عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اپنے سدھائے ١ ؎ ہوئے کتے (شکار کے لیے) روانہ کرتے ہیں (یہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ (شکار کو) مار ڈالیں (پھر بھی حلال ہے) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو ، عدی بن حاتم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ «معراض» (ہتھیار کی چوڑان) سے شکار کرتے ہیں، (اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: جو (ہتھیار کی نوک سے) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض (بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان) سے مرجائے اسے مت کھاؤ۔
Sayyidina Adi ibn Hatim (RA) reported that he submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ we send our trained hunting dog (to hunt).” He said, “You may eat the game they bring to you.” He submitted, “Even if he kills the game? “ He said, “Yes, provided no other dog accompanies the hunting dog.” He submitted again, “O Messenger of Allah! ﷺ we also throw the mi’rad.O” He said “Eat what they pierce, but if it dies from the blunt of the middle (of the mi’rad) then do not eat it.” [Bukhari 5477, Muslim 1929]
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ (شکار کے احکام بتائیے؟ ) آپ نے فرمایا: جب تم (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟ ) آپ نے فرمایا: تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں ہوتا (تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ ) آپ نے فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کوئی برتن نہ پاس کو تو اسے پانی سے دھو لو پھر اس میں کھاؤ پیو ١ ؎۔ اس باب میں عدی بن حاتم سے بھی روایت ہے۔
Aa’izullah ibn Abdullah reported that he heard Abu Tha’labah Khushari say: I said, OH Messenger of Allah ﷺ we are hunters.” He said, “When you send your dog and recite the name of Allah and it catches the game, then eat it,” I asked, “If it kills it?” He said, “Even if it kills it.” I said, “We are shooters of arrow.” He said, “What your arrow fetches for you, eat.” I asked, “We are given to travelling and come across the Jews, the Christians and the Maj’usis (Magians) and we do nDt find anything but their vessels.” He said, “If you do not find anything but that then wash them with water and eat and drink out of them.” [Bukhari 5488, Muslim 1930]
صحيح، ابن ماجة (3207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1464
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوثعلبہ خشنی کا نام جرثوم ہے، انہیں جرثم بن ناشب اور جرثم بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٤ (٥٤٧٨)، و ١٠ (٥٤٨٨)، و ١٤ (٥٤٩٦)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٣٠)، و ٢ (١٩٣١)، سنن ابی داود/ الصید ٢ (٢٨٥٥)، سنن النسائی/الصید ٤ (٤٢٧١)، سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٥)، و مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤، ١٩٥) ویأتي في السیر ١١ (١٥٦٠)، وفي الأطعمة ٧ (٦٩٧١) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے باز کے شکار کے متعلق پوچھا؟ تو آپ نے فرمایا: وہ تمہارے لیے جو روک رکھے اسے کھاؤ۔
Sayyidina Adi ibn Hatim reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ about game hunted by a hawk. He said ‘What it catches for you, eat.’ [Abu Dawud 285]
منكر، صحيح أبي داود (2541)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1467
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند «عن مجالد عن الشعبي» سے جانتے ہیں۔ ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ باز اور شکرے کے شکار میں مضائقہ نہیں سمجھتے، ٣ - مجاہد کہتے ہیں: باز وہ پرندہ ہے جس سے شکار کیا جاتا ہے، یہ اس «جوارح» میں داخل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وما علمتم من الجوارح» میں کیا ہے انہوں نے «جوارح» کی تفسیر کتے اور اس پرندے سے کی ہے جن سے شکار کیا جاتا ہے، ٤ - بعض اہل علم نے باز کے شکار کی رخصت دی ہے اگرچہ وہ شکار میں سے کچھ کھالے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم کا مطلب ہے کہ جب اسے شکار کے لیے چھوڑا جائے تو وہ حکم قبول کرے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے، لیکن اکثر فقہاء کہتے ہیں: باز کا شکار کھایا جائے گا چاہے وہ شکار کا کچھ حصہ کھالے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ٢ (٢٨٥١)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٥) (منکر) (سند میں ” مجالد “ ضعیف ہیں )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر اگلے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں (اس شکار کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارے ہی تیر نے شکار کو مارا ہے اور تم اس میں کسی اور درندے کا اثر نہ دیکھو تو اسے کھاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Adi ibn Hatim reportd that he submitted, “O Messenger of Allah, I shoot the arrow but I find the game the next day with my arrow pierced into it.’ He said, ‘If you know that your arrow had killed it and you do not see signs of a beast having killed it then eatit.’ [Nisai 4311]
صحيح، ابن ماجة (2539)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1468
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے یہ حدیث ابوبشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے، دونوں روایتیں صحیح ہیں، ٣ - اس باب میں ابوثعلبہ خشنی سے بھی روایت ہے، ٤ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اس شکار پر تیر کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز کا بھی اثر ہے جس سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی موت اس دوسرے اثر سے ہوئی ہو تو ایسا شکار حلال نہیں ہے۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم اپنا تیر پھینکتے وقت اس پر اللہ کا نام (یعنی بسم اللہ) پڑھو، پھر اگر اسے مرا ہوا پاؤ تو بھی کھالو، سوائے اس کے کہ اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ پانی نے اسے مارا ہے یا تمہارے تیر نے ١ ؎۔
Sayyidina Adi Ibn Hatim reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ about game. He said, “When you throw the arrow, mention the name of Allah. If you find it killed, eat it unless you find it dead in water, for you cannot say if the water brought its death or your arrow.’ [Bukhari 5414, Muslim 1929]
صحيح، صحيح أبي داود (2540)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر تیر کی مار کھانے کے بعد یہ شکار تیر کے سبب پانی میں گرا ہو پھر شکاری نے اسے پکڑ لیا ہو تو یہ حلال ہے، کیونکہ اب اس کا شبہ نہیں رہا کہ وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہے۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئے کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو، اور (بھیجتے وقت اس پر) اللہ کا نام (یعنی بسم اللہ) پڑھ لو تو تمہارے لیے جو کچھ وہ روک رکھے اسے کھاؤ اور اگر وہ شکار سے کچھ کھالے تو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے شکار اپنے لیے روکا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شریک ہوجائیں؟ آپ نے فرمایا: تم نے اللہ کا نام (یعنی بسم اللہ) اپنے ہی کتے پر پڑھا ہے دوسرے کتے پر نہیں ۔ سفیان (ثوری) کہتے ہیں: آپ نے اس کے لیے اس کا کھانا درست نہیں سمجھا ١ ؎۔
Sayyidina Adi ibn Hatim (RA) reported having asked Allah’s Messenger ﷺ about game caught by a trained dog. He said, “If you set off your trained dog and mention Allah’s name then eat what it catches for you. If it has eaten from it then you do not eat, for it has caught it for itself.’ He asked, “O Messenger of Allah, if our dogs are joined by other dogs then what?” He said, “You have mentioned the name of Allah over your dog and did not mention over those besides it,’ Sufyan said that it was disliked to eat that. [Bukhari 5483, Muslim 1929]
صحيح، صحيح أبي داود (2538 و 2543)، الإرواء (2546)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1470
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ذبیحہ اور شکار کے سلسلے میں صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور دوسرے لوگوں کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب وہ پانی میں گرجائیں تو انہیں کوئی نہ کھائے اور بعض لوگ ذبیحہ کے بارے میں کہتے ہیں: جب اس کا گلا کاٹ دیا جائے، پھر پانی میں گرے اور مرجائے تو اسے کھایا جائے گا، عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے، ٢ - اہل علم کا اس مسئلہ میں کہ جب کتا شکار کا کچھ حصہ کھالے اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں: جب کتا شکار سے کھالے تو اسے مت کھاؤ، سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٣ - جب کہ صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور دوسرے لوگوں نے کھانے کی رخصت دی ہے، اگرچہ اس میں سے کتے نے کھالیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ بسم اللہ تم نے صرف اپنے کتے پر پڑھا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ نے ایسے کتے کا شکار جس کے ساتھ دوسرے کتے شریک رہے ہوں کھانا درست نہیں سمجھا۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بغیر پر کے تیر کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: جسے تم نے دھار سے مارا ہے اسے کھاؤ اور جسے عرض (بغیر دھاردار حصہ یعنی چوڑان) سے مارا ہے تو وہ «وقيذ» ہے ١ ؎۔
Sayyidina Adi ibn Hatim (RA) said that he asked the Prophet ﷺ about hunting with mi’rad. He said, ‘That which comes to you from its tip, eat. But that which you get with its sides is knocked down,” (meaning, “If the animal dies with the sharp end of the mi’rad then yOU may eat, hut if it dies from the strike of its side then you may not eat.”) [Bukhari 4575, Muslim 929]
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا ١ ؎، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that a man of his tribe hunted a rabbit or two and slaughtered them with stone. He then hung them till he met Allah’s Messenger ﷺ and asked him. He said, ‘Eat them.” [Abu Dawud 2822, Nisai 4324, Ibn e Majah 3125] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3175)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1472
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی روایت میں شعبی کے شاگردوں کا اختلاف ہے، داود بن أبی ہند بسند الشعبی عن محمد بن صفوان ؓ روایت کرتے ہیں، اور عاصم الأحول بسند الشعبی عن صفوان بن محمد یا محمد بن صفوان روایت کرتے ہیں، (صفوان بن محمد کے بجائے محمد بن صفوان زیادہ صحیح ہے) جابر جعفی بھی بسند «شعبي عن جابر بن عبد الله» قتادہ کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں، اس بات کا احتمال ہے کہ شعبی کی روایت دونوں سے ہو ٣ ؎، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: جابر کی شعبی سے روایت غیر محفوظ ہے، ٣ - اس باب میں محمد بن صفوان، رافع اور عدی بن حاتم سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - بعض اہل علم نے پتھر سے ذبح کرنے کی رخصت دی ہے ٢ ؎، ٥ - یہ لوگ خرگوش کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ٦ - بعض لوگ خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس شرط کے ساتھ کہ پتھر نوکیلا ہو اور اس سے خون بہہ جائے «ما أنهر الدم» کا یہی مفہوم ہے کہ جس سے خون بہہ جائے اسے کھاؤ۔ ٢ ؎: علماء کی یہ رائے درست ہے، کیونکہ باب کی حدیث سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ ٣ ؎: یعنی شعبی نے محمد بن صفوان اور جابر بن عبداللہ دونوں سے روایت کی ہو۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade eating the mujaththamah. It is an animal tied to a rope and targetted.
صحيح، الصحيحة (2391)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1473
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مصبورہ»: وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہو، ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح خیبر کے دن ہر کچلی والے درندے ١ ؎ پنجے والے پرندے ٢ ؎، پالتو گدھے کے گوشت، «مجثمة» اور «خليسة» سے منع فرمایا، آپ نے حاملہ (لونڈی جو نئی نئی مسلمانوں کی قید میں آئے) کے ساتھ جب تک وہ بچہ نہ جنے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا۔ راوی محمد بن یحییٰ قطعی کہتے ہیں: ابوعاصم سے «مجثمة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: پرندے یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جائے (یہاں تک کہ وہ مرجائے) اور ان سے «خليسة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: «خليسة» وہ جانور ہے، جس کو بھیڑیا یا درندہ پکڑے اور اس سے کوئی آدمی اسے چھین لے پھر وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے اس کے ہاتھ میں مرجائے۔
Wahb ibn Khalid reported from Sayyidah Urnm Habibah bint Irbad ibn Sariyah on the authority of her father that Allah’s Messenger ﷺ forbade on the day of Khaybar every carnivorous beast with cannine teeth (with a fang), every bird with a claw, flesh of domestic asses, the mujaththamah and khalisah, and sexual intercourse with pregnant slavewomen till they have given birth to their child, Muhammad ibn Yahya said that this means that sexual intercourse must not be had with women who are not pregnant before they menstruate. Abu Aasim was asked about mujaththamah and he said: a bird or something is tied up and targetted. And he was asked about khalisah and he said; an animal snatched by a man from a wolf or a beast of prey but it dies before he can slaughter it. [Ahmed 17153]
صحيح - صحيح مفرقا إلا الخليسة -، الصحيحة (4 / 238 - 239 و 1673 و 2358 و 2391)، الإرواء (2488)، صحيح أبي داود (1883 و 2507)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1474
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً بھیڑیا، شیر اور چیتا وغیرہ۔ ٢ ؎: گدھ اور باز وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ویأتي عندہ برقم ١٥٦٤ (تحفة الأشراف: ٩٨٩٢)، وانظر مسند احمد (٤/١٢٧) (صحیح) (سند میں ” ام حبیبہ “ مجہول ہیں، ” خلیسہ “ کے سوا تمام ٹکڑے شواہد کی بنا پر صحیح ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade taking of a living animal as target (shooting). [Ibn e Majah 3187, Ahmed 1863]
صحيح، ابن ماجة (3187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1475
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٥٧)، سنن النسائی/الضحایا ٤١ (٤٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦١١٢)، و مسند احمد (١/٢١٦، ٢٧٣، ٢٨٠، ٢٨٥، ٣٤٠، ٣٤٥) (صحیح) (مؤلف اور ابن ماجہ کی سند میں سماک و عکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگر کی سندیں صحیح ہیں )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنین ١ ؎ کی ماں کا ذبح ہی جنین کے ذبح کے لیے کافی ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Slaughter of an unborn (in its mother’s womb) is included in its mother’s slaughter.’ [Abu Dawud 2828. Ibn e Majah 3199, Ahmed 12260]
صحيح، ابن ماجة (3199)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1476
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور یہ اس سند کے علاوہ سے بھی ابو سعید خدری سے ہے، ٣ - اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابو الدرداء، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام اور ان کے علاوہ لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بچہ جب تک ماں کی پیٹ میں رہے اسے جنین کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی جب کسی جانور کو ذبح کیا جائے پھر اس کے پیٹ سے بچہ (مردہ) نکلے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بچہ مادہ جانور کے جسم کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اسے ذبح نہیں کیا جائے گا، البتہ زندہ نکلنے کی صورت میں وہ بچہ ذبح کے بعد ہی حلال ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ١٨ (٢٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٥ (٣١٩٩)، و مسند احمد (٣/٣١، ٥٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” مجالد “ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم ٢٥٣٩ )
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ١ ؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidina Abu Tha’labah Khushari reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade every animal with cannine teeth (with which it grabs its prey). [Ahmed 1775, Bukhari 5530, Muslim 1932]
صحيح، ابن ماجة (3232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1477
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دانت (یعنی کچلیوں) سے شکار اور چیر پھاڑ کرنے والے جانور مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، اور بندر وغیرہ یہ سب حرام ہیں، اسی طرح ان کے کیے ہوئے شکار اگر مرگئے ہوں تو ان کا کھانا جائز نہیں۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھے، خچر کے گوشت، ہر کچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے کو حرام کردیا۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger forbade on the day of Khaybar domestic asses, flesh of mules, every carnivorous beast with a fang and every bird with a talon (that hunt with their claws). [Bukhari 4219, Muslim 1941]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ forbade every beast with a fang (which hunted with its teeth, like a lion or a dog). [Muslim 1933]
حسن صحيح، ابن ماجة (3233)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1479
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الانعام کی آیت «قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما علی طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير اللہ به» (الأنعام: ١٤٥ ) کے عام مفہوم سے یہ استدلال کرنا کہ ہر کچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے حلال ہیں درست نہیں کیونکہ باب کی یہ حدیث اور سورة المائدہ کی آیت «وما أكل السبع إلا ما ذكيتم» (المائدة: ٣ ) سورة الانعام کی مذکورہ آیت کے لیے مخص ہے نیز سورة المائدہ کی آیت مدنی ہے جب کہ سورة الانعام کی آیت مکی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن ابن ماجہ/الصید ١٣ (٣٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٦)، و مسند احمد (٢/٣٣٦، ٣٦٦، ٤٤٨) (صحیح )
ابو واقد حارث بن عوف لیثی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے، وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کے کوہان اور (زندہ) بکریوں کی پٹھ کاٹتے تھے، آپ نے فرمایا: زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے ١ ؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidina Abu Waqid Laythi reported that when the Prophet ﷺ came to Madinah, the people used to cut of f humps of camel and the fat tails of sheep. He said, That which is cut off an animal which is alive is (regarded as) dead. (It is not allowed to eat it). [Abu Dawud 2858]
ابوالعشراء کے والد اسامہ بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ذبح (شرعی) صرف حلق اور لبہ ہی میں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اگر اس کی ران میں بھی تیر مار دو تو کافی ہوگا ، یزید بن ہارون کہتے ہیں: یہ حکم ضرورت کے ساتھ خاص ہے۔
Abu Ushara reported from his father who said that he asked, “O Messenger of Allah, is the slaughtering only from the throat and upper pait of the breast?” He said, “If you strike the spear on its thigh then it is enough.’ Ahmad ibn Mani reported from Yazid ibn Harun that this was allowed in cases of necessity. [Abu Dawud 2825, Nisai 4420]
ضعيف، ابن ماجة (3184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1481
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس حدیث کے علاوہ ابو العشراء کی کوئی اور حدیث ان کے باپ سے ہم نہیں جانتے ہیں، ابوالعشراء کے نام کے سلسلے میں اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں: ان کا نام اسامہ بن قھطم ہے، اور کہا جاتا ہے ان کا نام یسار بن برز ہے اور ابن بلز بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام عطارد ہے دادا کی طرف ان کی نسبت کی گئی ہے، ٣ - اس باب میں رافع بن خدیج سے بھی روایت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ١٦ (٢٨٢٥)، سنن النسائی/الضحایا ٢٥ (٤٤١٣)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٤) و مسند احمد (٤/٣٣٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (سند میں ” ابوالعشراء “ مجہول ہیں، ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چھپکلی ١ ؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہوگا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہوگا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہوگا ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone kills a gecko (a small lizard) with the first blow then it is as though he has so many good deeds. If he kills it with the second blow then it is as though he has ‘so many’ good deeds. If he kills it with the third blow then it is as though he has ‘so many’ good deeds (meaning, each time the credit is lesser than before).” [Muslim 2240] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1482
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، سعد، عائشہ اور ام شریک سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہندوستان میں لوگ گرگٹ کو غلط طور پر وزع سمجھ کر اس کو مانا ثواب کا کام سمجھتے ہیں جب کہ وہ عام طور پر جنگل جھاڑی میں رہتا ہے اور چھپکلی اپنی ضرر رسانیوں کے ساتھ گھروں میں پائی جاتی ہے، اس لیے اس کا مارنا موذی کو مارنا ہے جس کے مارنے کا ثواب بھی ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں ہے کہ پہلی چوٹ میں مارنے پر سو اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم نیکیاں ملیں گی، امام نووی کہتے ہی: پہلی چوٹ میں نیکیوں کی کثرت کا سبب یہ ہے تاکہ لوگ اسے مارنے میں پہل کریں اور اسے مار کر مذکورہ ثواب کے مستحق ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٨ (الحیؤن ٢) (٢٢٤٠)، سنن ابی داود/ الأدب ١٧٥ (٥٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٦١)، و مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سانپوں کو مارو، خاص طور سے اس سانپ کو مارو جس کی پیٹھ پہ دو (کالی) لکیریں ہوتی ہیں اور اس سانپ کو جس کی دم چھوٹی ہوتی ہے اس لیے کہ یہ دونوں بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں ١ ؎۔
Saalim ibn Abdullah reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, Kill snakes. Also kill those snakes that have black spots on their back. Also kill the snakes with tiny tairs because both of them harm eye sight and cause miscarriage.” [Bukhari 3297, Muslim 2233]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1483
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن عمر ؓ سے مروی ہے وہ ابولبابہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جنہیں «عوامر» (بستیوں میں رہنے والے سانپ) کہا جاتا ہے، مارنے سے منع فرمایا ٢ ؎: ابن عمر اس حدیث کو زید بن خطاب ٣ ؎ سے بھی روایت کرتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: سانپوں کے اقسام میں سے اس سانپ کو بھی مارنا مکروہ ہے جو پتلا (اور سفید) ہوتا ہے گویا کہ وہ چاندی ہو، وہ چلنے میں بل نہیں کھاتا بلکہ سیدھا چلتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں میں ایسا زہر ہوتا ہے کہ انہیں دیکھنے والا نابینا ہوجاتا ہے اور حاملہ کا حمل گر جاتا ہے۔ ٢ ؎: یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ جن و شیاطین بھی ہوسکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہوجانے یا اپنی شکل تبدیل کرلینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہیئے، اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو وہ ابو سعید خدری سے مروی حدیث کی روشنی میں انہیں مار سکتے ہیں۔ ٣ ؎: زید بن خطاب عمر بن خطاب ؓ کے بڑے بھائی ہیں، یہ عمر ؓ سے پہلے اسلام لائے، بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے، ان سے صرف ایک حدیث گھروں میں رہنے والے سانپوں کو نہ مارنے سے متعلق آئی ہے۔