Sunan An Nasai 3541

طلاق سے متعلقہ احادیث

3541Sunan An Nasai

حاملہ کی عدت کے بیان میں

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً: أَيَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الطَّلَاقِ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلَ غُلَامَهُ كُرَيْبًا، فَقَالَ: ائْتِ أُمَّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا: هَلْ كَانَ هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَجَاءَ، فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ، سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَزَوَّجَ، فَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ يَخْطُبُهَا.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کرلینا جائز و درست ہوگا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کرلے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن یعنی جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں ۔ ابن عباس ؓ نے کہا: یہ حکم مطلقہ (حاملہ) کا ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے) اس گفتگو کے بعد ابن عباس ؓ نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں (ساری بات) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی ؓ نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل ؓ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "It was said to Ibn Abbas concerning a woman who gives birth one day after her husband died: Can she get married? He said: No, not until the longer of the two periods has ended. He said: Allah says: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden. He said: That only applies in the case of divorce. Abu Hurairah said: I agree with my brothers son --meaning, Abu Salamah. He sent his slave Kuraib and told him: Go to Umm Salamah and ask her: Was this the Sunnah of the Messenger of Allah? He came back and said: Yes, Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth twenty days after her husband died, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to get married, and Abu As-Sanabil was one of those who proposed marriage to her.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3511
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٥)، سنن الترمذی/الطلاق ١٧ (١١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٦)، مسند احمد (٦/٣١٤)، سنن الدارمی/الطلاق ١١ (٢٣٢٥) (صحیح )