Sunan At-Tirmidhi 1510

قربانی کا بیان

1510Sunan At-Tirmidhi

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ لِيَتَّسِعَ ذُو الطَّوْلِ عَلَى مَنْ لَا طَوْلَ لَهُ، فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَنُبَيْشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأَنَسٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کردیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) جمع کر کے رکھو ١ ؎۔

Sulayman ibn Buraydah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “I had forbidden you the meat of sacrifice beyond three days that the affluent may be liberal to those who cannot afford. Now, eat as you like, and feed, and store (what you like). [M1971]

صحيح، الإرواء (4 / 368 - 369)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1510
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، ٣ - اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، نبیشہ، ابوسعید، قتادہ بن نعمان، انس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب اللہ نے عام مسلمانوں کے لیے بھی کشادگی پیدا کردی ہے اور اب اکثر کو قربانی میسر ہوگئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧/١٠٦)، والأضاحي ٥ (٩٧٧/٣٧)، سنن ابی داود/ الأشربة ٧ (٣٦٩٨)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٠ (٢٠٣٤)، سنن ابی داود/ الأضاحي ٣٦ (٤٤٣٤، ٤٤٣٥)، والأشربة ٤٠ (٥٦٥٤- ٥٦٥٦) (تحفة الأشراف: ١٩٣٢)، و مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )