Sunan An Nasai 3559

طلاق سے متعلقہ احادیث

3559Sunan An Nasai

شوہر کی وفات کی وجہ سے عدت گزارنے والی خاتون کو چاہیے کہ وہ عدت مکمل ہونے تک اپنے گھر میں رہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِزَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ،أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ: افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ.

فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چناچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ایسا کرلو ، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا: کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو) ؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا: جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو ۔

It was narrated from Al-Furaiah bint Malik that her husband hired some slaves to work for him and they killed him. She mentioned that to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I am not living in a house that belongs to him, and I do not receive maintenance from him; should I move to my family with my two orphans and stay with them?" He said: "Do that." Then he said: "What did you say?" So she told him again and he said: "Observe your Iddah where the news came to you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3529
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )