said to Zainab: "What does after a year had passed mean?" She said: "During the Jahiliyyah, if a womans husband died she would go to the worst room she had and stay there, then, when a year had passed, she would come out and throw a piece of dung behind her.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3540
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣١ (صحیح )
3571Sunan An Nasai

دوران عدت سرمہ لگانا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ: أَتَكْتَحِلُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا ؟ فَقَالَتْ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً، ثُمَّ قَذَفَتْ خَلْفَهَا بِبَعْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَتْ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ.

زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا (جو تم نے کیا ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مرجاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی ۔ (تب اس کی عدت پوری ہوتی) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں) ۔

It was narrated from Zainab that a woman asked Umm Salamah and Umm Habibah whether she could put on kohl during her Iddah following her husbands death. She said: "A woman came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about that, and he said: During the Jahiliyyah, if her husband died, one of you would stay (in mourning) for a year, then she would throw a piece of dung then come out. Rather it (the mourning period) is four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3541
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٥٣١ (صحیح )
3572Sunan An Nasai

دوران عدت (خوشبو) قسط اور اظفار کے استعمال سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فِي الْقُسْطِ وَالْأَظْفَارِ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو جس کا شوہر مرگیا ہو عدت کے دوران حیض سے پاک ہونے پر (خون کی بدبو دور کرنے کے لیے) قسط اور اظفار کے استعمال کی رخصت دی ہے۔

It was narrated from Hafsah, from Umm Atiyyah, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that he granted a concession to the woman whose husband has died, allowing her to use Qust and Azfar when purifying herself following her menses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3542
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨١٤١) (صحیح )
3573Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کے بعد عورت کو ایک سال کا خرچہ اور رہائش دینے کے حکم کے منسوخ ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السِّجْزِيُّ خَيَّاطُ السُّنَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍفِي قَوْلِهِ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، نُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ، مِمَّا فُرِضَ لَهَا مِنَ الرُّبُعِ، وَالثُّمُنِ، وَنَسَخَ أَجَلَ الْحَوْلِ، أَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج اور جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں (یعنی جس وقت مرنے لگیں) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں ۔ (البقرہ: ٢٤٠) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہوگئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا ہے اور ایک سال تک عدت میں رہنے کا حکم چار ماہ دس دن کے حکم سے منسوخ ہوگیا ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA), with regard to Allahs saying: "And those of you who die and leave behind wives should bequeath for their wives a years maintenance and residence without turning them out." This was abrogated by the Verse on inheritance, which allocated to her one-quarter or one-eighth. And the appointed time (Iddah) of one year was abrogated and replaced with the (Iddah) term of four months and ten days.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3543
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٢ (٢٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٠) (حسن صحیح )
3574Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کے بعد عورت کو ایک سال کا خرچہ اور رہائش دینے کے حکم کے منسوخ ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَفِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، قَالَ: نَسَخَتْهَا: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا سورة البقرة آية 234.

عکرمہ آیت کریمہ: والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت اس آیت: والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا اور جو لوگ تم میں سے (اے مسلمانو! ) مرجائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ (یعنی بیبیاں) چار مہینے دس دن تک اپنے تئیں روک رکھیں ۔ (البقرہ: ٢٣٤) سے منسوخ ہے۔

It was narrated from Ikrimah with regard to the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And those of you who die and leave behind wives should bequeath for their wives a years maintenance and residence without turning them out," that he said: "This was abrogated by: And those of you who die and leave wives behind them, they (the wives) shall wait (as regards their marriage) for four months and ten days.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3544
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3575Sunan An Nasai

تین طلاقوں والی خاتون کے واسطے عدت کے درمیان مکان سے نکلنے کی اجازت کے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي، وَأَمَرَ وَكِيلَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَتَقَالَّتْهَا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، طَلَّقَهَا فُلَانٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ امْرَأَةٌ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا، فَانْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ أَعْمَى، فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَمْلَقُ مِنَ الْمَالِ، فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ.

عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس ؓ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ (تو اس نے دیا) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا (اور واپس کردیا) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور (ان کے شوہر) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کردیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے (ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا) آپ ﷺ نے فرمایا: وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہوجاؤ اور وہیں عدت گزارو ، پھر آپ نے فرمایا: نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہوجاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں (ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہوگی) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں ، (وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ ؓ کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید ؓ سے شادی کرلی ۔

Abdur-Rahman bin Asim narrated that Fatimah bint Qais -who was married to a man of Banu Makhzum- told him that he divorced her three times. He went out on a military campaign and told his representative to give her some provision. She thought it was too little, so she went to one of the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came in while she was with her. She said: "O Messenger of Allah, this is Fatimah bint Qais who has been divorced by so-and-so. He sent her some provision but she rejected it. He said that it was something he did not have to do (a favor)." He said: "He is telling the truth." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Go to Umm Kulthum and observe your Iddah in her house." Then he said: "Umm Kulthum is a woman who has a lot of visitors. Go to Abdullah bin Umm Maktum for he is blind." So she went to Abdullah and observed her Iddah in his house, until her Iddah was over. Then Abu Al-Jahm and Muawiyah bin Abi Sufyan proposed to her. So she came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to consult him about them. He said: "As for Abu Al-Jahm, he is a man the waving of whose stick I fear for you. And as for Muawiyah he is a man who does not have any money." So she married Usamah bin Zaid after that.

ضعيف الإسناد وقوله أم کلثوم منکر والمحفوظ أم شريكصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3545
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٠)، مسند احمد (٦/٤١٤) (ضعیف الإسناد )