طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہو تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے رجوع کرلیں ، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ طلاق شمار کی جائے گی؟ کہا: تو اور کیا ہوگی؟ (یعنی کیوں نہیں شمار کی جائے گی) ، بھلا بتاؤ اگر وہ عاجز ہوجاتا یا دیوانہ ہوجاتا تو واقع ہوتی یا نہیں؟ ١ ؎۔
Yunus ibn Jabayr said that he asked Ibn Umar (RA) about a man who divorced this wife while she was menstruating. He asked him, “Do you know Abdullah ibn Umar? He had divorced his wife while she was menstruating. So Umar asked the Prophet ﷺ (about it) and he commanded him to (revoke and) take her back. Umar asked him if (the pronouncement of) the divorce would be counted and the Prophet ﷺ said: Quiet! What, if he were helpless and mad (would that not have been reckoned)?’ [Bukhari 5252, Muslim 1741, Abu Dawud 2183, Nisai 3399, Ibn e Majah 2022]
صحيح، ابن ماجة (2022)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1175
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب رجعت سے عاجز ہوجانے یا دیوانہ و پاگل ہوجانے کی صورت میں یہ طلاق شمار کی جائے گی تو رجعت کے بعد بھی ضرور شمار کی جائے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ اگر وہ واقع نہ ہو تو آپ کا «مره فليراجعها» کہنا بےمعنی ہوگا، جمہور کا یہی مسلک ہے کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اور اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا، لیکن ظاہر یہ کا مذہب ہے کہ طلاق نہیں ہوتی، ابن القیم نے زادالمعاد میں اس پر لمبی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی، ابوداؤد کی ایک روایت ( رقم: ٢١٨٥) کے الفاظ ہیں «لم يرها شيئاً»، محتاط یہی ہے کہ طلاق کے ضمن میں حالت حیض میں ظاہر یہ کے مسلک کو اختیار کیا جائے تاکہ طلاق کھیل نہ بن جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢ (٥٢٥٢)، و ٤٥ (٥٣٣٣)، صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن ابی داود/ الطلاق ٤ (٢١٨٣، ٢١٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ١ (٣٤١٨)، و ٧٦ (٣٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢ (٢١٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٥٧٣)، مسند احمد (٢/٤٣، ٥١، ٧٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ١ (٤٩٠٨)، والطلاق ١ (٥٢٥١)، و ٤٤ (٥٣٣٢)، والأحکام ١٣ (٧١٦٠)، صحیح مسلم/الطلاق (المصدر المذکور) سنن ابی داود/ الطلاق ٤ (٢١٧٩-٢١٨٢)، موطا امام مالک/الطلاق ٢١ (٥٣)، سنن الدارمی/الطلاق ١ (٢٣٠٨)، من غیر ہذا الوجہ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، ان کے والد عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرلے، پھر طہر یا حمل کی حالت میں طلاق دے ۔
Saalim reported from his father that he (the father) divorced his wife while she was menstruating. So, Sayyidina Umar (RA) asked he Prophet ﷺ about it. He said, “Command him to take her back, afterwards divorce her when she has purified, or is pregnant.”
صحيح، ابن ماجة (2023)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1176
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یونس بن جبیر کی حدیث جسے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔ اور اسی طرح سالم بن عبداللہ کی بھی جسے وہ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں، ٢- یہ حدیث کئی اور طرق سے بھی ابن عمر ؓ سے مروی ہے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ طلاق سنّی یہ ہے کہ آدمی طہر کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے طہر کی حالت میں تین طلاقیں دیں، تو یہ بھی طلاق سنّی ہوگی۔ یہ شافعی اور احمد بن حنبل کا قول ہے، ٥- اور بعض کہتے ہیں کہ تین طلاق طلاق سنی نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ وہ ایک ایک طلاق الگ الگ کر کے دے۔ یہ سفیان ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٦- اور یہ لوگ حاملہ کے طلاق کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اسے جب چاہے طلاق دے سکتا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٧- اور بعض کہتے ہیں: اسے بھی وہ ہر ماہ ایک طلاق دے گا۔
رکانہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟ ، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا ۔
Abdullah ibn Yazid ibn Rukanah reported on the authority of his father from his grandfather that he said that he went to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have divorced my wife (the divorce) albattah.” He asked. “What did you intend by that?” He said, ‘One pronouncement.” He asked, “By Allah?” He answered, “(Yes), by Allah!” So, the Prophet ﷺ said, “And that is as you had intended.” (only one is reckoned). [Abu Dawud 2208, Ibn e Majah 2051]
ضعيف، ابن ماجة (2051) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (444)، ضعيف أبي داود (479 / 2206)، الإرواء (2063) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1177
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں اضطراب ہے، عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں، ٣- اہل علم صحابہ کرام وغیرہم میں سے عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ کو ایک طلاق قرار دی ہے، ٤- اور علی ؓ سے مروی ہے انہوں نے اسے تین طلاق قرار دی ہے، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آدمی کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی اور اگر تین کی کی ہے تو تین ہوگی۔ اور اگر اس نے دو کی نیت کی ہے تو صرف ایک شمار ہوگی۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٦- مالک بن انس قطعی طلاق (بتّہ) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دخول ہوچکا ہے تو طلاق بتّہ تین طلاق شمار ہوگی، ٧- شافعی کہتے ہیں: اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی اور اسے رجعت کا اختیار ہوگا۔ اگر دو کی نیت کی ہے تو دو ہوگی اور اگر تین کی نیت کی ہے تو تین شمار ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٤ (٢٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٩ (٢٠٥١) سنن الدارمی/الطلاق ٨ (٢٣١٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٦١٣) (ضعیف) (سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں، اور علی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں، نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری: اس حدیث میں سخت اضطراب ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: الارواء (رقم ٢٠٦٣)
حماد بن زید کا بیان ہے کہ میں نے ایوب (سختیانی) سے پوچھا: کیا آپ حسن بصری کے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جس نے «أمرک بيدك» کے سلسلہ میں کہا ہو کہ یہ تین طلاق ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری کے۔ علاوہ مجھے کسی اور کا علم نہیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ! معاف فرمائے۔ ہاں وہ روایت ہے جو مجھ سے قتادہ نے بسند «كثير مولی بني سمرة عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ آپ نے فرمایا: یہ تین طلاقیں ہیں ۔ ایوب کہتے ہیں: پھر میں کثیر مولی بنی سمرہ سے ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا مگر وہ اسے نہیں جان سکے۔ پھر میں قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: وہ بھول گئے ہیں۔
Ali ibn Nasr ibn Ali reported on the authority of Sulyman ibn Harb on the authority of Hammad ibn Zayd that he said to Ayyub, “Do you know of anyone besides Hasan who said that a man’s saying to his wife, ‘Your affairs are in your hands’ implied three pronouncements of divorce?’ He said, “None, except Hasan.” Then he said, “O Allah, forgive! Only that Qatadah narrated to me from Kathir, the freedman of Banu Samurah, from Abu Salamah, from Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ that he said that three divorces were (thus) effective.” So Ayyub said further, “1 met Kathir, the freedman of Banu Samurah and asked him but he did not know it, so I returned to Qatadah and informed him of it, and he said that (Kathir) had forgotten.’ [Abu Dawud 2204, Nisai 3407]
ضعيف، لكنه عن الحسن قوله: صحيح، ضعيف أبي داود (379)، صحيح أبي داود (1914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1178
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف سلیمان بن حرب ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے، ٣- میں نے اس حدیث کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے اور یہ ابوہریرہ سے موقوفاً مروی ہے، اور وہ ابوہریرہ کی حدیث کو مرفوع نہیں جان سکے، ٤- اہل علم کا «أمرک بيدك» کے سلسلے میں اختلاف ہے، بعض صحابہ کرام وغیرہم جن میں عمر بن خطاب، عبداللہ بن مسعود ؓ بھی ہیں کہتے ہیں کہ یہ ایک (طلاق) ہوگی۔ اور یہی تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا بھی قول ہے، ٥- عثمان بن عفان اور زید بن ثابت کہتے ہیں کہ فیصلہ وہ ہوگا جو عورت کہے گی، ٦- ابن عمر ؓ کہتے ہیں: جب شوہر کہے کہ اس کا معاملہ اس (عورت) کے ہاتھ میں ہے ، اور عورت خود سے تین طلاق قرار دے لے۔ اور شوہر انکار کرے اور کہے: میں نے صرف ایک طلاق کے سلسلہ میں کہا تھا کہ اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے تو شوہر سے قسم لی جائے گی اور شوہر کا قول اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہوگا، ٧- سفیان اور اہل کوفہ عمر اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کی طرف گئے ہیں، ٨- اور مالک بن انس کا کہنا ہے کہ فیصلہ وہ ہوگا جو عورت کہے گی، یہی احمد کا بھی قول ہے، ٩- اور رہے اسحاق بن راہویہ تو وہ ابن عمر ؓ کے قول کی طرف گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٣ (٢٢٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ١١ (٣٤٣٩) (ضعیف) (سند میں کثیر لین الحدیث ہیں مگر حسن کا قول صحیح ہے، جس کی روایت ابوداود (برقم ٢٢٠٥) نے بھی کی ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا (چاہیں تو ہم آپ کے نکاح میں رہیں اور چاہیں تو نہ رہیں) ہم نے آپ کو اختیار کیا۔ کیا یہ طلاق مانی گئی تھی؟ ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA)said, “Allah’s Messenger ﷺ gave us option (to divorce or stay with him). So we chose (to stay with) him, Is that then a divorce?” [Ahmed 25761, Bukhari 5263, Muslim 1477, Nisai 3200] --------------------------------------------------------------------------------
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ مجھے میرے شوہر نے نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں نہ «سکنی» (رہائش) ملے گا اور نہ «نفقہ» (اخراجات) ۔ مغیرہ کہتے ہیں: پھر میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ عمر ؓ کا کہنا ہے کہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ترک نہیں کرسکتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اسے یہ بات یاد بھی ہے یا بھول گئی۔
Shahi reported that Sayyidah Fatimah bint Qays (RA) said that her husband divorced her with three pronouncements in the times of the Prophet ﷺ Allah’s Messenger said, “No shelter and no provision for you.” Mughirah said that he mentioned this hadith to Ibrahim who reported that Sayyidina Umar (RA) said, “We cannot give up the Book ul Allah and the sunnah of our Prophet ﷺ for the word of a woman of whom we do not know whether she remembers or has forgotten.” Hence, Sayyidina Umar used to place upon the husband responsibility for shelter and provision during the iddah of the divorced woman. Sha’hi narrated I visited Fatimah bint Qays and asked her about the judgement of Allah’s Messenger ﷺ in her case. She said, “My husband divorced me the divorce al-battah. So I wrangled with him for shelter and provision, but the Prophet ﷺ did not get me these thing.” In the hadith of Dawud, she is also quoted as saying, “He commanded me to pass my iddah at the house of Ibn Umm Maktum.” [Ahmed 27415, Muslim 1480. Abu Dawud 2288, Nisai 3400, Ibn e Majah 2024] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father, from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “The son of Aadam may make no vow about what he does not possess, and he need not set free what he does not possess, and he may not divorce what he does not possess. [Ahmed 7009, Abu Dawud 2190, Ibn e Majah 2047] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (2047)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1181
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، معاذ بن جبل، جابر، ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ٣- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے۔ اور علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، سعید بن المسیب، حسن، سعید بن جبیر، علی بن حسین، شریح، جابر بن زید ؓ، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ٤- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ١ ؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہوجائے گی، ٥- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ٢ ؎ تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا: اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے۔ تو اگر اس نے شادی کرلی تو اسے طلاق واقع ہوجائے گی، ٦- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہوگی، ٧- اور احمد کہتے ہیں: اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کرلے، ٨- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں، اگر اس نے اس سے شادی کرلی، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہوگی۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے، ٩- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کرلے۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو، اب آزمائش میں پڑجانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی «منسوبہ»، اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا «منصوبہ» سے مراد متعین عورت ہے۔ مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی، حالانکہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔ ٢ ؎: مثلاً یوں کہے «إن نکحت اليوم أو غداً» اگر میں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٧ (٢٠٤٧) (تحفة الأشراف: ٨٧٢١)، مسند احمد (٢/١٩٠) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق ٧ (٢١٩٠)، سنن النسائی/البیوع ٦٠ (٤٦١٦)، مسند احمد (٢/١٨٩) من غیر ہذا الوجہ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, The divorce of a slave woman is to pronounce it twice and her iddah is two (monthly) courses.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2080) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (452)، ضعيف أبي داود (475 / 2189)، المشکاة (3289)، الإرواء (2066)، ضعيف الجامع الصغير (3650) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مظاہر بن اسلم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور مظاہر بن اسلم کی اس کے علاوہ کوئی اور روایت میرے علم میں نہیں، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو جو دل میں آتے ہیں معاف فرما دیا ہے جب تک کہ وہ انہیں زبان سے ادا نہ کرے، یا ان پر عمل نہ کرے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ‘ said, “Allah disregards from my ummah the thoughts that come to their minds as long as they do not speaks them out or act thereon.” [Ahmed 9503, Bukhari 5269, Muslim 127, Abu Dawud 2209, Nisai 3433, Ibn e Majah 2040] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2040)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1183
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنے دل میں طلاق کا خیال کرلے تو کچھ نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ منہ سے نہ کہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور گزرنے والے وسوسے مواخذہ کے قابل گرفت نہیں، مثلاً کسی کے دل میں کسی لڑکی سے شادی یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو محض دل میں خیال آنے سے یہ باتیں واقع نہیں ہوں گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور رجعت ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, Three things take place when done seriously, but they also take place when done in jest. They are marriage, divorce and taking back a wife (after revoking divorce).” [Abu Dawud 2194, Ibn e Majah 2039]
حسن، ابن ماجة (2039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣- عبدالرحمٰن، حبیب بن اردک مدنی کے بیٹے ہیں اور ابن ماہک میرے نزدیک یوسف بن ماہک ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سنجیدگی اور ہنسی مذاق دونوں صورتوں میں ان کا اعتبار ہوگا۔ اور اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ ہنسی مذاق میں طلاق دینے والے کی طلاق جب وہ صراحت کے ساتھ لفظ طلاق کہہ کر طلاق دے تو وہ واقع ہوجائے گی اور اس کا یہ کہنا کہ میں نے بطور کھلواڑ مذاق میں ایسا کہا تھا اس کے لیے کچھ بھی مفید نہ ہوگا کیونکہ اگر اس کی یہ بات مان لی جائے تو احکام شریعت معطل ہو کر رہ جائیں گے اور ہر طلاق دینے والا یا نکاح کرنے والا یہ کہہ کر کہ میں نے ہنسی مذاق میں یہ کہا تھا اپنا دامن بچا لے گا، اس طرح اس سلسلے کے احکام معطل ہو کر رہ جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٩ (٢١٩٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٣ (٢٠٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (آثار صحابہ سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ عبدالرحمن بن اردک ضعیف ہیں)
ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں خلع لیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا (یا انہیں حکم دیا گیا) کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔
Sayydah Rubayyi bint Muawwiz ibn Afra (RA) reported that she sought dissolution of her marriage in the times of the Prophet ﷺ So, the Prophet ﷺ commanded her to observe iddah till she got her menses once. [Nisai 3495, Ibn e Majah 2058]
صحيح، ابن ماجة (2058)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1185
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ربیع کی حدیث کہ انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
١- یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے آپ نے فرمایا: جس عورت نے بلا کسی سبب کے اپنے شوہر سے خلع لیا، تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گی ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بطور زجر و توبیخ کہا ہے یعنی یہ عورتیں ایسی ہیں جو جنت میں دخول اوّلی کی مستحق نہیں قرار پائیں گی کیونکہ بظاہر یہ اطاعت گزار ہیں لیکن باطن میں نافرمان ہیں۔ اور یہ ارشاد بغیر کسی معقول وجہ کے خلع لینے والی عورتوں کے بارے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٠٩٢) (صحیح) (متابعت اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” لیث بن ابی سلیم “ ضعیف، اور ” ابو الخطاب “ مجہول ہیں، ملاحظہ: صحیحہ رقم: ٦٣٢)
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
This hadith is reported by Muhammad ibn Bashshar from Abdul Wahab Thaqafi, from Ayyub, from Abu Qalabah and he from an unnamed man, who from Thawban and he from the Prophet ﷺ i that he said, ‘The woman who seeks divorce from her husband for no reason will not even smell the fragrance of Paradise.” [Ahmed 22442, Abu Dawud 2226, Ibn e Majah 2055] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2055)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1187
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور یہ «عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے، ٣- بعض نے ایوب سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت کی مثال پسلی کی ہے ١ ؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, woman is like a rib. If you try to straighten it, you will break it and if you leave her alone then you will enjoy her in spite of the crookedness.” --------------------------------------------------------------------------------
١- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے اور اس کی سند جید ہے، ٢- اس باب میں ابوذر، سمرہ، اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہٰذا جس فطرت پر وہ پیدا کی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلا نہیں جاسکتا۔ اس لیے ان باتوں کا لحاظ کر کے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اور آرام و چین کی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٨ (١٤٦٨)، ( تحفة الأشراف: ١٣٢٤٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٧٩ (٥١٨٤)، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور)، مسند احمد (٢/٤٢٨، ٤٤٩، ٥٣٠)، سنن الدارمی/النکاح ٣٥ (٢٢٦٨) من غیر ہذا الوجہ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah said that he was aware of this hadith. The Prophet ﷺ said, “No woman should demand that her sister (co-wife) should be divorced that she fill up from her vessel (that is, appropriate her share). [Bukhari 2140, Muslim 1413, Abu Dawud 3438, Nisai 3236, Ibn e Majah 1867]
صحيح، صحيح أبي داود (1891)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣/٥٢)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، والبیوع ١٦ (٤٤٩٦)، و ١٩ (٤٥٠٦)، و ٢١ (٤٥١٠)، مسند احمد (٢/٢٣٨)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٢٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشروط ٨ (٢٧٢٣)، والنکاح ٥٣ (٥١٥٢)، و القدر ٤ (٦٦٠١)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، مسند احمد (٢/٢٧٤، ٣١١، ٣٩٤، ٤١٠، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٠٨، ٥١٦) من غیر ہذا الوجہ و بزیادة في السیاق۔ وانظر أیضا حدیث رقم ١١٣٤، وکذا مایأتي برقم: ١٢٢٢، و ١٣٠
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر طلاق واقع ہوتی ہے سوائے پاگل اور دیوانے کی طلاق کے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Every divorce is permissible, except the divorce by an insane or an imbecile man.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف جدا، والصحيح موقوف، الإرواء (2042) // ضعيف الجامع الصغير (4240) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف عطاء بن عجلان کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور عطاء بن عجلان ضعیف اور «ذاہب الحدیث» (حدیث بھول جانے والے) ہیں، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ دیوانے کی طلاق واقع نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ ایسا دیوانہ ہو جس کی دیوانگی کبھی کبھی ٹھیک ہوجاتی ہو اور وہ افاقہ کی حالت میں طلاق دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٢٤٤) (ضعیف جدا) (سند میں عطاء بن عجلان متروک الحدیث راوی ہے، صحیح ابوہریرہ کے قول سے ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کرلینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوجائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہوگی تو رجعت کرلوں گا۔ اس عورت نے عائشہ ؓ کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ ؓ خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ آئے تو عائشہ ؓ نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم ﷺ بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسريح بإحسان» طلاق (رجعی) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کردینا ہے (البقرہ: ٢٢٩) ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated During pre-Islamic days, a man would divorce his wife as many times as he chose and he would revoke the divorce during her iddah-a hundred times ormore than that. In fact, a man said to his wife, “By Allah! I will never divorce you so that you remain with me and I will never approach you.’ She asked, ‘How is that?’ He said, “I will divorce you and every time your iddab is to end, I will take you back.’ The woman went till she met Sayyidah Ayshah and informed her (of her plight). Sayyidah Ayshah (RA) kept quiet and said nothing till the Prophet ﷺ came home and she informed him. He did not say anything till the Qur’an was revealed: “Divorce is twice then either a retention with honour or a release with kindness.” (2:229) Sayyidah Ayshah (RA) said that thereafter people kept count of the divorce those who had pronounced previously and these too who had not. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الإرواء (7 / 162)
ضعيف، الإرواء (7 / 162)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1192 دوسری سند سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد ہشام سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کے ساتھ روایت کی ہے اور اس میں ابوکریب نے عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1192
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ یعلیٰ بن شبیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (یعنی: مرفوع ہونا زیادہ صحیح ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٣٣٧) (ضعیف) (سند میں ” یعلی “ لین الحدیث ہیں) لیکن ابن عباس ؓ کی روایت سے اس کا معنی صحیح ہے (دیکھئے ارواء رقم: ٢٠٨٠)
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٠٣٦) (صحیح)
طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے شوہر کی موت کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ جنا، اور جب وہ نفاس سے پاک ہوگئی تو نکاح کے لیے زینت کرنے لگی، اس پر اعتراض کیا گیا، اور نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی ہے (تو حرج کی بات نہیں) اس کی عدت پوری ہوچکی ہے ۔
Sayyidina Abu Sanabil Ba’kak reported that Sayyidah Subay’ah (RA) delivered her child twenty-three or twenty-five days after her husband’s death. When she purified after post childbirth bleeding. She adorned herself seeking to remarry, but objections were raised against her. That was mentioned to the Prophet ﷺ and he said, “If she does that then she has already waited her number of days” (and is justified in marrying again). [Ahmed 18738, Nisai 2505, Ibn e Majah 2027] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2027)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1193
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٧)، مسند احمد (٤/٣٠٥) (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٣) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ سند میں انقطاع ہے جسے مولف نے بیان کردیا ہے)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ؓ نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہوچکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس ؓ کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہوگی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہوگئی، اس پر ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے (ایک شخص کو) ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس (مسئلہ معلوم کرنے کے لیے) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے (شادی کے سلسلے میں) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے (دم نفاس ختم ہوتے ہی) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
Sulayman ibn Yasar reported that Sayyidina Abu Hurayrah Ibn Abbas (RA) and Abu Salamah ibn Abdur Rahman (RA) discussed about a pregnant woman whose husband had died and who delivers her child after his death. Ibn Abbas (RA) said, “The lengthier period will be her iddah (meaning, her waiting period will end on the birth of her child or completing of iddah whichever is last). Abu Salamah (RA) said, “No, she will become lawful when her child is born.” Abu Hurayrah (RA) said, “I agree with my brother, Abu Salamah.” Then, they sent (the question) to Sayyidah Umm Salamah, the noble wife of the Prophet ﷺ . She said, “Suhay’ah Aslamiyah had delivered a child a few days after her husband’s death. She enquired from Allah’s Messenger ﷺ who commanded her to get married again.” [Bukhari 4909, Muslim 1485, Nisai 3509]
صحيح، الإرواء (2113)، صحيح أبي داود تحت الحديث (1196)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٥)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٤٢)، ٣٥٤٤)، مسند احمد (٦/٢٨٩)، سنن الدارمی/الطلاق ١١ (٢٣٢٥) (تحفة الأشراف: ١٨١٥٧ و ١٨٢٠٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣١٨)، صحیح مسلم/الطلاق (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٩، ٣٥٤٠، ٣٥٤١، ٣٥٤٣، ٣٥٤٥، ٣٥٤٦، ٣٥٤٧)، مسند احمد (٦/٣١٢، ٣١٩) من غیر ہذا الوجہ، ولہ أیضا طرق أخری بسیاق آخر، انظر حدیث رقم (٢٣٠٦)، عند أبي داود و ٣٥٤٨) عند النسائي۔
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں یہ تینوں حدیثیں بتائیں (ان میں سے ایک یہ ہے) زینب کہتی ہیں: میں ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے پاس آئی جس وقت ان کے والد ابوسفیان صخر بن حرب کا انتقال ہوا، تو انہوں نے خوشبو منگائی جس میں خلوق یا کسی دوسری چیز کی زردی تھی، پھر انہوں نے اسے ایک لڑکی کو لگایا پھر اپنے دونوں رخساروں پر لگایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔
Humayd ibn Nafi reported from Sayyidah Zaynab bint Abu Salamah. She spoke to him about these three ahadith. She said: I visited Umm Habibah (RA) wife of the Prophet ﷺ when her fahter Abu Sufyan (RA) ibn Harb died. She called for a perfume which had a yellowness or another substance. She applied it to a girl and then on her own cheeks, saying, “By Allah, I had no need for this except that I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘It not lawful for a woman who believes in Allah and the last day to mourn a dead person more than three days except that she mourn her dead husband for four months and ten days.” [Ahmed 26816, Bukhari 680, Muslim 1486]
صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1195
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١)، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٤)، و ٤٧ (٥٣٣٩)، و ٥٠ (٥٣٤٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٦)، سنن ابی داود/ الطلاق ٤٣ (٢٢٩٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠، ٣٥٣٢) و ٦٣ (٣٥٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١) مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٤) (صحیح)