قرأت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 42 · 23 hadiths · Page 1 of 2

2927Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ثُمَّ يَقِفُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ثُمَّ يَقِفُ، وَكَانَ يَقْرَؤُهَا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَبِهِ يَقْرَأُ أَبُو عُبَيْدٍ وَيَخْتَارُهُ، وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، لِأَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ سَلمَةَ، أَنَّهَا وَصَفَتْ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرْفًا حَرْفًا، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَكَانَ يَقْرَأُ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Umm Salamah said that Allah’s Messenger ﷺ cut his recital into pauses. Thus, he recited ‘Alhamdu lillahi rabbil Alamin’ (verse 1 of surah al-Fatahah) and paused. Then ‘Ar-rahman ar-raheem’ (verse 2) and paused and he recited: ‘Maliki Yaumuddin’ (verse 3…and so on). [Abu Dawud 4001]

صحيح، الإرواء (343)، المشکاة (2205)، صفة الصلاة، مختصر الشمائل (270)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2927
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ابو عبید بھی یہی پڑھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے ٢ ؎، ٣ - یحییٰ بن سعید اموی اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن جریج سے اور ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے ام سلمہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، کیونکہ لیث بن سعد نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک سے انہوں نے ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی قرأت کی کیفیت ایک ایک حرف الگ کر کے بیان کی۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور لیث کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ ﷺ «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ یعنی «مالک یوم الدین» کی جگہ «ملک یوم الدین» پڑھتے تھے۔ ٢ ؎: یعنی: ابوعبید قاسم بن سلام «مالک یوم الدین» کے بجائے «ملک یوم الدین» کو پڑھنا پسند کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف والقراءت (٤٠٠١) (تحفة الأشراف: ١٨١٨٣) (صحیح )
2928Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأُرَاهُ قَالَ: وَعُثْمَانَ: كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيِّ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ: كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 .

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر و عمر ؓ (راوی زہری کہتے ہیں کہ) اور میرا خیال ہے کہ انس ؓ نے عثمان ؓ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالک يوم الدين» پڑھتے تھے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ and Abu Bakr (RA) and Umar (RA) and the narrator said, ‘I believe he included Uthman (RA) used to recite ‘Maaliki Yaumuddin’.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ٣ - زہری کے بعض اصحاب (تلامذہ) نے یہ حدیث زہری سے (مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر «مالک يوم الدين» پڑھتے تھے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے (مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ «مالک يوم الدين» پڑھتے تھے، (یعنی: اس کو مرفوعاً صرف ایوب بن سوید ہی نے روایت کیا ہے، اور وہ ضعیف ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٧٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” ایوب بن محمد الرملی “ روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اس روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ ” الزہري عن النبی صلی+اللہ+علیہ+وسلم مرسلاً “ ہے جیسا کہ مولف نے وضاحت کی ہے، مگر دیگر سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے )
2929Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 . حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى بن يزيد: وهذا حديث حسن غريب، قَالَ مُحَمَّدٌ: تَفَرَّدَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَكَذَا قَرَأَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 اتِّبَاعًا لِهَذَا الْحَدِيثِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ١ ؎ «بالعين» ٢ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that the Prophet ﷺ recited (this verse thus);‘An Nafsa bin Nafsi wal Aina bil Aini’(Al-Quran 5:45)

ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) // ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2929 ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2929
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوعلی بن یزید، یونس بن یزید کے بھائی ہیں، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد (تنہا) ہیں، ٤ - اور ابو عبید (قاسم بن سلام) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح («العين» «بالعين» ) پڑھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: «العینُ» کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ «النفس» پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔ ٢ ؎: جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدہ: ٤٥ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٧٦) (تحفة الأشراف: ١٥٧٢) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو علی بن یزید مجہول راوی ہے) انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد )
2930Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ هَلْ تَسْتَطِيعُ رَبَّكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ١ ؎۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) reported that the Prophet ﷺ recited: ‘hal tastatee’u rabbaka’ instead of ‘hal yastatee’u rabbuka’ (Al-Quran 5:112) --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں، ٢ - اور اس کی سند قوی نہیں ہے، رشدین بن سعد اور (عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ١١٢ ) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہوگا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٣٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں )
2931Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَؤُهَا إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ نَحْوَ هَذَا، وَهُوَ حَدِيثُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَن شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ هِيَ أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي وَاحِدٌ، وَقَدْ رَوَى شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ غَيْرَ حَدِيثٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

ام سلمہ ١ ؎ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ٢ ؎۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ recited this verse (11:46) thus; ‘innahu Amalan ghairu saalih.’

صحيح، الصحيحة (2809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، ٢ - یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے، ٣ - میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں، ٤ - یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں، ٥ - شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں، ٦ - عائشہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نہیں ہیں، بلکہ انصاریہ صحابیہ ہیں، لیکن مسند احمد کی بعض روایات میں ام المؤمنین کا اضافہ سے مزی نے اس حدیث کو دونوں ترجمہ میں ذکر کیا ہے۔ ٢ ؎: نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے غیر صالح عمل کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٨٢، و ٢٩٨٣) (تحفة الأشراف: ١٨١٦٣/الف)، و مسند احمد (٦/٤٥٩) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: ٢٨٠٩ )
2932Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46 .

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عمل غير صالح»۔

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: ٢٨٠٩ )
2933Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ بَصْرِيٌ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: قَرَأَ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76 مُثَقَّلَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ثِقَةٌ، وَأَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ.

ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پڑھا: «قد بلغت من لدني عذرا» ١ ؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that the Prophet ﷺ recited ‘qad balaghta mil ladunni uzura’ with a damma (18:76). [Abu Dawud 3985]

ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (856 / 3985) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - امیہ بن خالد ثقہ ہیں، ٣ - ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں، ہم ان کا نام نہیں جانتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت اسی طرح ہے یعنی نون پر تشدید کے ساتھ لیکن نافع وغیرہ نے اس کو اس طرح پڑھا ہے «مِنْ لَدُنِیْ» یعنی نون پر صرف سادہ زیر کے ساتھ بہرحال معنی ایک ہی ہے، یعنی یقیناً آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے۔ (الکہف: ٧٦ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٨٥) (تحفة الأشراف: ٤٢) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو الجاریہ عبدی مجہول راوی ہے )
2934Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ سورة الكهف آية 86 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِرَاءَتُهُ وَيُرْوَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ اخْتَلَفَا فِي قِرَاءَةِ هَذِهِ الْآيَةِ وَارْتَفَعَا إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي ذَلِكَ، فَلَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاسْتَغْنَى بِرِوَايَتِهِ وَلَمْ يَحْتَجْ إِلَى كَعْبٍ وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے «في عين حمئة» پڑھا ١ ؎۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that the Prophet ﷺ recited: ‘fi aini hamiatin’ (18:86). [Abu Dawud 3986]

صحيح المتنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے، ٣ - مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص ؓ دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا، اور اپنا معاملہ (فیصلہ کے لیے) کعب احبار کے پاس لے گئے۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی مشہور قراءت ہے، یعنی: «حَمِئَةٍ» حاء کے بعد بغیر الف کے، جبکہ بعض قراء کی قراءت «حَامِئَةٍ» یعنی حاء کے بعد الف غیر مہموزہ کے ساتھ، بہرحال معنی ہے: اور سورج کو ایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا پایا۔ (الکہف: ٨٦ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٨٦) (تحفة الأشراف: ٤٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں سعد بن اوس سے غلطیاں ہوجایا کرتی تھیں، اور مصدع لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کا متن دیگر سندوں سے ثابت ہے )
2935Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم 1 غُلِبَتِ الرُّومُ 2 إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 ـ 4، قَالَ: يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الرُّومِ عَلَى فَارِسَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيُقْرَأُ غَلَبَتْ وَغُلِبَتْ، يَقُولُ: كَانَتْ غُلِبَتْ ثُمَّ غَلَبَتْ، هَكَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ غَلَبَتْ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر («الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ١ ؎۔ چناچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that during the Battle of Badr, (it was learnt that) the Romans defeated the Persians. The believers liked that and the verse was revealed: ‘Alif laam meem ghulibati ar-rum’ to ‘yafrahul mominun’, the believers being happy at the Roman success over the Persians.

صحيح وسيأتي برقم (3420)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2935
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «الم» رومی مغلوب ہوگئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔ (الروم: ١ -٤) ٢ ؎: اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے، اور اہل فارس کافر و مشرک تھے جیسے اہل مکہ کافر و مشرک تھے۔ ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٠٨) (صحیح) (عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
2936Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ سورة الروم آية 54، فَقَالَ: مِنْ ضُعْفٍ . حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا:«مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ١ ؎ (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said that he recited before the Prophet ﷺ ‘khalaka qum min dha’fin’ He said, ‘Recite ‘khalaka qum min dhu’fin’. (30:54) --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الروض النضير (530) حسن، الروض النضير (530)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2936 ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا یزید بن ہارون نے اور یزید بن ہارون نے فضیل بن مرذوق سے کی حدیث روایت کی فضل بن مرذوق نے عطیہ سے اور عطیہ نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2936
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی مشہور قراءت ہے، اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ عاصم اور حمزہ کی قراءت ہے، یعنی ہے: اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا۔ (الروم: ٥٤ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٧٨) (تحفة الأشراف: ٧٣٣٤) (حسن ) انظر ماقبلہ (حسن )
2937Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ «فهل من مدکر» ١ ؎ پڑھتے تھے۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ recited: ‘fahal mim muddakir’ (54:17) [Ahmed 3853,Bukhari 3341,Muslim 823,Abu Dawud 3994]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی مشہور قراءت ہے یعنی دال مہملہ کے ساتھ اس کی اصل ہے «مُذْ تَکِر» (بروزن «مُجْتَنِب» تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا اور ذال کو دال میں مدغم کردیا تو «مُدَّکِر» ہوگیا، بعض قراء نے «ُ مُذَّکِر» (ذال معجم کے ساتھ) پڑھا ہے بہرحال معنی ہے: پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا (القمر: ٤٠ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤١)، وتسیر سورة القمر ٢ (٤٨٧ ¤ ٢- ٤٨٧٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٣)، سنن ابی داود/ الحروف (٢٩٩٤) (تحفة الأشراف: ٩١٧٩) (صحیح )
2938Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ سورة الواقعة آية 89 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَارُونَ الْأَعْوَرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ «فروح وريحان وجنة نعيم» ١ ؎ پڑھتے تھے۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ used to recite: فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ (56:89) [Ahmed 3991,Ahmed 5834]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت «فَرَوحٌ» (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراءت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے، اور ضمہ کی صورت میں معنی ہوگا: اس کی روح پھولوں اور آرام والی جنت میں نکل کر جائیگی (الواقعہ: ٨٩ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٩١) (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٤) (صحیح الإسناد )
2939Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: فَأَشَارُوا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، فَقَالأَبُو الدَّرْدَاءِ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَنِي أَنْ أَقْرَأَهَا وَمَا خَلَقَ سورة الليل آية 3 فَلَا أُتَابِعُهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0.

علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء ؓ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشی» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشی والذکر والأنثی» ١ ؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو الدرداء نے کہا: اور میں، قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں (یعنی «وما خلق والذکر والأنثی» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔

Alqamah narrated : We went to Syria. Abu Darda visited us and asked, “Is there anyone among you wo recites as per the recital of Abdullah (Ibn Mas’ud (RA). The others pointed me out and I said, ‘Yes. So, he asked, “ How did you hear Abdullah recite this verse; ‘wal layli iza yaghsha’ ?, I said, “I heard him recite:

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشی والنهار إذا تجلی والذکر والأنثی »
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت ہے «والليل إذا يغشی والنهار إذا تجلی وما خلق الذکر والأنثی» حدیث میں مذکور قراءت اس میں مذکور اشخاص ہی کی ہے، ان کے علاوہ اور کسی بھی قاری سے یہ منقول نہیں ہے، عثمان ؓ کے قراءت شاید اس کے منسوخ ہوجانے کی خبر پہنچی ہو جو ان مذکورہ اشخاص تک نہیں پہنچی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة اللیل ١ (٤٩٤٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٤) (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٥) (صحیح )
2940Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ got him to recite the verse (51:58). إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ [Ahmed 3970,Abu Dawud 3993]

صحيح المتنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2940
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب کہ مشہور قرأت «إن اللہ هو الرزاق ذو القوة المتين» ہے، یعنی: اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے (الذاریات: ٥٨ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٩٣) (تحفة الأشراف: ٩٣٨٩) (صحیح )
2941Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى سورة الحج آية 2 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِقَتَادَةَ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ أَنَسٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرٍ فَقَرَأَ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ سورة الحج آية 1 ، الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَحَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پڑھا: «وتری الناس سکاری وما هم بسکاری» ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ recited the verse 22:2 (of surah al-Hajj) thus: { وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى } [Bukhari 4741]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2941
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - قتادہ صحابہ میں سے انس ابوطفیل کے علاوہ کسی اور صحابی سے ہم سماع نہیں جانتے، ٣ - یہ روایت میرے نزدیک مختصر ہے۔ پوری روایت اس طرح ہے: روایت کی گئی قتادہ سے، قتادہ نے روایت کی حسن بصری سے، اور حسن بصری نے روایت کی عمران بن حصین سے، ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ نے آیت «يا أيها الناس اتقوا ربکم» ٢ ؎ پڑھی، (آگے) پوری حدیث بیان کی، ٤ - حکم بن عبدالملک کی حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے مختصر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی مشہور قراءت ہے، جس کے معنی ہیں: اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش اور بدمست دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے، بعض اور قاریوں نے اسے «سَکْرَی» پڑھا ہے۔ ٢ ؎: الحج: ١ ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٧) (صحیح )
2942Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ، فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ١ ؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘How wrong it is for one of them or, for one of you to say, ‘I have forgotten such-and-such a verse’. Rather, he has been made to forget. Hence, keep revising the Quran, for, by Him in whose Hand is my soul, it is more liable to escape from hearts of people than an animal from its tether.” [Ahmed 3620,Bukhari 5032,Muslim 790,Nisai 939]

صحيح الظلال (422)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت نہی تحریمی نہیں ہے، بلکہ نہی تنزیہی ہے یعنی: ایسا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اور قرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے بعض روایات میں میں بھول گیا کہنا بھی ملتا ہے، اس لیے مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی پر محمول کی گئی ہے۔ یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ٢ ؎: معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، اس لیے قرآن کو بار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢٣ (٥٠٣٢)، و ٢٦ (٥٠٣٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٣ (٧٩٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٤٤) (تحفة الأشراف: ٩٢٩٥)، و مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٧، ٤٢٣، ٤٦٣٤٣٩)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٤ (٣٣٩٠)، والرقاق ٣٢ (٢٧٨٧) (صحیح )
2944Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ أَيُّوبَ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي بَكْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے ملے۔ آپ نے فرمایا: جبرائیل! میں ایک امی (ان پڑھ) قوم کے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ان میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں، لڑکے اور لڑکیاں ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: محمد! قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ met Jibril he said, “O Jibril, I am sent to a ummah who are unlettered. They include old women, old men, young boys, young girls and men who have never read a book.” He said, “ O Muhammad ﷺ , the Quran is revealed in seven readings.” [Ahmed 23507]

حسن صحيح، صحيح أبي داود (1328)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، حذیفہ بن یمان، ابوہریرہ، اور ام ایوب ؓ ام ایوب (ابوایوب انصاری کی بیوی) ۔ اور سمرہ، ابن عباس، ابوجہیم بن حارث بن صمہ، عمرو بن العاص اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابی بن کعب سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٠)، وانظر: مسند احمد (٥/١١٤، ١٢٢، ١٢٥) (حسن صحیح )
2943Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ، لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا، فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، اقْرَأْ يَا هِشَامُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، فَقَرَأْتُ بِالْقِرَاءَةِ الَّتِي أَقْرَأَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ.

مسور بن مخرمہ ؓ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا، وہ سورة الفرقان پڑھ رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ زندہ تھے، میں نے ان کی قرأت سنی، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے، جن پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کردیتا مگر میں نے انہیں (نماز پڑھ لینے تک کی) مہلت دی۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا، میں نے ان سے پوچھا: یہ سورة جسے میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے، تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ نے ہی مجھے یہ سورة پڑھائی جو تم پڑھ رہے تھے ١ ؎، میں انہیں کھینچتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورة الفرقان ایسے حرفوں (طریقوں) پر پڑھتے ہوئے سنا ہے جن پر آپ نے مجھے پڑھنا نہیں سکھایا ہے جب کہ آپ ہی نے مجھے سورة الفرقان پڑھایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو، ہشام! تم پڑھو ۔ تو انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ایسی ہی نازل ہوئی ہے ۔ پھر مجھ سے آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! تم پڑھو ، تو میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے ٢ ؎، تو جو قرأت تمہیں آسان لگے اسی قرأت پر تم قرآن پڑھو ۔

Miswar ibn Makhramah and Abdur Rahman ibn Abdul Qari said that they heard Umar (RA) ibn al-Khattab say: ‘In the days of the Prophet ﷺ “I passed by Hisham ibn Hakim ibn Hizam while he was reciting surah ai-Furqan. I heard his recital and he was reciting in many readings that Allah’s Messenger ﷺ had not taught me. I very nearly quarrelled with him while he was engaged in salah, but checked myself till he finished. When he turned in salutation, I put his cloak over him and asked him, “Who taught you this surah that I heard you recite (now)?” He said, “Allah’s Messenger ﷺ taught it to me.” I said, “You lie. By Allah, surely Allah’s Messenger ﷺ also taught me this surah.” So, I dragged him to Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger of Allah ﷺ , I heard him recite surah al-Furqan in a reading that you have not taught me while you did teach me surah al-Furqan.” So, the Prophet ﷺ said, “Free him, O Umar (RA) . And recite, O Hisham ! So, he recited in the reading that I had heard. The Prophet ﷺ said, “It was revealed in this manner.” Then he asked me to recite. So I did recite as he had taught me and he said, “This is how it was revealed.’ Then he said, “Surely this Quran is revealed in seven readings. So recite that which is easy for you.” [Ahmed 277,Bukhari 2419,Muslim 818,Nisai 932]

صحيح، صحيح أبي داود (1325)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک بن انس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی روایت میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن جس طرح تم پڑھ رہے تھے اس طرح مجھے رسول اللہ ﷺ نے نہیں پڑھایا، اس لیے تم غلط گو ہو۔ ٢ ؎: سات حرفوں پر قرآن کے نازل ہونے کے مطلب میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں، لیکن سب سے راجح مطلب یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کی ادائیگی (لہجہ) یا اس کے ہم معنی دوسرے لفظ کا استعمال مراد ہے جیسے بعض قبائل «حَتّٰی حِیْنَ» کو عین سے «عتّٰی حِیْنَ» پڑھتے تھے، اور جیسے «سُکٰریٰ» کو «سَکْرٰی» یا «سکر» پڑھتے تھے وغیرہ وغیرہ تو جس قبیلے کا جس لفظ میں جو لہجہ تھا اس کو پڑھنے کی اجازت دیدی گئی تاکہ قرآن پڑھنے میں لوگوں کو آسانی ہو، لیکن اس کا معنی یہ بھی نہیں ہے کہ قرآن کے ہر لفظ میں سات لہجے یا طریقے ہیں، کسی میں دو، کسی میں چار، اور شاذ و نادر کسی میں سات لہجے ہیں، زیادہ تر میں صرف ایک ہی لہجہ ہے، عثمان ؓ نے سب ختم کر کے ایک لہجہ یعنی قریش کی زبان پر قرآن کو جمع کر کے باقی سب کو ختم کرا دیا تھا، تاکہ اب اس طرح کا جھگڑا ہی نہ ہو، «فجزاہ اللہ عن الاسلام خیراً»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخصومات ٤ (٢٤١٩)، وفضائل القرآن ٥ (٤٩٩٢)، و ٢٧ (٥٠٤١)، والمرتدین ٩ (٦٩٣٦)، والتوحید ٥٣ (٧٥٥٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٨ (٨١٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٧ (١٤٧٥)، سنن النسائی/الإفتتاح ٣٧ (٩٣٧-٩٣٩) (تحفة الأشراف: ١٠٥٩١ و ١٠٦٤٢)، وط/القرآن ٤ (٥) (صحیح )
2945Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کردیتا ہے اور جب قوم (لوگ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ (قرآن) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے (سمجھتے سمجھاتے) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کردیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone removes a difficulty of the difficulties of this world facing his brother then Allah will remove from him a difficulty of the difficulties of the Day of Ressurecton. If anyone conceals (the faults of) a Muslim then Allah conceals his faults in this world and the Hereafter. If anyone makes it easy for a person who is in straitened circumstances then Allah will make it easy for him in this world and the next. And Allah is Helpful to the slave as long as he is helpful to his brother. And, if anyone pursues a path seeking thereby knowledge then Allah makes easy for him a path to Paradise. And no people sit in the mosque reciting Allah’s Book, teaching it to each other but tranquility descends on them and mercy covers them up and the angels surround them. And, if anyone is slack in (doing) his deeds then his lineage will not advance him.” [Ahmed 8323,Muslim 2699,Abu Dawud 4946, Ibn e Majah 225, 2417, 544] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2945
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٢ - اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، (اس روایت میں ہے کہ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ٢ ؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہنا کہ میں فلاں خاندان کا ہوں، اس کے کہنے اور سمجھنے سے اس کا رتبہ و مرتبہ بلند نہیں ہوجائے گا، بلند ہوگا تو قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی اس سند میں اعمش اور ابوصالح کے درمیان ایک اور راوی کا واسطہ ہے، جبکہ پہلی سند میں اعمش کی ابوصالح سے براہ راست روایت ہے، اور اعمش ابوصالح سے براہ راست روایت کرتے ہیں، بلکہ اعمش تو ابوصالح کے راویہ (بہت بڑے راوی) ہیں حتیٰ کہ ابوصالح سے روایت میں اعمش کے عنعنہ کو بھی تحدیث (براہ راست سماع) پر محمول کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٦٤٦ (صحیح )
2946Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: اخْتِمْهُ فِي شَهْرٍ ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي عِشْرِينَ ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي عَشْرٍ ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي خَمْسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَمَا رَخَّصَ لِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوًجْهِ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ ، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَلَا نُحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يُقْرَأُ الْقُرْآنُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لِلْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ يُوتِرُ بِهَا، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ فِي الْكَعْبَةِ، وَالتَّرْتِيلُ فِي الْقِرَاءَةِ أَحَبُّ إِلَى أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: مہینے میں ایک بار ختم کرو ، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر (یعنی کم مدت میں) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو بیس دن میں ختم کرو ۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پندرہ دن میں ختم کرلیا کرو ۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: دس دن میں ختم کرلیا کرو ۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: پانچ دن میں ختم کرلیا کرو ۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ نے مجھے پانچ دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated: I submitted, “O Messenger of Allah ﷺ in how much time may I recite the Qur’an?” He said, “Complete it in a month.” I said, “I can do better than that.” He said, “Complete it in twenty days.” I said, “I can do better than that.” He said, “Complete it in fifteen days.” I said, “I can do better than that.” He said, “Complete it in ten days.”I said, “I can do better than that.” He said,”Complete it in five days.”I said, “I can do better than that.” But, he did not allow me further concession. [Ahmed 6557]

ضعيف الإسناد، وقد، الصحيحة أنه قال له: اقرأه في كل ثلاث، صحيح أبي داود (1255) // (1237 / 1388) //، صحيح أبي داود (1260) // (1242 / 1394) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2946
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث بطریق: «أبي بردة عن عبد اللہ بن عمرو» غریب سمجھی گئی ہے، ٣ - یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم مدت میں پڑھا، اس نے قرآن کو نہیں سمجھا ، ٤ - عبداللہ بن عمرو سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: قرآن چالیس دن میں پڑھ ڈالا کرو ، ٥ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: ہم اس حدیث کی بنا پر کسی آدمی کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہ اس پر چالیس دن سے زیادہ گزر جائیں اور وہ قرآن پاک ختم نہ کرچکا ہو، ٦ - اس حدیث کی بنا پر جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن پڑھ کر نہ ختم کیا جائے، ٧ - اور بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے، ٨ - اور عثمان بن عفان سے متعلق ہے مروی ہے کہ وہ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالتے تھے، ٩ - سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھا، ١٠ - قرأت میں ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) اہل علم کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک دن یا تین دن میں ختم کرنے سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور تلاوت کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٨٩٥٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، نیز حدیث میں یہ ہے کہ اختمه في خمس یعنی پانچ دن میں قرآن ختم کرو، عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں پھر کہا کہ رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے اس سے کم دن میں قرآن ختم کرنے کی مجھے اجازت نہیں دی، امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ غرابت بسند ابو بردة عن عبداللہ بن عمرو ہے، واضح رہے کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے آیا ہے کہ رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے ان سے کہا کہ اقرأ القرآن في كل شهر قال: إني أطيق أكثر فما زال حتی قال: $في ثلاث# تم ہر مہینے میں قرآن ختم کرو، تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اور برابر یہ کہتے رہے کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے کہا: ” تین دن میں قرآن ختم کرو “ (صحیح البخاری/الصیام ٥٤ (١٩٧٨)، اور صحیح بخاری (فضائل القرآن ٣٤ ٥٠٥٤)، اور صحیح مسلم (صیام ٣٥ /١٨٢) وأبوداو سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٥ (١٣٨٨) میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے: فاقرأه في كل سبع ولا تزد علی ذلک یعنی ہر سات دن پر قرآن ختم کرو، اور اس سے زیادہ نہ کرو، تو اس سے پتہ چلا کہ فما رخص لي مجھے پانچ دن سے کم کی اجازت نہیں سنن الدارمی/ کا جملہ شاذ ہے، اور تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت محفوظ اور ثابت ہے، اور ایسے ہی دوسری روایت میں سات دن ختم کرنے کی اجازت ہے) اور سبب ضعف ابواسحاق السبیعی ہیں) ۔