جس وقت لوگ کسی بچہ سے متعلق اختلاف کریں تو اس وقت قرعہ ڈالنا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْيَمَنِ، فَأُتِيَ بِغُلَامٍ تَنَازَعَ فِيهِ ثَلَاثَةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، خَالَفَهُمْ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ،
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کردی (جو پہلے گزر چکی ہے) نسائی کہتے ہیں: خالفہم سلم ۃ بن کہیل سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
It was narrated from a man from Hadramawt, that Zaid bin Arqam (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Ali (RA) to (be the governor of) Yemen, and a child was brought to him concerning whom three men were disputing." Then he quoted the same Hadith. Salamah bin Kuhail contradicted them.