ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Ayyub rreported Allah’s Messenger as saying, “Four things are from the sunnah of the Prophets ﷺ modesty, perfume, siwak and marriage”. [Ahmed 23641]
ضعيف، المشکاة (382)، الإرواء (75)، الرد علی الکتاني ص (12) // ضعيف الجامع الصغير (760) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1080
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوایوب انصاری ؓ کی حدیث حسن غریب ہے -
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رسولوں نے خود اسے کیا ہے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی ہے، رسولوں کی سنت اسے تغلیباً کہا گیا ہے کیونکہ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں بعض رسولوں نے نہیں کیا ہے مثلاً نوح (علیہ السلام) نے ختنہ نہیں کرایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے شادی نہیں کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٣٤٩٩)، وانظر: مسند احمد (٥/٤٢١) (ضعیف) (سند میں ابو الشمال مجہول راوی ہیں، لیکن اس حدیث کے معنی کی تائید دیگر طرق سے موجود ہے)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس (شادی وغیرہ امور میں سے) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ١ ؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) narrated : We went out with Allah’s Messenger ﷺ while we were young men and we were unable to do anything (that is, not even afford marriage). He said, “O Group of young men! It is incumbent that you marry for it protects the eye and the private parts. So, he among you who cannot marry, let him fast, for, fasting dries up (lust)”. [Ahmed 4023, Bukhari 1905, Muslim 1400, Abu Dawud 2046, Nisai 3206, Ibn e Majah 1845]
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے ١ ؎۔
Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas reported : Allah’s Messenger denied Uthman ibn Maz’un permission to observe celibacy. If he had permitted him, then, indeed, we would have had ourselves castrated. [Ahmed 1516, Muslim 1402, Bukhari 5073, Nisai 3209, Ibn e Majah 1848]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1083
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم اپنے آپ کو ایسا کرلیتے کہ ہمیں عورتوں کی خواہش رہ ہی نہیں جاتی تاکہ شادی بیاہ کے مراسم سے الگ تھلگ رہ کر ہم صرف اللہ کی عبادت میں مشغول رہ سکیں۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بےشادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Samurah reported that the Prophet ﷺ disallowed celibacy. [Nisai 3211, Ibn e Majah 18491
صحيح بما قبله (1081)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1082
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ٢ ؎ ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے انہیں بیویاں عطا کیں اور اولادیں پڑھی ٣ ؎۔
١- سمرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق: «الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ٣- کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں، ٤- اس باب میں سعد، انس بن مالک، عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «تبتل» کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اور ازدواجی تعلق سے کنارہ کش رہنے کے ہیں۔ ٢ ؎: الرعد: ٣٨۔ ٣ ؎: آیت میں «ازواجاً» سے رہبانیت اور «ذریّۃ» سے خاندانی منصوبہ بندی ( فیملی پلاننگ ) کی تردید ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٤ (٣٢١٦) سنن ابن ماجہ/النکاح ٢ (١٨٤٩) (تحفة الأشراف: ٤٥٩٠) مسند احمد (٥/١٧) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a man proposes marriage and you are pleased with his religion and his character then marry (your daughter) to him. If you do not do it then there would be mischief on earth and much corruption”. [Ibn e Majah 1967]
١- ابوہریرہ ؓ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے، اسے لیث بن سعد نے بطریق: «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً (من قطعاً ) روایت کی ہے (یعنی: ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے) ، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ (قریب تر) ہے، انہوں (بخاری) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، ٣- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٦ (١٩٦٧) (حسن صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلیمان میں کچھ کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے الإ رواء رقم: ١٨٦٨، الصحیحة ١٠٢٢)
ابوحاتم مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص (نکاح کا پیغام لے کر) آئے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد برپا ہوگا ١ ؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس میں کچھ ہو؟ آپ نے تین بار یہی فرمایا: جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hatim Muzani narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “When a man with whose religion and character you are satisfied comes to you, marry him. Unless you do it, there would be mischief on earth, and corruption”. They asked, “O Messenger of Allah ﷺ even though he has nothing?” He reported, “When comes to you one with whose religion and character you are pleased, marry him”. He repeated these words three times.
حسن بما قبله (1084)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1085
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوحاتم مزنی کو شرف صحبت حاصل ہے، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اگر تم صرف مال یا جاہ والے شخص ہی سے شادی کرو گے تو بہت سے مرد بغیر بیوی کے اور بہت سی عورتیں بغیر شوہر کے رہ جائیں گی جس سے زنا اور حرام کاری عام ہوگی اور ولی کو عار و ندامت کا سامنا کرنا ہوگا جو فتنہ و فساد کے بھڑکنے کا باعث ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ المراسل (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے رواة ” محمد “ اور ” سعید “ دونوں مجہول ہیں، دیکھئے: اوپر کی حدیث ابی ہریرہ)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت سے نکاح اس کی دین داری، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے ١ ؎ لیکن تو دیندار (عورت) سے نکاح کو لازم پکڑ لو ٢ ؎ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ٣ ؎۔
Sayyidna Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A woman is married for her religion, her wealth or her beauty. So, it is upon you that you pick one for religion may your hands be dusty”. [Ahmed 14310, Muslim 715, Nisai 3223, Ibn e Majah 1860] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1086
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عوف بن مالک، ام المؤمنین عائشہ ؓ، عبداللہ بن عمرو، اور ابو سعید خدری ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری و مسلم کی روایت میں چار چیزوں کا ذکر ہے، چوتھی چیز اس کا حسب نسب اور خاندانی شرافت ہے۔ ٢ ؎: یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دیندار عورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن، شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گود میں جو نسل پروان چڑھتی وہ بھی صالح اور دیندار ہوتی ہے، اس کے برعکس باقی تین قسم کی عورتیں عموماً انسان کے لیے زحمت اور اولاد کے لیے بھی بگاڑ کا باعث ہوتی ہیں۔ ٣ ؎: یہاں بد دعا مراد نہیں بلکہ شادی کے لیے جدوجہد اور سعی و کوشش پر ابھارنا مقصود ہے۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے دیکھ لو ١ ؎۔
Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah (RA) said that he proposed to a woman. So, the Prophet ﷺ said to him, “Look at her. That would strengthen your love for one another”. [Ahmed 18160, Nisai 3232, Ibn e Majah 1865] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1865)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1087
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں محمد بن مسلمہ، جابر، ابوحمید اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں: اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جب وہ اس کی کوئی ایسی چیز نہ دیکھے جس کا دیکھنا حرام ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- اور «أحری أن يؤدم بينكما» کے معنی یہ ہیں کہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، اگر کوئی کسی قابل اعتماد رشتہ دار عورت کو بھیج کر عورت کے رنگ و روپ اور عادات وخصائل کا پتہ لگالے تو یہ بھی ٹھیک ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام سلیم ؓ کو بھیج کر ایک عورت کے متعلق معلومات حاصل کی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ١٧ (٢٢٣٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٩ (١٨٦٦)، (بزیادة في السیاق) ( تحفة الأشراف: ١١٤٨٩)، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح)
محمد بن حاطب جمحی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حرام اور حلال (نکاح) کے درمیان فرق صرف دف بجانے اور اعلان کرنے کا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Muhammad ibn Hatib al-Jumahi (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The division between the lawful and the unlawful lies in the daff (tambourine) and the voice” (which is the announcement). [Ahmed 15451, Nisai 3366, Ibn e Majah 1896]
حسن، ابن ماجة (1896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1088
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- محمد بن حاطب کی حدیث حسن ہے، ٢- محمد بن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، لیکن وہ کم سن بچے تھے، ٣- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ ؓ، جابر اور ربیع بنت معوذ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح اعلانیہ کیا جانا چاہیئے، خفیہ طور پر چوری چھپے نہیں، اس لیے کہ اعلانیہ نکاح کرنے پر کسی کو میاں بیوی کے تعلقات پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ عموماً یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ غلط نکاح ہی چھپ کر کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٧٢ (٣٣٧٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٠ (١٨٩٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٢١)، مسند احمد (٣/٤١٨) (حسن)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ۔
Sayyidah Ayshah narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Publicise these marriages, conduct them in mosques, and beat the dufuf (tambourines) to announce them”.
ضعيف إلا الإعلان، ابن ماجة (1895) // ضعيف ابن ماجة (416)، صحيح ابن ماجة (1537)، الإرواء (1993)، آداب الزفاف الصفحة (111) الطبعة المزيدة والمهذبة، طبع المکتب الإسلامي، ضعيف الجامع الصغير (966) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1089
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں یہ حدیث غریب حسن ہے، ٢- عیسیٰ بن میمون انصاری حدیث میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، ٣- عیسیٰ بن میمون جو ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرتے ہیں، ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٤٧) (ضعیف) (سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف ہیں مگر اعلان والا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے)
ربیع بنت معوذ ؓ کہتی ہیں کہ جس رات میری شادی اس کی صبح رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ میرے بستر پر ایسے ہی بیٹھے، جیسے تم (خالد بن ذکوان) میرے پاس بیٹھے ہو۔ اور چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا رہی تھیں اور جو ہمارے باپ دادا میں سے جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ گا رہی تھیں، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان ایک نبی ہے جو ان چیزوں کو جانتا ہے جو کل ہوں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: یہ نہ کہہ۔ وہی کہہ جو پہلے کہہ رہی تھی ۔
Sayyidah Rubbayyi bint Mu’awwiz ibn Afra (RA)narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to me on the morning after my nuptuals. He sat down on my bed just as you are now sitting with me while our female slaves were playing the daff and recited eulogies about our ancestors who were martyred at Badr till one of them recited: And among us is the Prophet ﷺ who knows about the monow. So, he said to her, “Observe silence from that, but say that which you had been saying before this”. [Ahmed 27089, Bukhari 4001, Abu Dawud 4922, Ibn e Majah 1897]
صحيح الآداب (94)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1090
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شادی کرنے پر جب کسی کو مبارک باد دیتے تو فرماتے: «بارک اللہ لک وبارک عليك وجمع بينكما في الخير» اللہ تجھے برکت عطا کرے، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع کرے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when a man married, the Prophet ﷺ would say to him, “May Allah bless you and bless it for you and may He join you with goodness!” [Ahmed 8965, Abu Dawud 2130, Ibn e Majah 1905] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2905)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1091
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی اس سے صحبت کرنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم اللہ اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے، اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ جو تو ہمیں عطا کرے یعنی ہماری اولاد کو ، تو اگر اللہ نے ان کے درمیان اولاد دینے کا فیصلہ کیا ہوگا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger Th said, “When one of you approaches his wife, he must say: In the name of Allah! O Allah! Cause us to keep away from the devil and keep the devil off from what you provide us. Then if Allah has decreed a child for them, the devil will not harm him”. [Ahmed 1908, Bukhari 5165, Muslim 1434, Abu Dawud 2161, Ibn e Majah 1919] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1919)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1092
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شوال میں مجھ سے شادی کی اور شوال ہی میں میرے ساتھ آپ نے شب زفاف منائی، عائشہ ؓ اپنے خاندان کی عورتوں کی رخصتی شوال میں کی جانے کو مستحب سمجھتی تھیں۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “Allah’s Messenger married me in Shawwal and consumated his marriage with me in Shawwal”. Hence she liked for her friends to get married in Shawwal. [Muslim 1423, Nisai 3233, Ibn e Majah 1995] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1990)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1093
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے ہم صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ثوری اسماعیل بن امیہ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١١ (١٤٢٣)، سنن النسائی/النکاح ١٨ (٣٢٣٨)، و ٧٧ (٣٣٧٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٣ (١٩٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٥٥)، مسند احمد (٦/٥٤، ٢٠٦)، سنن الدارمی/النکاح ٢٨ (٢٢٥٧) (صحیح)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کرلی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ١ ؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو ٢ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik narrated Allah’s Messenger observed the trace of yellow on Abdur Rahman ibn Awf (RA) and asked, “What is it?” He said, “I have married a woman for the weight of nawah in gold”. He said, “May Allah bless you. Give a wedding feast, even with a sheep only”. [Ahmed 13369, Bukhari 5155, Nisai 3370, Muslim 1427, Ibn e Majah 1907]
صحيح، ابن ماجة (1907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1094
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، جابر اور زہیر بن عثمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- احمد بن حنبل کہتے ہیں: گٹھلی بھر سونے کا وزن تین درہم اور تہائی درہم وزن کے برابر ہوتا ہے، ٤- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: پانچ درہم اور تہائی درہم کے وزن کے برابر ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «أولم ولو بشأة» میں «لو» تقلیل کے لیے آیا ہے یعنی کم از کم ایک بکری ذبح کرو، لیکن نبی اکرم ﷺ نے صفیہ کے ولیمہ میں صرف ستو اور کھجور پر اکتفا کیا، اس لیے مستحب یہ ہے کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے حسب حال ہو، عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی مالی حالت کے پیش نظر ایک بکری کا ولیمہ کم تھا اسی لیے آپ نے ان سے «أولم ولو بشأة» فرمایا۔ ٢ ؎: شادی بیاہ کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ کہتے ہیں، یہ «ولم» (واؤ کے فتحہ اور لام کے سکون کے ساتھ ) سے مشتق ہے جس کے معنی اکٹھا اور جمع ہونے کے ہیں، چونکہ میاں بیوی اکٹھا ہوتے ہیں اس لیے اس کو ولیمہ کہتے ہیں، ولیمہ کا صحیح وقت خلوت صحیحہ کے بعد ہے جمہور کے نزدیک ولیمہ سنت ہے اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صفیہ بنت حیی کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reportedthat the Prophet ﷺ gave a wedding-feast for (his marriage with) Safiyah bint Huyyayi with Sawiq and dates. [Ahmed 12079, Abu Dawud 3744, Ibn e Majah 1909]
صحيح، ابن ماجة (1909)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1095
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأطعمة ٢ (٣٧٤٤)، سنن النسائی/النکاح ٧٩ (٣٣٨٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٤ (١٩٠٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٨٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/النکاح ١٤ والجہاد ٤٣ (١٣٦٥)، من غیر ہذا الوجہ وفي سیاق طویل۔
اس سند سے بھی سفیان سے اسی طرح مروی ہے، اور کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس» روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اس میں وائل بن داود اور ان کے بیٹے کے واسطوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Muhammad ibn Yahya also reported from Humayd who from Sufyan a hadith similar to this.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1096
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے۔ کبھی انہوں نے اس میں «وائل بن داود عن ابنہ» کا ذکر نہیں کیا ہے اور کبھی اس کا ذکر کیا ہے۔
ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے روز کا کھانا حق ہے، دوسرے روز کا کھانا سنت ہے۔ اور تیسرے روز کا کھانا تو محض دکھاوا اور نمائش ہے اور جو ریاکاری کرے گا اللہ اسے اس کی ریاکاری کی سزا دے گا ٢ ؎۔
Sayyidina IbnMas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The meal on the first day is right (ful). The meal on the second day is sunnah, and the meal on the third day is ostentatious. So, if anyone makes that heard then Allah will make him heard. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (1915) // ضعيف الجامع الصغير (3616) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1097
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود کی حدیث کو ہم صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ اور زیاد بن عبداللہ بہت زیادہ غریب اور منکر احادیث بیان کرتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا کہ وہ محمد بن عقبہ سے نقل کر رہے تھے کہ وکیع کہتے ہیں: زیاد بن عبداللہ اس بات سے بہت بلند ہیں کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی کے نسخوں میں یہاں پر عبارت یوں ہے: «مع شرفه يكذب» جس کا مطلب یہ ہے کہ وکیع نے ان پر سخت جرح کی ہے، اور ان کی شرافت کے اعتراف کے ساتھ ان کے بارے میں یہ صراحت کردی ہے کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولتے ہیں، اور یہ بالکل غلط اور وکیع کے قول کے برعکس ہے، التاریخ الکبیر للبخاری ٣/الترجمۃ ١٢١٨ اور تہذیب الکمال میں عبارت یوں ہے: «هو أشرف من أن يكذب» نیز حافظ ابن حجر نے تقریب میں لکھا ہے کہ وکیع سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے زیاد کی تکذیب کی ہے، ان کی عبارت یہ ہے: «صدوق ثبت في المغازي و في حديثه عن غير ابن إسحاق لين، ولم يثبت أن وكيعا کذبه، وله في البخاري موضع واحد متابعة» یعنی زیاد بن عبداللہ عامری بکائی کوفی فن مغازی و سیر میں صدوق اور ثقہ ہیں، اور محمد بن اسحاق صاحب المغازی کے سوا دوسرے رواۃ سے ان کی حدیث میں کمزوری ہے، وکیع سے ان کی تکذیب ثابت نہیں ہے، اور صحیح بخاری میں ان کا ذکر متابعت میں ایک بار آیا ہے۔ ( الفریوائی ) ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ دو دن تک تو درست ہے اور تیسرے دن اس کا اہتمام کرنا دکھاوا اور نمائش کا ذریعہ ہے اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تیسرے دن کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کھانے والے وہی لوگ ہوں لیکن اگر ہر روز نئے لوگ مدعو ہوں، تو کوئی حرج نہیں، امام بخاری جیسے محدثین کرام تو سات دن تک ولیمہ کے قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ الؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٣٢٩) (ضعیف) (اس کے راوی زیاد بن عبداللہ بکائی میں ضعف ہے، مؤلف نے اس کی صراحت کر سنن الدارمی/ ہے، لیکن آخری ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں جن میں سے بعض صحیحین میں ہیں)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں دعوت دی جائے تو تم دعوت میں آؤ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Accept the invitation when you are invited”. [Ahmed 4730, Bukhari 2129, Muslim 1429, Abu Dawud 3736, Ibn e Majah 1914] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1098
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوہریرہ، براء، انس اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٢٩)، ( تحفة الأشراف: ٧٤٩٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٧١ (٥١٧٣)، و ٧٤ (٥١٧٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الأطعمة ١ (٣٧٣٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٥ (١٩١٤)، موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٤٩)، سنن الدارمی/الأطعمة ٤٠ (٢١٢٧)، (٢١٢٧)، والنکاح ٢٣ (٢٢٥١)، من غیر ہذا الوجہ۔
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ ابوشعیب نامی ایک شخص نے اپنے ایک گوشت فروش لڑکے کے پاس آ کر کہا: تم میرے لیے کھانا بنا جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا ہے، تو اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ تو اس نے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے سب کو کھانے کے لیے بلایا، جب نبی اکرم ﷺ (چلنے کے لیے) اٹھے، تو آپ کے پیچھے ایک اور شخص بھی چلا آیا، جو آپ کے ساتھ اس وقت نہیں تھا جب آپ کو دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ دروازے پر پہنچے تو آپ نے صاحب خانہ سے فرمایا: ہمارے ساتھ ایک اور شخص ہے جو ہمارے ساتھ اس وقت نہیں تھا، جب تم نے دعوت دی تھی، اگر تم اجازت دو تو وہ بھی اندر آ جائے؟ ، اس نے کہا: ہم نے اسے بھی اجازت دے دی، وہ بھی اندر آ جائے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Mas’ud (RA) narrated : A man called Abu Shu’ayb came to his slave, Lahham and said to him, ‘Prepare for me a meal that would suffice five people, for, I see signs of hunger on the face of Allah’s Messenger ﷺ . So, he prepared the food. After that, he sent him to the Prclphet r’-’ li LO and invited him and thejee sitting with him. When the Prophet ﷺ stood up, a man who had not been with him when he was invited followed him. So, when he came to the door, he said to the owner of the house, ‘A man who was not with us at the time of invitation has followed us and if you permit him, admit him. He said, “Indeed, we permit him’. So, he entered. [Ahmed 14807, Nisai 2081, Muslim 2036] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1099
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ بغیر دعوت کے کسی کے ساتھ طفیلی بن کر دعوت میں شریک ہونا غیر اخلاقی حرکت ہے، تاہم اگر صاحب دعوت سے اجازت لے لی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔