اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے یہ حدیث مرسلاً (یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔
Ahmad bin Sulaiman informed us, he said: "Yahya bin Adam narrated to us, he said: "Malik narrated to us from Zubaid, from Dharr, from Ibn Abza."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1738
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے۔
Ata bin As-Saib reported from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza from his father: That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1739
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے پھر جب فارغ ہوجاتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے۔
Muhammad bin Bashshar informed us, he said: "Abu Dawud narrated to us from Shubah, from Qatadah, who said: I heard Azarah narrating from Saeed bin Abdur-Rahman Ibn Abza, from his father That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One. And when he had finished praying, he said: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1740
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوجاتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے، اور تیسری مرتبہ کھینچ کر کہتے۔
Ishaq bin Mansur informed us, he said: "Abu Dawud narrated to us, he said: Shuba narrated to us, from Qatadah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One. And when he said the taslim, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating his words the third time."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1741
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى پڑھتے تھے۔ شبابہ نے ان دونوں کی یعنی محمد کی اور ابوداؤد کی مخالفت کی ہے ١ ؎ انہوں نے اسے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے زرارہ بن اوفی سے، اور زرارہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے۔
Muhammad bin Al-Muthanna informed us, he said "Muhammad said: Shubah narrated to us, he said: I heard Qatadah narrating from Zurarah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1742
Notes · وضاحت
١ ؎: شبابہ نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کی جگہ عمران بن حصین ؓ کا ذکر کیا ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وتر میں سبح اسم ربک الأعلى پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس حدیث میں شبابہ کی متابعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے ان کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
(With that chain) from Imran bin Husain that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) recited in Witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1743
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخالفت متن حدیث میں ہے جیسا کہ اگلی روایت سے ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٦) (صحیح بما قبلہ) (عمران بن حصین ؓ کی روایت سے صحیح ہے، واقعہ وہ ہے جس کا تذکرہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، ایسے وتر میں مذکورہ سورت کا پڑھنا دیگر روایات سے ثابت ہے )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: سبح اسم ربک الأعلى کس نے پڑھی ہے؟ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ١ ؎۔
Muhammad bin Al-Muthanna informed us, he said: "Yahya bin Saeed narrated to us from Shubah, from Qatadah, from Zurarah, from Imran bin Husain, who said The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed Zuhr, and a man recited Glorify the Name of your Lord, the Most High. When he finished praying, he said: Who recited: Glorify the Name of Your Lord, the Most High? A man said: I did. He said: I knew that someone was competing with me in it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1744
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں الگ الگ حدیثیں ہیں گو دونوں کی سند ایک ہے، اس طرح کی مخالفت ضرر رساں نہیں واللہ اعلم۔
حسن ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی کی قنوت میں کہتا ہوں، وہ یہ ہیں: اللہم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت و بارک لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تبارکت ربنا وتعاليت اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے ۔
It was narrated that Abu Al-Jawza said: "Al-Hasan said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) taught me some words to say in witr in Qunut: Allahumma ihdini fiman hadayta wa afini fiman afayta wa tawallani fiman tawallayta wa barik li fima atayta, wa qini sharra ma qadayta, fa innaka taqdi wa la yuqda alayk, wa innahu la yadhillu man walayta, tabarakta Rabbana wa atalayt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1745
حسن بن علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: اللہم اهدني فيمن هديت و بارک لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنک تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تبارکت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد۔
It was narrated that Al-Hasan bin Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) taught me these words in witr. He said: Say: Allahumma ihdini fiman hadayta wa afini fiman afayta wa tawallani fiman tawallayta wa barik li fima atayta, wa qini sharra ma qadayta, fa innaka taqdi wa la yuqda alayk, wa innahu la yadhilluman walayta, tabarakta Rabbana wa atalayt. Wa salla Allahu ala al-Nabi Muhammad.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1746
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (لیکن ” و صلی اللہ …کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ” عبداللہ بن علی زین العابدین “ لین الحدیث ہیں، اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: اللہم إني أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔
It was narrated from Ali bin Abi Talib that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say at the end of witr: Allahumma inni audhu bi ridaka min sakhatika wa bi muafatika min uqubatika, wa audhu bika minka la uhsi thanaan alayka, anta kama athwart ala nafsik ( O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath and in Your forgiveness from Your punishment. And I seek refuge in You from You; I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself.)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1747
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس ؓ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would not raise his hands in any of his supplications except when praying for rain (Al-Istisqa)." (One of the narrators) Shubah said: "I said to Thabit: Did you hear it from Anas? He said: Subhan Allah! I said: Did you hear it? He said: Subhan Allah!
صحيح ق دون قوله قال شعبةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1748
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے لے کر فجر ہونے تک فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتوں کے بقدر پڑھ لے۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven rakahs at night between finishing Isha prayer and Fajr, apart from the two rakahs of Fajr, and he would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1749
Notes · وضاحت
مؤلف نے اس سجدہ سے تہجد (مع وتر) کے سجدوں کے علاوہ سلام کے بعد ایک مستقل سجدہ سمجھا ہے، حالانکہ اس سے مراد تہجد کے سجدے ہیں، آپ یہ سجدے پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر لمبا کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد سبحان الملک القدوس تین بار کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: "Glorify the Name of Your Lord, the Most High; and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One." And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) raising his voice the third time."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1750
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد سبحان الملک القدوس تین بار کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابونعیم نے ان دونوں کی یعنی قاسم اور محمد بن عبید کی مخالفت کی ہے، چناچہ انہوں نے اسے سفیان سے، اور سفیان نے زبید سے، زبید نے ذر سے، اور ذر نے سعید بن عبدالرحمٰن ابزیٰ سے روایت کیا ہے، (یعنی سند میں ایک راوی ذر کا اضافہ کیا ہے) ۔
It was narrated from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza that: His father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High; and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One." And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1751
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو سبحان الملک القدوس تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، (جریر کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High; and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One." And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1752
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے، اور تیسری بار میں آواز کھینچتے اور بلند کرتے۔
It was narrated from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High; and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One." And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating the words the third time, then raising it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1753
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوتے تو سبحان الملک القدوس کہتے۔ ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا، ان کی روایت آگے آرہی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High; and "Say: O you disbelievers!; and Say: He is Allah, (the) One." And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1754
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ تیرہ رکعت پڑھتے تھے، نو رکعت کھڑے ہو کر، اس میں وتر بھی ہوتی اور دو رکعت بیٹھ کر، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے، اور رکوع اور سجدہ کرتے، اور ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب آپ فجر کی اذان سنتے تو کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that : He asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at night. She said: "He used to pray thirteen rakahs: nine rakahs standing, one of which was witr, and two rakahs sitting. When he wanted to bow he would stand up, and bow and prostrate, and he did that after witr. Then when he heard the call for Subh, he stood up and prayed two brief rakahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1756
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Aishah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would not omit four rakahs before Zuhr and two rakahs before Fajr.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1757