عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے (بغیر سمجھے بوجھے) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who speaks on the Qur’an without possessing knowledge must assume his seat in the Fire.” [Ahmed 2069]
ضعيف، المشکاة (234)، نقد التاج، // ضعيف الجامع الصغير (5737) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2950
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٥٥٤٣) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی بن عامر ثعلبی روایت میں وہم کا شکار ہوجایا کرتے تھے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم (اچھی طرح) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “Guard against narrating hadith from me except what you know definitely. He who forges a lie against me deliberately must find his seat in the Fire.” [Ahmed 2675]
ضعيف، المشکاة (235)، نقد التاج، الضعيفة (1783)، صفة الصلاة // ضعيف الجامع الصغير وزيادته (114) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2951
جندب بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی ۔
Sayyidina Jundub ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If any one speaks on the Qur’an giving his own opinion and even if he is correct, he has done wrong.” [Abu Dawud 3652]
ضعيف، المشکاة (235)، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) //
ضعيف، المشکاة (235)، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) //
ضعيف، المشکاة (235)، نقد التاج //، ضعيف أبي داود (789 / 3652) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2952
قتادہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی تفسیر میں میں نے کوئی بات (یعنی کوئی روایت) نہ سنی ہو۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2952
مجاہد کہتے ہیں کہ اگر میں نے ابن مسعود کی قرأت پڑھی ہوتی تو مجھے قرآن سے متعلق ابن عباس ؓ سے وہ بہت سی باتیں پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہوتی جو میں نے ان سے پوچھیں۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے سہیل بن ابی حزم کے بارے کلام کیا ہے، ٣ - اسی طرح بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں سے مروی ہے کہ انہوں نے سختی سے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی جائے، لیکن مجاہد، قتادہ اور ان دونوں کے علاوہ بعض اہل علم کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر (بغیر علم کے) کی ہے تو یہ کہنا درست نہیں، ایسے (ستودہ صفات) لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے قرآن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یا انہوں نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے یہ بغیر علم کے یا اپنے جی سے کی ہے، ٤ - ان ائمہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو ہمارے اس قول کو تقویت دیتی ہیں کہ انہوں نے کوئی بات بغیر علم کے اپنی جانب سے نہیں کہی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ١ ؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں (دل ہی دل میں) پڑھ لیا کرو ٢ ؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ٣ ؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی، بندہ «مالک يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی اور عظمت اور بزرگی صرف میرے لیے ہے، اور میرے اور میرے بندے کے درمیان «إياک نعبد وإياک نستعين» سے لے کر سورة کی آخری آیات تک ہیں، اور بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے۔ بندہ کہتا ہے «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who prays salah but does not recite the umm ul-Qur’an in it must know that it is incomplete, it is incomplete, not perfect.” The narrator asked, “O Abu Hurairah (RA) , I am sometimes behind the imam.” He said son of Farisi, recite it in your heart for, I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that Allah says, “I have divided salah between Me and My slave half and half. So half of it is for Me and half of it for My slave. And for My slave is what he asks. “The slave stands up and says “Praise be to Allah, the Cherisher and Sustainer of the worlds”, so Allah the Blessed and Exalted says, “My slave has praised Me.” He says “Most Gracious, Most Merciful”. Allah says, “My slave has glorified Me.” He says “Master of the Day of Judgment”, so Allah says. “My slave has exalted Me.” And this is for Me and between Me and My slave is “hee do we worship, and Thine aid we seek”. And the remaining surah is for My slave. For My slave is what he asks, saying: “Show us the straight way, The way of those on whom Thou hast bestowed Thy Grace, those whose (portion) is not wrath, and who go not astray.” [Ahmed 8839,Muslim 395,Abu Dawud 821, Ibn e Majah 838]
صحيح، ابن ماجة (838)
صحيح، ابن ماجة (838)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2953
ابن جریج اور مالک بن انس علاء بن عبدالرحمٰن سے علاء نے ہشام بن زہر کے آزاد کردہ غلام ابوسائب سے اور ابوسائب نے ابوہریرہ ؓ سے نبی ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے -
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2953
ابن ابی اویس نے اپنے باپ ابواویس سے اور ابواویس نے علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - شعبہ، اسماعیل بن جعفر اور کئی دوسرے رواۃ نے ایسی ہی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ ہر نماز اور نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جائے گی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حدیث کے سب سے بڑے راوی اور جانکار صحابی ابوہریرہ ؓ کا یہ قول اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ہر رکعت میں سورة فاتحہ خواہ امام کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو پڑھنی فرض ہے اور یہ کہ یہ مسئلہ منسوخ نہیں ہوا ہے۔ ٣ ؎: فرمایا تو تھا میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے، اور جب اس تقسیم کی تفصیل بیان کی تو سورة فاتحہ کا نام لیا اور اس کی تقسیم بتائی، پتا چلا کہ صلاۃ فاتحہ ہے، اور فاتحہ صلاۃ ہے، یعنی فاتحہ نماز کا ایسا رنگ ہے جو نماز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کا آدھا حصہ اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور آدھا حصہ دعا و مناجات پر مشتمل ہے جسے بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١ (٣٩٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٦ (٨٢١)، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٣ (٩١٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١ (٨٣٨) (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٠)، وط/الصلاة ٩ (٣٩)، و مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٥٠، ٢٨٥، ٤٥٧) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا ١ ؎۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: (بتاؤ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: یہود پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں ، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں (بطور مہمان) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے (ان کے آنے کے بعد) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: (صدقہ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ (تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، (وہ پوچھے گا) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ (یہ سن کر) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں (چاروں طرف) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہوجاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے (اتنا دینے والا ہے) کہ ایک ہودج سوار عورت (تنہا) یثرب (مدینہ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہوجانے تک کا ڈر نہ ہوگا ٢ ؎ عدی ؓ کہتے ہیں: (اس وقت) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ٣ ؎؟
Adi ibn Hatim (RA) narrated I came to Allah’s Messenger ﷺ while he was sitting in the mosque. The people introduced me, “This is Adi ibri Hatim.” I had come without anyone’s protection or guarantee. When I was presented to him, he held me by ny hand and he had already said : (to his sahabah), “I hope that Allah will give his hand in mine.” Then he stood up with me. A woman who had a child with her met him. They said, “We have a petition for you.” He stood with them till he had disposed of their petition. Then he held my hand till he took me to his home. A young girl spread out a mat for him and he sat on it while I sat by him. He praised and glorified Allah and asked me what made me run away from saying “Do you know of any God besides Allah?” I said, “No.” Then he talked for some time and asked. “What makes you runaway from saying (Allah is the Greatest)? Do you know of anything greater than Allah?” I said, “No.’ He said, ‘The Jews are the ones on whom is the wrath while the Christianshave gone astray.” I interrupted. “But, I am an upright Muslim !” I observed his face glow with pleasure. Then he instructed me and I lodged at (the house of) an Ansar man and visited him (the Prophet ﷺ ) at the two ends of the day. One evening, while I was with him, some people came to him. They wore woollen striped garments. He offered salah and stood up and motivated them to pay sadaqah. He said: (Give) even a sa’, or half a sa’, or a handful, or a part of it - and, so let each of you protect his face from the heat of Hell or the Fire itself, even a piece of date, or a part of it. Each of you is to meet Allah and it will be said to him - what I say to you now - ‘Did I not give you wealth and children?’ He will say, ‘Certainly (you did).’ He will ask, ‘Where is that which you ought to have sent forward for yourself?’ He will look for it in front of him, behind him, to his right and to his left, but find nothing with which he might save his face from the heat of Hell. Each of you must protect his face from the Fire even with half-a-date, and if he does not find it then with a good word. I do not fear over you hunger, for, Allah is your Help and Support and Bestower till a solitary woman travels between Yathrib (Madinah) and Hirah, not fearing loss of her animal to highwaymen.” I said to myself. “Where are the robbers of Tayyi?” [Ahmed 19398)
(قول عدي بن حاتم: أتيت ... الحديث) حسن، (قول عدي بن حاتم عن النبي صلی اللہ عليه وسلم قال: اليهود مغضوب عليهم والنصاری ضلال فذکر الحديث بطوله) صحيح (قول عدي بن حاتم عن النبي صلی اللہ عليه وسلم قال: اليهود مغضوب عليهم والنصاری ضلال فذکر الحديث بطوله) تخريج الطحاوية (811)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2954
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣ - شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے پوری حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ مجھ پر ایمان لے آئیں گے اور میری اطاعت قبول کرلیں گے۔ ٢ ؎: یعنی اس وقت اتنی مالداری آ جائے گی اور اسلامی شریعت کے نفاذ کی برکت سے چاروں طرف امن و امان ہوگا کہ کسی کو چوری کرنے کی نہ ضرورت ہوگی اور نہ ہی ہمت۔ ٣ ؎: عدی بن حاتم ؓ قبیلہ بنی طے کے چوروں کا خیال انہیں اس لیے آیا کہ وہ خود بھی اسی قبیلہ کے تھے، اور اسی تعلق کی بنا پر انہیں اپنے قبیلہ کے چوروں کا خیال آیا، اس قبیلہ کے لوگ عراق اور حجاز کے درمیان آباد تھے، ان کے قریب سے جو بھی گزرتا تھا وہ ان پر حملہ کر کے اس کا سارا سامان لوٹ لیا کرتے تھے، اسی لیے عدی ؓ کو تعجب ہوا کہ میرے قبیلے والوں کی موجودگی میں ایک عورت تن تنہا امن و امان کے ساتھ کیسے سفر کرے گی؟
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، چناچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa al Ashari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, Allah created Adam (AS) from a fistful (of dust) which he took from all over the earth. Thus, there are among them (children of Adam), the red (coloured), the white, the black and those between these (colours) and the mild and the rugged, and the evil and the good.” [Ahmed 19599,Abu Dawud 4693]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا (البقرہ: ٥٨ ) کے بارے میں فرمایا: بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said about the verse ‘Enter the gate prostrating’ (2 :58), “The Banu Isra’il entered dragging themselves on their buttocks - that is, deviating.’ [Bukhari 4641, 3015,Ahmed 8237]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2956
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چناچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو (اس وقت) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے (البقرہ: ١١٥ ) نازل ہوئی۔
Sayyidina Aamir ibn Rabi’ah (RA) narrated: We were with the Prophet ﷺ in a journey on a dark night. So, we could not make out where the qiblah was. So, every one of us prayed in the direction he faced. When it was morning, we mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ . So, the verse was revealed: “So, withersoever you turn, there is Allah’s countenance.” (2: 115) [Muslim 701, Bukhari 1093]
حسن، ابن ماجة (1020)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2957
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن بہرحال یہ اضطراری حالت کے لیے ہے، عام حالات اور معلوم ہوجانے کی صورت میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٠ (١٠٢٠) (تحفة الأشراف: ٥٠٣٥) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ١ ؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں (البقرہ: ١١٥ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ used to offer the optional salah on his riding beast whichever direction it faced. He was going from Makkah to Madinah. Then, lbn Umar (RA) recited this verse: "And to Allah belong the East and the West." (2 115) Ibn Umar (RA) said, “This verse was revealed concerning this (situation).” [Ahmed 4714,Bukhari 402,Nisai 487, Ibn e Majah 1009]
صحيح، صفة الصلاة
صحيح، صفة الصلاة
صحيح، صفة الصلاةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2958
بیان کیا اسے مجھ سے محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا یزید بن زریع نے اور یزید بن زریع نے سعید کے واسطہ سے قتادہ سے روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2958
مجاہد سے اس آیت: «فأينما تولوا فثم وجه الله» سے متعلق مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جدھر منہ کرو ادھر قبلہ ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2958
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» (البقرة: ١١٥ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں (البقرہ: ١٤٤ ) ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مسافر اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، اس سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو، شرط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے اس کے بعد جہت قبلہ سے ہٹ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ٢ ؎: عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں، دراصل ان سب پر وہ آیت صادق آتی ہے، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام (مقام ابراہیم) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کرلو (البقرہ: ١٢٥ ) نازل ہوئی ١ ؎۔
Anas (RA) narrated that Umar (RA) ibn Khattab yearned, “O Messenger of Allah ﷺ ! Would that we prayed behind the Station of Ibrahim.” So the verse was revealed: “And take ye the station of Abraham as a place of prayer.” (2 : 125)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2959
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے، لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔ ٢ ؎: مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ) بنا لیتے (تو کیا ہی اچھی بات ہوتی) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» نازل ہوئی۔
Ahmad ibn Mani’ reported from Hushaym, from Humayed at-Jawil, from Anas (RA) He said that Umar (RA) ibn Khattab narrated : I said, “O Messenger of Allah ﷺ , would that you took the Maqam Ibrahim as a place of prayer (Musallah).” So this verse was revealed: “And take ye the station of Abraham as a place of prayer.” (2 : 125) [Ahmed 1068, 11211, Ibn e Majah 4284]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2960
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت: «وكذلک جعلناکم أمة وسطا» ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے (البقرہ: ١٤٣ ) کے سلسلے میں فرمایا: «وسط» سے مراد عدل ہے (یعنی انصاف پسند) ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that the Prophet ﷺ said in explanation of “Thus, have We made of you an Ummat justly balanced” (2:143)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2961
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کردیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نری تقلب وجهك في السماء فلنولينک قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں (البقرہ: ١٤٤ ) ، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے (اعلان کرتے ہوئے) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں (کعبہ کی طرف) پھرگئے۔
Sayyidina Bara (RA) narrated: When Allah’s Messenger ﷺ came to Madinah, he offered salah facing Bayt ul-Maqdis for sixteen or seventeen months. And, he loved to turn to the Ka’bah. So, Allah, the Majestic, the Glorious, revealed: “We see the turning of thy face (for guidance to the heavens: now Shall We turn thee to a Qibla that shall please thee. Turn then Thy face in the direction of the sacred Mosque” (2:144) Hence his face was turned towards the qiblah and he used to like that. Thus, a man who had prayed with him the asr thereafter passed by a group of Ansar and they were in ruku in their salah of asr facing Bayt al-Maqdis. So he said to them that he testified that he had prayed with Allah’s Messenger ﷺ and he had faced the ka’bah. So, they turned while they were in ruku. [Ahmed 5941,Bukhari 90,Muslim 525,Nisai 292, Ibn e Majah 1010] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح أصل صفة الصلاةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2962
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ١ ؎ میں حالت رکوع میں تھے۔
Hannad reported from Waki, from Sufyan from Abdullah bin Dinar, from Ibn Umar (RA) that he said, "They were in the Ruku in the Salah of Fajr."
صحيح أصل صفة الصلاة، الإرواء (290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2963
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔ جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو (اسی موقع پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما کان اللہ ليضيع إيمانکم» اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا (البقرہ: ١٤٣ ) ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: When the Prophet ﷺ was turned towards the Ka’bah, the sahabah said, “O Messenger of Allah ﷺ , how will it be with our brothers who have died and they had been praying towards Bayt al-Maqdis?” So, Allah, the Exalted revealed: “And never would Allah Make your faith of no effect.” (2:143)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2964
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت یہی حکم الٰہی تھا، اس آیت میں «ایمان» سے مراد «صلا ۃ » ہے نہ کہ بعض بزعم خود مفسر قرآن بننے والے نام نہاد مفسرین کا یہ کہنا کہ یہاں «ایمان» ہی مراد ہے، یہ صحیح حدیث کا صریح انکار ہے، «عفا اللہ عنہ»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ١٦ (٤٦٨٠) (تحفة الأشراف: ٦١٠٨) (صحیح) (سند میں سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن صحیح بخاری کی براء ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
عروہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا۔ تو عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! تم نے بری بات کہہ دی۔ رسول اللہ ﷺ نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ (بت) کے نام پر جو مشلل ١ ؎ میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ٢ ؎ نازل فرمائی۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» (یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔ زہری کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی۔ کہا: یہ ہے علم و دانائی کی بات۔ اور (بھئی) میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا: ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا۔ (اسی موقع پر) اللہ تعالیٰ نے آیت: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی ٣ ؎۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Urwah narrated: I submitted to Sayyidah Aisha (RA), “I see no wrong in one who does not make the round of Safa and Marwah and I do not mind not making these rounds.” She said, ‘O nephew, how sad a thing you have spoken! Allah’s Messenger ﷺ had made the rounds and the Muslim s have been making the rounds. Only he who had called the Labbayk for Manah - the idol in Mushallal - did not make the rounds between Safa and Marwah; so Allah, the Blessed and the Exalted, revealed: “So if those who visit the House in the Season or at other times, should compass them round, it is no sin in them.” (2: 158) And, if it was as you say then it would have been: There is no blame on him if he does not go round them.(But it is not so). [Ahmed 25166,Bukhari 1643,Muslim 1277,Nisai 2967, Ibn e Majah 2986] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2986)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2965
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مشلل مدینہ سے کچھ دوری پر ایک مقام کا نام ہے جو قدید کے پاس ہے۔ ٢ ؎: (صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں) اس لیے بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناہ نہیں (البقرہ: ١٥٨ )۔ ٣ ؎: خلاصہ یہ ہے کہ آیت کے سیاق کا یہ انداز انصار کی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے جو اسلام لانے کے بعد حج و عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کو معیوب سمجھتے تھے کیونکہ صفا پر ایک بت اِساف نام کا تھا، اور مروہ پر نائلہ نام کا، اس پر اللہ نے فرمایا: ارے اب اسلام میں ان دونوں کو توڑ دیا گیا ہے، اب ان کے درمیان سعی کرنے میں شرک کا شائبہ نہیں رہ گیا، بلکہ اب تو یہ سعی فرض ہے، ارشاد نبوی ہے «اسعوا فإن اللہ کتب علیکم السعی» (احمد والحاکم بسند حسن) (یعنی: سعی کرو، کیونکہ اللہ نے اس کو تم پر فرض کردیا ہے)۔
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ١ ؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» (صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف (سعی) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف (سعی) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔
Aasim Ahwal narrated: I asked Anas (RA) ibn Malik about Saf a and Marwah. He said, “They were the symbols of the jahiliyah. When Islam became (our) religion, we abandoned them, but Allah, Blessed and Exalted, revealed: “Behold! Safa and Marwa are among the Symbols of Allah. So if those who visit the House in the Season or at other times, should compass them round, it is no sin in them.” (2:158) Anas (RA) continued; “And if any one obeyeth his own impulse to good,- be sure that Allah is He Who recogniseth and knoweth.” (2: 158) [Bukhari 1648,Muslim 1278] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2966
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش و پوجا ہوتی تھی۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا:«واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ہم (سعی) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے (اس کا ذکر) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله»۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: I heard that when Allah’s Messenger ﷺ came to Makkah, he circumambulated the House seven times. He recited: “and take ye the station of Abraham as a place of prayer.” (2 : 125) And he offered salah behind the maqam. Then he came to the Hajar (Black Stone), made the istilam and said, “We begin with what Allah had begun.” And he recited. “Behold! Safa and Marwa are among the Symbols of Allah” (2: 158) [Abu Dawud 3969, Ibn e Majah 1098]
صحيح، ابن ماجة (2960)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2967
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہوجاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہوگئی تو قیس پر غشی طاری ہوگئی، نبی اکرم ﷺ سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لکم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا (البقرہ: ١٨٧ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ (اس کے بعد یہ حکم نازل ہوگیا) «وکلوا واشربوا حتی يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہوجائے (البقرہ: ١٨٧ ) ۔
Sayyidina Bara narrated: If one of the sahabah of the Prophet ﷺ was fasting and when the time of iftar found him sleeping, he would not eat anything in the night nor the next day till it was evening (and time to break fast). Qays ibn Sirmah Ansari was fasting. When it was time for iftar, he went to his wife and asked. “Is there with you anything to eat?” She said, “No, but I will go and seek for you.” He had toiled all day, so sleep overtook him. His wife returned and when she saw him (sleeping). She said, “Your misfortune!” When it was noon next day, he fell unconscious. This was mentioned to the Prophet ﷺ and this verse was revealed. “Permitted to you, on the night of the fasts, is the approach to your wives.” (2 :187) This made them very happy. “And eat and drink, until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread; then complete your fast Till the night appears” (2: 187) [Bukhari 1915,Abu Dawud 2314,Nisai 2167, Ahmed 18634]
صحيح، صحيح أبي داود (2004)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2968
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت: «وقال ربکم ادعوني أستجب لكم» اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے (المؤمن: ٦٠ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورة مومن کی آیت «وقال ربکم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ١ ؎ تک پڑھی۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that the Prophet ﷺ said about Allah’s words: “And your Lord says: "Call on Me; I will answer your (Prayer)” (40 : 60) “Prayer (supplication) is worship”, and he recited: "Call on Me; I will answer your (Prayer): but those who are too arrogant to serve Me will surely find themselves in Hell - in humiliation!"(40: 60) [Abu Dawud 1479, Ibn e Majah 3828]
صحيح، ابن ماجة (3828)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2969
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١ (٣٨٢٨) (تحفة الأشراف: ١١٦٤٣)، و مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٦)، ویأتي برقم ٣٢٤٧) (صحیح )