ایمان کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 37 · 41 hadiths · Page 2 of 2

2626Sunan At-Tirmidhi

کوئی زانی زنا کرتے ہوئے حامل ایمان نہیں رہتا

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْيُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کردی اور اس سے درگزر کردیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کرچکا ہے ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone is awarded the ‘Hadd’ then he has received his punishment in this world, for, Allah is too Just to punish His slave in the Hereafter a second time (for the same crime). As for him, who has attracted the hadd and Allah has concealed his crime and pardoned him, Allah is most Kind to return to something once He has forgien it.” [Ibn Majah 2604]

ضعيف، ابن ماجة (2604) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (567) مع اختلاف في اللفظ، ضعيف الجامع الصغير (5423)، المشکاة (3629) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2626
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٣ (٢٦٠٤) (تحفة الأشراف: ١٠٣١٣) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد المصیصی اگرچہ ثقہ راوی ہیں، لیکن آخری عمر میں موت سے پہلے بغداد آنے پر اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، اور ابواسحاق السبیعی ثقہ لیکن مدلس اور مختلط راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے )
2627Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (حديث مرفوع)

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان (کامل) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن (کامل) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A Muslim is one from whose tongue and hand (other) Muslim s are safe and a believer is one from whom the people are safe over their lives and their properties.” And it is reported from the Prophet ﷺ that he was asked, “Which Muslim is the most excellent?” He said, “He from whose tongue and hand other Muslim s are safe.” [Ahmed 8940,Nisai 5005]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے (بھی) احادیث آئی ہیں، ٣-
2628Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔

وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، .

نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔

That (as previous one) is also reported by Ibrahim ibn Sa’eed Jawhari from Abu Usamah, from Burayd ibn Abdullah ibn Abu Burdah, from his grangfather Abu Burdah, from Abu Musa Ash’ari from the Prophet ﷺ

حسن صحيح، المشکاة (33 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (549) صحيح وهو مکرر (2632)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2627 ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2628
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإیمان ٨ (٤٩٩٨) (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٤)، و مسند احمد (٢/٣٧٩) (حسن صحیح) انظر حدیث رقم: ٢٥٠٤ (صحیح )
2629Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اسلام کی ابتداء وانتہاء غریبوں سے ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، وفي الباب عن سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ: عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Islam began in poverty and it will return to poverty as it had begun. So, the poor are fortunate.” [ Ibn Majah 3908]

صحيح، ابن ماجة (3988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2629
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود ؓ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ٤ - ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ٥ - ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوشخبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کر کے جان و مال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٥ (٣٩٨٨) (تحفة الأشراف: ٩٥١٠)، و مسند احمد (١/٣٩٨)، وسنن الدارمی/الرقاق ٤٢ (٢٧٩٧) (صحیح )
2630Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اسلام کی ابتداء وانتہاء غریبوں سے ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مِلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَيَرْجِعُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا کہ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہوجائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہوجاتی ہے ١ ؎، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں ۔

Kathir ibn Abdullah ibn Amr ibn Awf ibnMilhah reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “The religion will shrink back to the Hijaz as a snake shrinks back to its hole. And religion will seek refuge in the Hijaz as a wild goat seeks refuge on the mountain top. The religion began as poor and will return to poverty, so blessed are the poor who correct what people corrupt in my religion in my sunnah.”

ضعيف جدا الصحيحة تحت الحديث (1273)، المشکاة (170) // ضعيف الجامع الصغير (1441) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2630
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بارش کا بادل پہاڑ کی نچلی سطح پر ہوتا ہے تو بکری پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے کو بارش سے بچا لیتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بکری پہاڑ کی نشیبی سطح پر ہو اور برساتی پانی کا ریلا آ کر اسے بہا لے جائے اور مار ڈالے اس ڈر سے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس طرح کی مصیبتوں اور ہلاکتوں سے اپنے کو محفوظ کرلیتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٨) (ضعیف جدا) (سند میں کثیر بن عبداللہ سخت ضعیف راوی ہیں )
2631Sunan At-Tirmidhi

منافق کی علمات کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ: نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَصْبَحِيُّ الْخَوْلَانِيُّ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

صحيح إيمان أبي عبيد ص (95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2631
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ایک منافق کی جو خصلتیں بیان ہوئی ہیں، بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے، مسلمان دنیا بھر میں جو ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اس میں ان کے اسی منافقانہ کردار اور اخلاق و عمل کا دخل ہے، منافق وہ ہے جو اپنی زبان سے اہل اسلام کے سامنے اسلام کا اظہار کرے، لیکن دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھے، یہ اعتقادی نفاق ہے، وحی الٰہی کے بغیر اس کا پہچاننا اور جاننا ناممکن ہے، حدیث میں مذکورہ خصلتیں عملی نفاق کی ہیں، اعتقادی نفاق کفر ہے، جب کہ عملی نفاق کفر نہیں ہے تاہم یہ بھی بہت خطرناک ہے جس سے بچنا چاہیئے، رب العالمین مسلمانوں کو ہدایت بخشے۔ آمین
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٤٣٤١) (صحیح )
2632Sunan At-Tirmidhi

منافق کی علمات کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَإِنَّمَا كَانَ نِفَاقُ التَّكْذِيبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ شَيْءٌ مِنْ هَذَا أَنَّهُ قَالَ: النِّفَاقُ نِفَاقَانِ: نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَنِفَاقُ التَّكْذِيبِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہوگا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بےوفائی کرے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone has these four characteristics then he is a hypocrite and if he has one of these then he has one trait of hypocrisy till he gives it up. When he speaks, he lies; when he promises, he breaks it, when he quarrels, he abuses; and when he makes a covenant, he breaches it.” [Ahmed 6782,Bukhari 34,Muslim 58,Abu Dawud 4688,Nisai 5030]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2632 اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2632
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس سے اہل علم کے نزدیک عملی نفاق مراد ہے، نفاق تکذیب (اعتقادی نفاق) صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا ١ ؎، ٣ - حسن بصری سے بھی اس بارے میں کچھ اسی طرح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نفاق دو طرح کا ہوتا ہے، ایک عملی نفاق اور دوسرا اعتقادی نفاق۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا عمل منافقوں جیسا ہے۔ اس کے عمل میں نفاق ہے، لیکن ہم اس کے منافق ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اسے اس کے ایمان میں جھوٹا ٹھہرا کر منافق قرار نہیں دے سکتے۔ ایسا تو صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ صاحب وحی تھے، وحی الٰہی کی روشنی میں آپ کسی کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ فلاں منافق ہے مگر ہمیں اور آپ کو کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٤ (٣٤)، والمظالم ١٧ (٢٤٥٩)، والجزیة ١٧ (٢١٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٥ (٥٨)، سنن ابی داود/ السنة ١٦ (٤٦٨٨)، سنن النسائی/الإیمان ٢٠ (٥٠٢٣) (تحفة الأشراف: ٨٩٣١)، و مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٨) (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )
2633Sunan At-Tirmidhi

منافق کی علمات کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کرسکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a man makes a promise with the resolve to fulfil it, but he cannot fulfil it then there is no sin on him.” [Abu Dawud 4995]

ضعيف، المشکاة (4881)، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2633
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ٣ - علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابو وقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٩٠ (٤٩٩٥) (تحفة الأشراف: ٣٦٩٣) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے )
2634Sunan At-Tirmidhi

اس کے متعلق کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے ۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “To kill a Muslim brother is to become a disbeliever and to abuse him is a sin.” [Nisai 4114,Ahmed 3957]

صحيح وقد مضی (2066) سند آخر عنهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2634
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٨٣) (تحفة الأشراف: ٩٣٦٠) (صحیح )
2635Sunan At-Tirmidhi

اس کے متعلق کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الِارْتِدَادِ وَالْحُجَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا ، وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ، وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کردیں اور چاہیں تو اسے معاف کردیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر (حقیقی) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہوجاتا، ٤ - ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔

Mahmud ibn Ghaylan reported it from Waki, from Sufyan, from Zubayd, from Abu Wa’il, from Abdullah Ibn Mas’ud (RA) , saying that the Prophet ﷺ said, “To abuse a Muslim is sinful and to kill him is to disbelieve.” [Ahmed 3647,Bukhari 48,Muslim 64,Nisai 4115,Ibn Majah 69]

صحيح وهو مکرر الحديث (2066)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2635
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٨٣ (صحیح )
2636Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی تکفیر کرے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَاعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ١ ؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا ۔

Sayyidina Thabit ibn Dahhak (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A slave should not make a vow about something that he does not possess and one who curses a believer is like his murderer and if one accuses a believer of disbelief then he is like his murderer, and if anyone kills himself with something then Allah will punish him on the Day of Resurrection with it.” [Bukhari 6047,Muslim 110]

صحيح، ابن ماجة (2098)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2636
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دیدے تو فلاں غلام آزاد ہے، حالانکہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣)، والأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، و ٧٣ (٦١٠٥)، والأیمان والنذور ٧ (٦٦٥٢)، صحیح مسلم/الأیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١، ٣٨٠٢)، و ٣١ (٣٨٤٤) (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، و مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (وانظر ماتقدم عند المؤلف برقم ١٥٢٧) (صحیح )
2637Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی تکفیر کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ بْنِ أَنَسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي: أَقَرَّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے (گویا کہ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کرلیا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported (RA) that the Prophet ﷺ said, “If anyone calls his brother a disbeliever then one of them will conform to that description.” [Bukhari 6104,Muslim 60,Abu Dawud 4687,Ahmed 4745]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2637
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - «باء»، «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ کسی مومن کو کافر، کافر ہی کہہ سکتا ہے، ایک مومن دوسرے مومن کو کافر نہیں کہہ سکتا، اگر کہتا ہے تو جس کو کہا ہے وہ حقیقت میں اگر کافر کہلانے کا مستحق ہے تو وہ کافر ہے، ورنہ کہنے والا اس کے سزا میں کفر کے وبال میں مبتلا ہوگا۔ اس لیے کوئی بات سوچ سمجھ کر اور زبان کو قابو میں رکھ کر ہی کہنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٧٣ (٦١٠٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٦ (٦٠) (تحفة الأشراف: ٧٢٣٣)، وط/الکلام ١ (١)، و مسند احمد (٢/١٨، ٤٤، ٦٠) (صحیح )
2638Sunan At-Tirmidhi

جس شخص کا خاتمہ توحید پر ہو

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ؟ فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ، وفي الباب عن أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ سَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنْ عُذِّبُوا بِالنَّارِ بِذُنُوبِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّارِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ سورة الحجر آية 2 قَالُوا: إِذَا أُخْرِجَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ.

صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت ؓ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں (انہیں دیکھ کر) رو پڑا، انہوں نے کہا: ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو؟ قسم اللہ کی! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں (آخرت میں) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کردیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آچکی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو گواہی دے کہ کوئی معبود (برحق) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا ۔

Sunabihi narrated: I visited Ubadahh ibn Samit (RA) who was on the death bed. I wept. He said, “Easy, why do you weep? If I am asked to testify (to your belief), I will testiy for you, and if I am allowed to intercede, I will intercede for you, and, if I can, I will profit you. Then, he said, “By Allah, none of the ahadith that I have heard from Allah’s Messenger ﷺ is without good in it for you, and I have narrated (all of) them to you, except one hadith. I will narrate it to you today. Indeed I am surrounded by death. I heard Allah’s Messenger ﷺ say: If anyone testifies that there is no God but Allah and that Muhammad ﷺ is Allah’s Messenger ﷺ then Allah forbids the Fine to touch him.” [Muslim 29, Ahmed 22774]

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2638
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون (قابل اعتماد) ہیں، ٣ - صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں (ابوعبداللہ کنیت ہے) ، ٤ - اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥ - زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے فرمان: «من قال لا إله إلا اللہ دخل الجنة» جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہوگا کے متعلق پوچھا گیا (کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ٦ - بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید (ہر حال میں) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ١ ؎، ٧ - عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا ہوگا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہوگی ٢ ؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين کفروا لو کانوا مسلمين» وہ بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے (الحجر: ٢ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر لامحالہ جنت میں جائیں گے اور ان کی آخری آرام گاہ جنت ہی ہوگی۔ ٢ ؎: غالباً یہی وہ موحد لوگ ہوں گے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم کی سزائیں کاٹ کر جنت میں جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٢٩) (تحفة الأشراف: ٥٠٩٩) (صحیح )
2639Sunan At-Tirmidhi

جس شخص کا خاتمہ توحید پر ہو

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ ثُمَّ الْحُبُلِيّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَاابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، بِمَعْنَاهُ وَالْبِطَاقَةُ هِيَ الْقِطْعَةُ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہوگا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم (و زیادتی) نہ ہوگی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں لکھا ہوگا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر (کانٹے پر) موجود رہو، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہوگی۔ آپ ( ﷺ ) نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہوگا۔ (اور سچی بات یہ ہے کہ) اللہ کے نام کے ساتھ (یعنی اس کے مقابلہ میں) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہوسکتی ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr ibn al-Aas reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ i; say: On the Day of Resurrection, Allah will pick out a man of my ummah in front of all the creatures. Ninety scrolls will be (opened and) presented to him, each scroll the length of the eye-sight. He (Allah) will ask, “Do you deny from it anything? Have My guardian-recorders wronged you?” He will say, “No, my Lord.” He will ask, “Do you have an excuse?” He will answer, “No, my Lord.” Allah will say, “Rather! We have with us a pious deed from you, and, indeed, you will not be wronged to-day.” So a card would be taken out inscribed on it (the words): ‘I bear witness that there is on God but Allah and I bear witness that Muhammad ﷺ is His slave and His Messenger’. He (Allah) will say, “Bring your scale.” He will plead, “My Lord, what is this card before these scrolls?” Allah will say, “You will not be wronged.” So, the scrolls will be placed on one pan and the card on another pan of the balances. The scrolls shall fail and the card shall outweigh them, and nothing is heavier than the name of Allah.

صحيح، ابن ماجة (4300) صحيح، ابن ماجة (4300)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2639 اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2639
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٣٠٠) (تحفة الأشراف: ٨٨٥٥) (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )
2640Sunan At-Tirmidhi

امت میں افتراق کے متعلق

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وفي الباب عن سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) in reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Jews divided into seventy-one sects or seventy-two sects, and the Christianslike that. And my ummah will divide into seventy-three sects.” [Ibn Majah 3991]

حسن صحيح، ابن ماجة (3991)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2640
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، اور عوف بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے، صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، امت کے یہ فرقے کون ہیں؟ صاحب تحفہ الأحوذی نے اس کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ فرق مذمومہ سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جو اہل حق سے اصول میں اختلاف رکھتے ہیں، مثلاً توحید، تقدیر، نبوت کی شرطیں اور موالات صحابہ وغیرہ، کیونکہ یہ ایسے مسائل ہیں جن میں اختلاف کرنے والوں نے ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے جب کہ فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے، جنتی فرقہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کتاب وسنت پر قائم رہنے والے اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٧ (٣٩٩١) (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٢) (حسن صحیح )
2641Sunan At-Tirmidhi

امت میں افتراق کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ بْنِ أَنْعَمُ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مُفَسَّرٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آچکی ہے، (یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہوگا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہوگی؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messeenger ﷺ said, “The same things will be faced by my ummah as the Banu Isra’il faced as a shoe compares with (its pairing) shoe, to the extent that if there was anyone of them to have approached his mother (for sexual intercourse) then there will be in my ummah who would do that. And the Banu Isra’il divided into seventy-two sects and my ummah will divide into seventy-three sects, all of whom will go into the Fire except one millat (sect). “The sahabah (RA) asked (him), “Who are they, O Messenger of Allah ﷺ ”. He said, “(Who follow) what I am on and my companions (are on).”

حسن، المشکاة (171 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (1348)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2641
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث جس میں ابوہریرہ ؓ کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٨٦٤) (حسن) (تراجع الالبانی ٢٤٩، والصحیحہ ١٣٤٨ )
2642Sunan At-Tirmidhi

امت میں افتراق کے متعلق

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پر تو) تو جس پر یہ نور پڑگیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کر گیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر (تقدیر کا) قلم خشک ہوچکا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say that Allah, the Blessed and Exalted, created His creatures in darkness. Then He cast on them His Light. Thus, those whom the Light hit were guided and whom it missed were misguided. “This is why I say that the pen dried up with the knowledge of Allah.

صحيح، المشکاة (101)، الصحيحة (1076)، الظلال (241 - 244)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2642
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہدایت و گمراہی کی پیشگی تحریر اللہ کے علم کے مطابق ازل میں لکھی جا چکی ہے، اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہوسکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي)، و مسند احمد (٢/١٧٦، ١٩٧) (صحیح )
2643Sunan At-Tirmidhi

امت میں افتراق کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، قَالَ: فَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلَوْا ذَلِكَ ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ (پھر) آپ نے کہا: کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔

Sayyidina Mu’azdh ibn Jabal (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ asked, “Do you realise what right Allah has over His slaves?” Mu’adh said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “His rights over them are that they should worship Him and not associate anything with Him.” He then asked, “Do you realise what is their right over Him if they perform that?” Mu’adh said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “That He should not punish them.” [Bukhari 2856, Muslim 30, Ahmed 22065, Ibn Majah 4296]

صحيح، ابن ماجة (4296)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2643
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٦ (٢٨٥٦)، واللباس ١٠١ (٥٩٦٧)، والاستئذان ٣٠ (٦٢٦٧)، والرقاق ٣٧ (٦٥٠٠)، والتوحید ١ (٧٣٧٣)، صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٣٠)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٤٢٩٦) (تحفة الأشراف: ١١٣٥١) (صحیح )
2644Sunan At-Tirmidhi

امت میں افتراق کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ،وَالْأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا ، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، (اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو) ١ ؎۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messeenger ﷺ said, “Jibril came to me and gave me good tidings that if anyone dies without associating anything with Allah then he will enter Paradise.” Abu Dharr (RA) asked, Even if he has committed adultery and theft.” He said, “Yes.” [Bukhari 6268, Muslim 9, Ahmed 21489]

صحيح، الصحيحة (826)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2644
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ زنا اور چوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ٣ (٢٣٨٨)، و بدء الخلق ٦ (٣٢٢٢)، والاستئذان ٣٠ (٦٢٦٨)، والرقاق ١٣ (٦٤٤٣)، و ١٤ (٦٤٤٤)، والتوحید ٣٣ (٧٤٨٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٠ (٩٤)، والزکاة ٩ (٩٤/٣٢) (تحفة الأشراف: ١١٩١٥)، و مسند احمد (٥/١٥٩) (صحیح )