Sunan At-Tirmidhi 1511

قربانی کا بیان

1511Sunan At-Tirmidhi

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي، وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ: عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کرسکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ١ ؎۔

Aabis ibn Rabiah reported having asked the Mother of the Faithful Did Allah’s Messenger ﷺ disallow the flesh of the sacrificial animal? She said, No! But few were the people who made a sacrifice. So he liked that those who did not sacrifice should be fed. Indeed, we used to keep aside a trotter and eat it after ten days.’ [Bukhari 5423, Nisai 4445, Ibn e Majah 3159]

ضعيف بهذا السياق، وأصله في صحيح مسلم، الإرواء (4 / 370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین (جن سے حدیث مذکور مروی ہے) وہ نبی اکرم ﷺ کی بیوی عائشہ ؓ ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کر کے رکھتے اور قربانی کے بعد اسے کئی دنوں تک کھاتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣)، و ٣٧ (٥٤٣٨)، والأضاحي ١٦ (٥٥٧٠)، سنن النسائی/الضحایا ٣٧ (٤٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (١٥١١)، والأطعمة ٣٠ (٣١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٥)، و مسند احمد (٦/١٠٢، ٢٠٩) (صحیح) (وعند صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١)، و سنن ابی داود/ الضحایا ١٠ (٢٨١٢)، و موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) و مسند احمد (٦/٥١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ ( ) نحوہ )