نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ١ ؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑگیا یعنی انہیں اختیار کرلیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہوجائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب (اپنا جانور) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہوجائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں ۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The lawful is clearly defined and the unlawful is clearly defined, but between them are matters that are doubtful. Many of the people cannot decide whether they are lawful or unlawful. So, he who avoids them to guard his religion and honour has indeed, taken the safe path. And he who falls into some of it nearly falls into the unlawful, just as a shepherd who grazes his animals on the borders of a sanctuary might take them to the other side. Know that every king has a sanctuary. And know that the sanctuary of Allah is that which he has declared unlawful. [Ahmed 18375, Bukhari 52, Muslim 1599, Abu Dawud 3329, Nisai 4463, Ibn e Majah 3986]
صحيح، ابن ماجة (3984)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1205
Notes · وضاحت
١ ؎: مشتبہات (شبہ والی چیزوں) سے مراد ایسے امور و معاملات ہیں جن کی حلت و حرمت سے اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں، تقویٰ یہ ہے کہ انہیں اختیار کرنے سے انسان گریز کرے، اور جو شخص حلت و حرمت کی پرواہ کئے بغیر ان میں ملوث ہوگیا تو سمجھ لو وہ حرام میں مبتلا ہوگیا، اس میں تجارت اور کاروبار کرنے والوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے کہ وہ صرف ایسے طریقے اختیار کریں جو واضح طور پر حلال ہوں اور مشتبہ امور و معاملات سے اجتناب کریں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے دونوں گواہوں اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the receiver of interest, its payer, the witnesses (to the deal) and the scribe who writes it down. [Ahmed 3737, Abu Dawud 3333, Ibn e Majah 2777] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1206
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، جابر اور ابوجحیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سود کی حرمت سے شدت ظاہر ہوتی ہے کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ گواہوں اور معاہدہ لکھنے والوں پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے، حالانکہ مؤخرالذ کر دونوں حضرات کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، لیکن صرف یک گو نہ تعاون کی وجہ سے ہی ان کو بھی ملعون قرار دے دیا گیا، گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب الٰہی کا باعث ہے کیونکہ سود کی بنیاد خود غرضی، دوسروں کے استحصال اور ظلم پر قائم ہوتی ہے اور اسلام ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد بھائی چارہ، اخوت ہمدردی، ایثار اور قربانی پر ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٤ (٣٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٦)، مسند احمد (١/٣٩٩٣، ٤٠٢) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کبیرہ گناہوں ١ ؎ سے متعلق فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹی بات کہنا (کبائر میں سے ہیں ٢ ؎ ) ۔
Sayyidina Anas (RA) reported from the Prophet ﷺ concerning major sins that he said, ‘(They are:) associating with Allah, disobedience and ingratitude to parents, killing someone and falsehood.” [Ahmed 12338, Bukhari 2653, Muslim 88, Nisai 4016, Tirmidhi 3029] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1207
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکرہ، ایمن بن خریم اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے ارتکاب پر قرآن کریم یا حدیث شریف میں سخت وعید وارد ہو۔ ٢ ؎: کبیرہ گناہ اور بھی بہت سارے ہیں یہاں موقع کی مناسبت سے چند ایک کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، یا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ چند مذکورہ گناہ کبیرہ گناہوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یہاں مولف کے اس حدیث کو کتاب البیوع میں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خرید و فروخت میں بھی جھوٹ کی وہی قباحت ہے جو عام معاملات میں ہے، مومن تاجر کو اس سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
قیس بن ابی غرزہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم (اس وقت) «سماسرہ» ١ ؎ (دلال) کہلاتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت کے وقت شیطان اور گناہ سے سابقہ پڑ ہی جاتا ہے، لہٰذا تم اپنی خرید فروخت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو ٢ ؎۔
Sayyidina Qays ibn Abu Gharazah narrated: Allah’s Messenger ﷺ came towards us. We were called samasirah0 (by people). He said, ‘O group of traders! Surely the devil and sin are present in buying and selling. So blend your buying and selling with sadaqah (that it might serve as an expiation).” [Ahmed 16134, Abu Dawud 3326, Nisai 3803, Ibn e Majah 2145]
صحيح، ابن ماجة (2145)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1208
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - قیس بن ابی غرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے منصور نے بسند «الأعمش وحبيب بن أبي ثابت»، اور دیگر کئی لوگوں نے بسند «أبي وائل عن قيس بن أبي غرزة» سے روایت کیا ہے۔ ہم اس کے علاوہ قیس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٣ - ٤ - اس باب میں براء بن عازب اور رفاعہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «سماسرہ»، «سمسار» کی جمع ہے، یہ عجمی لفظ ہے، چونکہ عرب میں اس وقت عجم زیادہ تجارت کرتے تھے اس لیے ان کے لیے یہی لفظ رائج تھا، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے «تجار» کا لفظ پسند کیا جو عربی ہے، «سمسار» اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدار) کے درمیان دلالی کرتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کرلیا کرو۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that the Prophet ﷺ said, ‘The truthful trustworthy merchant is with the Prophet ﷺ the True ones and the martyrs (on the Day of Resurrection). [Ibn e Majah 2139 narrated Ibn Umar (RA) ]
ضعيف غاية المرام (167)، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2501) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1209
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے بروایت ثوری صرف اسی سند سے جانتے ہیں انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کی ہے، ٢ - اور ابوحمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصرہ کے شیخ ہیں -
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٩٩٤) (صحیح) (ابن ماجہ (٢١٣٩) اور مستدرک الحاکم (٢١٤٢) میں یہ حدیث ابن عمر سے آئی ہے جس میں نبيين اور صديقين کا ذکر نہیں ہے، اور اس میں ایک راوی کلثوم بن جو شن ہیں، جس کے بارے میں حاکم کہتے ہیں کہ وہ قلیل الحدیث ہیں، اور بخاری ومسلم نے ان سے روایت نہیں کی ہے، اور اور حسن بصری کی مرسل روایت اس حدیث کی شاہد ہے، ابو حاتم الرازی نے ان کو ضعیف الحدیث کہا ہے، اور ابن معین نے لیس بہ بأس، اور امام بخاری نے توثیق کی ہے، اور حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ یہ متکلم فیہ راوی ہیں، لیکن ان کی حدیث سے ابو سعید خدری کی حدیث جس میں حسن بصری ہیں، کو تقویت مل گئی، اسی وجہ سے البانی صاحب نے ابو سعید خدری کی حدیث کو صحیح لغیرہ کہا، اور ابن عمر کی حدیث کو حسن صحیح، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترہیب ١٧٨٢، وتراجع الألبانی ٥٢٥ )
رفاعہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ عید گاہ کی طرف نکلے، آپ نے لوگوں کو خرید و فروخت کرتے دیکھا تو فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تو لوگ رسول اللہ ﷺ کی بات سننے لگے اور انہوں نے آپ کی طرف اپنی گردنیں اور نگاہیں اونچی کرلیں، آپ نے فرمایا: تاجر لوگ قیامت کے دن گنہگار اٹھائے جائیں گے سوائے اس کے جو اللہ سے ڈرے نیک کام کرے اور سچ بولے ۔
Ismail ibn Ubayd ibn Rifaah (RA) reported from his father, from his grandfather that he came out with the Prophet ﷺ towards the place of prayer. He saw people engaged in buying and selling. He said, ‘O assembly of merchants!” So, they paid attention to Allah’s Messenger iiJ.’ and raised their necks and their sights towards him. He said, “The merchants would be raised on the Day of Resurrection as sinners, except those who fear Allah and are pious and truthful.” [Ibn e Majah 2146]
ضعيف، ابن ماجة (2146) // ضعيف سنن ابن ماجة (467)، المشکاة (2799)، غاية المرام (138)، ضعيف الجامع الصغير (6405) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1210
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسماعیل بن عبید بن رفاعہ کو اسماعیل بن عبیداللہ بن رفاعہ بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٣ (٢١٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” اسماعیل بن عبید بن رفاعہ “ لین الحدیث ہیں )
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: احسان جتانے والا، اپنے تہبند (ٹخنے سے نیچے) لٹکانے والا ١ ؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are three (kinds of) people towards whom Alalh will not look (with mercy) on the Day resorrection and He will not make them pure and for them is a painful punishment.” He asked, “Who are they, O Messenger of Allah? ﷺ Indeed they are frustrated and losers.” He said, “One who brags of his favours, one who drags his lower garment (wearing it below his ankles), and one who swears falsely when selling his wares.” [Muslim 106]
صحيح، ابن ماجة (2208)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا، حرام ہے، تہبند ہی کے حکم میں شلوار یا پاجامہ اور پتلون وغیرہ بھی ہے، واضح رہے کہ یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورتوں کے لیے اس کے برعکس ٹخنے بلکہ پیر تک بھی ڈھکنے ضروری ہیں۔ ٢ ؎: جھوٹی قسم کھانا مطلقاً حرام ہے لیکن سودا بیچنے کے لیے گاہک کو دھوکہ دینے کی نیت سے جھوٹی قسم کھانا اور زیادہ بڑا جرم ہے، اس میں دو جرم اکٹھے ہوجاتے ہیں: ایک تو جھوٹی قسم کھانے کا جرم دوسرے دھوکہ دہی کا جرم۔
صخر غامدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے ١ ؎ صخر کہتے ہیں کہ آپ جب کسی سریہ یا لشکر کو روانہ کرتے تو اسے دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ اور صخر ایک تاجر آدمی تھے۔ جب وہ تجارت کا سامان لے کر (اپنے آدمیوں کو) روانہ کرتے تو انہیں دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ تو وہ مالدار ہوگئے اور ان کی دولت بڑھ گئی۔
Sayyidina Sakhr Ghamidi reported that Allah’s Messnenger ﷺ prayed, “O Allah, bless my urnmah in their early morning.’ Thus, when he sent an expedition or an army, he sent then at the beginning of the day. And Sakhr was a businessman and when he sent his salesmen or agents, he sent them in the beginning of the day. So he became rich and had plenty of wealth. [Ahmed 15443, Abu Dawud 3206, Ibn e Majah 2236] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2236)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1212
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - صخر غامدی کی حدیث حسن ہے۔ ہم اس حدیث کے علاوہ صخر غامدی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٢ - اس باب میں علی، ابن مسعود، بریدہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر تجارت ہو یا اور کوئی کام ہو ان کا آغاز دن کے پہلے پہر سے کرنا زیادہ مفید اور بابرکت ہے، اس وقت انسان تازہ دم ہوتا ہے اور قوت عمل وافر ہوتی ہے جو ترقی اور برکت کا باعث بنتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٨٥ (٢٦٠٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤١ (٢٦٣٦) (تحفة الأشراف: ٤٨٥٢)، مسند احمد (٣/٤١٦، ٤١٧، ٤٣٢)، و (٤/٣٨٤، ٣٩٠، ٣٩١)، سنن الدارمی/السیر ١ (٢٤٧٩) (صحیح) دون قولہ ” وکان إذا بعث سریة أو جیش، بعثہم أول النہار “ فإنہ ضعیف) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عمارہ بن جدید “ مجہول ہں ٢، اور ان کے مذکورہ ” ضعیف “ جملے کا کوئی متابع وشاہد نہیں ہے، تراجع الالبانی ٢٧٧، وصحیح ابی داود ط ۔ غر اس ٢٣٤٥ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک پر دو موٹے قطری کپڑے تھے، جب آپ بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ آپ پر بوجھل ہوجاتے، شام سے فلاں یہودی کے کپڑے آئے۔ تو میں نے عرض کیا: کاش! آپ اس کے پاس کسی کو بھیجتے اور اس سے دو کپڑے اس وعدے پر خرید لیتے کہ جب گنجائش ہوگی تو قیمت دے دیں گے، آپ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، تو اس نے کہا: جو وہ چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے، ان کا ارادہ ہے کہ میرا مال یا میرے دراہم ہڑپ کرلیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ جھوٹا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated that the Prophet ﷺ had a pair of worn out garments from Qatar on his body. When he sat down and perspired, they proved heavy on his body. So, when a consignment (of cloth) arrived from Syria for a certain Jew, she submitted to him. “If only you would send someone to him and buy from him a pair of garments till it is easy for us to pay.” So, he sent someone to him, but the Jew protested, “I know for sure what you intend. You intend to take away my property or my dirhams.” Allah’s Messneger ﷺ said, “He lies. He know definitely that I am the most righteous of them and the most perfect at repaying debts.” [Nisai 4637]
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1213
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ ؓ کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اسے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابی حفصہ سے روایت کیا ہے، ٣ - ابوداؤد طیالسی کہتے ہیں: ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں تم سے اس وقت اسے نہیں بیان کرسکتا جب تک کہ تم کھڑے ہو کر حرمی بن عمارہ بن ابی حفصہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کا سر نہیں چومتے اور حرمی (وہاں) لوگوں میں موجود تھے، انہوں نے اس حدیث سے حد درجہ خوش ہوتے ہوئے یہ بات کہی، ٤ - اس باب میں ابن عباس، انس اور اسماء بنت یزید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ایک معینہ مدت تک کے لیے ادھار سودا کرنا درست ہے کیونکہ آپ نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس صاع غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لیا تھا۔
Ibn Abbas (RA) reported that when the Prophet ﷺ died, his coat of mail was in pledge with a Jew for twenty sa’ of grain which he had taken for his family. [Ahmed 3409, Nisai 4660, Ibn e Majah 2439]
صحيح، ابن ماجة (2239)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1214
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٨٣ (٤٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٨)، سنن الدارمی/البیوع ٤٤ (٢٦٢٤)، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٦١)، وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الرہون ١ (٢٤٣٩)، مسند احمد (١/٣٠٠) من غیر ہذا الوجہ (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی جس میں کچھ تبدیلی آچکی تھی لے کر چلا، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع غلے کے عوض جسے آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے لے رکھا تھا گروی رکھی ہوئی تھی ١ ؎ قتادہ کہتے ہیں میں نے ایک دن انس ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس ایک صاع کھجور یا ایک صاع غلہ شام کو نہیں ہوتا تھا جب کہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔
Abu Qatadah reported from Sayyidina Anas that he went to Allah’s Messenger ﷺ with barely and rancid fat. At that time, the Prophet ﷺ had pledged his coats of mails with a Jew for twenty sa of provison that he had taken for his family. He had heand him say one day that by evening the family of Muhammad did not preserve a sa’ of dates of a sa’ of grain while he had nine wives then. [Bukhari 2069, lMuslim 2437, Nisai 4620, Ahmed 12363]
صحيح، ابن ماجة (2437)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1215
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب سے ادھار وغیرہ کا معاملہ کرنا جائز ہے، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام میں سے کسی سے ادھار لینے کے بجائے ایک یہودی سے اس لیے ادھار لیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب سے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے، یا اس لیے کہ صحابہ کرام آپ سے کوئی معاوضہ یا رقم واپس لینا پسند نہ فرماتے جبکہ آپ کی طبع غیور کو یہ بات پسند نہیں تھی۔
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ھوذہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایک تحریر نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھائیے، پھر انہوں نے ایک تحریر نکالی، (جس میں لکھا تھا) یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداء بن خالد بن ھوذہ نے محمد ﷺ سے خریدی ہے ، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی کی خریداری اس شرط کے ساتھ کی کہ اس میں نہ کوئی بیماری ہو، نہ وہ بھگیوڑو ہو اور نہ حرام مال کا ہو، یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ١ ؎۔
Muhammad ibn Bashshar (RA) reported from Abbad ibn Layth, the draper, who heard from Abdul Majid ibn Wahb that Adda ibn Khalid ibn Hawzah said to him, “Shall I not read to you a document that Allah’s Messenger had recorded for me.” He said, Certainly.” So he brought a document that said: This is what Adda ibn Khalid ibn Hawzah bought from Muhammad, Messenger of Allah ﷺ . He bought from him a slave, or a female slave, with no disease and no wickedness and he is not unlawful’. This is a transaction between two Muslims. [Ahmed 20357, Bukhari 34, Ibn e Majah 2251]
حسن، ابن ماجة (2251)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1216
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے جانتے ہیں۔ ان سے یہ حدیث محدثین میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں تحریروں کا رواج عام تھا اور مختلف موضوعات پر احادیث لکھی جاتی تھیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ناپ تول والوں سے فرمایا: تمہارے دو ایسے کام ١ ؎ کیے گئے ہیں جس میں تم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہوگئیں ٢ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger said to the people who meassured their sales by capacity and by weight, “You are, indeed, entrusted with two matters on account of which earlier people who were before your time, perished.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف - والصحيح موقوف -، المشکاة (2890 / التحقيق الثاني)، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2040) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1217
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ہم اس حدیث کو صرف بروایت حسین بن قیس مرفوع جانتے ہیں، اور حسین بن قیس حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ نیز یہ صحیح سند سے ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ناپ اور تول۔ اس حدیث کے آغاز میں امام ترمذی نے اپنے استاذ سعید بن یعقوب طالقانی سے اس روایت کی سند کا جو آغاز کیا ہے تو … یہ طالقان موجود افغانستان کے شمال میں واقع ہے، اور آج بھی وہاں سلفی اہل حدیث لوگ بحمدللہ موجود ہیں اور اپنے اسلاف کے ورثہ حدیث کو تھامے ہوئے ہیں۔ ٢ ؎: مثلاً شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو لینا ہوتا تو پورا پورا لیتی تھی اور دینا ہوتا تو کم دیتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٠٢٦) (ضعیف) (سند میں ” حسین بن قیس “ متروک الحدیث راوی ہے، لیکن موقوفا یعنی ابن عباس کے قول سے ثابت ہے جیسا کہ مرفوع روایت کی تضعیف کے بعد امام ترمذی نے خود واضح فرمایا ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ٹاٹ جو کجاوہ کے نیچے بچھایا جاتا ہے اور ایک پیالہ بیچا، آپ نے فرمایا: یہ ٹاٹ اور پیالہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے عرض کیا: میں انہیں ایک درہم میں لے سکتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ تو ایک آدمی نے آپ کو دو درہم دیا، تو آپ نے اسی کے ہاتھ سے یہ دونوں چیزیں بیچ دیں۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ decided to sell a saddle cloth and a bowl. So, he said, “Who will buy this saddlecloth and bowl?” A man offered to buy both for a dirham. The Prophet ﷺ said, “Who will raise it over a dirham? Who will raise it over a dirham?” So a man paid two dirhams, and he sold both to him for that price. [Abu Dawud 1641, Nisai 4517, Ibn e Majah 2198] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2198) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (478)، الإرواء (1289)، المشکاة (2873) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1218
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اخضر بن عجلان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور عبداللہ حنفی ہی جنہوں نے انس سے روایت کی ہے ابوبکر حنفی ہیں ١ ؎، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غنیمت اور میراث کے سامان کو زیادہ قیمت دینے والے سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - یہ حدیث معتمر بن سلیمان اور دوسرے کئی بڑے لوگوں نے بھی اخضر بن عجلان سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حنفی سے مراد ہے بنو حنیفہ کے ایک فرد، نہ کہ حنفی المذہب۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٢٦ (١٦٤١)، سنن النسائی/البیوع ٢٢ (٤٥١٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٥ (٢١٩٨)، مسند احمد (٣/١٠٠) (صحیح) (اس کے راوی ” ابوبکر عبد اللہ حنفی “ مجہول ہیں، لیکن طرق وشواہد کی وجہ سے حدیث صحیح لغیرہ ہے، صحیح الترغیب ٨٣٤، وتراجع الألبانی ١٧٨٠) واضح رہے کہ ابن ماجہ کی تحقیق میں حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ١ ؎ اپنے غلام کو مدبر ٢ ؎ بنادیا (یعنی اس سے یہ کہہ دیا کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو) ، پھر وہ مرگیا، اور اس غلام کے علاوہ اس نے کوئی اور مال نہیں چھوڑا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بیچ دیا ٣ ؎ اور نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے خریدا۔ جابر کہتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا۔ عبداللہ بن زبیر ؓ کی امارت کے پہلے سال وہ فوت ہوا۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that a man of the Ansar assured his slave that he would he free upon his death. When he died, he left nothing in legacy save the slave. The Prophet ﷺ ‘ sold him to Nuaym ibn Naham. Sayyidina Jabir (RA) said further that the slave was a qubti (copt) and died during the first year of the rule of Ibn Zubayr . [Bukhari 1084, Muslim 997
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ جابر بن عبداللہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ مدبر غلام کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤ - اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے مدبر کی بیع کو مکروہ جانا ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اوزاعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس شخص کا نام ابومذکور انصاری تھا اور غلام کا نام یعقوب۔ ٢ ؎: مدبر وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ ٣ ؎: بعض روایات میں ہے کہ وہ مقروض تھا اس لیے آپ نے اسے بیچا تاکہ اس کے ذریعہ سے اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدبر غلام کو ضرورت کے وقت بیچنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ١١٠ (٢٢٣١)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٣ (٩٩٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ١ (الأحکام ٩٤)، (٢٥١٣) (تحفة الأشراف: ٢٥٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/کفارات الأیمان ٧ (٦٧١٦)، والا کراہ ٤ (٦٩٤٧)، صحیح مسلم/الأیمان (المصدر المذکور) من غیر ہذا الوجہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Ibn Masud reported that the Prophet ﷺ disallowed buying and selling from trade caravans outside the city (till they come into the city). [Bukhari 2164, Muslim 1518, Ibn e Majah 2180, Ahmed 4096]
صحيح، ابن ماجة (2180)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1220
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، ابن عمر، اور ایک اور صحابی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٩)، و ٧١ (٢١٦٤)، صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٦ (٢١٨٠)، مسند احمد (١/٤٣٠) (تحفة الأشراف: ٩٣٧٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے باہر سے آنے والے سامانوں کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا: اگر کسی آدمی نے مل کر خرید لیا تو صاحب مال کو جب وہ بازار میں پہنچے تو اختیار ہے (چاہے تو وہ بیچے چاہے تو نہ بیچے) ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade going out to meet a caravan that brings grain to the city. If any man meets it and buys anything then the owners of grain have choice on coming to the market (to cancel the deal). [Muslim 1519, Abu Dawud 3437, Nisai 4513]
صحيح، ابن ماجة (2178)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1221
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ایوب کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے مل کر مال خریدنے کو ناجائز کہا ہے یہ دھوکے کی ایک قسم ہے ہمارے اصحاب میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ شہری آدمی بدوی (دیہاتی) سے اس کے شہر کی مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے جا ملے تاکہ بھاؤ کے متعلق بیان کر کے اس سے سامان سستے داموں خرید لے، ایسا کرنے سے منع کرنے سے مقصود یہ ہے کہ صاحب سامان دھوکہ اور نقصان سے بچ جائے، چونکہ بیچنے والے کو ابھی بازار کی قیمت کا علم نہیں ہو پایا ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خرید لینے میں اسے دھوکہ ہوسکتا ہے، اسی لیے یہ ممانعت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٤٥ (٣٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٩)، سنن النسائی/البیوع ١٨ (٤٥٠٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٦ (٢١٧٩)، مسند احمد (٢/٢٨٤، ٤٠٣، ٤٨٨) من غیر ہذا الوجہ ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ١ ؎ (بلکہ دیہاتی کو خود بیچنے دے ) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said and Qutaybah also reported having heard that the Prophet ﷺ said “A city dweller must not sell for a villager.” [Bukhari 1083, Muslim 1520]
صحيح، ابن ماجة (2175)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1222
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں طلحہ، جابر، انس، ابن عباس، ابویزید کثیر بن عبداللہ کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور ایک اور صحابی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا دلال نہ بنے، کیونکہ ایسا کرنے میں بستی والوں کا خسارہ ہے، اگر باہر سے آنے والا خود بیچتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت میں اسے بیچ کر اپنے گھر چلا جائے گا اس سے خریداروں کو فائدہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، والبیوع ٦ (١٥٢٠)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٥) (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٥٠)، و ٧٠ (٢١٦٠)، و ٧١ (٢١٦٢)، والشروط ٨ (٢٧٢٣)، و ١١ (٢٧٢٧)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٤٩٦)، و ١٩ (٤٥٠٦)، و ٢١ (٤٥١٠)، مسند احمد (٢/٢٧٤، ٣٩٤، ٤٨٧) من غیر ہذا الوجہ (وانظر أیضا حدیث رقم ١١٣٤ و ١١٩٠) و ١٢٢٢، و ١٣٠٤ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شہری کسی گاؤں والے کا سامان نہ فروخت کرے، تم لوگوں کو (ان کا سامان خود بیچنے کے لیے) چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said “Let not a man from the city sell for a villager. Let people alone, Allah will provide them from each other.” [Ahmed 14347, Muslim 1522, Abu Dawud 3442, Ibn e Majah 2126]
صحيح، ابن ماجة (2176)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1223
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ٢ - اس باب میں جابر کی حدیث بھی حسن صحیح ہے۔ ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا سامان بیچے، ٤ - اور بعض لوگوں نے رخصت دی ہے کہ شہری دیہاتی کے لیے سامان خرید سکتا ہے۔ ٥ - شافعی کہتے ہیں کہ شہری کا دیہاتی کے سامان کو بیچنا مکروہ ہے اور اگر وہ بیچ دے تو بیع جائز ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٤)، مسند احمد (٣/٣٠٧) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/البیوع (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ البیوع ٤٧ (٢٤٤٢)، سنن النسائی/البیوع ١٧ (٤٥٠٠)، مسند احمد ٣/٣١٢، ٣٨٦، ٣٩٢) من غیر ہذا الوجہ ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ disallowed muhaqalah and muzabanah.
صحيح أحاديث البيوع، الإرواء (2354)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1224
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، زید بن ثابت، سعد، جابر، رافع بن خدیج اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بالیوں میں کھڑی کھیتی کو گیہوں سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں، اور درخت پر لگے ہوئی کھجور توڑی گئی کھجور سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں، ٤ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٦٨)، مسند احمد (٢/٤١٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩١٥)، مسند احمد (٢/٣٩٢، ٤٨٤) من غیر ہذا الوجہ ۔