عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو ١ ؎۔
Sayyidina Adi ibn Hatim reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none of you with whom his Lord will not speak on the Day of Resurrection and there will not be between them or an interpreter. He will look to his right and not see anything but that which he has forwarded, and he will look to his left and not see anything but that which he has forwarded. Then he will look ahead of him and the Fire will confront him.” Allah’s Messenger said further, “He among you who can save his face from the Fire even with a piece of date let him do it.” [Bukhari 6539,M 1016, Ibn e Majah 185, 1843, Ahmed 18274]
صحيح، ابن ماجة (185)
صحيح، ابن ماجة (185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2415
ابوسائب کہتے ہیں کہ ایک دن اس حدیث کو ہم سے وکیع نے اعمش کے واسطہ سے بیان کیا پھر جب وکیع یہ حدیث بیان کر کے فارغ ہوئے تو کہا: اہل خراسان میں سے جو بھی یہاں موجود ہوں انہیں چاہیئے کہ وہ اس حدیث کو خراسان میں بیان کر کے اور اسے پھیلا کر ثواب حاصل کریں۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2415
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
کہ یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کیونکہ جہمیہ اس حدیث کا انکار کرتے ہیں ٢ ؎۔ ابوسائب کا نام سلمہ بن جنادہ بن سلم بن خالد بن جابر بن سمرہ کوفی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم سے بچاؤ کا راستہ اختیار کرے، اس لیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرے، اور نیک عمل کرتا رہے، کیونکہ یہ جہنم سے بچاؤ اور نجات کا ذریعہ ہیں۔
٢ ؎: جہمیہ اس حدیث کا انکار اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اس میں کلام الٰہی کا اثبات ہے اور جہمیہ اس کے منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٩ (٦٥٣٩)، والتوحید ٢٤ (٧٤٤٣)، و ٣٦ (٧٥١٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٥)، والزکاة ٢٨ (١٨٤٣) (تحفة الأشراف: ٩٨٥٢)، و مسند احمد (٤/٢٥٦) (صحیح)
تفرد بہ المؤلف (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The feet of the son of Adam will not move away from his Lord on the Day of Resurretion till he is asked about five things about his life, how he spent it; about his youth, how he paseed it; about his wealth, how he eared it; and on what he poured it; and what he did with that which he learnt.”
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم «عن ابن مسعود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے صرف حسین بن قیس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسین بن قیس اپنے حفظ کے قبیل سے ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں ابوبرزہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے مطابق جن چیزوں سے متعلق استفسار ہوگا ان میں سب سے پہلے اس زندگی کے بارے میں سوال ہوگا جس کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے حیات مستعار سمجھتے ہوئے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں گزارنا چاہیئے، کیونکہ اس کا حساب دینا ہے، جوانی میں انسان اپنے آپ کو محرمات سے بچائے، اس میں کوتاہی کرنے کی صورت میں اللہ کی گرفت سے بچنا مشکل ہوگا، اسی طرح مال کے سلسلہ میں اسے کماتے اور خرچ کرتے وقت دونوں صورتوں میں اللہ کا ڈر دامن گیر رہے، علم کے مطابق عمل کی بابت سوال ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ دین و شریعت کا علم حاصل کرے، کیونکہ یہی اس کے لیے مفید اور نفع بخش ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٤٦) (صحیح) (سند میں حسین بن قیس ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم: ٩٤٦ )
ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا ۔
Sayyidina Abu Barzah Aslami (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “(On the Day of Resurrection) the feet of a slave will not move till he is asked about his life how he spent it; and about his knowledge, what he did with it, and about his wealth, how he earned it and on what he used it, and about his body, in what way he wore it off.”
صحيح، الصحيحة (946)، التعليق الرغيب (1 / 76)، الروض النضير (648)، تخريج اقتضاء العلم العمل (15 / 1)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سعید بن عبداللہ بن جریج بصریٰ ہیں اور وہ ابوبرزہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، ابوبرزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پہ تہمت باندھی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، اور کسی کو مارا ہوگا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ “Do you know who is poor?” He was told, “The poor among us, O Messenger of Allah, is he who has no dirham and no possessions.” He said, “The poor of my ummah is one who comes on the Day of Resurrection with salah and fasting and zakah, but also comes with abuses (he has hurled) on this one, accusations on that one, devouring of some property, blood of someone, slaying of another. So he sits and loses this piety (to someone) and that piety (to another) so that when e his good deeds are finished before he has paid off what is against him of sins, he carries their sins thrown to him till he is cast into the fire.”
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں، اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں، اور اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں، یہی حقیقی مفلس ہے، باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال و دولت کی کمی کی وجہ سے مفلس و بےچارگی کی زندگی گزارتا ہے، تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے، اور اگر نہیں بھی سدھری تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے، کیونکہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨١) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٣)، و مسند احمد (٢/٣٠٣، ٣٣٤، ٣٧٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر رحم کرے جس کے پاس اس کے بھائی کا عزت یا مال میں کوئی بدلہ ہو، پھر وہ مرنے سے پہلے ہی اس کے پاس آ کے دنیا ہی میں اس سے معاف کرا لے کیونکہ قیامت کے روز نہ تو اس کے پاس دینار ہوگا اور نہ ہی درہم، پھر اگر ظالم کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں بھی نہیں ہوں گی تو مظلوموں کے گناہ ظالم کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah show mercy to a slave who has wronged his brother for his honour or property. So, he comes to him and retrieves a pardon before he is taken to task when neither dinar nor dirham is legal tender. If he has good deeds they are drawn upon, but if he does not have good deeds then their evil deeds are laden on him.”
ضعيف - بهذا اللفظ -، والصحيح بلفظ: من کانت عنده مظلمة لأخيه فليتحلله ...، الضعيفة (3641) // ضعيف الجامع الصغير (3112) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2419
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث سعید مقبری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - مالک بن انس نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The rights will have to be paid in full to their owners so much so that a hornless goat will be compensated by the horned goat.”
صحيح، الصحيحة (1588)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2420
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨٢) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٤)، و مسند احمد (٢/٢٣٥، ٣٠١، ٣٢٣، ٤١١) (صحیح )
مقداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کردیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہوگا ۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے کون سی میل مراد لی ہے، (زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی) ، پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہوگا ١ ؎، مقداد ؓ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام لگی ہوتی ہے۔
Sayyidina Miqdad a companion of Allah’s Messenger ﷺ reported having heard him say, “When it is the Day of Resurrection, the sun will be drawn nearer to the slaves till it is a mile or two away from them.” Sulaym ibn Aamir said, “I do not know what he meant by two miles the measure of earthly distance or the one with which collyrium is applied to the eyes so said, ‘The sun will melt them so that they will drown Muslim their perspiration to the limits of their deeds. There will be among them those who are taken in up to their heels, and I taken in up to their knees, and those who are taken in up to their backs (waists) and those who are covered up to their faces” Allah’s Messenger gestured with his hand up to his mouth as though reign was tied to it. [Ah23874, Muslim 2864]
صحيح، الصحيحة (1382)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2421
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سائنسی تحقیق کے مطابق سورج زمین سے نو کروڑ میل کے فاصلے پر ہے، قیامت کے دن جب یہ صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا تو اس کی حرارت کا کیا عالم ہوگا؟ یہ اللہ کے علاوہ کون زیادہ جان سکتا ہے، انسان کا حال پسینے میں یہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے آمین۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة ١٥ (٢٨٦٤) (تحفة الأشراف: ١١٥٤٣)، و مسند احمد (٦/٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین: ٦ ) ، اور کہا: اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہوگا ۔
Abu Zakariya Yahya ibn Durust Busri reported from Hammad ibn Zayd fromi from Ayyub from Nafi from Ibn Umar (RA) Hammad said: “A day when mankind shall stand before the Lord of the worlds” (83:6) their perspiration will drown them up to the middle of their ears.
صحيح، ابن ماجة (4278)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2422
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٧ (٦٥٣١)، وتفسیر المطففین (٤٩٣٨)، صحیح مسلم/الجنة ١٥ (٢٨٦٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٣ (٤٢٧٨)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر المطففین (٣٣٣٥) (تحفة الأشراف: ٧٥٤٢)، و مسند احمد (٢/١٢، ١٩، ٣١، ٦٤، ٧٠، ١٠٥، ١١٢، ١٢٥، ١٢٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس حال میں ہوگا کہ وہ ننگے بدن، ننگے پیر اور ختنہ کے بغیر ہوں گے، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا کنا فاعلين» جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے (الانبیاء: ١٠٤ ) ، انسانوں میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا، اور میری امت کے بعض لوگ دائیں اور بائیں طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکالیں، اور جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہو یہ لوگ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے ہیں ١ ؎، تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو (اللہ کے) نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہی تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» اگر تو انہیں عذاب دے تو یقیناً یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں تو بخش دے تو یقیناً تو غالب اور حکمت والا ہے (المائدہ: ١١٨ ) ۔
Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The people will be assembled on the Day of Resurrection barefoot, naked and uncircumcised as they were created.” He then recited: As we originated the first creation, so we shall restore it a promise (binding) on us, surely we shall be doing (it) . (21:104) And the first of the creatures to be clothed will be Ibrahim.O And, my sahabah will from the right side and the left side, and I will say, “O Lord, my companions!O Ar said, you do not know what they innovated after you.O They did not cease to turn 1 heels since you had separated from them. So, I will say as the righteous slave had said: If You chastise them, surely they are Your slaves, and if You forgive them, surely You are the Mighty, the Wise. (5:118) [Ahmed 2096, Bukhari 3349, Muslim 2860, Nisai 2081]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2423
Notes · وضاحت
١ ؎: ابراہیم (علیہ السلام) کے کپڑے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے اتارے گئے تھے، اور انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے انہیں لباس پہنایا جائے گا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر انسان کا ایمان و عمل درست نہ ہو تو وہ عذاب سے نہیں بچ سکتا اگرچہ وہ دینی اعتبار سے کسی عظیم ہستی کی صحبت میں رہا ہو، کسی دوسری ہستی پر مغرور ہو کر عمل میں سستی کرنا اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہوسکتی ہے، بڑے بڑے مشائخ کے صحبت یافتہ اکثر و بیشتر اس مہلک مرض میں گرفتار ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا اور اس پر عامل ہونا عظیم خسارے کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٤٩)، و ٤٨ (٣٤٤٧)، وتفسیر المائدة ١٤ (٤٦٢٥)، ١٥ (٤٦٢٦)، تفسیر الأنبیاء ٢ (٤٢٨٤٠)، والرقاق ٤٥ (٦٥٢٤-٦٥٢٦)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٦٠)، سنن النسائی/الجنائز ١١٨ (٢٠٨٣)، و ١١٩ (٢٠٨٩)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر الأنبیاء (٣١٦٧) (تحفة الأشراف: ٥٦٢٢)، و مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٣، ٢٢٩، ٢٥٣، ٣٩٨)، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٢ (٢٨٤٤) (صحیح )
معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ میدان حشر میں پیدل اور سوار لائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے ۔
Bahz ibn Hakim (RA) reported on the authority of his father from his grandfather that he heard Allah’s Messenger ﷺ say. ‘You will be assembled on foot and on riding beasts, and some will be dragged by their faces.’
صحيح فضائل الشام (13)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2424
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب کے میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہوگا اور کوئی بائیں ہاتھ میں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the day of Resurrection, people will be presented three times. The (first) two presentations will involve conversation and excuses. The third time Record of deeds will be handed over quickly, some getting it in their right hands and some in their left.” [Ahmed 19736]
ضعيف، ابن ماجة (4277) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (932) عن أبي موسی، وانظر شرح العقيدة الطحاوية - طبع المکتب الإسلامي - (556)، المشکاة (5557 و 5558)، ضعيف الجامع الصغير (6432) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2425
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حسن کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ثابت نہیں ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو «عن علي الرفاعي عن الحسن عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ حسن کا سماع ابوموسیٰ اشعری سے بھی ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٠) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ثابت نہیں ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس سے حساب و کتاب میں سختی سے پوچھ تاچھ ہوگئی وہ ہلاک ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فأما من أوتي کتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا»: جس شخص کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا (الانشقاق: ٧ ) ۔ آپ نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے ۔
Aaisha (RA) reported that she heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He whose reckoning is harsh will perish.” She asked, “O Messenger of Allah, Allah says: (Then as for him who is given his record in his right hand, soon will his account be taken by an easy reckoning). (84:7-8) He said, “That is presentation (of deeds).” [Ahmed 24255, Bukhari 4939, Muslim 2876, Abu Dawud 3093]
صحيح ظلال الجنة (885)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2426
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - ایوب نے بھی ابن ابی ملیکہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٦ (١٠٣)، وتفسیر سورة الانشقاق (٤٩٣٩)، والرقاق ٤٩ (٦٥٣٦)، صحیح مسلم/الجنة ١٨ (٢٨٧٦)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر الانشقاق (٣٣٣٧) (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٤)، و مسند احمد (٦/٤٨) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کو قیامت کے روز بھیڑ کے بچے کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: میں نے تجھے مال و اسباب سے نواز دے، اور تجھ پر انعام کیا اس میں تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا اور اسے بڑھایا اور دنیا میں اسے پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، سو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج! تاکہ میں ان سب کو لے آؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جو کچھ تو نے عمل خیر کیا ہے اسے دکھا، وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا، اسے بڑھایا اور دنیا میں پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، مجھے دوبارہ بھیج تاکہ میں اسے لے آؤں، یہ اس بندے کا حال ہوگا جس نے خیر اور بھلائی کی راہ میں کوئی مال خرچ نہیں کیا ہوگا، چناچہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔
Sayyidina Anas reported from the Prophet ﷺ that he said, “On the Day of Resurrection the son of a Adam will be brought as the young of a wolf. He will stand before Allah. Allah will say, ‘I granted you wealth and slaves. What did you do?’ He will say, “I accunulated and amassed that and left behind much multiplied. So, send me back and I will bring you all of it.’ He will say to him, ‘Tell Me what did you forward?’ He will answer, ‘My Lord, I am assed it, increased it more than it was. So send me back and I will come back with all of it.” Thus, a slave who will not forward piety is cast with it (wealth) in the fire.”
ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 11) // ضعيف الجامع الصغير (6413) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2427
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی روایت کئی لوگوں نے حسن بصری سے کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ان کا قول ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، ٢ - اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٣١، و ١١٤١) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم بصری ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، باری تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے کان، آنکھ مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ اور چوپایوں اور کھیتی کو تیرے تابع کردیا تھا، اور قوم کا تجھے سردار بنادیا تھا جن سے بھرپور خدمت لیا کرتا تھا، پھر کیا تجھے یہ خیال بھی تھا کہ تو آج کے دن مجھ سے ملاقات کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج میں بھی تجھے بھول جاتا ہوں جیسے تو مجھے دنیا میں بھول گیا تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) and Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger said, “On the day of Resurrection, a man will be brought. Allah will ask him, ‘Did I not give you hearing and sight, wealth and children, and subdue to you the animals and the fields. And I let you be the chief and leader of your clan that you may collect one fourth (wealth) from them. Did you imagine that you would meet Me this day of yours?’ He will say, ‘No.’ So, He will say to him, ‘This day I forget you just as you forgot Me.’”
صحيح ظلال الجنة (632)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2428
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اليوم أنساک» کا مطلب یہ ہے کہ آج کے دن میں تجھے عذاب میں ویسے ہی چھوڑ دوں گا جیسے بھولی چیز پڑی رہتی ہے۔ بعض اہل علم نے اسی طرح سے اس کی تفسیر کی ہے، ٣ - بعض اہل علم آیت کریمہ «فاليوم ننساهم» کی یہ تفسیر کی ہے کہ آج کے دن ہم تمہیں عذاب میں بھولی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دیں گے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد یہ ہے جب تجھے دنیا میں میری یاد نہ رہی تو میں تجھے کیسے یاد رکھوں گا، اس لیے تو آج سے ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم کی عذاب میں پڑا رہے گا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہوگا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا ، آپ نے فرمایا: یہی اس کی خبریں ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that once Allah’s Messenger ﷺ recited the verse: (on that day it the earth will relate its tidings) . (99:4) Then he asked, “Can you imagine what tidings it will relate?” They said, “Allah and His Messenger know best.” He said, “Its tidings are that it will testify against every man and woman to the deeds they did on its surface, saying, ‘ He did so and so on such and-such a day’ This is that with which it will be commanded”
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا: «صور» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr ibn Aas reported that a villager came to the Prophet ﷺ and asked about the trumpet. He said, “A horn which will be blown.” [Ahmed 6517, Abu Dawud 4742]
صحيح، الصحيحة (1080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2430
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٤ (٤٧٤٢) (تحفة الأشراف: ٨٦٠٨)، و مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢)، وسنن الدارمی/الرقاق ٧٩ (٢٨٤٠)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر سورة القیامة (٣٣٣٩) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل (علیہ السلام) «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام ؓ پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا اللہ ونعم الوکيل علی اللہ توکلنا» یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا ۔
Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “How may I rest while the one with the trumpet has put it into his mouth, alerted the ear (to hear) when he will be commanded to blow it?” It was as though heavy on the sahabah of the Prophet ﷺ , so he said to them that they should recite: (Sufficient to us is Allah and an excellent guardian He is. We place our trust in Allah.) [Ahmed 11039]
صحيح، الصحيحة (2079)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2431
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر سورة الزمر (٣٢٤٣) (تحفة الأشراف: ٤١٩٥)، و مسند احمد (٣/٧، ٧٣) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحہ رقم: ١٠٧٩ )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہوگا: «رب سلم سلم» میرے رب! مجھے سلامت رکھ، مجھے سلامت رکھ ۔
Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah reported that Allah’s Messenger said, “The shi’ar (distinguish call) of the believers on the sirat will be Rabbi sallim (O Lord! Keep safe, keep safe) .” (Sirat is the narrow bridge over Hell which everyone will have to cross over. The righteous believer will pass over it swiftly while the wicked will fall into the fire.)
ضعيف، الضعيفة (1973) // ضعيف الجامع الصغير (3398) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2432
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق (واسطی ہی) کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٥٣٣) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں اور عبد الرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا: ضرور کروں گا ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپ نے فرمایا: سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا ، میں نے عرض کیا: اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا: تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا ، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو؟ فرمایا: اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I requested the Prophet ﷺ Muhammad to intercede for me on the Day of Resurrection. He said that he would do it. I asked, “O Messenger of Allah, where should I seek you?” He said, “Look for me first at the sirat.’ I pleaded, “But, if I do not find you at the sirat?” He said, “Look for me at the scale.” he I pleaded again, “If I you there.”“Then,” he said, “Look for me at the pond (Kawthar) , for I shall not be but at these three places.” [Ahmed 12825] --------------------------------------------------------------------------------
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہوگا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کرسکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے شفاعت کرے، تو بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس چلیں، لہٰذا لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے اندر اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا جنہوں نے آپ کا سجدہ کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے۔ کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے؟ آدم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، یقیناً اس نے مجھے ایک درخت سے منع فرمایا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے، اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے، پہلے رسول تھے، اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کہا ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے، نوح (علیہ السلام) ان لوگوں سے فرمائیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ نہ تو اس سے پہلے ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، میرے لیے ایک مقبول دعا تھی جسے میں نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے استعمال کرلیا، اور آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے ابراہیم! آپ زمین والوں میں سے اللہ کے نبی اور اس کے خلیل (یعنی گہرے دوست) ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، اور میں دنیا کے اندر تین جھوٹ بول چکا ہوں (ابوحیان نے اپنی روایت میں ان تینوں جھوٹ کا ذکر کیا ہے) آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، دنیا کے اندر میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا آپ اللہ کی روح ہیں، آپ نے لوگوں سے گود ہی میں کلام کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے: آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، اور انہوں نے اپنی کسی غلطی کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ آج تو میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد ﷺ کے پاس جاؤ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: چناچہ وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور اس کے آخری نبی ہیں، آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجئے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں، (آگے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں) پھر میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کی تعظیم کے لیے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنے محامد اور حسن ثناء کو اس قدر کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے اتنا کسی پر نہیں کھولا ہوگا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ اور سوال کرو، اسے پورا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرلیں، جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے، اور یہ سب (امت محمد) دیگر دروازوں میں بھی (داخل ہونے میں) اور لوگوں کے ساتھ شریک ہوں گے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے پٹوں میں سے دو پٹ کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Some meat was presented to Allah’s Messenger and he was offered the foreleg which he liked very much and he bit a piece of it. Then he said: On the Day Resurrection, I shall be the chief of men. Do you see why? Allah will assemble mankind the first and the last in one place. A caller will (be able) to make them hear him while the sight (of a seer) will penetrate them. The sun will draw near to them. So, mankind will be grieved and worried with what they are unable to cope and bear and they will say to each other. “Do you not see what has come over you? Do you not find one who might intercede for you with your Lord?” Then they will say to each other, “You must go to Aadam’ so they will come to Aadam, and say, “You are the father of human beings. Allah created you with His hand and blew into you His spirit and commanded the angels and they prostrated to you. Intercede for us with your Lord. Do you not see what we face? Do you not see what has befallen us?” So, Adam will say to them, “Indeed, my Lord is angry today as He has never been angry before nor will he be as angry again. And He had forbidden me to approach the tree but O disobeyed Him. Nafsi, nafsi, nafsi.O Go to someone other than me. Go to Nuh.” So, they will come to Nuh and say, “O Nuh! you are the first of the Messengers to the people of earth and Allah has named you a grateful slave, intercede for us with your Lord. Do you not see the plight we are in? Do you not see what has befallen us?” So Nuh will say to them, “Indeed my Lord is angry today as He was never angry before this nor will he ever be as angry again. And that there was a prayer for me (which he had assured me would be accepted) and I made it (for my people to be ruined and so lost the opportunity). Nafsi, nafsi, nafsi. Go to someone else. Go to Ibrahim.” So, they will come to him, and say, “O Ibrahim! You are Allah’s Prophet ﷺ and His friend from the people of the earth. So, intercede for us with your Lord. Do you not see what plight we face?” He will say, “My Lord is angry today as He was never angry before and will never be angry after this. And I had lied three times.” Abu Hayyan has mentioned them in hadith. “Nafsi, nafsi, nafsi, Go to other than me, go to Musa.” So they will come to Musa and tell him, “O Musa! You are Messenger. Allah preferred you over all mankind with His messengership and conversation with Him. Intercede for us with your Lord. Do you not see what we are in?” He will say, “My lord is angry today as He has never been nor will be again after today. And I had killed a man not ordered to be killed. Nafsi, nafsi, nafsi! Go to someone else, Go to Eesa.” So, they will come to Eesa and say, “O Eesa! You are Allah’s Messenger and His word that He cast at Maryam, and a spirit from Him, and you spoke to the people from the cradle. Intercede for us with your lord.DO you not see our predicament?” Eesa will say, “Indeed, my Lord is angry today as He has never been before this and will never be as angry after today.” And he will not mention his faulI nafsi, nafsi. Go to someone else, go to Muhammad ﷺ “ They will come to him “ O Muhammad ﷺ , you are Allah’s Messenger and the seal of Prophets and indeed you are forgiven what preceded of your sins and what came afterwards. Intercede for us with your Lord not observe the plight we face?” So, I will go ahead and come under the Throne and fall down in prostration to my Lord. And, Allah will open to me words of his praise and of glorifying Him which He had never taught anyone before me. Then it will be said, “ O Muhammad ﷺ ! raise your head. Ask, it will be given to you. And intercede; your intercession will be approved. Raise your head.” So, I will say, “O Lord, my ummah.” He will say, “O Muhammad ﷺ , admit those of your ummah who are not liable to account through the right gate of the gates Paradise though they may be partners of other people in going through gates besides this of Paradise.” The Prophet ﷺ added, “By Him in whose hand is my life, the distance between every two gate-posts of Paradise is like the distance between Makkah and Hajr and like between Makkah and Busra.” [Bukhari 3361, Muslim 193] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح تخريج الطحاوية (198)، ظلال الجنة (811)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2434
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، انس، عقبہ بن عامر اور ابو سعید خدری ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اس شفاعت کا بیان ہے جب سارے انبیاء اپنی اپنی بعض لغزشوں کے حوالے سے شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے، چونکہ انبیاء (علیہم السلام) ایمان و تقویٰ کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی معمولی غلطی بھی انہیں بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہونے سے معذرت کریں گے، لیکن نبی اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے سفارش فرمائیں گے، اس سے آپ ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آپ کی شفاعت مختلف مرحلوں میں ہوگی، آپ اپنی امت کے حق میں شفاعت فرمائیں گے، جو مختلف مرحلوں میں ہوگی، اس حدیث میں پہلے مرحلہ کا ذکر ہے، جس میں آپ کی شفاعت پر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں لے جانے کی اجازت دے گا جن پر حساب نہیں ہوگا۔