ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allahs Messenger said, “Of the deeds a man does on the day of sacrifice the dearest to Allah is the flow of blood (sacrifice). It will come on the day of Resurrection with its horns and its hair and its hoofs. Indeed, blood will be accepted by Allah at once even before it falls on the ground. So, please yourselves with it! [Ibn e Majah 3126]
ضعيف، ابن ماجة (3126) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (671)، المشکاة (1470)، ضعيف الجامع الصغير (5112) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1493
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہشام بن عروہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں عمران بن حصین اور زید بن ارقم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - راوی ابومثنی کا نام سلیمان بن یزید ہے، ان سے ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے، ٤ - رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی ، ٥ - یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٣ (٣١٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٤٣) (ضعیف جداً ) (سند میں ” ابو المثنی سلیمان بن یزید “ سخت ضعیف ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور (ذبح کرتے وقت) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported tha Allah’s Messenger ﷺ sacrificed two rams that had horns. They were two-coloured (black and white). He sacrificed them with his own hands saying Bismillah (in the name of Allah) and Allahu Akbar (Allah is the Greatest), placing his leg on its sides. [Bukhari 5565, Muslim 1966]
صحيح، ابن ماجة (3120)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1494
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، عائشہ، ابوہریرہ، ابوایوب، جابر، ابو الدرداء، ابورافع، ابن عمر اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ مسائل ثابت ہوتے ہیں: ( ١ ) قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہیئے، گو نیابت بھی جائز ہے، ( ٢ ) ذبح سے پہلے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیئے ( ٣ ) ذبح کرتے وقت اپنا پاؤں جانور کے گردن پر رکھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأضاحي ٧ (٥٥٥٤)، و ٩ (٥٥٥٨)، و ١٣ (٥٥٦٤)، و ١٤ (٥٥٦٥)، والتوحید ١٣ (٧٣٩٩)، صحیح مسلم/الأضاحي ٣ (١٩٦٦)، سنن ابی داود/ الأضاحي ٤ (٢٧٩٤)، سنن النسائی/الأضاحي ١٤، (٤٣٩١، ٤٣٩٢)، و ٢٨ (٤٤٢٠)، و ٢٩ (٤٤٢١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي (٣١٢٠) (تحفة الأشراف: ١٤٢٧)، و مسند احمد (٣/٩٩، ١١٥، ١٧٠، ١٧٨، ١٨٩، ٢١١، ٢١٤، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٥٨، ٢٧٢، ٢٧٩، ٢٨١)، سنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٨) (صحیح )
علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرم ﷺ نے دیا ہے، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) always sacrificed two rams, one on behalf of the Prophet ﷺ and one on his own account. Someone asked him, Why do you do that? He said, ‘The Prophet ﷺ had commanded me to do it. So I will never neglect it.” [Abu Dawud 2790]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1495
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: علی بن مدینی نے کہا: اس حدیث کو شریک کے علاوہ لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، میں نے ان سے دریافت کیا: راوی ابوالحسناء کا کیا نام ہے؟ تو وہ اسے نہیں جان سکے، مسلم کہتے ہیں: اس کا نام حسن ہے، ٣ - بعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور بعض لوگ میت کی طرف سے قربانی درست نہیں سمجھتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: مجھے یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کردیا جائے، قربانی نہ کی جائے، اور اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کردی تو اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ تمام کو صدقہ کر دے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ضعیف حدیث، اور قربانی کرتے وقت نبی اکرم ﷺ کی دعا: «اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ میت کی جانب سے قربانی کی جاسکتی ہے، پھر اختلاف اس میں ہے کہ میت کی جانب سے قربانی افضل ہے یا صدقہ؟ حنابلہ اور اکثر فقہاء کے نزدیک قربانی افضل ہے، جب کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ قیمت صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی دراصل دیگر عبادات (صوم و صلاۃ) کی طرح زندوں کی عبادت ہے، قربانی کے استثناء کی کوئی دلیل پختہ نہیں ہے، علی ؓ کی حدیث سخت ضعیف ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی قربانی کے وقت کی دعا سے استدلال زبردستی کا استدلال ہے جیسے بدعتیوں کا قبرستان کی دعا سے غیر اللہ کو پکارنے پر استدلال کرنا، جب کہ اس روایت کے بعض الفاظ یوں بھی ہیں «عمن لم يضح أمتي» (یعنی میری امت میں سے جو قربانی نہیں کرسکا ہے اس کی طرف سے قبول فرما) اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ میری امت میں سے جو زندہ شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کی وجہ سے قربانی نہ کرسکا ہو اس کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما، نیز امت میں میت کی طرف سے قربانی کا تعامل بھی نہیں رہا ہے۔ «واللہ اعلم بالصواب »
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأضاحي ٢ (٢٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٢) (ضعیف) (سند میں ” شریک “ حافظے کے کمزور ہیں، اور ابو الحسنائ “ مجہول، نیز ” حنش “ کے بارے میں بھی سخت اختلاف ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی، وہ سیاہی میں کھاتا تھا، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ offered sacrifice of a horned ram that was a male. Its mouth, feet and eyes were black. [Abu Dawud 2796]
صحيح، ابن ماجة (3128)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1496
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اس کو صرف حفص بن غیاث ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا منہ، اس کے پیر اور اس کی آنکھیں سب کالی تھیں۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسے لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن واضح ہو، نہ ایسے اندھے جانور کی جس کا اندھا پن واضح ہو، نہ ایسے بیمار جانور کی جس کی بیماری واضح ہو، اور نہ ایسے لاغر و کمزور جانور کی قربانی کی جائے جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو ١ ؎۔ اس سند سے بھی براء بن عازب ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported in a marfu way that a lame animal with an obvious limp must not be offered in sacrifice nor a one-eyed whose loss of one eye is obvious, nor a sick whose sickness is apparent, nor one whose bones have no marrow. [Abu Dawud 2802, Nisai 4383]
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی والے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو (یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو) ، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (آگے سے) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (پیچھے سے) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان (لمبائی میں) چیرا ہوا ہو، اور «خرقاء» جس کے کان میں (گول) سوراخ ہو۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ commanded them to examine the sacrificial animal’s eyes and ears thoroughly. He disallowed them to make sacrifice of on animal with a slit of ear that leaves something hanging, or a slit through the length of the ear, or a pierced ear. [Abu Dawud 2804, Muslim 4384, Ahmed 609]
ابوکباش کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تجارت کے لیے جذع یعنی دنبہ کے چھوٹے بچے لایا اور بازار مندا ہوگیا ١ ؎، لہٰذا میں نے ابوہریرہ ؓ سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: بھیڑ کے جذع کی قربانی خوب ہے! ابوکباش کہتے ہیں (یہ سنتے ہی) لوگ اس کی خریداری پر ٹوٹ پڑے۔ اس باب میں ابن عباس، ام بلال بنت ہلال کی ان کے والد سے اور جابر، عقبہ بن عامر ؓ اور ایک آدمی جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Abu Kahash (RA) narrated; I took six month old lambs to Madinah (to sell them). But, they were a dead stock for me. I met Abu Hurayrah (RA) and I asked him and he said, “I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that the best sacrifice is a six month old lamb.” So, the people took away everything (quickly). [Ahmed 9745]
ضعيف، الضعيفة (64)، المشکاة (1468)، الإرواء (1143) // ضعيف الجامع الصغير (5971) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1499
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ ابوہریرہ ؓ سے موقوفاً بھی مروی ہے، ٣ - عثمان بن واقدیہ ابن محمد بن زیاد بن عبداللہ بن عمر بن خطاب ہیں، ٤ - صحابہ کرام میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ بھیڑ کا جذع قربانی کے لیے کفایت کر جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بازار مندہ پڑگیا دوسری جانب جذع کی قربانی درست نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ انہیں خرید نہیں رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٤٥٦) وانظر مسند احمد (٢/٤٤٥) (ضعیف) (سند میں ” عثمان بن واقد “ حافظہ کے کمزور اور ” کدام “ و ” ابوکباش “ مجہول ہیں )
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کردیں، ایک «عتود» (بکری کا ایک سال کا فربہ بچہ) یا «جدي» ١ ؎ باقی بچ گیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: تم اس کی قربانی خود کرلو ۔
Sayyidina Uqbah ibnAamir (RA) repoted that Allah’s Messenger ﷺ gave him some goats that he might distribute them among the sahabah (RA) for sacrifice. One remained with him. It was a year-old or six-month old. He mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ who said, “You make a sacrifice with it.” [Bukhari 2300]
صحيح، ابن ماجة (3138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - وکیع کہتے ہیں: بھیڑ کا جذع، چھ یا سات ماہ کا بچہ ہوتا ہے۔ ٣ - عقبہ بن عامر سے دوسری سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے جانور تقسیم کیے، ایک جذعہ باقی بچ گیا، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم اس کی قربانی خود کرلو ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ قربانی کا دن آگیا، چناچہ ہم نے گائے کی قربانی میں سات آدمیوں اور اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کو شریک کیا ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported: We were with Allah’s Messenger ﷺ on a journey. The (eid) al-Adha came upon us. So we shared, seven in a cow and ten in a camel. [Nisai 4404, Ibn e Majah 3131,Ahmed 2484]
صحيح وقد مضی برقم (907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1501
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں «ابوالأ سد سلمی عن أبیہ عن جدہ» اور ابوایوب سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف سے اونٹ ذبح کرنے کا یہ ضابطہٰ و اصول قربانی کے جانوروں کے لیے ہے، جب کہ ہدی کے جانور اونٹ ہوں یا گائے سب میں سات سات افراد شریک ہوں گے، آگے جابر ؓ کی روایت سے یہی ثابت ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر (ذبح) کیا۔
Sayyidina Jabir narrated: We made sacrifice with Allah’s Messenger ﷺ during (the peace of) Hudaybiyah. We shared seven in a camel and seven in a cow. [Muslim 1318]
صحيح، ابن ماجة (3132)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1502
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام میں سے اہل علم اور ان کے علاوہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٣ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اونٹ دس آدمی کی طرف سے بھی کفایت کر جائے گا، انہوں نے ابن عباس ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن عباس ؓ کی حدیث کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ( ١٥٠١ )۔ ان کی حدیث کا تعلق قربانی سے ہے، جب کہ جابر کی حدیث کا تعلق حج و عمرہ کے ہدی سے ہے۔
حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کہا: گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی، حجیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر وہ بچہ جنے؟ انہوں نے کہا: اسی کے ساتھ اس کو بھی ذبح کر دو ١ ؎، میں نے کہا اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے کہا: جب قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اسے ذبح کر دو، میں نے کہا: اگر اس کے سینگ ٹوٹے ہوں؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ٢ ؎، ہمیں حکم دیا گیا ہے، یا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کی آنکھوں اور کانوں کو خوب دیکھ بھال لیں۔
Sayyidina Ali reported that a cow was enough for seven men. The narrator asked, What, if she gives birth to a young one after one buys it?” He said, “Sacrifice her young one too with the cow.” He asked about the command for one that limps. Sayyidina Ali said, “If it can walk up to the place of sacrifice then it is allowed. ‘He asked about a broken horn. He said, There is no harm in that, for, we were commanded, or Allah’s Messenger commanded us, toexaminethe eyes and the ears. [Ahmed 732]
حسن، ابن ماجة (3143)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1503
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس نے بچہ جنا تو بچہ کو گائے کے ساتھ ذبح کر دے۔ ٢ ؎: ظاہری مفہوم سے معلوم ہوا کہ ایسے جانور کی قربانی علی ؓ کے نزدیک جائز ہے، لیکن آگے آنے والی علی ؓ کی مرفوع روایت ان کے اس قول کے مخالف ہے (لیکن وہ ضعیف ہے)۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ١١ (٤٣٨١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٨ (٣١٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٦٢)، و مسند احمد (١/٩٥، ١٠٥، ١٢٥، ١٣٢، ١٥٢)، وسنن الدارمی/الأضاحي ٣ (١٩٩٤) (حسن )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: «عضب» (سینگ ٹوٹنے) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed sacrifice of an animal with a broken horn and split ear. Qatadah said: I mentioned that to Sa’eed ibn Musayyah and he said, “If the horn is broken half (or more) then it is disollowed, but not if less.” [Abu Dawud 2805]
ضعيف، ابن ماجة (3145)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1504
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ٦ (٢٨٠٥)، سنن النسائی/الضحایا ١٢ (٤٣٨٢)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٨ (٣١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣١)، و مسند احمد (١/٨٣، ١٠١، ١٠٩، ١٢٧، ١٢٩، ١٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” جری “ لین الحدیث ہیں )
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ (کثرت قربانی پر) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہوگئی جو دیکھ رہے ہو ١ ؎۔
Ata ibn Yasar reported that he asked Sayyidina Abu Ayyub about the sacrifice in the times of Allah’s Messenger ﷺ He said, “One man would sacrifice a goat for himself and for his family. They ate it and fed out of it till men began to brag and boast and what you see turned up.’ [Ibn e Majah 3147]
صحيح، ابن ماجة (3147)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - راوی عمارہ بن عبداللہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا: یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے ، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک بکری ایک ہی آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی، عبداللہ بن مبارک اور دوسرے اہل علم کا یہی قول ہے (لیکن راجح پہلا قول ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوگ قربانی کرنے میں فخر و مباہات سے کام لینے لگے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحی ١٠ (٣١٤٧)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨١) (صحیح )
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے قربانی کے بارے میں پوچھا: کیا یہ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، اس آدمی نے پھر اپنا سوال دہرایا، انہوں نے کہا: سمجھتے نہیں ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے ١ ؎۔
Jabalah ibn Suhaym reported that a man asked Sayyidina lbn Umar (RA) about sacrifice, Is it wajib? He said, “Allahs Messenger ﷺ and the Muslims did make a sacrifice. But, he repeated his question and he said, Do you not understand? AlIahs Messenger and the Muslims did make a sacrifice. [Ibn e Majah 3124]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے، سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نے «من کان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا» جس کے ہاں مالی استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے سے قربانی کے وجوب پر استدلال کیا ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ یہ روایت مرفوع نہیں بلکہ موقوف یعنی ابوہریرہ ؓ کا قول ہے، نیز اس میں وجوب کی صراحت نہیں ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے حدیث میں ہے کہ جس نے لہسن کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے، اسی لیے جمہور کے نزدیک یہ حکم صرف استحباب کی تاکید کے لیے ہے، اس کے علاوہ بھی جن دلائل سے قربانی کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے وہ صریح نہیں ہیں، صحیح یہی ہے کہ قربانی سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٢ (٣١٢٤، ٣١٢٤/م) (تحفة الأشراف: ٦٦٧١) (ضعیف) (سند میں ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف اور مدلس راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، واضح رہے کہ سنن ابن ماجہ کی سند بھی ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں اسماعیل بن عیاش ہیں جن کی روایت غیر شامی رواة سے ضعیف ہے، اور اس حدیث کی ایک سند میں ان کے شیخ عبداللہ بن عون بصری ہیں، اور دوسری سند میں حجاج بن ارطاة کوفی ہیں )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: جب تک نماز عید ادا نہ کرلے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے ۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ١ ؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں (زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت قابل نفرت ہوجاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کردی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: پھر دوسری قربانی کرو ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ (بچے) کی قربانی کافی نہ ہوگی ٢ ؎۔ اس باب میں جابر، جندب، انس، عویمر بن اشقر، ابن عمر اور ابوزید انصاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Bara ibn Aazib narrated Allahs Messenger delivered a sermon to us on the day of sacrifice. He said None of you must make a sacrifice until he has
صحيح، الإرواء (2495)، صحيح أبي داود (2495 - 2496)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1508
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک امام نماز عید نہ ادا کرلے شہر میں قربانی نہ کی جائے، ٣ - اہل علم کی ایک جماعت نے جب فجر طلوع ہوجائے تو گاؤں والوں کے لیے قربانی کی رخصت دی ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے، ٤ - اہل علم کا اجماع ہے کہ بکری کے جذع (چھ ماہ کے بچے) کی قربانی درست نہیں ہے، وہ کہتے ہیں البتہ بھیڑ کے جذع کی قربانی درست ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا نام ابوبردہ بن نیار تھا۔ ٢ ؎: یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے کیونکہ تمہارے لیے اس وقت مجبوری ہے ورنہ قربانی میں «مسنہ» (دانتا یعنی دو دانت والا) ہی جائز ہے، بکری کا «جذعہ» وہ ہے جو سال پورا کر کے دوسرے سال میں قدم رکھ چکا ہو اس کی بھی قربانی صرف ابوبردہ ؓ کے لیے جائز کی گئی تھی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا صحیح وقت نماز عید کے بعد ہے، اگر کسی نے نماز عید کی ادائیگی سے پہلے ہی جانور ذبح کردیا تو اس کی قربانی نہیں ہوئی، اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیئے۔ ٣ ؎: بھیڑ کے «جذعہ» (چھ ماہ) کی قربانی عام مسلمانوں کے لیے دانتا میسر نہ ہونے کی صورت میں جائز ہے، جب کہ بکری کے جذعہ (ایک سالہ) کی قربانی صرف ابوبردہ ؓ کے لیے جائز کی گئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٣ (٩٥١)، و ٥ (٩٥٥)، و ٨ (٩٥٧)، و ١٠ (٩٦٨)، و ١٧ (٩٧٦)، و ٢٣ (٩٨٣)، والأضاحي ١ (٥٥٤٥)، و ٨ (٥٥٥٦-٥٥٥٧) و ١١ (٥٥٦٠) و ١٢ (٥٥٦٣)، والأیمان والندور ١٥ (٦٦٧٣)، صحیح مسلم/الأضاحي ١ (١٩٦١)، سنن ابی داود/ الأضاحي ٥ (٢٨٠٠)، سنن النسائی/العیدین ٨ (١٥٦٤)، والضحایا ١٧ (٤٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩)، و مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٩٧، ٣٠٢، ٣٠٣) وسنن الدارمی/الأضاحي ٧ (٢٠٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے ١ ؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Let none of you eat the flesh of his sacrifice for more than three days.” [Muslim 1970]
صحيح، الإرواء (1155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ کی طرف سے یہ ممانعت پہلے تھی، اس کے بعد آپ نے اجازت دے دی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کردیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) جمع کر کے رکھو ١ ؎۔
Sulayman ibn Buraydah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “I had forbidden you the meat of sacrifice beyond three days that the affluent may be liberal to those who cannot afford. Now, eat as you like, and feed, and store (what you like). [M1971]
١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ٣ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب اللہ نے عام مسلمانوں کے لیے بھی کشادگی پیدا کردی ہے اور اب اکثر کو قربانی میسر ہوگئی ہے۔
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کرسکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ١ ؎۔
Aabis ibn Rabiah reported having asked the Mother of the Faithful Did Allah’s Messenger ﷺ disallow the flesh of the sacrificial animal? She said, No! But few were the people who made a sacrifice. So he liked that those who did not sacrifice should be fed. Indeed, we used to keep aside a trotter and eat it after ten days.’ [Bukhari 5423, Nisai 4445, Ibn e Majah 3159]
ضعيف بهذا السياق، وأصله في صحيح مسلم، الإرواء (4 / 370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین (جن سے حدیث مذکور مروی ہے) وہ نبی اکرم ﷺ کی بیوی عائشہ ؓ ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کر کے رکھتے اور قربانی کے بعد اسے کئی دنوں تک کھاتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣)، و ٣٧ (٥٤٣٨)، والأضاحي ١٦ (٥٥٧٠)، سنن النسائی/الضحایا ٣٧ (٤٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (١٥١١)، والأطعمة ٣٠ (٣١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٥)، و مسند احمد (٦/١٠٢، ٢٠٩) (صحیح) (وعند صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١)، و سنن ابی داود/ الضحایا ١٠ (٢٨١٢)، و موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) و مسند احمد (٦/٥١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ ( ) نحوہ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسلام میں) نہ «فرع» ہے نہ «عتيرة»، «فرع» جانور کا وہ پہلا بچہ ہے جو کافروں کے یہاں پیدا ہوتا تو وہ اسے (بتوں کے نام پر) ذبح کردیتے تھے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no fara’ and no atirah.” Fara’ is the first-born of an animal. The infidels used to make an offering of it to their idols. [Bukhari 5473, Muslim 1976]
صحيح، ابن ماجة (3168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1512
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں نبیشہ، مخنف بن سلیم اور ابوالعشراء سے بھی احادیث آئی ہیں، ابوالعشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ٣ - «عتيرة» وہ ذبیحہ ہے جسے اہل مکہ رجب کے مہینہ میں اس ماہ کی تعظیم کے لیے ذبح کرتے تھے اس لیے کہ حرمت کے مہینوں میں رجب پہلا مہینہ ہے، اور حرمت کے مہینے رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ، اور محرم ہیں، اور حج کے مہینے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دن ہیں۔ حج کے مہینوں کے سلسلہ میں بعض صحابہ اور دوسرے لوگوں سے اسی طرح مروی ہے۔