ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہوگا ، نیز آپ نے فرمایا: یہی «ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے) ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The first group that will enter paradise will be like the moon on the night of the full moon. The second will be like the brightest star shining in the sky. Each of their men will have two wives. Each of the wives will wear seventy robes; the marrow of her legs will be visible from the back.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح ويأتى من حديث أنس (3347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2523
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٢١) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے (پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا ) ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,“There is a tree in Paradise in whose shade a rider will be able to ride for a hundred years.” [Ahmed 9417, Bukhari 4881, Muslim 2826, Abu Dawud 67]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری رہتی ہے اور ہم دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہو کر اپنے بال بچوں میں چلے جاتے ہیں اور ان میں گھل مل جاتے ہیں تو ہم اپنے دلوں کو بدلا ہوا پاتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اسی حالت و کیفیت میں رہو جس حالت و کیفیت میں میرے پاس سے نکلتے ہو تو تم سے فرشتے تمہارے گھروں میں ملاقات کریں، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق کو پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے ١ ؎، پھر اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمائے گا ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: پانی سے ، ہم نے عرض کیا: جنت کس چیز سے بنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک سونے کی اور اس کا گارا مشک اذفر کا ہے اور اس کے کنکر موتی اور یاقوت کے ہیں، اور زعفران اس کی مٹی ہے، جو اس میں داخل ہوگا وہ عیش و آرام کرے گا، کبھی تکلیف نہیں پائے گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی فنا نہیں ہوگی ، پھر آپ نے فرمایا: تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں: پہلا امام عادل ہے، دوسرا روزہ دار جب وہ افطار کرے، اور تیسرا مظلوم جب کہ وہ بد دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ (اس کی بد دعا کو) بادل کے اوپر اٹھا لیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: قسم ہے میری عزت کی میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر ہی سہی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated : We asked, “ O Messenger of Allah, when we are with you , our hearts are soft and un attached to this world and we are among the people of the Hereafter. But, when we go from you, we are endeared to our families and we mix up with our children, we become different.” He said, “ If after going away from me, you were to remain in the same condition, then the angels would visit you in your homes and if you don’t sin, Allah would raise new creation that they might sin and he should forgive them. “ I asked, “ O Messenger of Allah ﷺ , with what is the creation created?”. He said, “ With Water”. I asked, “ What is paradise made of?”. He said, “ A brick of silver and a brick of gold and its mortar is musk, strong in scent, and its pebbles are pearls and rubies, and its soil is saffron. He who enters it will be well blessed, not sad. He will live for ever, never to die, there dresses will never wear out and their youth will never end.” He also said, “ There are three whose prayer is never rejected: A just imam , One who while he completes his fast , and one who is wronged whose prayer is carried up above the clouds and the gates of paradise are opened for it and the Lord, blessed and exalted , says , ‘ By My Might and Honour , I will help you surely though after a while.” [Ahmed 8049] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح - دون قوله: مم خلق الخلق ... -، الصحيحة (2 / 692 - 693)، غاية المرام في تخريج أحاديث الحلال والحرام (373)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2526
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے اور نہ ہی میرے نزدیک یہ متصل ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سند سے ابومدلہ کے واسطہ سے بھی آئی ہے جسے وہ ابوہریرہ ؓ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ گناہ تو ہر انسان سے ہوتا ہے، لیکن وہ لوگ اللہ کو زیادہ پسند ہیں جو گناہ کر کے اس پر اڑتے نہیں بلکہ توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کے ساتھ گڑگڑاتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اللہ کو گناہ کا ارتکاب کرنا پسند ہے، بلکہ اس حدیث کا مقصد توبہ و استغفار کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٩٠٥) وانظر مسند احمد (٢/٣٠٤، ٣٠٥) (ضعیف) (مؤلف نے اس سند کو ضعیف اور منقطع قرار دیا ہے، سند میں زیاد الطائی مجہول راوی ہے، جس نے ابوہریرہ سے مرسل روایت کی ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت فرمائی، پھر ابو مدلہ کی روایت کا ذکر کیا، جو ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث کے اکثر فقرے ثابت ہیں، حافظ ابن حجر نے ابو مدلہ مولی عائشہ کو مقبول کہا ہے، حدیث میں مما خلق الخلق کا فقرہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز ثلاث لا ترد ... آخر حدیث تک بھی ضعیف ہے (ضعیف الجامع ٢٥٩٢، والضعیفة ١٣٥٩)، لیکن حدیث کا پہلا فقرہ صحیح ہے، جو صحیح مسلم (التوبة ٢ /٢٧٤٩)، ترمذی (٢٥١٤، ٢٤٥٢)، ابن ماجہ (٤٢٣٦) اور مسند احمد (٤/١٨٧، ٣٤٦) میں حنظلہ الاسیدی سے مروی ہے اور دوسرے فقرہ ولو لم تذنبوا کی مختلف طرق سے البانی نے تخریج کر کے اس کی تصحیح کی ہے: الصحیحة رقم ٩٦٧، ٩٦٨، ٩٦٩، ٩٧٠ و ١٩٥٠، ١٩٥١، ١٩٦٥) اور الجنة بناؤها لبنة ... ولا يفنی شبابهم کا فقرہ بھی حسن ہے (السراج المنیر ٨٠٨٣ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ۔ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "There are rooms in Paradise from whose interior their outside can be seen ans whose inside can be seen from their outside." A villager stood up and asked, "For whom are they, O Prophet ﷺ of Allah?" He said, "They are for those who utter good words, feed food, keep fast always and pray Salah for Allah at night when people are asleep." [Ahmed 19752, Bukhari 4878, Muslim 180,Ibn e Majah186]
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، یہ کوفی ہیں اور عبدالرحمٰن بن اسحاق جو قریشی ہیں وہ مدینہ کے رہنے والے ہیں اور یہ عبدالرحمٰن کوفی سے اثبت ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٨٤ (حسن لغیرہ) (دیکھیے مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث )
ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں دو ایسے باغ ہیں کہ جن کے برتن اور اس کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو ایسے باغ ہیں جس کے برتن اور جس کی تمام چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف وہ کبریائی چادر حائل ہوگی جو اس کے چہرے پر ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Qays (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are two gardens in paradise whose vessels and whatever else they contain are made of silver, aq two gardens whose vessels and whatever else they contain are made of gold. And there is nothing hindering the people from looking at their Lord except the mantle of Majesty on His countenance in Paradise Adn." Through the same isnad, it is reported that the Prophet ﷺ said, “There are in Paradise tents sixty miles wide adorned with pearls, in every corner of them are maidens who have not seen the others and around whom gather the Believers.” [Ahmed 8427, Bukhari 2790]
صحيح، ابن ماجة (186)
صحيح، ابن ماجة (186)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2528
ابوموسیٰ اشعری ؓ اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں موتی کا ایک لمبا چوڑا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے۔ اس کے ہر گوشے میں مومن کے گھر والے ہوں گے، مومن ان پر گھومے گا تو (اندرونی) ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے گا۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2528
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب اللہ رب العالمین اپنی رحمت سے اس کبریائی والی چادر کو ہٹا دے گا تو اہل جنت اپنے رب کے دیدار سے فیضیاب ہوں گے، اور جنت کی نعمتوں میں سے یہ ان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الرحمن ١ (٤٨٧٨)، و ٢ (٤٨٨٠)، والتوحید ٢٤ (٧٤٤٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨٠)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٦) (تحفة الأشراف: ٩١٣٥)، و مسند احمد (٤/٤١١، ٤١٦)، وسنن الدارمی/الرقاق ١٠١ (٢٨٦٤) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں، ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are a hundred ranks in Paradise, between every two ranks there is a distance of a hundred years.”
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں اور حج کیا (- عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ معاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں -) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ اس کو بخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سر زمین میں ٹھہرا رہے ۔ معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ جنت میں سو درجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان کا، فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو ۔
Sayyidina Muaz ibn Jabal (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kept the fasts of Ramadan, offered the salah, performed Hajj of the House” and the narrator forgot if he had also said paid zakah, “then he has a right over Allah that He should forgive him whether he migrates on the path of Allah or stays in the land where he was born.” Mu’az said, ‘Shall I not inform people of it ?“ Allah’s Messenger ﷺ said, “Let alone people that they may perform deeds, for, there are in Paradise a hundred ranks and between every two ranks is as the distance between the heaven and earth. Firdaws is the highest paradise and it is in the middle of it. On top of it is the Throne of the Compassionate, and the rivers of Paradise spring from it. So, when you ask Allah, ask Him for Firdaws.” [Ibn e Majah 4331]
صحيح، الصحيحة (921)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2530
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسی طرح یہ حدیث «عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن معاذ بن جبل» کی سند سے مروی ہے، اور یہ میرے نزدیک ہمام کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے، جسے انہوں نے «عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت» کی سند سے روایت کی ہے (جو آگے آرہی ہے) ، عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا ہے (یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے) اور معاذ بن جبل کی وفات (عبادہ بن صامت سے پہلے) عمر ؓ کے عہد خلافت میں ہوئی ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، درجہ کے اعتبار سے فردوس اعلیٰ جنت ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں بہتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو ۔
Sayyidina Ubadahh bin Samit (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, there are a hundred ranks in Paradise. Between every two ranks is like the distance between heaven and earth. Firdaws is the highest rank and from it emerge the four rivers of Paradise. Above it is the throne. So, when you ask Allah, ask for the Firdaws.”
صحيح، الصحيحة (921)
صحيح، الصحيحة (921)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2531
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2531
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥١٠٤) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے حدیث نمبر (٢٥٣٠ )
انظر ماقبلہ (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے حدیث نمبر (٢٥٣٠ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں، اگر سارے جہاں کے لوگ ایک ہی درجہ میں اکٹھے ہوجائیں تو یہ ان سب کے لیے کافی ہوگا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are a hundred ranks in paradise. If the universe was enclosed in one of these it would encompass the universe."
ضعيف، المشکاة (5633)، الضعيفة (1886) // ضعيف الجامع الصغير (1901) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2532
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٣) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ اور دراج ابو السمح ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنتیوں کی عورتوں میں سے ہر عورت کے پنڈلی کی سفیدی ستر جوڑے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گی، حتیٰ کہ اس کا گودا بھی نظر آئے گا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «كأنهن الياقوت والمرجان» گویا وہ یاقوت اور مونگے موتی ہیں ، یاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگر تم اس میں دھاگا ڈال دو پھر اسے صاف کرو تو وہ دھاگا تمہیں باہر سے نظر آ جائے گا ۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The whiteness of the leg of a woman of Paradise will be visible behind seventy robes so much so that her marrow will be visible. This is because Allah says: As though they were rubies and corals. (55:58) As for a ruby, it is a stone. If you put thread into it, and clean it, you will observe it inside."
ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 263) // ضعيف الجامع الصغير (1776) //
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2533
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور اسے (ابوالاحوص نے) مرفوع نہیں کیا، یہ عبیدہ بن حمید کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح جریر اور کئی لوگوں نے عطاء بن سائب سے اسے غیر مرفوع روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2534
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٤٨٨) (ضعیف) (اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے )
انظر ماقبلہ (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے کی روشنی چودہویں کے چاند کی روشنی کی طرح ہوگی اور دوسرا گروہ آسمان کے روشن اور سب سے خوبصورت ستارے کی طرح ہوگا، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے اور ان کے پنڈلی کا گودا ان کے کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گا ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The first batch to enter Paradise on the Day of Resurrection will be in the form of the moon on the night when it is full. The second batch will be in the form of the best of the stars shining in the sky. For every man among them will be two wives. Each wife will have seventy garments on her, marrow of whose legs will be visible through these garments." [Ahmed 11126]
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودہویں رات کی چاند کی طرح ہوگا، دوسرا گروہ آسمان میں چمکنے والے سب سے بہتر ستارہ کی طرح ہوگا، ہر جنتی کے لیے دو بیویاں ہوں گی، ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے کپڑے ہوں گے، اس کے پنڈلی کا گودا ان کپڑوں کے باہر سے نظر آئے گا ۔
Abbas ibn Muhammad reported from Ubaydullah ibn Musa, from Shayban, from Atiyah, from Abu Sa’eed Khudri from the Prophet ﷺ He said, "The first batch to enter Paradise will be in the form of the moon on the night when it is full. The second will be like the colour of the best star shining in the sky. For every of their men will be two wives, each of them wearing seventy garments revealing the marrow of her legs from behind (all of) them.”
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں مومن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جائے گی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ نے فرمایا: اسے سو آدمی کی طاقت دی جائے گی ۔
Sayyidina Ans (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “In paradise, the believer will be given power like this and like that for sexual intercouse.” Someone said, “O Messenger of Allah, will he be able to endure that?” He said, “He will be given vitality of a hundred (men).” [Ahmed 10529, Bukhari 325, Muslim 2434]
حسن صحيح، المشکاة (5636)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - قتادہ کی یہ حدیث جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں اسے ہم صرف عمران القطان کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں زید بن ارقم ؓ سے بھی روایت ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی شکل چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگی، نہ وہ اس میں تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ پاخانہ کریں گے، جنت میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہوگا۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے (کم از کم) دو دو بیویاں ہوں گی، خوبصورتی کے سبب ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے نظر آئے گا۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوگا، اور نہ ان کے درمیان کوئی عداوت و دشمنی ہوگی۔ ان کے دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوں گے، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The batch to arrive at Paradise will be in the form of the moon on the night when it is full moon. They will not spit or blow their noses or void excrement. Their vessels there will be of gold and their bracelets will be of gold and silver. Their braziers will be kindled with aloes. Their sweat will be musk. Everyone of them will have two wives, the marrow of whose legs will be visible through flesh owing to the beauty. They will not differ with each other and their hearts will harbour no hatred ,their hearts like one man’s heart. They will glorify Allah, morning and evening.” [Ab 7155]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2537
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - «الألوة» عود کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٥، ٢٤٦، ٣٢٥٤) و أحادیث الأنبیاء ١ (٣٣٢٧)، صحیح مسلم/الجنة ٦ و ٧ (٢٨٣٤/١٤، ١٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٣) (تحفة الأشراف: ١٤٦٧٨) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر ناخن کے برابر جنت کی کوئی چیز ظاہر ہوجائے تو وہ آسمان و زمین کے کناروں کو چمکا دے، اور اگر جنت کا کوئی آدمی جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو وہ سورج کی روشنی کو ایسے ہی مٹا دیں، جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے ۔
Sayyidina Sad ibn Abi Waqas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "If something of Paradise which is lesser than a nail is shown then everything up to the edges of heaven and earth will be illuminated. And if a man of the inhabitants of Paradise were to peep at the world and his bracelets were revealed then they would outshine the light of the sun just as the sun outshines the light of the stars." [Ahmed 1449]
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں ١ ؎۔ ٢ - یحییٰ بن ایوب نے یہ حدیث یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے اور سند یوں بیان کی ہے: «عن عمر بن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سند میں ابن لہیعہ سے روایت کرنے والے چونکہ عبداللہ بن مبارک ہیں اس لیے یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علماء جرح و تعدیل نے صراحت کی ہے، ان کے علاوہ عبداللہ بن وہب عبداللہ بن مسلمہ اور عبداللہ بن یزید المقری کی ان سے روایت صحیح مانی جاتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتی بغیر بال کے، امرد اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے، نہ ان کی جوانی ختم ہوگی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ , "The inhabitants of Paradise have no hair or beard. They have black eyes. Their youth does not pass away and their garments do not wear off.” [Ahmed 7939]
حسن، المشکاة (5638 و 5639 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (4 / 245)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2539
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ٣٤ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہوگی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said about Allaha saying *(and couches upraised) (56:34) that the couches will be so much upraised as the space between heaven and earth which is the distance of five hundred years. [Ahmed 33051]
ضعيف، المشکاة (5634)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2540
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٧) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں )
اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے، (یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے (بڑے) ہیں ۔
Sayyidah Asma bint Abu Bakr (RA) narrated: I heard Allahs Messenger ﷺ mention Sidrat ul-Muntaha. He said, “A rider will ride in the shade of its branches for a hundred years.” Or he said, “A hundred riders will take to its shade and ride. Yahya was in doubt. “Its leaves will he of gold, and its fruit like earth- enware jars."
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٧١٦) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یونس بن بکیر روایت میں غلطیاں کر جایا کرتے تھے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کوثر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے اللہ نے ہمیں جنت کے اندر دی ہے، یہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹ کی گردنوں کی طرح ہیں ، عمر ؓ نے کہا: وہ تو واقعی نعمت میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں کھانے والے ان سے زیادہ نعمت میں ہیں ۔
Sayyidina Ans ibn Malik narrated: Someone asked Allahs Messenger, "What is Kawthar?” He said, “That is a river that Allah has given me, meaning, in Paradise. It is whiter than milk and sweeter than honey. There are birds over it whose necks are like necks of camels.” Umar (RA) said, “Indeed, this is a blessing!“ Allah’s Messenger ﷺ said, “Those who eat them will have more blessings than that.” [Ahmed 13475]
حسن صحيح، المشکاة (5641)، الصحيحة (2514)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن عبداللہ بن مسلم، یہ ابن شہاب زہری کے بھتیجے ہیں، ٣ - عبداللہ بن مسلم نے ابن عمر اور انس بن مالک ؓ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔