آداب اور اجازت لینے کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 39 · 185 hadiths · Page 5 of 9

2768Sunan At-Tirmidhi

پیٹ کے بل لیٹنے کی کراہت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضَجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ طِهْفَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْيَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ، عَنْ أبيهِ، وَيُقَالُ طِخْفَةُ وَالصَّحِيحُ طِهْفَةُ، وَقَالَ بَعْضُ الْحُفَّاظِ، الصَّحِيحُ طِخْفَةُ، وَيُقَالُ طِغْفَةُ، يَعِيشُ هُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ saw a man lying on his belly. He said, “This is a way of sleeping that,Allah does not like.” [Ahmed 7867]

حسن صحيح، المشکاة (4718 و 4719)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے اور ابوسلمہ نے یعیش بن طہفہ کے واسطہ سے ان کے باپ طہفہ سے روایت کی ہے، انہیں طخفہ بھی کہا جاتا ہے، لیکن صحیح طہفہ ہی ہے۔ اور بعض حفاظ کہتے ہیں: طخفہ صحیح ہے۔ اور انہیں طغفہ اور یعیش بھی کہا جاتا ہے۔ اور وہ صحابہ میں سے ہیں، ٢ - اس باب میں طہفہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٤١ و ١٥٠٥٤) وانظر مسند احمد (٢/٣٠٤) (حسن صحیح )
2769Sunan At-Tirmidhi

ستر کی حفاظ کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ، قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ، قُلْتُ: وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا ؟ قَالَ: فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ، وَقَدْ رَوَى الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ.

معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں؟ آپ نے فرمایا: اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ، انہوں نے کہا: آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے ، میں نے کہا: آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔

Bahz ibn Hakim reported from his father, from his grandfather that he Said, “O Messenger of Allah ﷺ , from whom should we conceal that portion of our body that has to be concealed and from whom may we not conceal it?” He said, “Conceal it from everyone except your wife and female slave.” He submitted, “What if a man is with another man?” He said, as possible guard your satr that no one may see it.” He submitted, “What if a man is to himself?” He said, “Allah is more deserving that you show modesty to Him.” [Abu Dawud 4017, Ahmed 20054]

حسن، ابن ماجة (1920)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2769
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے۔ ٣ - اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطھارة ٩٩ (تعلیقا في الباب) سنن ابی داود/ الحمام ٣ (٤٠١٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٨ (١٩٢٠)، ویأتي برقم ٢٧٩٤) (تحفة الأشراف: ١١٣٨٠) (حسن )
2770Sunan At-Tirmidhi

تکیہ لگانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى يَسَارِهِ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بائیں جانب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported, saying, “I saw Allah’s Messenger ﷺ recilne on a pillow to his left side.”

صحيح مختصر الشمائل (104)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو کئی اور نے بطریق: «إسرائيل عن سماک عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے، (اس میں ہے) وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٤٥ (٤١٤٣) (تحفة الأشراف: ٢١٣٨) (صحیح )
2771Sunan At-Tirmidhi

تکیہ لگانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔

Yusuf Eesa also reported from Waki from Isra’il, from Simak ibn Harb from Jabir ibn Samurah (RA) who said (in a marfu manner), “I saw the Prophet ﷺ reclining on a pillow.” [Ahmed 2130,Abu Dawud 4143]

صحيح انظر ما قبله (2770)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2772Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کے حدود اقتدار و اختیار میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہیں کرائی جاسکتی، اور نہ ہی کسی شخص کے گھر میں اس کی خاص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جاسکتا ہے ۔

Sayyidina Abu Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man is not led (in prayer) within his own dominion, and his seat is not occupied in his home without his permission.” [Muslim 674, Nisai 779, Ibn e Majah 980, Ahmed 7091]

صحيح، الإرواء (494)، صحيح أبي داود (594)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٣٥ (صحیح )
2773Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سواری کا مالک اس پر آگے بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ، وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي، قَالَ: قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ قَالَ: فَرَكِبَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہوجائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ پھر آپ اس پر سوار ہوگئے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Buraida (RA) reported that while the Prophet ﷺ was going on foot, a man came with his donkey. He said, “O Messenger of Allah ﷺ come ride and he moved behind (making space for the Prophet ﷺ in front) But, he said, “No You have more right over the main seat on your animal unless you give the right to me.” He said, “I have given you the right to it.” So, he mounted it. [Ahmed 23053,Abu Dawud 2572]

صحيح، المشکاة (3918)، الإرواء (2 / 257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کس قدر متواضع تھی، آپ کسی دوسرے کے حق کو لینا پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ وہ خود آپ کو یہ حق دینے پر راضی نہ ہوجاتا، یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کی شخصیت میں ہمیشہ انصاف پسندی اور حق کا اظہار شامل تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ٦٥ (٢٥٧٢) (تحفة الأشراف: ١٩٦١) (صحیح )
2774Sunan At-Tirmidhi

انماط (یعنی قالین) کے استعمال کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ؟ قُلْتُ: وَأَنَّى تَكُونُ لَنَا أَنْمَاطٌ ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ، قَالَ: فَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ، قَالَ: فَأَدَعُهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس «انماط» (غالیچے) ہیں؟ میں نے کہا: غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے پاس عنقریب «انماط» (غالیچے) ہوں گے ۔ (تو اب وہ زمانہ آگیا ہے) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» (غالیچے) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کرجاتا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir said that Allah’s Messenger ﷺ asked him, “Do you have an anmat”? He submitted “And, how will I have an anmat”? He said, “Indeed soon you people will have anmat” Jabir said that (soon) he used to say to his wife “Draw away from me your anmat.” She would say ask, “Did not Allah’s Messenger ﷺ say to you, ‘You people will soon have anmat?”” He said, “I would then let her alone.” [Bukhari 5161,Muslim 2083,Abu Dawud 4145,Nisai 3386]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ نے جو پیشین گوئی کی تھی کہ مسلمان مالدار ہوجائیں گے، اور عیش و عشرت کی ساری چیزیں انہیں میسر ہوں گی بحمد اللہ آج مسلمان آپ کی اس پیشین گوئی سے پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں، اس حدیث سے غالیچے رکھنے کی اجازت کا پتا چلتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٣١)، واللباس ٦٢ (٥١٦١)، صحیح مسلم/اللباس ٧ (٢٠٨٣)، سنن ابی داود/ اللباس ٤٥ (٤١٤٥)، سنن النسائی/النکاح ٨٣ (٣٣٨٨) (تحفة الأشراف: ٣٠٢٣) (صحیح )
2775Sunan At-Tirmidhi

ایک جانور پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْجُرَشِيُّ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقَدْ قُدْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، حَتَّى أَدْخَلْتُهُ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامُهُ وَهَذَا خَلْفُهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے شہباء نامی خچر کو جس پر آپ، اور حسن و حسین سوار تھے۔ آپ ﷺ کے حجرہ کے پاس (صحن میں) لیتا چلا گیا، یہ (حسن) آپ کے آگے اور وہ (حسین) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Salamah (RA) narrated: I pulled the mule Shahba with the Prophet ﷺ Hasan and Husayn on it till I brought it into the room of the Prophet, the one sitting in font of him and the otherbehind him.

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس میں ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ ایک سواری پر تین آدمیوں کے بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ حسن اور حسین ؓ کے ساتھ ایک ہی سواری پر بیٹھے، منع کی صورت اس حالت سے متعلق ہے جب سواری کمزور ہو اور اگر طاقتور ہے تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٨ (٢٤٢٣) (تحفة الأشراف: ٥١٨) (صحیح )
2776Sunan At-Tirmidhi

اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑجانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنی نگاہ پھیرلیا کرو ١ ؎۔

Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about a sudden gaze. He commanded him to turn away his sight. [Ahmed 19218,Muslim 2159,Abu Dawud 21481

صحيح حجاب المرأة (35)، صحيح أبي داود (1864)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2776
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیرلیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأدب ١٠ (٢١٥٩)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٤٨) (تحفة الأشراف: ٣٢٣٧)، و مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١)، وسنن الدارمی/الاستئذان ١٥ (٢٦٨٥) (صحیح )
2777Sunan At-Tirmidhi

اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ: يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف) نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Buraida (RA) reported in a marfu form that the Prophet ﷺ said, “O Ali! Do not follow a gaze with another gaze, for, the first is forgiven you, but not the second.” [Ahmed 2335,Abu Dawud 2149]

حسن الحجاب (34)، صحيح أبي داود (1865)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2777
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر اچانک پہلی مرتبہ تمہاری نگاہ کسی پر پڑگئی تو یہ معاف ہے، لیکن تمہارا دوبارہ دیکھنا قابل گرفت ہوگا (اور پہلی والی بھی فوراً ہٹا لینی ہوگی)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٤٩) (تحفة الأشراف: ٢٠٠٧) (حسن )
2778Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کا مردوں سے پردہ کرنا

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّأُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَيْمُونَةَ، قَالَتْ: فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں اور میمونہ ؓ بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟ ١ ؎۔

SayyidinaUmm Salmah (RA) narrated I and Maymunah were seated with Allah’s Messnger ﷺ while we were with him, lbn Umm Maktum came to him. This happened after the command to observe the veil was revealed. So, Allah’s Messenger ﷺ commanded us to observe it from him. I pleaded. “O Messenger of Allah ﷺ is he not blind. He will neither see us not recognise us.” He Asked, “Are both of you blind? Can you not see him?” [Ahmed 16599,Abu Dawud 4112] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (3116)، الإرواء (1806) //، ضعيف أبي داود (887 / 4112) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2778
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فتنہ کو اپنا سر ابھارنے کے لیے مرد و عورت میں سے کسی کا بھی ایک دوسرے کو دیکھنا کافی ہوگا، اب جب کہ تم دونوں انہیں دیکھ رہی ہو اس لیے فتنہ سے بچنے کے لے پردہ ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٣٧ (٤١١٢) (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٢)، و مسند احمد (٦/٢٩٦) (ضعیف) (سند میں ” نبھان “ مجہول راوی ہے، نیز یہ حدیث عائشہ ؓ کی حدیث ” میں حبشی لوگوں کا کھیل دیکھتی رہی … “ کے مخالف ہے، الإرواء ١٨٠٦ )
2779Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ عورتوں کے ہاں ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر جانا منع ہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَأُذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، سَأَلَ الْمَوْلَىعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن العاص ؓ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص ؓ نے انہیں علی ؓ کے پاس (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس ١ ؎ سے ملاقات کی اجازت مانگنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے اجازت دے دی، پھر جب وہ جس ضرورت سے گئے تھے اس سے کہہ سن کر فارغ ہوئے تو ان کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) نے ان سے (اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عورتوں کے پاس ان کے شوہروں سے اجازت لیے بغیر جانے سے منع فرمایا ہے ٢ ؎۔

Dhakwan reported from the freedman of Sayyidina Amr ibn al-Aas ‘ that Amr sent him to SayyidinaAli (RA) that he might seek his permission for him to visit Sayyidah Asma bint Umays. He gave him permission. When he had achieved his purpose the freedman of Amr ibn al-Aas asked him about it. He said, “The Prophet ﷺ had disallowed us to visit women without permission of their husbands.” [Ahmed 17776]

صحيح آداب الزفاف (176 - 177)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2779
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عقبہ بن عامر، عبداللہ بن عمرو اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے یہ جعفر طیار کی بیوی تھیں، پھر ان سے ابوبکر ؓ نے شادی کی، ان کے بعد ان سے علی ؓ نے شادی کی۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس کسی شرعی ضرورت کی تکمیل کے لیے اس وقت جانا جائز ہوگا جب اس کے شوہر سے اجازت لے لی گئی ہو، اجازت کے بغیر اس کے پاس جانا جائز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٢) (صحیح) (سند میں مولی عمرو بن العاص مبہم راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2780Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کے فتنے سے بچنے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ،وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِي النَّاسِ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ: عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ الْمُعْتَمِرِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

اسامہ بن زید اور سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ١ ؎۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) and Sa’eed ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl reported that the Prophet ﷺ said, “I do not leave behind me any trial more injurous to man than (the trial) through women.” [Ahmed 21805,Bukhari 5096,Muslim 2741, Ibn e Majah 3998]

صحيح، الصحيحة (2701) صحيح، الصحيحة (2701)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2780 ابن عمر ؓ نے بسند «سفيان عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی ثقہ لوگوں نے بطریق: «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اس سند میں «عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل» کا ذکر نہیں کیا، ٣ - ہم معتمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے «عن أسامة بن زيد وسعيد بن زيد» (ایک ساتھ) کہا ہو، ٤ - اس باب میں ابوسعید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مرد عورتوں کے حسن و عشق کا شکار ہو کر اپنا دین و دنیا سب تباہ اور حکومت و اقتدار سب گنوا بیٹھتے ہیں۔ اسی فتنے کو استعمال کر کے عیسائیوں اور یہودیوں نے ملت کو پارہ پارہ کردیا اور مسلمانوں کو غلام اور زیرنگیں کرلیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٨ (٥٠٩٦)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٤٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٣٩٩٨) (تحفة الأشراف: ٩٩، و ٤٤٦٢)، و مسند احمد (٥/٢٠٠) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )
2781Sunan At-Tirmidhi

بالوں کا گچھا بنانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَبِالْمَدِينَةِ يَخْطُبُ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ هَذِهِ الْقُصَّةِ وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ.

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو مدینہ میں خطبہ کے دوران کہتے ہوئے سنا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان زائد بالوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور آپ کہتے تھے: جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اسے اپنا لیا تو وہ ہلاک ہوگئے ١ ؎۔

Hmayd ibn Abdur Rahman (RA) narrated: I heard Mu’awiyah deliver a sermon in Madinah. He said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ disallow this qussah (false hair), saying, “The Banu Israil were destroyed when their women took it up.” [Bukhari 3488, Muslim 2127,Abu Dawud 4167,Nisai 5245]

صحيح غاية المرام (100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے معاویہ ؓ سے روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مزید بال لگا کر بڑی چوٹی بنانا یہ فتنہ کا باعث ہے، ساتھ ہی یہ زانیہ و فاسقہ عورتوں کا شعار بھی ہے، بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب یہ شعار اپنایا تو لوگ بدکاریوں میں مبتلا ہوگئے، اور نتیجۃ ہلاک و برباد ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٥٤ (٣٤٦٨)، واللباس ٨٣ (٥٩٣٢)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٧)، سنن ابی داود/ الترجل ٥ (٤١٦٧)، سنن النسائی/الزینة ٢١ (٥٠٩٥)، و ٦٨ (٥٢٤٩-٥٢٥٠) (تحفة الأشراف: ١١٤٠٧)، وط/الشعر ١ (٢)، و مسند احمد (٤/٩٥، ٩٨) (صحیح )
2782Sunan At-Tirmidhi

بال گودنے والی، گدوانے والی اور بالوں کو جوڑنے والیوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، مُبْتَغِيَاتٍ لِلْحُسْنِ مُغَيِّرَاتٍ خَلْقَ اللَّهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ مَنْصُورٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے گودنا گودنے والی اور گودنا گدوانے والیوں پر اور حسن میں اضافے کی خاطر چہرے سے بال اکھاڑنے والی اور اکھیڑوانے والیوں پر اور اللہ کی بناوٹ (تخلیق) میں تبدیلیاں کرنے والیوں پر۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ cursed women who practice tattooing and the women who have themselves tattooed and the women who remove hair from their eyelashes to look beautiful, the women who alter Allah’s creation. [Ahmed 4129,Bukhari 4886, Muslim 2125,Nisai 5114,Abu Dawud 4169]

صحيح آداب الزفاف (113 - 114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2782
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو شعبہ اور کئی دوسرے ائمہ نے بھی منصور سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الحشر ٤ (٤٨٨٦)، واللباس ٨٢ (٥٩٣١)، ٨٤ (٥٩٣٩)، و ٨٥ (٥٩٤٣)، و ٨٦ (٥٩٤٤)، و ٨٧ (٥٩٤٨)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٥)، سنن ابی داود/ الترجل ٥ (٤١٦٩)، سنن النسائی/الزینة ٢٤ (٥١٠٢)، و ٢٦ (٥١١٠)، ٧٢ (٥٢٥٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٩٨٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٥٠)، و مسند احمد (١/٤٠٩، ٤١٥، ٤٣٤، ٤٤٨، ٤٥٤، ٤٦٢، ٤٦٥) (صحیح )
2783Sunan At-Tirmidhi

بال گودنے والی، گدوانے والی اور بالوں کو جوڑنے والیوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، قَالَ نَافِعٌ: الْوَشْمُ فِي اللِّثَةِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ،.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو بالوں کو جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی پر اور گودنا گودنے اور گودنا گودوانے والی پر ، نافع کہتے ہیں: گودائی مسوڑھے میں ہوتی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said that Allah has cursed women who add false hair, women who have false hair added, women who tattoo and who have themselves tottooed. Nafi said, “Tattooing is on the gums.” [Ahmed 4724,Bukhari 5937,Muslim 2124,Nisai 5111,Abu Dawud 4168, Ibn e Majah 1987] --------------------------------------------------------------------------------

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، معقل بن یسار، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
2784Sunan At-Tirmidhi

مردوں کے مشابہ بننے والی عورتوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ cursed women who take up resemblanse to men and men who adopt resemblance of women. [Ahmed 3151,Bukhari 5885,Abu Dawud 4097, Ibn e Majah 1904] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1904)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2784
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو مرد عورتوں کی طرح اور عورتیں مردوں کی طرح وضع قطع اور بات چیت کا لہجہ اور انداز اختیار کرتی ہیں، ان پر لعنت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2785Sunan At-Tirmidhi

مردوں کے مشابہ بننے والی عورتوں کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی زنانے (مخنث) مردوں پر، اور مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں پر۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ cursed men who try to resemble women and women who try to resumble men. [Ahmed 2291]

صحيح انظر الذی قبله (2784)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٥١ (٥٨٨٥)، سنن ابی داود/ اللباس ٣١ (٤٠٩٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٢ (١٩٠٤) (تحفة الأشراف: ٦١٨٨)، و مسند احمد (١/٢٥١، ٣٣٠)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٢١ (٢٦٩١) (صحیح )
2786Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ عورت کا خوشبو لگا کر نکلنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالْمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا يَعْنِي زَانِيَةً ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Every eye is adulterous. A woman who applies fragrance and passes by an assembly (of men) is such and such meaning an adulteress.” [Ahmed 19530]

حسن تخريج إيمان أبى عبيد (96 / 110)، تخريج المشکاة (65)، حجاب المرأة (64)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2786
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر آنکھ زنا کار ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ آنکھ جو کسی اجنبی عورت کی طرف شہوت سے دیکھے وہ زانیہ ہے، اور خوشبو لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرنے والی عورت اس لیے زانیہ ہے کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا سبب بنی ہے، اس لیے وہ برابر کی شریک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الترجل ٧ (٤١٧٣)، سنن النسائی/الزینة ٣٥ (٥١٢٩) (تحفة الأشراف: ٩٠٢٣) (حسن )
2787Sunan At-Tirmidhi

مردوں اور عورتوں کی خوشبو کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “The scent of men is strong in its odour but light in its colour while the scent of women is strong in its colour but light in its smell.”

صحيح، المشکاة (4443)، مختصر الشمائل (188)، الرد علی الکتانی ص (11)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ مرد ایسی خوشبو لگائیں جس میں بو ہو اور رنگ نہ ہو، جیسے عطر اور عود وغیرہ، اور عورتیں ایسی چیزوں کا استعمال کریں جس میں رنگ ہو خوشبو نہ ہو مثلاً زعفران اور مہندی وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٥٠ (٢١٧٤)، سنن النسائی/الزینة ٣٢ (٥١٢٠، ٥١٢١) (تحفة الأشراف: ١٥٨٦)، و مسند احمد (٢/٥٤١) (حسن) (سند میں ” رجل “ مبہم راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو صحیح الترغیب رقم: ٤٠٢٤ )