سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ ﷺ میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ ﷺ نے کہا: نہیں ، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ١ ؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جس کو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: تم میرے بعد زندہ رہ کر اللہ کی رضا مندی کی خاطر جو بھی عمل کرو گے اس کی وجہ سے تمہارے درجات میں بلندی اور اضافہ ہوتا جائے گا، شاید کہ تم میرے بعد زندہ رہو یہاں تک کہ تم سے کچھ قومیں نفع اٹھائیں گی اور دوسری نقصان اٹھائیں گی ٢ ؎، (پھر آپ نے دعا کی) اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دنیا لیکن بیچارے سعد بن خولہ جن پر رسول اللہ ﷺ افسوس کرتے تھے، (ہجرت کے بعد) مکہ ہی میں ان کی وفات ہوئی۔
Sa’d ibn Abu Waqas (RA) narrated I fell ill during the year of the conquest of Makkah and found myself on the point of death. Allah’s Messenger ﷺ came to me and enquired about my health. I said, “O Messenger of Allah, I have abundant wealth and no one but my one daughter will inherit me. So, I bequeath all my wealth.” He said, “No.” So, I said, “Two-thirds”, but he said,” No” I said, “A half “, but he again said, “No.” I said “Then, one-third.” He agreed, ‘One-third, but one-third is much. Indeed, if you leave your heirs rich, it is better than to leave them poor, begging from people. You will not spend anything without being rewarded for it, even the morsel you raise to the mouth of your wife.” I said, “O Messenger ﷺ of Allah, will I have to stay behind from my hijrah.” He said, “You will never remain behind, after me, if you do deeds seeking pleasure of Allah, your rank will be raised. Perhaps you survive me and some people benefit from you while same suffer loss. O Allah complete the hijrah of my sahabah. And do not cause them to turn back on their heels.” But the unfortunate Sad ibn Khawlah! Allah’s Messenger grieved for him, he died at Makkah. [Ahmed 1546, Bukhari 56, Muslim 1628, Abu Dawud 2864, Ibn Majah 2708, Nisai 3626] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2708)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2116
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، ٤ - بعض اہل علم ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کو مستحب سمجھتے ہیں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صاحب مال ورثاء کو محروم رکھنے کی کوشش نہ کرے، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ اپنے تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے، اس سے زیادہ کی وصیت نہیں کرسکتا ہے، البتہ ورثاء اگر زائد کی اجازت دیں تو پھر کوئی حرج کی بات نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ورثاء کا مالدار رہنا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا بہت بہتر ہے۔ ٢ ؎: آپ ﷺ نے سعد بن ابی وقاص کے متعلق جس امید کا اظہار کیا تھا وہ پوری ہوئی، چناچہ سعد اس مرض سے شفاء یاب ہوئے اور آپ کے بعد کافی لمبی عمر پائی، ان سے ایک طرف مسلمانوں کو فائدہ پہنچا تو دوسری جانب کفار کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا، ان کا انتقال مشہور قول کے مطابق ٥٠ ھ میں ہوا تھا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کرتے ہیں پھر ان کی موت کا وقت آتا ہے اور وہ وصیت کرنے میں (ورثاء کو) نقصان پہنچاتے ہیں ١ ؎، جس کی وجہ سے ان دونوں کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے ، پھر ابوہریرہ نے «من بعد وصية يوصی بها أو دين غير مضار وصية من الله» سے «ذلک الفوز العظيم» ٢ ؎ تک آیت پڑھی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed the man and woman perform deeds in obedience to Allah for sixty years. Then death is nearer to them and they err in making the will so that the fire necessarily becomes their destination.” Then Abu Hurairah (RA) recited to the sub narrator this verse:" After (paying) bequest that is a mighty triumph." (4:11-13) [Abu Dawud 2867, Ibn Majah 2704] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2704) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (591)، المشکاة (3075)، ضعيف الجامع الصغير (1457)، ضعيف أبي داود (614 / 2867) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2117
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - نصر بن علی جنہوں نے اشعث بن جابر سے روایت کی ہے وہ نصر بن علی جہضمی کے دادا ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نقصان پہنچانے کی صورت یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کردی یا ورثاء میں سے کسی ایک کو سارا مال ہبہ کردیا یا وصیت سے پہلے وہ جھوٹ کا سہارا لے کر اپنے اوپر دوسروں کا قرض ثابت کرے، ظاہر ہے ان تمام صورتوں میں ورثاء نقصان سے دوچار ہوں گے، اس لیے اس کی سزا بھی سخت ہے۔ ٢ ؎: اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار ہے، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے (النساء: ١٢ -١٣)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الوصایا ٣ (٢٨٦٧)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٣ (٢٧٣٤) (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٥) (ضعیف) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی حالت میں گزارے کہ وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It does not behoove a Muslim to let two nights go by without drawing a will while he has something for which he should make a bequest, but he should have it written down by him.” [Bukhari 2738] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2699)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2118
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت میراث کے نزول سے پہلے وصیت کرنا لازمی اور ضروری تھا، لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ورثاء کے حصے متعین ہوگئے اس لیے ورثاء سے متعلق وصیت کا سلسلہ بند ہوگیا، البتہ ان کے علاوہ کے لیے تہائی مال میں وصیت کی جاسکتی ہے، اور یہ وصیت اس حدیث کی روشنی میں تحریری شکل میں موجود رہنی چاہیئے۔
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں ١ ؎ میں نے پوچھا: پھر وصیت کیسے لکھی گئی اور آپ نے لوگوں کو کس چیز کا حکم دیا؟ ابن ابی اوفی نے کہا: آپ نے کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے کی وصیت کی۔
Talhah ibn Musarrif narrated I asked Ibn Abu Awfa whether Allah’s Messenger ﷺ had drawn a will. He said, “No.” I asked, “How then is a will drafted? And how did he command people (to this)?” He said, “He gave instruction to abide by Allah’s Book.” [Bukhari 2740, Muslim 1634] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2696)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2119
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن ابی اوفی ؓ نے یہ سمجھا کہ یہ سوال کسی خاص وصیت کے تعلق سے ہے اسی لیے نفی میں جواب دیا، اس سے مطلق وصیت کی نفی مقصود نہیں ہے، بلکہ اس نفی کا تعلق مالی وصیت یا علی ؓ سے متعلق کسی مخصوص وصیت سے ہے، ورنہ آپ ﷺ نے وصیت کی جیسا کہ خود ابن ابی اوفی نے بیان کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧١٠)، والمغازي ٨٣ (٤٤٦٠)، وفضائل القرآن ١٨ (٥٠٢٢)، صحیح مسلم/الوصایا ٥ (١٦٣٤)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٣٦٥٠)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٧٠)، و مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١) (صحیح )
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا (ولدالزنا) بستر والے کی طرف منسوب ہوگا (نہ کہ زانی کی طرف) ، اور زانی رجم کا مستحق ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری طرف نسبت کی یا اپنے موالی کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا اس پر قیامت کے دن تک جاری رہنے والی لعنت ہو، کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ ہمارے مالوں میں سب سے بہتر ہے ۔ (یعنی اس کی زیادہ حفاظت ہونی چاہیئے) پھر آپ نے فرمایا: «عارية» (منگنی) لی ہوئی چیز واپس لوٹائی جائے گی،«منحة» ١ ؎ واپس کی جائے گی، قرض ادا کیا جائے گا، اور ضامن ذمہ دار ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Umamah Bahili narrated I heard Allah’s Messenger ﷺ say during the sermon of the Farewell pilgrimage, Allah, the Blessed and the Exalted, has assigned every owner of right, his right. There is no will for an heir. The child belongs to the bed, and for the adulterer are stones and his reckoning is with Allah, the Exalted. As for him who traces himself to anyone other than his father, or connects himself to another than his master then on him is the curse of Allah stamped up to the Day of resurrection. No woman may spend from the home of her husband, save with his permission. Someone asked “O Messenger of Allah, not even food?” He said, “That is the most excellent of our properties.” He also said, “That which is borrowed is to be repaid, and the minhah is to be returned, and the debt must be discharged, and the guarantor is responsible.” [Abu Dawud 2870, Ibn Majah 2713]
صحيح، ابن ماجة (2713)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2120
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوامامہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣ - اسماعیل بن عیاش کی وہ روایت جسے وہ اہل عراق اور اہل شام سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، قوی نہیں ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے ان سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں، اہل شام سے ان کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: ٤ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: اسماعیل بن عیاش حدیث روایت کرنے کے اعتبار سے بقیہ سے زیادہ صحیح ہیں، بقیہ نے ثقہ راویوں سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ٥ - ابواسحاق فزاری کہتے ہیں: ثقہ راویوں کے سے بقیہ جو حدیثیں بیان کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی حدیثیں مت لو، خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے، ٦ - اس باب میں عمرو بن خارجہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ دودھ والا جانور جو کسی کو صرف دودھ سے فائدہ اٹھانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ضامن نے جس چیز کی ذمہ داری لی ہے، اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الوصایا ٦ (٢٨٧٠)، والبیوع ٩٠ (٣٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٣) (تحفة الأشراف: ٤٨٨٢)، و مسند احمد (٥/٢٦٧) (صحیح )
عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا (ولد الزنا) بستر والے کی طرف منسوب ہوگا، اور زانی رجم کا مستحق ہے، جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا (غلام) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ ۔
Sayyidina Amr ibn Kharijah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sat on his she-camel and addressed the people. He (Amr) was standing under its neck and it was pouring out its cud, its saliva dropping on his shoulders. He heard him say, “Indeed, Allah, the Majestic and Glorious, gave every owner of right his due (right). There is no will for the heir. The child belongs to the (owner of the) bed and, for the adulterer are stones.” [Nisai 3643, Ibn Majah 2712, Ahmed 1768] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2712)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، ٣ -
میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ٥ (٣٦٧١)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٢) (تحفة الأشراف: ١٠٧٣١)، و مسند احمد (٤/١٨٦)، ١٨٧، ٢٣٨، ٢٣٩) (صحیح )
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وصیت (کے نفاذ) سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا، جب کہ تم (قرآن میں) قرض سے پہلے وصیت پڑھتے ہو ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) said that the Prophet ﷺ commanded that a debt should be paid before executing the will while you recite (in the Qur’an) the wasiyah (will) before the debt. [Ibn e Majah 2101, 2715]
حسن ومضی (2189) أتم منهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2122
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ قرآن کریم کی اس آیت «من بعد وصية يوصی بها أو دين» (النساء: ١٢ ) کی طرف ہے۔
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی، میں نے ابو الدرداء ؓ سے ملاقات کی اور کہا: میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اسے کہاں خرچ کروں، فقراء میں، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں؟ انہوں نے کہا: میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے کے بعد ہدیہ کرتا ہے ۔
Abu Habibah Tayi narrated: My brother willed for me a portion of his wealth I met Abu Darda and told him that my brother had willed for me a portion of his wealth. I asked him, “Where do we you think I should spend: it on the poor, the needy or the warriors in the path of Allah?” He said, “If I were in your place then I would have spent it on the warriors. I heard Allah’s Messenger ﷺ say; "The example of one who frees a slave at the time of death is like one who gives to one who is satiated.” [Ahmed 21778, Abu Dawud 3968, Nisai 3616] --------------------------------------------------------------------------------
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ اپنے زر کتابت کے بارے میں ان سے تعاون مانگنے آئیں اور زر کتابت میں سے کچھ نہیں ادا کیا تھا۔ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری زر کتابت ادا کر دوں اور تمہاری ولاء (میراث) کا حق مجھے حاصل ہو، تو میں ادا کر دوں گی۔ بریرہ نے اپنے گھر والوں سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا: اگر وہ چاہتی ہوں کہ تمہیں آزاد کر کے ثواب حاصل کریں اور تمہارا حق ولاء (میراث) ہمارے لیے ہو تو وہ تمہیں آزاد کردیں، ام المؤمنین عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو اس لیے کہ حق ولاء (میراث) اسی کو حاصل ہے جو آزاد کرے پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں موجود نہیں؟ جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہیں تو وہ اس کا مستحق نہیں ہوگا، اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے ۔
Urwah reported on the authority of Sayyidah Aisha (RA) that Sayyidah Barirah (RA) came to her to seek help in buying her freedom, for she had been unable to pay anything of the agreed amount (as a mukatab). Sayyidah Aisha (RA) said to her, “Go to your owners. If the are agreeable to my paying for your freedom on your behalf and also have the right to inherit from you, I will do so. “So, she mentioned that to her people, but they refused, saying, she pays for your freedom hoping for reward (from Allah) and lets us have the right to inherit from you then it is acceptable to us.” Sayyidah Aisha (RA) mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ He said to her “Buy her and set her free. The right to inherit belongs to one who emancipates.” He then stood up (among the people) and said, “What is the matter with the people; they put forward conditions not found in Allah’s Book. If anyone places conditions that are not in Allah’s Book then they are invalid, even if he makes the conditions a hundred times.” [Ahmed 24576, Bukhari 2561, Muslim 1504, Abu Dawud 3929, Ibn Majah 2521, Nisai 4664]
صحيح، ابن ماجة (2521 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2124
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ٢ - عائشہ ؓ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔ ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آزاد کرنے والے ہی کو حق ولاء (میراث) حاصل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٠ (٤٥٦)، والزکاة ٦١ (١٤٩٣)، والبیوع ٦٧ (٩٢١٥٥، ٧٣ (٢١٦٨)، والعتق ١٠ (٢٥٣٦)، والمکاتب ١ (٢٥٦٠)، و ٢ (٢٥٦١)، و ٣ (٢٥٦٣)، و ٤ (٢٥٦٤)، و ٥ (٢٥٦٥)، والھبة ٧ (٢٥٧٨)، والشروط ٧ (٢٧١٧)، و ١٠ (٢٧٢٦)، و ١٣ (٢٧٢٩)، و ١٧ (٢٧٣٥)، والطلاق ١٧ (٥٢٨٤)، والأطعمة: ٣١ (٥٤٣٠)، والکفارات ٨ (٦٧١٧)، والفرائض ٢٠ (٦٧٥٤)، و ٢٢ (٦٧٥٨)، صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن ابی داود/ الفرائض ١٢ (٢٩١٥، ٢٩١٦)، والعتق ٢ (٣٩٢٩)، سنن النسائی/الزکاة ٩٩ (٢٦١٥)، والطلاق ٢٩ (٣٤٧٨)، و ٣٠ (٣٤٧٩، ٣٤٨٠)، و ٣١ (٣٤٨١، ٣٤٨٤)، والبیوع ٧٨ (٤٦٤٦-٤٦٤٨) (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٠)، و مسند احمد (٦/٤٢، ٤٦، ١٧٠، ١٧٢، ١٧٥) (صحیح )