ایمان کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 37 · 41 hadiths · Page 1 of 2

2606Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہانتک کہ لاالہ الااللہ کہیں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ (جہاد) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرلیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کرلیا، مگر کسی حق کے بدلے ١ ؎، اور ان کا (مکمل) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے ٢ ؎۔

صحيح متواتر، ابن ماجة (71)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2606
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی جان اور ان کا مال صرف اسی وقت لیا جائے گا جب وہ قول و عمل سے اپنے آپ کو اس کا مستحق اور سزاوار بنادیں، مثلاً کسی نے کسی کو قتل کردیا تو ایسی صورت میں مقتول کے ورثاء اسے قتل کریں گے یا اس سے دیت لیں گے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، اس کا مقصد دنیا سے تاریکی، گمراہی اور ظلم و بربریت کا خاتمہ ہے، ساتھ ہی لوگوں کو ایک اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانا اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرنا ہے، دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ جو اسلام کو اپنے گلے سے لگالے اس کی جان مال محفوظ ہے، البتہ جرائم کے ارتکاب پر اس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے، وہ اپنے مال سے زکاۃ ادا کرے گا، کسی مسلمان کو ناجائز قتل کردینے کی صورت میں اگر ورثاء اسے معاف نہ کریں اور نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے ظاہری حالات کے مطابق اسلامی احکام کا اجراء ہوگا، اس کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٠٢ (٢٩٤٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢٦١٠)، سنن ابی داود/ الجھاد ١٠٤ (٢٦٤٠)، سنن النسائی/الجھاد ١ (٣٠٩٢)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١ (٣٩٢٧) (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٦)، و مسند احمد (٢/٣١٤، ٣٧٧، ٤٢٣، ٤٣٩، ٤٧٥، ٤٨٢، ٥٠٢، ٥٢٨) (صحیح )
2607Sunan At-Tirmidhi

ایمان جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ، قَالَأَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَن الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ، وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ (جہاد) کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی ١ ؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو (زکاۃ میں) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ (جہاد) کروں گا۔ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ died and Abu Bakr (RA) became Khalifah after him those of the Arabs who had to disbelieve, disbelieved. So, Umar ibn al-Khattab (RA) said to Abu Bakr (RA) , "How will you fight people while Allah’s Messenger had said, ‘I have been commanded to fight people till they say There is no God but Allah and when one says There is no God but Allah he has saved from me his property and life save for the right against it, and the reckoning is with Allah.’ Abu Bakr (RA) said, “By Allah, I will fight those who differentiate between salah and zakah. While zakah is the right on property, by Allah, if they disallow me even a rope that they used to give to Allah’s Messenger ﷺ , I will fight them over that.” Umar ibn al-Khattab (RA) said, “It was not, but that I observed that Allah had opened the heart of Abu Bakr (RA) ‘(RA) to fight and I knew that he was right."

صحيح، الصحيحة (407)، صحيح أبي داود (1391 - 1393)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2607
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث (کی سند) میں غلطی ہے۔ (اور وہ یہ ہے کہ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اب نہ اس کا مال لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے قتل کیا جاسکتا ہے «حتی يقولوا لا إله إلا اللہ ويقيموا الصلاة» یہاں تک کہ وہ: «لا إلہ الا اللہ» کہیں، اور نماز قائم کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦ (١٣٩٩)، و ٤٠ (١٤٧٥)، والمرتدین ٣ (٦٩٢٤)، والإعتصام ٢ (٧٢٨٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١)، سنن ابی داود/ الزکاة ١ (١٥٥٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣ (٢٤٤٥)، والجھاد ١ (٣٠٩٤، ٣٠٩٥)، والمحاربة ١ (٣٩٧٥) (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٦)، و مسند احمد (٢/٥٢٨) (صحیح )
2608Sunan At-Tirmidhi

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے لڑوں جب تک یہ لا الہ الا اللہ کہیں اور نماز پڑھیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالِقَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا، وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وفي الباب عن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ هَذَا.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ (کر کے عبادت) نہ کرنے لگیں۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال ہمارے اوپر حرام ہوجائے گا، مگر کسی حق کے بدلے ١ ؎، انہیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا ٢ ؎ جو عام مسلمانوں کو حاصل ہوگا اور ان پر وہی سب کچھ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوں گی ۔

Sayyidina Ans ibn Malik (RA) reproted that Allah’s Messenger (saw) said, "I am commanded that I should fight people till they testity that there is no God except Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger, and turn to our qiblah, eat that which we sughter, offer salah as we do. When they do that then their blood and their properties are unlawful to us except for the right over them. For them is that which is for the Muslims and on them are (all the obligations) that are on the Muslim." [Bukhari 392 Abu Dawud 2641 Nisai 3972]

صحيح، الصحيحة (303 - 1 / 152)، صحيح أبي داود (2374)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2608
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یحییٰ بن ایوب نے حمید سے اور حمید نے انس سے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں معاذ بن جبل اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ کوئی ایسا عمل کر بیٹھیں جس کے نتیجہ میں ان کی جان اور ان کا مال مباح ہوجائے تو اس وقت ان کی جان اور ان کا مال حرام نہ رہے گا۔ ٢ ؎: یعنی جو حقوق و اختیارات اور مراعات عام مسلمانوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٨ (٣٩٢)، سنن ابی داود/ الجھاد ١٠٤ (٢٦٤١)، سنن النسائی/تحریم الدم (المحاربة) ١ (٣٩٧١)، والإیمان ١٥ (٥٠٠٦) (تحفة الأشراف: ٧٠٦)، و مسند احمد (٣/١٩٩، ٢٢٤) (صحیح )
2609Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبيِبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وفي الباب عن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، وَسُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: ( ١ ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، ( ٢ ) نماز قائم کرنا، ( ٣ ) زکاۃ دینا ( ٤ ) رمضان کے روزے رکھنا، ( ٥ ) بیت اللہ کا حج کرنا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Islam is in five things: the testimony that there is no God but Allah and that Muhammad is Allah’s Messenger, the establishment of salah, the payment of zakah, the fast of Ramadan and Hajj of the House (of Allah). [Ahmed 6309, Bukhari 8, Muslim 16, Nisai 5011]

صحيح، الإرواء (781)، إيمان أبي عبيد (2)، الروض النضير (270)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2609
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن عمر ؓ کے واسطہ سے کئی سندوں سے مروی ہے، اسی طرح یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عمر ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں جریر بن عبداللہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢ (٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٥ (١٦)، سنن النسائی/الإیمان ١٣ (٥٠٠٤) (تحفة الأشراف: ٦٦٨٢)، و مسند احمد (٢/٩٣، ١٢٠، ١٤٣) (صحیح )
2610Sunan At-Tirmidhi

اس کے متعلق کہ حضرت جبرئیل نے نبی اکرم ﷺ سے ایمان واسلام کی کیا صفات بیان کیں

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْيَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا أَحْدَثَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَقِينَاهُ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ وَيَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا قُبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ فَقَالَ: قَالَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْزَقَ رُكْبَتَهُ بِرُكْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، قَالَ: فَمَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ قَالَ: فَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، قَالَ: فِي كُلِّ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ: فَمَا أَمَارَتُهَا ؟ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ أَصْحَابَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ ، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِثَلَاثٍ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ ؟ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ كَهْمَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوُ هَذَا، عَنْ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ هُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ.

یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے تقدیر کے انکار کی بات کی وہ معبد جہنی ہے، میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں (سفر پر) نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے، ہم نے (آپس میں بات کرتے ہوئے) کہا: کاش ہماری نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو ہم ان سے اس نئے فتنے کے متعلق پوچھیں جو ان لوگوں نے پیدا کیا ہے، چناچہ (خوش قسمتی سے) ہماری ان سے یعنی عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ جب وہ مسجد سے نکل رہے تھے، ملاقات ہوگئی، پھر میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ١ ؎ میں نے یہ اندازہ لگا کر کہ میرا ساتھی بات کرنے کی ذمہ داری اور حق مجھے سونپ دے گا، عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن میں غور و فکر اور تلاش و جستجو (کا دعویٰ ) بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے، اور امر (معاملہ) از سرے نو اور ابتدائی ہے ٢ ؎ ابن عمر ؓ نے کہا: جب تم ان سے ملو (اور تمہارا ان کا آمنا سامنا ہو) تو انہیں بتادو کہ میں ان سے بری (و بیزار) ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھاتا ہے عبداللہ! (یعنی اللہ کی) اگر ان میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو جب تک وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا اس کا یہ خرچ مقبول نہ ہوگا، پھر انہوں نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور کہا: عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اسی دوران ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت زیادہ سفید تھے، اس کے بال بہت زیادہ کالے تھے، وہ مسافر بھی نہیں لگتا تھا اور ہم لوگوں میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے قریب آیا اور اپنے گھٹنے آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گیا پھر کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔ اس نے (پھر) پوچھا: اور اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ، اس نے (پھر) پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو تو ان تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اللہ کو دیکھنے کا تصور اپنے اندر پیدا نہ کرسکو تو یہ یقین کر کے اس کی عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، وہ شخص آپ ﷺ کے ہر جواب پر کہتا جاتا تھا کہ آپ نے درست فرمایا۔ اور ہم اس پر حیرت کرتے تھے کہ یہ کیسا عجیب آدمی ہے کہ وہ خود ہی آپ سے پوچھتا ہے اور خود ہی آپ ﷺ کے جواب کی تصدیق بھی کرتا جاتا ہے، اس نے (پھر) پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، اس نے کہا: اس کی علامت (نشانی) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس وقت حالت یہ ہوگی کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ٣ ؎، اس وقت تم دیکھو گے کہ ننگے پیر چلنے والے، ننگے بدن رہنے والے، محتاج بکریوں کے چرانے والے ایک سے بڑھ کر ایک اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کرنے والے ہوں گے ، عمر ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مجھے اس واقعہ کے تین دن بعد ملے تو آپ نے فرمایا: عمر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔ تمہارے پاس تمہیں دین کی بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے ۔

Yahya ibn Yamur reported that the first person who spoke about Divine decree Mbad Juhanni. He said that he and Humayd ibn Abdur Rahman Himyari set out for Madinah hoping to meet one of the sahabah of the Prophet ﷺ that they may ask him about the innovation of these people. They met him meaning, Abdullah ibn Umar (RA) while he was outside the mosque. (He went on to say:) I and my friend stood by him. I presumed that my friend left me to speak, so I said, “O Abu Abdur Rahman. Certain people recite the Qur’an and acquire knowledge, but are convinced that there is no predestination and they hold that fate is not decreed aforehand. ‘ Ibn Umar (RA) said, “When you meet them, let them know that I am absolved of them, and they are absolved of me. By Him on whom Abdullah swears often if they give away gold as much as Uhud, it would not be accepted from them till they believe in destiny, good and bad.” Then he began to narrate Hadtih saying that Umar (RA) ibn al-Khattab (RA) said that they were with Allah’s Messenger ﷺ when a man came wearing extremely white clothing and deep black hair but signs of a journey could not be detected on him nor could they recognise him as one of them. He came to the Prophet ﷺ and sat down beside him, his knees touching the Prophet’s ﷺ . He asked “ O Muhammad ﷺ , what is faith”? He said, “It is to believe in Allah, His angels, His Books, His Messengers (peace be upon them all), in the Last Day and in Predestination of good and evil.” He asked, “And what is Islam?” He said, ‘It is. to testify that there is no God but Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger ﷺ to establish the Salah, to pay the Zakah, to perform pilgrimage of the House and to fast in Ramadan.’ He asked, “And what is Ihsan”? He said, It is that you worship Allah as though you see Him, for it you cannot see Him, He sees you.” The visitor remarked, “In everything that you have spoken, you spoke truth.” Umar (RA) said that they were surprised at his questioning him and then confirming that he spoke the truth. Next, he asked, “And when is the Hour?” He said, “The one who is questioned does not know more about it than the one who asks.” He asked, “Then what are its Signs?” He said, “That a maid-servant will beget her mistress and that you see barefooted, naked-bodied, helpless shepherds construct tall buildings.” Umar (RA) said that the Prophet ﷺ then met him after three days and said, “Umar (RA) , do you know who the questioner was? He was Jibril come to teach you the basics of your religion.” [Muslim 8, Abu Dawud 4695,Nisai 5005,Ibn Majah 63,Ahmed 184] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (63) صحيح، ابن ماجة (63) صحيح، ابن ماجة (63)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2610 اس سند سے بھی عمر بن خطاب ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2610 اس سند سے بھی عمر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2610
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ متعدد سندوں سے ابن عمر سے بھی اسی طرح مروی ہے، ٣ - کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ یہ حدیث ابن عمر کے واسطہ سے آئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ ابن عمر روایت کرتے ہیں، عمر ؓ سے اور عمر ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے، ٢ - اس باب میں طلحہ بن عبیداللہ، انس بن مالک اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ان کے داہنے ہوگیا اور دوسرا ان کے بائیں۔ ٢ ؎: اور امر (معاملہ) از سرے نو اور ابتدائی ہے کا مطلب یعنی جب کوئی چیز واقع ہوجاتی ہے تب اللہ کو اس کی خبر ہوتی ہے، پہلے سے ہی کوئی چیز لکھی ہوئی اور متعین شدہ نہیں ہے۔ ٣ ؎: یعنی لونڈی زادی مالکہ بن جائے گی اور جسے مالکہ کے مقام پر ہونا چاہیئے وہ لونڈی کے مقام ودرجہ پر پہنچا دی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١ (٨)، سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٦٩٥)، سنن النسائی/الإیمان ٥ (٤٩٩٣)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٣) (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٢)، و مسند احمد (١/٢٧، ٢٨، ٥١، ٥٢) (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )
2611Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فرائض ایمان میں داخل ہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَقَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامَ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَيْضًا، وَزَادَ فِيهِ: أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَؤُلَاءِ الْفُقَهَاءِ الْأَشْرَافِ الْأَرْبَعَةِ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُتَيْبَةُ: كُنَّا نَرْضَى أَنْ نَرْجِعَ مِنْ عِنْدِ عَبَّادٍ كُلَّ يَوْمٍ بِحَدِيثَيْنِ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، انہوں نے آپ سے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول! ) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ١ ؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں، آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں ( ١ ) اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول الله» کی شہادت دینا ( ٢ ) نماز قائم کرنا ( ٣ ) زکاۃ دینا ( ٤ ) مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) نکالنا۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that a delegation of the tribe of Abd Qays came to Allah’s Messenger ﷺ . They said “O Messenger of Allah ﷺ , the tribe Rabi’ah lie in our path. So, we cannot come to you except during the sacred months. Do command us, therefore, things as we may abide by and invite those who are behind us.’ He said, “I command you four things: faith in Allah”, and he explained it to them as, “testimony that there is no God but Allah and I am Allah’s Messenger, observing the Salah and paying the Zakah, and to pay one-fifth of what you gain as booty.” [Ahmed 2120, Bukhari 53, Muslim 17, Abu Dawud 3692,Nisai 5041]

صحيح إيمان أبي عبيد ص (58 - 59) صحيح إيمان أبي عبيد ص (58 - 59)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2611 اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2611
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - شعبہ نے بھی اسے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے «أتدرون ما الإيمان شهادة أن لا إله إلا اللہ وأني رسول الله» کیا تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ ایمان یہ ہے: گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور گواہی دی جائے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر پوری حدیث بیان کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کو چھوڑ کر باقی دوسرے مہینوں میں جنگ و جدال جاری رہتا تھا، اسی لیے قبیلہ عبدقیس کے وفد کے لوگوں نے آپ ﷺ سے دوسرے مہینوں میں آپ تک نہ پہنچ سکنے کی معذرت کی اور آپ سے دین کی اہم اور بنیادی باتیں پوچھیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٥٩٩ (صحیح) انظر حدیث رقم ١٥٩٩ (صحیح )
2612Sunan At-Tirmidhi

ایمان میں کمی زیادتی اور اس کا مکمل ہونا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي قِلَابَةَ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَى أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ أَبَا قِلَابَةَ فَقَالَ: كَانَ وَاللَّهِ مِنَ الْفُقَهَاءِ ذَوِي الْأَلْبَابِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو، اور جو اپنے بال بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “The Believer in terms of faith is he who is best of them in manners and mild to his family.” [Ahmed 24259]

ضعيف الصحيحة تحت الحديث (284) // ضعيف الجامع الصغير (1990) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2612
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اور میں نہیں جانتا کہ ابوقلابہ نے عائشہ ؓ سے سنا ہے، ٣ - ابوقلابہ نے عائشہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے عائشہ ؓ سے اس حدیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں روایت کی ہیں، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان اور حسن اخلاق ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں، یعنی جو اپنے اخلاق میں جس قدر کامل ہوگا اس کا ایمان بھی اتنا ہی کامل ہوگا، گویا ایمان کامل کے لیے بہتر اخلاق کا حامل ہونا ضروری ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے گھر والوں کے لیے جو سب سے زیادہ مہربان ہوگا وہ سب سے بہتر ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ایمان پایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦١٩٥)، وانظر مسند احمد (٦/٤٧، ٩٩) (ضعیف) (عائشہ ؓ کی روایت سے اور ” وألطفهم بأهله “ کے اضافہ کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہے، کیوں کہ ابو قلابہ اور عائشہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: ٢٨٤ )
2613Sunan At-Tirmidhi

ایمان میں کمی زیادتی اور اس کا مکمل ہونا

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ الْأَزْدِيُّ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِكَثْرَةِ لَعْنِكُنَّ، يَعْنِي: وَكُفْرِكُنَّ الْعَشِيرَ ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الْأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْكُنَّ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِهَا وَعَقْلِهَا: قَالَ: شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلَاثَ وَالْأَرْبَعَ لَا تُصَلِّي وفي الباب عن أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو اس میں آپ نے لوگوں کو نصیحت کی پھر (عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرتی رہو کیونکہ جہنم میں تمہاری ہی تعداد زیادہ ہوگی ١ ؎ ان میں سے ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تمہارے بہت زیادہ لعن طعن کرنے کی وجہ سے، یعنی تمہاری اپنے شوہروں کی ناشکری کرنے کے سبب ، آپ نے (مزید) فرمایا: میں نے کسی ناقص عقل و دین کو تم عورتوں سے زیادہ عقل و سمجھ رکھنے والے مردوں پر غالب نہیں دیکھا ۔ ایک عورت نے پوچھا: ان کی عقل اور ان کے دین کی کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے دو عورتوں کی شہادت (گواہی) ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے ٢ ؎، اور تمہارے دین کی کمی یہ ہے کہ تمہیں حیض کا عارضہ لاحق ہوتا ہے جس سے عورت (ہر مہینے) تین چار دن نماز پڑھنے سے رک جاتی ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ addressed the people delivering a sermon, saying. “O women, give charity. You will form a majority of the inhabitants of Hell.’ A woman among them, said, “Why is that so, O Messenger of Allah ﷺ ”? He said, “That is because you are given to curse much and you show ingratitude to your husbands.” added, “I have not seen those who are deficient in intelligence and religion get the better of the intellegent people as you do.” A woman asked, “What is (our) deficiency in intelligence and religion”? He said, “The testimony of two women of you is equal to the testimony of one man, and the deficiency in your religion is the menstruation, so one of you taries for three or four days and does not offer salah.” [Muslim 79,Abu Dawud 4679,Ibn Majah 4003,Ahmed 5443]

صحيح، الإرواء (1 / 205)، الظلال (956)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2613
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری اور ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی، اس لیے اس سے بچاؤ کی صورتیں اپناؤ، اور صدقہ و خیرات یہ جہنم سے بچاؤ کا سب سے بہتر ذریعہ ہیں۔ ٢ ؎: یہ تمہاری عقل کی کمی کی وجہ سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٤ (٨٠) (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٣)، و مسند احمد (٢/٣٧٣، ٣٧٤) (صحیح )
2614Sunan At-Tirmidhi

ایمان میں کمی زیادتی اور اس کا مکمل ہونا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا فَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا . قَالَ: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کی تہتر شاخیں (ستر دروازے) ہیں۔ سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کردینا ہے، اور سب سے بلند «لا إلہ الا اللہ» کا کہنا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "Faith has a little over seventy gates. The humblest of them is to remove something hurtful from the path and the highest of them is the saying There is no God but Allah.” [Bukhari 9, Muslim 35, Abu Dawud 4676, Nisai 5019, Ibn Majah 57, Ahmed 9372]

(حديث: الإيمان بضع وسبعون ... ) صحيح، (حديث: الإيمان أربعة وستون بابا ) شاذ بهذا اللفظ (حديث: الإيمان بضع وسبعون .... )، ابن ماجة (57)، (حديث: الإيمان أربعة وستون بابا ) // ضعيف الجامع الصغير (2303) // (حديث: الإيمان بضع وسبعون ... ) صحيح، (حديث: الإيمان أربعة وستون بابا ) شاذ بهذا اللفظ (حديث: الإيمان بضع وسبعون .... )، ابن ماجة (57)، (حديث: الإيمان أربعة وستون بابا ) // ضعيف الجامع الصغير (2303) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2614 اس سند سے ابوہریرہ ؓ کے ذریعہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ ١ ؎: معلوم ہوا کہ عمل کے حساب سے ایمان کے مختلف مراتب و درجات ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان اور عمل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2614
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ایسے ہی سہیل بن ابی صالح نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - عمارہ بن غزیہ نے یہ حدیث ابوصالح سے، ابوصالح نے ابوہریرہ ؓ سے، اور ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا ہے ایمان کی چونسٹھ شاخیں ہیں ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣ (٩)، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٥)، سنن ابی داود/ السنة ١٥ (٤٦٧٦)، سنن النسائی/الإیمان ٦ (٥٠٠٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٧) (تحفة الأشراف: ١٢٨١٦)، و مسند احمد (٢/٤١٤، ٤٤٢) (صحیح) تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٨٥٤) (شاذ) (کیوں کہ پچھلی اصح حدیث کے مخالف ہے )
2615Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ حیاء ایمان سے ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء (شرم اور پاکدامنی) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے (بطور تاکید) فرمایا: حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Saalim (RA) reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ passed by a man who was sermonising his brother on modesty. So, Allahs Messenger ﷺ said, “Modesty is part of faith.”

صحيح، ابن ماجة (58)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2615
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا: نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے حیاء کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے، ایک باحیاء انسان اپنی زندگی میں حیاء سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے، کیونکہ حیاء انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٦ (٢٤)، والأدب ٧٧ (٦١١٨)، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٦)، سنن ابی داود/ الأدب ٧ (٤٧٩٥)، سنن النسائی/الإیمان ٢٧ (٥٠٣٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٨) (تحفة الأشراف: ٦٨٢٨)، وط/حسن الخلق ٢ (١٠)، و مسند احمد (٢/٥٦، ١٤٧) (صحیح )
2616Sunan At-Tirmidhi

نماز کی عظمت کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَيُبَاعِدُنِي عَنِ النَّارِ، قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، قَالَ ثُمَّ تَلَا: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 حَتَّى بَلَغَ يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 19، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ كُلِّهِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ قَالَ: كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ ؟ فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، ایک دن صبح کے وقت میں آپ ﷺ سے قریب ہوا، ہم سب چل رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے، اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو ۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا ، پھر آپ نے آیت «تتجافی جنوبهم عن المضاجع» کی تلاوت «يعملون» تک فرمائی ١ ؎، آپ نے پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتادوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: دین کی اصل اسلام ہے ٢ ؎ اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتادوں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی، اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے؟ ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) narrated: I was with the Prophet ﷺ in a journey. One day, I came very near him while we were travelling. I said, “O Messenger, tell me of a deed which will enable me to enter Paradise and get me away from Hell.’” You have asked me about a great thing, but it is easy for those for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything with Him and observe Salah and pay Zakah and fast in Ramadan and make the pilgrimage to the House.” Then he said, “Shall I not guide you to the gates of good: fasting is as shield and charity obliterates sin as water extinguishes fire and a man’s Salah at midnight.” Then he recited: "Their sides forsake their beds as they call on their Lord in fear and in hope, and they expend out of what We have provided them. No soul knows what delight of the eyes is kept hidden for them, as a recompense for what they used to do.” (Al-Quran 32:16-17) Then, he said, “Shall I not inform you of the head and pillar of the issue and the apex of its hump?” I said, ‘Certainly, O Messenger of Allah ﷺ .” He said, “Its head is Islam, its pillar is Salah and the apex of its hump is jihad.” Then he said, “Shall I not tell you about the root of that”? I said, “Certainly, O Messenger of Allah ﷺ !” He held his tongue and said, “Keep it in check.” I asked, “Shall we be taken to task for what we speak with it”? He said, “May your mother weep at you, O Mu’adh! Will people be cast in hell on their faces or on their nostrils except as the consequence of their tongues?” [Ahmed 22-77,Ibn Majah 3973] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3973)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2616
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ خرچ کرتے ہیں، کوئی نفس نہیں چاہتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ (السجدہ: ١٦ - ١٧) ٢ ؎: یہاں اسلام سے مراد کلمہ شہادتین کا اقرار اور اس کے تقاضے کو پورا کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٣) (تحفة الأشراف: ١١٣١١) (صحیح )
2617Sunan At-Tirmidhi

نماز کی عظمت کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ سورة التوبة آية 18 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد اللہ من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتی الزکاة» الآية اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں (سورۃ التوبہ: ١٨ ) ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: When you see a man frequently visiting the mosque, give testimony to his faith for, Allah says: "He only shall inhabit the places of Allah’s worship who believes in Allah and the Last Day and establishes the salah and pays the zakah (al-Quran 9:18) [Ibn Majah 802, Ahmed 11651]

ضعيف، ابن ماجة (802) // ضعيف سنن ابن ماجة (172)، المشکاة (723)، ضعيف الجامع الصغير (509)، وسيأتي برقم (601 / 3304) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2617
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٨ (٨٠٢) (تحفة الأشراف: ٤٠٥٠) (ضعیف) (سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں )
2618Sunan At-Tirmidhi

ترک نماز کی وعید

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ، حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ .

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے ١ ؎۔

Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "Between disbelief and faith lies neglect of salah.” [Muslim 82,Nisai 460]

صحيح، ابن ماجة (1078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2618
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر اور بندے کے مابین حد فاصل نماز ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، بصورت دیگر کافر ہے، صحابہ کرام کسی نیک عمل کو چھوڑ دینے کو کفر نہیں خیال کرتے تھے، سوائے نماز کے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) فرماتے ہیں: لوگوں کی اکثریت پنج وقتہ نماز کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی اسے پورے طور پر چھوڑنے والی بلکہ کبھی پڑھ لیتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے، یہ ایسے لوگ ہیں جن میں ایمان و نفاق دونوں موجود ہیں، ان پر اسلام کے ظاہری احکام جاری ہوں گے، کیونکہ عبداللہ بن ابی جیسے خالص منافق پر جب یہ احکام جاری تھے تو نماز سے غفلت اور سستی برتنے والوں پر تو بدرجہ اولیٰ جاری ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨٢)، سنن ابی داود/ السنة ١٥ (٤٦٧٨)، سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٧ (١٠٧٨) (تحفة الأشراف: ٢٣٠٣)، و مسند احمد (٣/٣٧٠) (صحیح )
2619Sunan At-Tirmidhi

ترک نماز کی وعید

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. وَقَالَ:بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.

جابر ؓ سے اس سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندے اور شرک یا بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے ۔

It is reported by A’mash through the same sanad a hadith like that (previous one # 2627). His words being, ‘Between worship and polytheism lies neglect of salah.”

صحيح انظر ما قبله (2618)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2619
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2620Sunan At-Tirmidhi

ترک نماز کی وعید

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ.

جابر ؓ سے اس سند بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Between a worshipper and disbelief lies neglect of salah.” [Abu Dawud 678,Ibn Majah 1078,Nisai 463,Ahmed 14983]

صحيح بما قبله (2619)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2620
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٢٧٤٦) (صحیح )
2621Sunan At-Tirmidhi

ترک نماز کی وعید

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِالْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ، وفي الباب عن أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ١ ؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا ۔

Abdullah ibn Buraida (RA) reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said, “The covenant that exists between us and them is Salah. So, he who neglects it has indeed disbelieved.” [Nisai 62,Ibn Majah 1079,Ahmed 22998]

صحيح، ابن ماجة (1079)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2621
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں انس اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں گے ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے، اور جب نماز چھوڑ دیں گے تو کفار کے احکام ان پر جاری ہوں گے، کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، اور جب نماز چھوڑ دی تو گویا معاہدہ ختم ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٧ (١٠٧٩) (تحفة الأشراف: ١٩٦٠)، و مسند احمد (٥/٣٤٦، ٣٥٥) (صحیح )
2622Sunan At-Tirmidhi

ترک نماز کی وعید

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ الْإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا ضُرِبَتْ عُنُقُهُ.

عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔

Abdullah ibn Shaqiq Uqayli (RA) reported, saying “The companions of Muhummad ﷺ did not regard neglect of any of the deeds as disbelief as they did (neglect) of Salah."

صحيح صحيح الترغيب (1 / 227 / 564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2622
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول (یعنی زبان سے اقرار کرنے) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی، اگر اس نے توبہ کرلی تو ٹھیک، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي في المراسیل) (صحیح )
2623Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی (اور خوش) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا ١ ؎۔

Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say. “He has tasted the flavour of faith who is pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad as Prophet." [Ahmed 1779]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2623
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اللہ ہی سے ہر چیز کا طالب ہوا، اسلام کی راہ کو چھوڑ کر کسی دوسری راہ پر نہیں چلا اور نبی اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر اس نے عمل کیا تو ایسے شخص کو ایمان کی مٹھاس مل کر رہے گی، کیونکہ اس کا دل ایمان سے پر ہوگا، اور ایمان اس کے اندر پورے طور پر رچا بسا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١١ (٣٤) (تحفة الأشراف: ٥١٢٧)، و مسند احمد (١/٢٠٨) (صحیح )
2624Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی۔ ( ١ ) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ ( ٢ ) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، ( ٣ ) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: There are three qualities which, if anyone possesses, he has tasted the savour of faith. (They are :) he to whom Allah and His Messenger ﷺ are dearer than all else; he loves someone only because of Allah! and he hates to return to disbelief after Allah has pulled him out if it just as he hates to be thrown into hell. [Ahmed 12002,Muslim 43,Bukhari 16]

صحيح، ابن ماجة (4033)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2624
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٩ (١٦) و ١٤ (٢١)، والأدب ٤٢ (٦٠٤١)، ووالإکراہ ١ (٦٩٤١)، صحیح مسلم/الإیمان ١٥ (٤٣)، سنن النسائی/الإیمان ٢ (٤٩٩٠)، و ٣ (٤٩٩١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٣٣) (تحفة الأشراف: ٩٤٦)، و مسند احمد (٣/١٠٣، ١١٤، ١٧٢، ١٧٤، ٢٣٠، ٢٤٨، ٢٧٥، ٢٨٨) (صحیح )
2625Sunan At-Tirmidhi

کوئی زانی زنا کرتے ہوئے حامل ایمان نہیں رہتا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَكِنِ التَّوْبَةَ مَعْرُوضَةٌ ، وفي الباب عن ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ رُوِيَ عَنْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ عَادَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا: خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةُ ذَنْبِهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ، رَوَى ذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَخُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ١ ؎ اور جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، لیکن اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No adulterer commits adultery while he is a believer, and no thief commits theft while he is a believer, but repentance is accepted.” [Bukhari 2475]

صحيح، ابن ماجة (3936)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2625
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس، عائشہ اور عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے اندر سے نکل کر اس کے سر کے اوپر چھتری جیسا (معلق) ہوجاتا ہے، اور جب اس فعل (شنیع) سے فارغ ہوجاتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے ۔ ابو جعفر محمد بن علی (اس معاملہ میں) کہتے ہیں: جب وہ ایسی حرکت کرتا ہے تو ایمان سے نکل کر صرف مسلم رہ جاتا ہے۔ علی ابن ابی طالب، عبادہ بن صامت اور خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زنا اور چوری کے سلسلے میں فرمایا: اگر کوئی شخص اس طرح کے کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے اور اس پر حد جاری کردی جائے تو یہ (حد کا اجراء) اس کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جس شخص سے اس سلسلے میں کوئی گناہ سرزد ہوگیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کردی تو وہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے اگر وہ چاہے تو اسے قیامت کے دن عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زنا کے وقت مومن کامل نہیں رہتا، یا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ عمل زنا کو حرام سمجھتا ہے تو اس کا ایمان جاتا رہتا ہے، پھر زنا سے فارغ ہونے کے بعد اس کا ایمان لوٹ آتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٠ (٢٤٧٥)، والأشربة ١ (٥٥٧٨)، والحدود ٢ (٦٧٧٢)، و ٢٠ (٦٨١٠)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٧)، سنن ابی داود/ السنة ١٦ (٤٦٨٩)، سنن النسائی/قطع السارق ١ (٤٨٨٦)، والأشربة ٤٢ (٥٦٧٥) (تحفة الأشراف: ١٢٥٣٩)، و مسند احمد (٢/٢٤٣، ٣٧٦، ٣٨٦، ٤٧٩) (صحیح )