رضاعت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 12 · 31 hadiths · Page 1 of 2

1146Sunan At-Tirmidhi

نسب سے حرام رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger prohibited by reason of fosterage what he prohibited by reason of genealogy. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (6 / 284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سات رشتے ہیں ( ١) مائیں ( ٢) بیٹیاں ( ٣) بہنیں ( ٤) پھوپھیاں ( ٥) خالائیں ( ٦) بھتیجیاں ( ٧) بھانجیاں، ماں میں دادی نانی داخل ہے اور بیٹی میں پوتی نواسی داخل، اور بہنیں تین طرح کی ہیں: سگی، سوتیلی اور اخیافی، اسی طرح بھتیجیاں اور بھانجیاں اگرچہ نیچے درجہ کی ہوں اور پھوپھیاں سگی ہوں خواہ سوتیلی خواہ اخیافی، اسی طرح باپ دادا اور ماں اور نانی کی پھوپھیاں سب حرام ہیں اور «خالائیں علی ہذا القیاس»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١١٨) (صحیح)
1147Sunan At-Tirmidhi

نسب سے حرام رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَامَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الْوِلَادَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت (نسب) سے حرام ہیں ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, Allah had forbidden by reason of fosterage what he has forbidden by reason of parentage”. [Ahmed 25508, Nisai 5099, Muslim 1444, Nisai 3300]

صحيح، ابن ماجة (1937)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1147
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٧ (٢٠٥٥)، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشہادات ٧ وفرض الخمس ٤ (٣١٠٥)، والنکاح ٢٠ (٥٠٩٩) و ٢٧ (٥١١١)، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٤)، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٣، ٣٣٠٤، ٣٣٠٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٧)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (٣)، مسند احمد (٦/٦٦، ٧٢، ١٠٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩١، ٢٢٩٢)، من غیر ہذا الوجہ۔
1148Sunan At-Tirmidhi

دودھ مرد کی طرف منسوب ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: فَإِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ كَرِهُوا لَبَنَ الْفَحْلِ، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے، وہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تیرے پاس آسکتے ہیں کیونکہ وہ تیرے چچا ہیں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں، تو آپ نے فرمایا: تیرے چچا ہیں، وہ تیرے پاس آسکتے ہیں ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah(RA)said that her paternal uncle through fosterage sought permission to meet her. She declined to allow him (admittance to her home) till she had asked Allah’s Messenger ﷺ . So, Allah’s Messenger ﷺ said, “He can come to you, for, he is your paternal uncle.” She submitted, “Only a woman had suckled me’. He said (again). “He is your paternal uncle and may visit you.” [Ahmed 25677, Bukhari 2644, Muslim 1445, Nisai 3298]

صحيح، ابن ماجة (1948)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1148
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہوں نے «لبن فحل» (مرد کے دودھ) کو حرام کہا ہے۔ اس باب میں اصل عائشہ کی حدیث ہے، ٣- اور بعض اہل علم نے «لبن فحل» (مرد کے دودھ) کی رخصت دی ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے دودھ پلانے سے جس مرد کا دودھ ہو ( یعنی اس عورت کا شوہر ) وہ بھی شیرخوار پر حرام ہوجاتا ہے اور اس سے بھی شیرخوار کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤) وتفسیر سورة السجدة ٩ (٦٩٧٤ ) ، و النکاح ٢٢ (٥١٠٣)، و ١١١٧ (٥٢٣٩)، والأدب ٩٣ (٦١٥٦)، صحیح مسلم/الرضاع ( المصدر المذکور ) سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٣)، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٤) من غیر ہذا الوجہ۔
1149Sunan At-Tirmidhi

دودھ مرد کی طرف منسوب ہے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارِيتَانِ: أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً، وَالْأُخْرَى غُلَامًا، أَيَحِلُّ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ ؟، فَقَالَ: لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے (ابن عباس ؓ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح » ایک ہی ہے ١ ؎۔

It is reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was asked about a man who had two female slaves. One of them suckled a female child and the other a male child. “Is it lawful for the boy to marry the girl?” He said, “No. The semen is the tame.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں عورتوں کا دودھ ایک ہی شخص کے جماع اور منی سے پیدا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٣١١) (صحیح الإسناد)
1151Sunan At-Tirmidhi

رضاعت میں ایک عورت کی گواہی کافی ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ، أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ دَعْهَا عَنْكَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، دَعْهَا عَنْكَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَجَازُوا شَهَادَةَ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ، وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الرَّضَاعِ، وَيُؤْخَذُ يَمِينُهَا، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ، حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُكْمِ، وَيُفَارِقُهَا فِي الْوَرَعِ .

عقبہ بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک کالی کلوٹی عورت نے ہمارے پاس آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی ہے، اب ایک کالی کلوٹی عورت نے آ کر کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔ آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیرلیا تو میں آپ کے چہرے کی طرف سے آیا، آپ نے (پھر) اپنا چہرہ پھیرلیا۔ میں نے عرض کیا: وہ جھوٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ وہ کہہ چکی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اپنی بیوی اپنے سے علاحدہ کر دو ١ ؎۔

Abdullah ibn Abu Mulaykah said that Uhayd ibn Abu Maryam narrated to him Irom Uthab ibn Harith. Abdullah (also) said that he heard Uqhah but he rememberred the hadith of Ubayd better that he (Uqbah ibn Harith (RA)) said: married a woman Then a black woman came and said, “Surely I have suckled both of you’. So, I came to the Prophet ﷺ and said, “I married so-and-so daughter of so-and-so when a black woman came to us and said, ‘I have suckled both of you’, but she is a liar.” He (the Prophet ﷺ ) turned away his face from me and I came to him towards his face and said, “She is a liar”. He said, “And how is that while she maintains that she has suckled both of you. Send her away from you (meaning separate from your wife)”. [Bukhari 88, Abu Dawud 3603, Nisai 3330]

صحيح، الإرواء (2154 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1151
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عقبہ بن حارث ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کو کئی اور بھی لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے اور ابن ابی ملیکہ نے عقبہ بن حارث سے روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عبید بن ابی مریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز اس میں «دعها عنك» اسے اپنے سے علاحدہ کر دو ، کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ انہوں نے رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت کو درست قرار دیا ہے، ٤- ابن عباس ؓ کہتے ہیں: رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت جائز ہے۔ لیکن اس سے قسم بھی لی جائے گی۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٥- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک عورت کی گواہی درست نہیں جب تک کہ وہ ایک سے زائد نہ ہوں۔ یہ شافعی کا قول ہے، ٦- وکیع کہتے ہیں: ایک عورت کی گواہی فیصلے میں درست نہیں۔ اور اگر ایک عورت کی گواہی سن کر وہ بیوی سے علاحدگی اختیار کرلے تو یہ عین تقویٰ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک «مرضعہ» کی گواہی کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٦ (٨٨)، والبیوع ٣ (٢٠٥٢)، والشہادات ٤ (٢٦٤٠)، و ١٣ (٢٦٥٩)، و ١٤ (٢٦٦٠)، والنکاح ٢٣ (٥١٠٣)، سنن ابی داود/ الأقضیہ ١٨ (٣٦٠٣)، سنن النسائی/النکاح ٥٧ (٣٣٣٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٠٥)، مسند احمد (٤/٧، ٨، ٣٨٤)، سنن الدارمی/النکاح ٥١ (٢٣٠١) (صحیح)
1152Sunan At-Tirmidhi

رضاعت کی حرمت صرف دو سال کی عمر تک ہی ثابت ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ، وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا مَا كَانَ دُونَ الْحَوْلَيْنِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ الْكَامِلَيْنِ، فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَهِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ١ ؎، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ٢ ؎۔

Sayyidah Umm Salamah(RA) reported that Allah’s Messenger said, Suckling does not make (marriage) unlawful unless it (the milk) enters the belly and is from the breasts : and it is before weaning. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1946)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1152
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے۔ ٢ ؎: یعنی جب بچہ دو برس سے کم کا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٢٨٥) (صحیح)
1153Sunan At-Tirmidhi

دودھ پلانے والی کے حق کی ادائیگی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، فَقَالَ: غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى هَؤُلَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنَ عُمَرَ. وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ، وَحَقَّهَا، يَقُولُ: إِذَا أَعْطَيْتَ الْمُرْضِعَةَ، عَبْدًا أَوْ أَمَةً، فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَهَا، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

حجاج اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے رسول! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ایک جان: غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے ۔

Hajjaj ibn Hajjaj Aslam: reported that his father asked the Prophet ﷺ , “O Messenger of Allah, what discharges from me the right of the wet nurse (who suckles the child)?” He said, “An excellent slave or female slave”. [Ahmed 15733, Abu Dawud 206, Nisai 3326] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ضعيف أبي داود (351) // عندنا برقم (445 / 2064)، ضعيف سنن النسائي (213 / 3329)، المشکاة (3174) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1153
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ (یعنی: «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی) ٣- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کردیا، ٤- ابوالطفیل ؓ سے روایت کی گئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر بچھا دی، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا: یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ١٢ (٢٠٦٤)، سنن النسائی/النکاح ٥٦ (٣٣٣١)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٩٥)، مسند احمد (٣/٤٥٠)، سنن الدارمی/النکاح ٥٠ (٢٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن حجاح تابعی ضعیف ہیں)
1154Sunan At-Tirmidhi

شادی شدہ لونڈی کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے، رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا، (عروہ کہتے ہیں) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) repoted that the husband of Sayyidah Barirah (RA) was a slave. So, the Prophet ﷺ gave her a choice and she chose to be independent. Were he a free man, (His name was Mughith.) he would not have given her the choice. (His name was Mughith). [Muslim 1504, Abu Dawud 2233, Nisai 3448, Ibn e Majah 2521] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، لکن قوله: ولو کان .... مدرج من قول عروة، الإرواء (1873)، صحيح أبي داود (1935)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1154
Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے، یہ عروہ کا قول ہے، اور ابوداؤد نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤/٩)، سنن ابی داود/ الطلاق ١٩ (٢٢٣٣)، سنن النسائی/الطلاق ٣١ (٣٤٨١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٧٠) (صحیح) وأخرجہ مطولا ومختصرا کل من: صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٦)، والفرائض ٢٢ (٦٧٥٨)، صحیح مسلم/العتق (المصدر المذکور) (٥٠٤/١٠)، مسند احمد (٦/٤٦، ١٧٨)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٧) من غیر ھذا الوجہ، وانظر أیضا مایأتي برقم ١٢٥٦ و ٢١٢٤ و ٢١٢٥
1155Sunan At-Tirmidhi

شادی شدہ لونڈی کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا، رَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ، وَرَوَى عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ، وَكَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَوَى الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ. قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے، پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں اختیار دیا۔

Hanad reported from Abu Muawiyah, from A’mash, from Ibrahim, from Aswad that Sayyidah Ayshah (RA) said that the husband of Sayyidah Barirah(RA) was a free man and the Prophet ﷺ gave her choice. [Bukhari 6754, Abu Dawud 2235, Nisai 3446] --------------------------------------------------------------------------------

شاذ - بلفظ: حرا، والمحفوظ: عبدا -، ابن ماجة (2074) // ضعيف ابن ماجة برقم (450)، وصحيح سنن ابن ماجة - باختصار السند - برقم (1687)، الإرواء (6 / 276) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1155
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، ٣- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا، ٤- اسی طرح کی ابن عمر ؓ سے روایت کی گئی ہے، ٥- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو اسے اختیار نہیں ہوگا۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہوگا، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٦- لیکن اعمش نے بطریق: «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اختیار دیا۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے، اسود کہتے ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، ٧- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: راجح روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا «حراً» کا لفظ وہم ہے کما تقدم۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩٩ (٢٦١٥)، والطلاق ٣٠ (٣٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٤) (تحفة الأشراف: ١٥٩٥٩)، مسند احمد (٦/٤٢) (المحفوظ: ” کان زوجھا عبداً “ ” حراً “ کا لفظ بقول بخاری ” وہم “ ہے) (صحیح) (حدیث میں بریرہ کے شوہر کو ” حرا “ کہا گیا ہے، یعنی وہ غلام نہیں بلکہ آزاد تھے، اس لیے یہ ایک کلمہ شاذ ہے، اور محفوظ اور ثابت روایت ” عبداً “ کی ہے یعنی بریرہ کے شوہر ” مغیث “ غلام تھے)۔
1156Sunan At-Tirmidhi

شادی شدہ لونڈی کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ، لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ بَرِيرَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتَرَضَّاهَا، لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةُ هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِهْرَانَ وَيُكْنَى أَبَا النَّضْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر بنی مغیرہ کے ایک کالے کلوٹے غلام تھے، جس دن بریرہ آزاد کی گئیں، اللہ کی قسم، گویا میں انہیں مدینے کے گلی کوچوں اور کناروں میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں کہ ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں، وہ انہیں منا رہے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ میں رہنے کے لیے چن لیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: The husband of Barirah was a black slave of Banu Mughirah on the day Barirah was set free. By Allah, I can picture him while he moves about the streets of Madinah and its surroundings, his tears flowing down on his beard, hoping to please her that she might choose him. But, she did not do so. (His name was Mughith.)

صحيح، ابن ماجة (2075)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1156
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٢)، ١٦ (٥٢٨٣)، سنن ابی داود/ الطلاق ١٩ (٢٢٣٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٩٩٨) و ٦١٨٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق (٢٢٣١)، و مسند احمد (١/٢١٥)، وسنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٨) من غیر ہذا الوجہ۔
1157Sunan At-Tirmidhi

لڑکا صاحب فراش کے لئے ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ صاحب فراش (یعنی شوہر یا مالک) کا ہوگا ١ ؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘The child belongs to the (owner of the) bed while for the fornicator are stones, meaning rajm.” [Ahmed 7266, Bukhari 6818, Muslim 1458, Nisai 3480, Ibn e Majah 2006]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1157
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، عثمان، عائشہ، ابوامامہ، عمرو بن خارجہ، عبداللہ بن عمر، براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فراش سے صاحب فراش یعنی شوہر یا مالک مراد ہے کیونکہ یہی دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں۔ ٢ ؎: زانی کے لیے پتھر ہے، یعنی ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» سے مراد یہ ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر سے مار مار کر ہلاک کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ رجم صرف شادی شدہ کو کیا جائے گا، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہوگی اسی کی طرف بچے کی نسبت ہوگی اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی دعویٰ کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو اور صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو اس ساری صورتحال کے باوجود بچہ کو صاحب فراش کی طرف منسوب کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہ ہوگا اور اگر اس نے اس کی نفی کردی تو پھر بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس بچہ کا نسب ماں کے ساتھ جوڑا جائے گا زانی کے ساتھ نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨)، سنن النسائی/الطلاق ٤٨ (٣٥١٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٦) مسند احمد (٢/٢٣٩) (تحفة الأشراف: ١٣١٣٤) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الفرائض ١٧ (٦٧٥٠)، والحدود ٢٣ (٦٨١٨)، مسند احمد (٢/٢٨٠، ٣٨٦، ٤٠٩، ٤٩٢) من غیر ہذا الوجہ۔
1158Sunan At-Tirmidhi

مرد کسی عورت کو دیکھ اور وہ اسے پسند آجائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَخَرَجَ وَقَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب ؓ کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا: عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ١ ؎، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے ۔

Sayyidina jabir(RA) narrated: The Prophet ﷺ saw a woman, so he went to (his wife) Sayyidah Zaynab (RA) and fulfilled his desire. When he came out, he said, Surely a woman when she comes across, she comes in the shape of a devil. So, if one of you sees a woman and she pleases him, let him come to his wife, for, indeed, with her is that which is with her (the other). [Ahmed 14544, Muslim 1403, Abu Dawud 2151]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1158
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث صحیح حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- ہشام دستوائی دراصل ہشام بن سنبر ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس لیے کہا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ایسے بےپردہ عورت بھی مرد کو بہکاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢ (١٤٠٣)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٥١)، مسند احمد (٣/٣٣٠) (تحفة الأشراف: ٢٩٧٥)، (صحیح) وأخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٠، ٣٤١، ٣٤٨، ٣٩٥) من غیر ہذا الوجہ۔
1159Sunan At-Tirmidhi

بیوی پر شوہر کے حقوق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ١ ؎۔

Sayvidina Abu Hurayrah (RA)reported that the Prophet ﷺ said, If I were Io command anyone to prostrate to anyone, I would have commanded woman to prostrate to her husband.

حسن صحيح، ابن ماجة (1853)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1159
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل، سراقہ بن مالک بن جعشم، عائشہ، ابن عباس، عبداللہ بن ابی اوفی، طلق بن علی، ام سلمہ، انس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥١٠٤) (صحیح) (اس سند سے حدیث حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
1161Sunan At-Tirmidhi

بیوی پر شوہر کے حقوق

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ، دَخَلَتِ الْجَنَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت مرجائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی ۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, Any woman, who spends the night while her husband is pleased with her, will enter Paradise. [Ibn e Majah 1854]

ضعيف، ابن ماجة (1854) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (407)، ضعيف الجامع الصغير (2227) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1161
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤ (١٨٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٩٤) (ضعیف) (مساور اور ان کی والدہ دونوں مجہول ہیں)
1162Sunan At-Tirmidhi

عورت کے حقوق خاوند پر

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘The perfect of Believers faith wise are the best of them in conduct. And the best of you are the best of you with their women, [Abu Dawud 4682]

حسن صحيح، الصحيحة (284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1162
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٥٩) (صحیح)
1163Sunan At-Tirmidhi

عورت کے حقوق خاوند پر

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً، فَقَالَ: أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا، غَيْرَ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: عَوَانٌ عِنْدَكُمْ يَعْنِي: أَسْرَى فِي أَيْدِيكُمْ.

سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ اور (لوگوں کو) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم اس (ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے (اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بیحیائی کا ارتکاب کریں (تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا ہے) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علاحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو لیکن اذیت ناک مار نہ ہو، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو، سنو! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے۔ سنو! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو ۔

Sulayman ibn Amr ibn al-Ahwas reported that his father narrated to him that he observed the Farewell Pilgrimage with the Messenger of Allah ﷺ . He praised Allah and glorified Him and delivered a sermon and mentioned Allah. The narrator while recounting the hadith related an account. He said, “Beware, I command to you to be good with the women, for, they are only (like) prisoners with you. You own nothing else over them besides that except that if they commit indecency openly, you may separate them from (your) beds and beat them, a simple beating. So, if they submit to you then do not look out for ways to hurt them. Beware, you have rights over your wives and your wives have rights over you. As for your rights over your wives, they should not allow on your beds those whom you detest, and allow not in your homes those whom you detest. Beware, of their rights over you, do good to them in matters of their dress and their food”. [Ibn e Majah 1851]

حسن، ابن ماجة (1851)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1163
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «عوان عندکم» کا معنی ہے تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طاقت کے مطابق یہ چیزیں احسن طریقے سے مہیا کرو۔
Takhrij · تخریج
*تخريج: سنن ابن ماجہ/النکاح ٣ (١٨٥١)، والمؤلف في تفسیر التوبة (٣٠٨٧) (تحفة الأشراف: ١٠٦٩١) (حسن)
1164Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کے پیچھے سے صحبت کرناحرام ہے

حدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ فَتَكُونُ مِنْهُ الرُّوَيْحَةُ، وَيَكُونُ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: لَا أَعْرِفُ لِعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ، وَلَا أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ، مِنْ حَدِيثِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ السُّحَيْمِيِّ، وَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّ هَذَا رَجُلٌ آخَرُ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

علی بن طلق ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم میں ایک شخص صحرا (بیابان) میں ہوتا ہے، اور اس کو ہوا خارج ہوجاتی ہے (اور وضو ٹوٹ جاتا ہے) اور پانی کی قلت بھی ہوتی ہے (تو وہ کیا کرے؟ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کی جب ہوا خارج ہوجائے تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے، اور عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو، اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا ۔

Sayyidina Ali ibn Talq (RA) reported that a villager met Allah’s Messenger and said, “O Messenger of Allah, some of us happens to be in the desert where he might break wind and water is scarce there. (What must he do?)” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “When that happens to any of you, let him make ablution. And do not have intercourse with women through their anus. Indeed, Allah is not ashamed of the truth”. [Abu Dawud 205]

// ضعيف الجامع الصغير (607)، المشکاة (314 و 1006)، ضعيف أبي داود (35 / 205) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1164
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی بن طلق کی حدیث حسن ہے، ٢- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سوائے اس ایک حدیث کے علی بن طلق کی کوئی اور حدیث مجھے نہیں معلوم، جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، اور طلق بن علی سحیمی کی روایت سے میں یہ حدیث نہیں جانتا۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ یہ صحابہ میں سے کوئی اور آدمی ہیں، ٣- اس باب میں عمر، خزیمہ بن ثابت، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٢ (٢٠٥)، والصلاة ١٩٣ (١٠٠٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٤ (١١٨١) (ضعیف) (اس کے دو راوی عیسیٰ بن حطان اور ان کے شیخ مسلم بن سلام الحنفی دونوں کے بارے میں ابن حجر نے کہا ہے کہ مقبول ہیں، یعنی جب ان کا کوئی متابع یا شاہد ہو، لیکن یہاں کوئی چیز ان کو تقویت پہنچانے والی نہیں ہے اس واسطے دونوں لین الحدیث ہیں، اس لیے حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ٣٥٣)
1165Sunan At-Tirmidhi(1166)

عورتوں کے پیچھے سے صحبت کرناحرام ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَلِيٌّ هَذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ.

علی بن طلق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ہوا خارج کرے تو چاہیئے کہ وضو کرے اور تم عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو ۔

Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you breaks wind then he must perform ablution, and do not approach women through their anus”.

ضعيف، ضعيف أبي داود (26) // عندنا برقم (35 / 205) ولفظه أتم ; لکن الشطر الثاني صحيح بما بعده (1166)
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
علی سے مراد علی بن طلق ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم ١١٦٤ (ضعیف) (اس میں مسلم بن سلام ضعیف راوی ہے )
1166Sunan At-Tirmidhi(1165)

عورتوں کے پیچھے سے صحبت کرناحرام ہے

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ، أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى وَكيِعُُُ هَذَا الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت کرے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah will not look at a man who has intercourse with a man, or a woman through the anus”.

حسن، المشکاة (3195)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1165
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبریٰ ) ( تحفة الأشراف: ٦٣٦٣) (حسن)
1167Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کا بناؤ سنگھار کرکے نکلنا منع ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الرَّافِلَةِ فِي الزِّينَةِ فِي غَيْرِ أَهْلِهَا كَمَثَلِ ظُلْمَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا نُورَ لَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

میمونہ بنت سعد ؓ کہ جو نبی اکرم ﷺ کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہوگا ۔

Sayyidah Maymunah bint Sa’dL(RA) the maid-servant of the Prophet ﷺ said that Allah’s Messenger ﷺ said, “The example of the woman who struts and swags with adornment before others than her husband is like darkness on the Day of Resurrection with no ray of light for her”. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الضعيفة (1800) // ضعيف الجامع الصغير (5236) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1167
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ٣- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٠٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” موسیٰ بن عبیدہ “ ضعیف ہیں)