خارجہ بن حذافہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (حجرے سے نکل کر) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک ایسی نماز کا اضافہ کیا ہے ١ ؎، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر ہے، اللہ نے اس کا وقت تمہارے لیے نماز عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک رکھا ہے ۔
Sayyidina Kharijah ibn Huzafah reported that Allah’s Messenger ﷺ came their way. He said, ‘Surely, Allah has helped you with a salah that is better for you than red camels: the witr! Allah has assigned it for you between the salah of isha and the rise of dawn.”
صحيح دون قوله: هى خير لکم من حمر النعم، ابن ماجة (1168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- خارجہ بن حذافہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف یزید بن ابی حبیب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض محدثین کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، انہوں نے عبداللہ بن راشد زرقی کہا ہے، یہ وہم ہے (صحیح «زوفی» ہے) ٣- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، بریدہ، اور ابو بصرہ غفاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- ابو بصرہ غفاری کا نام حمیل بن بصرہ ہے، اور بعض لوگوں نے جمیل بن بصرہ کہا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اور ابو بصرہ غفاری ایک دوسرے شخص ہیں جو ابوذر ؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابوذر کے بھتیجے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں «زادکم» کا لفظ بھی آیا ہے، حنفیہ نے اس لفظ سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑی ہے، کیونکہ زیادہ کی ہوئی چیز بھی اصل چیز کی جنس ہی سے ہوتی ہے، تو جب پانچ وقتوں کی نماز واجب ہے تو وتر بھی واجب ہوئی، علماء نے اس کا رد کئی طریقے سے کیا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ فجر کی سنت کے بارے میں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے جب کہ کوئی بھی اس کو واجب نہیں مانتا، اسی طرح بدوی کی وہ حدیث جس میں وارد ہے کہ ان پانچ کے علاوہ بھی اللہ نے مجھ پر کوئی نماز فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں، نیز مزید کا مزید فیہ کے جنس سے ہونا ضروری نہیں ہے، ( مزید تفصیل کے لیے دیکھئیے: تحفۃ الأحوذی )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٣٦ (١٤١٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤ (١١٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٤٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) ” ہی خیر من حمر النعم “ ) کا فقرہ ثابت نہیں ہے (اس کے راوی ” عبداللہ بن راشد “ مجہول ہیں، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح متابعات وشواہد موجود ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی ٤٦٦)
علی ؓ کہتے ہیں: وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے ١ ؎، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر (طاق) ٢ ؎ ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! ٣ ؎ تم وتر پڑھا کرو۔
Sayyidina Ali (RA) said, “The witr is not fard like your prescribed prayers. But, it is the sunnah of Allah’s Messenger ﷺ who said: Surely Allah is witr (one). He loves witr, so offer the witr, “O people of the Quran!.”
صحيح، ابن ماجة (1169)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 453
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابن مسعود اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ وتر فرض اور لازم نہیں ہے بلکہ سنت مؤکدہ ہے۔ ٢ ؎: اللہ وتر ( طاق ) ہے کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ذات وصفات اور افعال میں یکتا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں، صلاة الوتر کو بھی اسی لیے وتر کہا جاتا ہے کہ یہ ایک یا تین یا پانچ یا سات وغیرہ عدد میں ادا کی جاتی ہے اسے جفت اعداد میں پڑھنا جائز نہیں۔ ٣ ؎: صحابہ کرام ؓ اجمعین کو نبی اکرم ﷺ نے اہل قرآن کہا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے تھے، اہل قرآن کا مطلب ہے شریعت اسلامیہ کے متبع و پیروکار اور شریعت قرآن و حدیث دونوں کے مجموعے کا نام ہے، نہ کہ صرف قرآن کا، جیسا کہ آج کل قرآن کے ماننے کے دعویداروں کا ایک گروہ کہتا ہے، یہ گروہ منکرین حدیث کا ہے، حدیث کا منکر ہے اس لیے حقیقت میں وہ قرآن کا بھی منکر ہے کیونکہ حدیث کے بغیر نہ تو قرآن کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦)، (الشطر الأخیر فحسب)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٧٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤ (١١٦٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠١٣٥)، مسند احمد (١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٥، ١٤٤، ١٤٥، ١٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٢١) (صحیح) (سند میں ” ابواسحاق سبیعی مختلط ہیں، نیز عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
مسروق سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے۔ شروع رات میں بھی درمیان میں بھی اور آخری حصے میں بھی۔ اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کا وتر سحر تک پہنچ گیا تھا۔
Masruq asked Sayyidah Aisha (RA) about the Prophet’s ﷺ witr. She said, “He offered the witr in the night, the first of it, the middle of it and the last of it. So, he ended his witr about the time of his death towards the last of the night (at the time of sahr, before dawn before his death).”
صحيح، ابن ماجة (1185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 456
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، جابر، ابومسعود انصاری اور ابوقتادہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کے نزدیک یہی پسندیدہ ہے کہ وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھی جائے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں حدیثوں اور اس باب میں مروی دیگر حدیثوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہ آدمی پر منحصر ہے، وہ جب آخری پہر رات میں اٹھنے کا یقین کامل رکھتا ہو تو عشاء کے بعد یا سونے سے پہلے ہی وتر نہ پڑھے بلکہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر اس طرح کا یقین نہ ہو تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی پڑھ لے، اس مسئلہ میں ہر طرح کی گنجائش ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ وتر تیرہ رکعت پڑھتے تھے لیکن جب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعت پڑھنے لگے۔
Sayyidah Umm Salamah said that the Prophet ﷺ used to offer thirteen raka’at witr. When he grew old and weak, he offered seven.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 457
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام سلمہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے وتر تیرہ، گیارہ، نو، سات، پانچ، تین اور ایک سب مروی ہیں، ٤- اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) کہتے ہیں: یہ جو روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر تیرہ رکعت پڑھتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تہجد (قیام اللیل) وتر کے ساتھ تیرہ رکعت پڑھتے تھے، تو اس میں قیام اللیل (تہجد) کو بھی وتر کا نام دے دیا گیا ہے، انہوں نے اس سلسلے میں عائشہ ؓ سے ایک حدیث بھی روایت کی ہے اور نبی اکرم ﷺ کے فرمان اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو سے بھی دلیل لی ہے۔ ابن راہویہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے قیام اللیل مراد لی ہے، اور قیام اللیل صرف قرآن کے ماننے والوں پر ہے (نہ کہ دوسرے مذاہب والوں پر) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہمارے اس نسخے اور ایسے ہی سنن ترمذی مطبوعہ مکتبۃ المعارف میں علامہ احمد شاکر کے سنن ترمذی کے نمبرات کا لحاظ کیا گیا ہے، احمد شاکر کے نسخے میں غلطی سے ( ٤٥٨) نمبر نہیں ہے، اس لیے ہم نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے، لیکن اوپر ( ٤٥٥) مکرر آیا ہے اس لیے آگے نمبرات کا تسلسل صحیح ہے )۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٩ (١٧٠٩)، و ٤٥ (١٧٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٢٥)، مسند احمد (٦/٣٢٢) (صحیح الإسناد)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی قیام اللیل (تہجد) تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ ان میں پانچ رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں، ان (پانچ) میں آپ صرف آخری رکعت ہی میں قعدہ کرتے تھے، پھر جب مؤذن اذان دیتا تو آپ کھڑے ہوجاتے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
Sayyidah Aisha (RA) said, “The Prophet’s ﷺ salah of the night comprised of thirteen raka’at of which five were witr during which he did not sit down a while, except at the end. Then when the mu’adhdhin called the adhan, he stood up and prayed two light raka’at.”
صحيح، صحيح أبي داود (1209 و 1210)، صلاة التراويحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 459
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوایوب ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ (جس) وتر کی پانچ رکعتیں ہیں، ان میں وہ صرف آخری رکعت میں قعدہ کرے گا، ٤- میں نے اس حدیث کے بارے میں کہ نبی اکرم ﷺ نو اور سات رکعت وتر پڑھتے تھے ابومصعب مدینی سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ نو اور سات رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ دو دو رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے جاتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھ لیتے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ان میں مفصل میں سے نو سورتیں پڑھتے ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے، اور سب سے آخر میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ used to offer three raka’at witr. He recited therein nine surah from the mufassal, reciting in each raka’ah three surah, the last being al-lkhlas.
١- اس باب میں عمران بن حصین، ام المؤمنین عائشہ ؓ، ابن عباس، ابوایوب انصاری اور عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے اسے ابی بن کعب سے روایت کی ہے۔ نیز یہ بھی مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے (براہ راست) روایت کی ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «ابی» کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور بعض نے «ابی» کے واسطے کا ذکر کیا ہے۔ ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت کا خیال یہی ہے کہ آدمی وتر تین رکعت پڑھے، ٣- سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو پانچ رکعت وتر پڑھو، اور چاہو تو تین رکعت پڑھو، اور چاہو تو صرف ایک رکعت پڑھو۔ اور میں تین رکعت ہی پڑھنے کو مستحب سمجھتا ہوں۔ ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ٤- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ لوگ وتر کبھی پانچ رکعت پڑھتے تھے، کبھی تین اور کبھی ایک، وہ ہر ایک کو مستحسن سمجھتے تھے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث حارث اعور کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر اس کیفیت کے ساتھ ضعیف ہے، نہ کہ تین رکعت وتر پڑھنے کی بات ضعیف ہے، کئی ایک صحیح حدیثیں مروی ہیں کہ آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑتے تھے، پہلی میں «سبح اسم ربک الاعلی» دوسری میں «قل يا ايها الکافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ ٢ ؎: سارے ائمہ کرام و علماء امت اس بات کے قائل ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے کہ چاہے پانچ رکعت پڑھے، چاہے تین، یا ایک، سب کے سلسلے میں صحیح احادیث وارد ہیں، اور یہ بات کہ نہ تین سے زیادہ وتر جائز ہے نہ تین سے کم ( ایک ) تو اس بات کے قائل صرف ائمہ احناف ہیں، وہ بھی دو رکعت کے بعد قعدہ کے ساتھ جس سے وتر کی مغرب سے مشابہت ہوجاتی ہے، جبکہ اس بات سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٣٠١) (ضعیف جداً ) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف ہے)
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: کیا میں فجر کی دو رکعت سنت لمبی پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ تہجد دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور وتر ایک رکعت، اور فجر کی دو رکعت سنت پڑھتے (گویا کہ) تکبیر آپ کے کانوں میں ہو رہی ہوتی ١ ؎۔
Anas ibn Sirin reported that he asked Sayyidina Ibn Umar (RA) if he may lengthen the two rakaat of fajr. He said, ‘The Prophet ﷺ prayed in the night in two’s and (finally) one raka’ah of witr. And offered the two raka’at (of fajr) with the adhan in his ears.”
صحيح، ابن ماجة (1144 و 1318)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 461
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، جابر، فضل بن عباس، ابوایوب انصاری اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ و تابعین میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ آدمی دو رکعتوں اور تیسری رکعت کے درمیان (سلام کے ذریعہ) فصل کرے، ایک رکعت سے وتر کرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا تکبیر آپ ﷺ کے دونوں کانوں میں ہو رہی ہوتی کا مطلب ہے کہ فجر کی دونوں سنتیں اتنی سرعت سے ادا فرماتے گویا تکبیر کی آواز آپ کے کانوں میں آرہی ہے اور آپ تکبیر تحریمہ فوت ہوجانے کے اندیشے سے اسے جلدی جلدی پڑھ رہے ہوں۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کی وتر کے بارے میں وارد احادیث میں یہ صورت بھی ہے، اور بغیر سلام کے تین پڑھنے کی صورت بھی مروی ہے، اس معاملہ میں امت پر وسعت کی گئی ہے، اس کو تنگی میں محصور کردینا مناسب نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا اس ضمن میں زیادہ عمل، وتر ایک رکعت پڑھنے پر تھا اس کے لیے احادیث و آثار تین، پانچ اور ان سے زیادہ وتروں کی نسبت کثرت سے مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر میں «سبح اسم ربک الأعلی»، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔
Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger used to recite in witr the surah al-Ala, al-Kafirun and al-IkhLas, raka’ah by raka’ah.
صحيح، ابن ماجة (1172)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ جنہوں نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «سبح اسم ربک الأعلی»، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٨٧) (صحیح)
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی رکعت میں «سبح اسم ربک الأعلی»، دوسری میں «قل يا أيها الکافرون»، اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» اور معوذتین ١ ؎ پڑھتے تھے۔
Abdul Aziz ibn Jurayj reported having asked Sayyidah Aisha (RA) , “What did Allah’s Messenger recite in witr?” She said, “He would recite in the first, al-A’la, in the second al-Kafirun and in the third al-Ikhlas and the mu’awwizatan.”
صحيح، ابن ماجة (1173)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 463
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ عبدالعزیز راوی اثر عطاء کے شاگرد ابن جریج کے والد ہیں، اور ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ٣- یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بطریق: «عمرة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٩ (١٤٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٠٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ عبد العزیز کی ملاقات عائشہ ؓ سے نہیں ہے)
حسن بن علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارک لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنک تقضي ولا يقضی عليك وإنه لا يذل من واليت تبارکت ربنا وتعاليت» اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
Abu Hawra reported that Sayyidina Hasan ibn Ali said, “Allah’s Messenger taught me some expressions that I might recite them in witr?’: (O Allah! Guide me among those whom You have guided, and preserve me among those whom You have preserved. And take me as a friend among those whom You have befriended, and bless me in that which You have bestowed (upon me). And protect me against the evil that You have ordained, for, indeed, You are the One who ordains and none can otdain against You. And, indeed, never is he disgraced whom You take for a friend. Blessed are You, O our Lord! Andexalted are You!).
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے، ٣- میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم ﷺ سے مروی ہو معلوم نہیں، ٤- اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے، ٥- اہل علم کا وتر کے قنوت میں اختلاف ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کا خیال ہے کہ وتر میں قنوت پورے سال ہے، اور انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کیا ہے، اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں، ٦- علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ وہ صرف رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے، اور رکوع کے بعد پڑھتے تھے، ٧- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وتر کی اہمیت، اور اس کی مشروعیت کے سبب اس کے وقت، اور طریقہ نیز نبی اکرم ﷺ کی وتر کے بارے میں جو روایات وارد ہیں ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے، کہ صلاۃ وتر پورا سال اور ہر روز ہے، اور قنوت وتر کے بارے میں تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ رکوع سے پہلے افضل ہے، اور قنوت نازلہ رکوع کے بعد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥١ (١٧٤٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٧ (١١٧٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٤٤٠٤)، مسند احمد (١/١٩٩، ٢٢٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٤ (١٦٣٢) (صحیح)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے یا جاگے پڑھ لے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri narrated that Allah’s Messenger ﷺ said,”If anyone goes to sleep without offering the witr, or forgets it, then he must offer it on awakening or on remembering.”
صحيح، ابن ماجة (1188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 465
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤١ (١٤٣١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٢ (١١٨٨)، ( تحفة الأشراف: ٤١٩٨)، مسند احمد (٣/٣١) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم متکلم فیہ راوی ہیں لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
زید بن اسلم (مرسلاً ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، اور جب صبح کو اٹھے تو پڑھ لے ۔
Zayd ibn Aslam reported from his father that the Prophet ﷺ said, “He who sleeps without offering witr, may pray it when it is morning.”
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٢- میں نے ابوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں، ٣- میں نے محمد (محمد بن اسماعیل بخاری) کو ذکر کرتے سنا، وہ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) سے روایت کر رہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ (ان کے بھائی) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں، ٤- کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آ جائے، گو سورج نکلنے کے بعد یاد آئے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پہلی حدیث اگرچہ مرفوع ہے مگر عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے طریق سے ہے، اور وہ متکلم فیہ ہیں، جبکہ ان کے بھائی عبداللہ ثقہ ہیں، یعنی اس حدیث کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے وتر کی قضاء ثابت ہوتی ہے، اس کے قائل بہت سے صحابہ اور ائمہ ہیں، اس مسئلہ میں اگرچہ بہت سے اقوال ہیں مگر احتیاط کی بات یہی ہے کہ وتر اگر کسی وجہ سے رہ جائے تو قضاء کرلے، چاہے جب بھی کرے، کیونکہ وتر سنن و نوافل نمازوں کو طاق بنانے کے لیے مشروع ہوئی ہے، اور اگر کوئی مسافر ہو اور دن بھر میں کسی وقت بھی دو رکعت بھی سنت نہ پڑھ سکا ہو تو ایسے آدمی کو وتر کی ضرورت ہی نہیں، پھر عشاء کے بعد دو رکعت سنت پڑھ لے تب وتر پڑھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ یہ خود مرسل روایت ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب فجر طلوع ہوگئی تو تہجد (قیام اللیل) اور وتر کا سارا وقت ختم ہوگیا، لہٰذا فجر کے طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو ۔
Sayyidina lbn Umar reported that Allah’s Messenger said, “When dawn rises, (the times for) all the prayers of the nights and the witr are over. So, offer the witr before rise of dawn.”
صحيح، الإرواء (2 / 154)، صحيح أبي داود (1290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سلیمان بن موسیٰ ان الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں، ٢- نیز نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: فجر کے بعد وتر نہیں ، ٣- بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں: یہ لوگ نماز فجر کے بعد وتر پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث کے حاشیہ میں گزرا کہ بہت سے صحابہ کرام وائمہ عظام وتر کی قضاء کے قائل ہیں، اور یہی راجح مسلک ہے، کیونکہ اگر وتر نہیں پڑھی تو سنن و نوافل کی جفت رکعتیں طاق نہیں ہو پائیں گی، واللہ اعلم۔
طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ایک رات میں دو بار وتر نہیں ۔
Qays ibn Talq ibn Ali reported on the authority of his father that he heard Allah’s Messenger say, “There are not two witr (prayers) in a night.”
صحيح، صحيح أبي داود (1293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 470
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس شخص کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے جو رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لیتا ہو پھر رات کے آخری حصہ میں قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتا ہو، تو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کی رائے وتر کو توڑ دینے کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں ایک رکعت اور ملا لے تاکہ (وہ جفت ہوجائے) پھر جتنا چاہے پڑھے اور نماز کے آخر میں وتر پڑھ لے۔ اس لیے کہ ایک رات میں دو بار وتر نہیں، اسحاق بن راہویہ اسی طرف گئے ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب اس نے رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لی پھر سو گیا، پھر رات کے آخری میں بیدار ہوا تو وہ جتنی نماز چاہے پڑھے، وتر کو نہ توڑے بلکہ وتر کو اس کے اپنے حال ہی پر رہنے دے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی اور اہل کوفہ اور احمد کا یہی قول ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ کئی دوسری روایتوں میں مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وتر کے بعد نماز پڑھی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٤ (١٤٣٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٩ (١٦٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٢٤)، مسند احمد (٤/٢٣) (صحیح)
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) said that the Prophet ﷺ prayed two raka’ah after the witr.
صحيح، ابن ماجة (1195)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 471
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوامامہ، عائشہ ؓ اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نووی کے بقول نبی اکرم ﷺ کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا، آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے، نہ کرسکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا: وتر کو رات کی نماز ( تہجد ) میں سب سے اخیر میں کر دو تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کرسکتے تھے، یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔ واللہ اعلم۔
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر ؓ کے ساتھ چل رہا تھا، میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔
Sa’eed ibn Yasar said that he was with Sayyidina lbn Umar (RA) in a journey. He lagged behind him, so he asked, “Where were you?” He said, “I was offering the witr.” So, he ( Ibn Umar (RA) ) said, “Is not there for you in Allah’s Messenger an excellent example? I had observed Allah’s Messenger pray the witr on his riding beast.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 472
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آدمی اپنی سواری پر وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آدمی سواری پر وتر نہ پڑھے، جب وہ وتر کا ارادہ کرے تو اسے اتر کر زمین پر پڑھے۔ یہ بعض اہل کوفہ کا قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سواری پر بھی وتر پڑھا کرتے تھے، اس لیے کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کو ناپسند کرے اور یہ صرف جائز ہے نہ کہ فرض و واجب ہے، کبھی کبھی آپ ﷺ سواری سے اتر کر بھی پڑھا کرتے تھے، ہر دونوں صورتیں جائز ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٩)، وتقصیر الصلاة ٧ (١٠٩٥)، و ٨ (١٠٩٨)، و ١٢ (١١٠٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٣ (١٦٨٧-١٦٨٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٧ (١٢٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٨٥)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٥)، مسند احمد (٢/٥٧، ١٣٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays twelve raka’at of the (salah of) duha then Allah builds for him a castle of gold in Paradise.” (The time for it is from the advance of day till the decline of the sun).
ضعيف، ابن ماجة (1380) // عندنا برقم (291) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 473
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ام ہانی، ابوہریرہ، نعیم بن ہمار، ابوذر، عائشہ، ابوامامہ، عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سیاق و لفظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے نہ کہ نفس چاشت کی صلاۃ، آگے والی حدیث صحیح ہے جس سے آٹھ رکعت چاشت کی صلاۃ کا ثبوت ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٧ (١٣٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٥) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن فلان بن انس مجہول راوی ہے)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے صرف ام ہانی ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے، ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں داخل ہوئے تو غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس سے بھی ہلکی نماز کبھی پڑھی ہو، البتہ آپ رکوع اور سجدے پورے پورے کر رہے تھے۔
Abdur Rahrnan ibn Abu Layla narrated that no one informed him having seen Allah’s Messenger pray the duha salah except Sayyidah Umm Hani ijir. She narrated that Allah’s Messenger enterred her house on the day of liberation of Makkah, had a bath and prayed eight raka’at. “I had not seen him before offering more brief salah than this though he carefully completed the ruku and sajdah.’
صحيح، ابن ماجة (1379)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 474
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- احمد بن حنبل کی نظر میں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ام ہانی ؓ کی حدیث ہے۔