عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ ابوعیاش زید نے سعد ؓ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون افضل ہے؟ انہوں نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا۔ اور سعد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا: کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہوجائے گا؟ ١ ؎ لوگوں نے کہا ہاں (کم ہوجائے گا) ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالک» اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
Abdullah ibn Yazid reported that Zayd Abut Ayyash asked Sad about buying wheat against barley. Sa’d asked, ‘Which of these two things is superior?” Zayd said, Wheat.” So, he disallowed that, saying, “I heard someone ask Allah’s Messenger ﷺ about bartering dates for unripe dates. He asked those sitting besides him if the weight of unripe dates reduces when they ripen and it was confirmed to him that they reduce in weight. So, he disallowed that.” [Abu Dawud 3359, Nisai 4556, Ibn e Majah 2264] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2264)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1225
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی کے علم و تجربہ میں اگر کوئی بات پہلے سے نہ ہو تو فتوی دینے سے پہلے وہ مسئلہ کے بارے میں تحقیق کرلے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ١٨ (٣٣٥٩)، سنن النسائی/البیوع ٣٦ (٤٥٤٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٥ (٢٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٤)، موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٢)، مسند احمد (١/١١٥، ١٧١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے کھجور کے درخت کی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہوجائے (پختگی کو پہنچ جائے) ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger forbade sale of dates till they were brilliant in colour. [Ahmed 4493, Muslim 1535, Abu Dawud 3368, Nisai 4565] With the same sanad, it is reported that the Prophet ﷺ forbade sale of wheat till they were white and safe from calamity. He forbade (both) the buyer and the seller.
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1226
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٥)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٣ (٣٣٦٨)، سنن النسائی/البیوع ٤٠ (٤٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٥)، مسند احمد (٢/٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الزکاة ٥٨ (١٤٨٦)، والبیوع ٨٢ (٢١٨٣)، و ٨٥ (٢١٩٤)، و ٨٧ (٢١٩٩)، والسلم ٤ (٢٢٤٧ و ٢٢٤٩)، صحیح مسلم/البیوع ١٣ (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٣ (٣٣٦٧)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٤)، موطا امام مالک/البیوع ٨ (١٠)، مسند احمد (٢/٧، ٤٦، ٥٦، ٦١، ٨٠، ١٢٣)، سنن الدارمی/البیوع ٢١ (٢٥٩٧) من غیر ہذا الوجہ ۔
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (گیہوں اور جو وغیرہ کے) خوشے بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پختہ ہوجائیں اور آفت سے مامون ہوجائیں، آپ نے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا ہے۔
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1227
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس، عائشہ، ابوہریرہ، ابن عباس، جابر، ابو سعید خدری اور زید بن ثابت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اس کے بیچنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انگور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ (پختہ) ہوجائے۔ اور دانے (غلے) کو بیچنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ سخت ہوجائے۔
Sayyidina Anas , reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed sale of grapes till they were black and of grain till they hardened. [Abu Dawud 3371, Ibn e Majah 2217] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح حه (2217)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1228
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف بروایت حماد بن سلمہ ہی مرفوع جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٢٣ (٣٣٧١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٧)، (تحفة الأشراف: ٦١٣) (صحیح) وأخرجہ: مسند احمد (٣/١١٥)، من غیر ہذا الوجہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے: ١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس» روایت کیا ہے۔ اور عبدالوھاب ثقفی وغیرہ نے بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير ونافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «حبل الحبلة» (حمل کے حمل) سے مراد اونٹنی کے بچے کا بچہ ہے۔ اہل علم کے نزدیک یہ بیع منسوخ ہے اور یہ دھوکہ کی بیع میں سے ایک بیع ہے، ٤ - اس باب میں عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade sale of habal al-habalah (whereby a man buys the off-spring of a she-camel still in its mother’s womb). [Bukhari 1086, Muslim 1514, Nisai 4633, Ahmed 5511] -------------------------------------------------------------------------------- -------------------------------------------------------------------------------- --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2197)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1229
Notes · وضاحت
١ ؎: حمل کے حمل کو بیچنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں تم سے اس حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے اندر جو مادہ بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے پیٹ سے جو بچہ ہوگا اس کو اتنے میں بیچتا ہوں، تو یہ بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ یہ معدوم اور مجہول کی بیع ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر ١ ؎ اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade insecure transactions and those depending on throw of stones. [Ahmed 8893, Muslim 1513, Abu Dawud 3376, Nisai 4530, Ibn e Majah 2194]
صحيح، ابن ماجة (2194)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ بیع غرر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٤ - شافعی کہتے ہیں: مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، بھاگے ہوئے غلام کی بیع، آسمان میں اڑتے پرندوں کی بیع اور اسی طرح کی دوسری بیع، بیع غرر کی قبیل سے ہیں، ٥ - اور بیع حصاۃ سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکری پھینک دوں تو میرے اور تیرے درمیان میں بیع واجب ہوگئی۔ یہ بیع منابذہ کے مشابہ ہے۔ اور یہ جاہلیت کی بیع کی قسموں میں سے ایک قسم تھی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع غرر: معدوم و مجہول کی بیع ہے، یا ایسی چیز کی بیع ہے جسے مشتری کے حوالہ کرنے پر بائع کو قدرت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢ (١٥١٣)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٥ (٣٣٧٦)، سنن النسائی/البیوع ٢٧ (٤٥٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٣ (٢١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٤)، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٣٩، ٤٩٦) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٢/٣٧٦) من غیر ہذا الوجہ ۔
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤ - بعض اہل علم نے ایک بیع میں دو بیع کی تفسیر یوں کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع یہ ہے کہ مثلاً کہے: میں تمہیں یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادھار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور مشتری دونوں بیعوں میں سے کسی ایک پر جدا نہ ہو، (بلکہ بغیر کسی ایک کی تعیین کے مبہم بیع ہی پر وہاں سے چلا جائے) جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر جدا ہو تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بیع منعقد ہوگئی ہو، ٥ - شافعی کہتے ہیں: ایک بیع میں دو بیع کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی کہے: میں اپنا یہ گھر اتنے روپے میں اس شرط پر بیچ رہا ہوں کہ تم اپنا غلام مجھ سے اتنے روپے میں بیچ دو۔ جب تیرا غلام میرے لیے واجب و ثابت ہوجائے گا تو میرا گھر تیرے لیے واجب و ثابت ہوجائے گا، یہ بیع بغیر ثمن معلوم کے واقع ہوئی ہے ٢ ؎ اور بائع اور مشتری میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا سودا کس چیز پر واقع ہوا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے دو قول ذکر کئے اس کے علاوہ بعض علماء نے ایک تیسری تفسیر بھی ذکر کی ہے کہ کوئی کسی سے ایک ماہ کے وعدے پر ایک دینار کے عوض گیہوں خرید لے اور جب ایک ماہ گزر جائے تو جا کر اس سے گیہوں کا مطالبہ کرے اور وہ کہے کہ جو گیہوں تیرا میرے ذمہ ہے اسے تو مجھ سے دو مہینے کے وعدے پر دو بوری گیہوں کے بدلے بیچ دے تو یہ ایک بیع میں دو بیع ہوئی۔ ٢ ؎: اور یہی جہالت بیع کے جائز نہ ہونے کی وجہ ہے گو ظاہر میں دونوں کی قیمت متعین معلوم ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٥٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/البیوع ٧٣ (٤٦٣٦)، موطا امام مالک/البیوع ٣٣ (٧٢) (بلاغا) مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٥، ٥٠٣) من غیر ہذا الوجہ ۔
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کو بیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں؟ آپ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو ۔
Sayyidina Hakim in Hizam reported that he submitted to Allah’s Messenger ﷺ that people came to him asking him for things that he did not have, “May buy them from the market and sell them to these people?” He said, “Do not sell that which is not with you.’ [Ahmed 15311, Abu Dawud 3503, Nisai 4624, Ibn e Majah 2187] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1232
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حکم ١٢٣٤ میں آ رہا ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔
Sayyidina Hakim ibn Hizam narrated that Allah’s Messenger ﷺ disallowed him to sell that which he did have on his hands.
صحيح انظر ما قبله (1232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1233
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا: بیع کے ساتھ قرض سے منع فرمانے کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کو قرض دے پھر اس سے بیع کرے اور سامان کی قیمت زیادہ لے اور یہ بھی احتمال ہے کہ کوئی کسی سے کسی چیز میں سلف کرے اور کہے: اگر تیرے پاس روپیہ فراہم نہیں ہوسکا تو تجھے یہ سامان میرے ہاتھ بیچ دینا ہوگا۔ اسحاق (ابن راھویہ) نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے، ٣ - اسحاق بن منصور نے کہا: میں نے احمد سے ایسی چیز کی بیع کے بارے میں پوچھا جس کا بائع ضامن نہیں تو انہوں نے جواب دیا، (یہ ممانعت) میرے نزدیک صرف طعام کی بیع کے ساتھ ہے جب تک قبضہ نہ ہو یعنی ضمان سے قبضہ مراد ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے لیکن یہ ممانعت ہر اس چیز میں ہے جو ناپی یا تولی جاتی ہو۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جب بائع یہ کہے: میں آپ سے یہ کپڑا اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہے۔ تو بیع کی یہ شکل ایک بیع میں دو شرط کے قبیل سے ہے۔ اور جب بائع یہ کہے: میں یہ کپڑا آپ کو اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی سلائی میرے ذمہ ہے۔ یا بائع یہ کہے: میں یہ کپڑا آپ کو اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی دھلائی میرے ذمہ ہے، تو اس بیع میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، یہ ایک ہی شرط ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے ١ ؎، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ٢ ؎ اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو ٣ ؎ اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو۔
Ahmad ibn Mani reported from Isma’il ibn Ibrahim, from Ayyub, from Amr ibn Shu’ayh who from his father and he from the grandfather of Amr ascending up to Abdullah ibn Amr that Allah’s Messenger ﷺ said, salaf. Wa Bai are not lawful . Also, two conditions in one sale are not allowed. Also, profit of what he is not a guarantor is not allowed. In the same way, it is not lawful to sell that which is not in one’s possession.” [Ahmed 6683, Abu Dawud 3504, Nisai 4642, Ibn e Majah 2188] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (2188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1234
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حکیم بن حزام کی حدیث حسن ہے ( ١٢٣٢ ، ١٢٣٣ ) ، یہ ان سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ اور ایوب سختیانی اور ابوبشر نے اسے یوسف بن ماہک سے اور یوسف نے حکیم بن حزام سے روایت کیا ہے۔ اور عوف اور ہشام بن حسان نے اس حدیث کو ابن سیرین سے اور ابن سیرین نے حکیم بن حزام سے اور حکیم بن حزام نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث (روایت) مرسل (منقطع) ہے۔ اسے (اصلاً ) ابن سیرین نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے یوسف بن ماہک سے اور یوسف بن ماہک نے حکیم بن حزام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ، بائع کہے کہ میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ دس روپے میں فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ مجھے دس روپے قرض دے دو یا یوں کہے کہ میں تمہیں دس روپے قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم اپنا یہ سامان میرے ہاتھ سے بیچ دو۔ ٢ ؎: اس کے متعلق ایک قول یہ ہے اس سے مراد ایک بیع میں دو فروختیں اور امام احمد کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ بیچنے والا کہے میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہوگی۔ ٣ ؎: یعنی کسی سامان کا منافع حاصل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ اس کا مالک نہ ہوجائے اور اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔
Hasan ibn Ali Khallal, Abdah ibn Abdullah and many narrators, reported this hadith from Abdus Samad ibn Abdul Warith, from Yazid ibn Ibrahim, from Ibn Sirin, from Ayyub, from Yusuf ibn Maahak from Hakim that Allah’s Messenger ﷺ disallowed him to sell that which he did not possess.
صحيح انظر الحديث (1255 و 1256)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1235
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - وکیع نے اس حدیث کو بطریق: «عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين عن أيوب عن حكيم بن حزام» روایت کیا ہے اور اس میں یوسف بن ماہک کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ عبدالصمد کی روایت زیادہ صحیح ہے (جس میں ابن سیرین کا ذکر ہے) ۔ اور یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ حدیث بطریق: «عن يعلی بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد اللہ بن عصمة عن حكيم بن حزام عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ٢ - اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ اس چیز کی بیع کو مکروہ سمجھتے ہیں جو آدمی کے پاس نہ ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء ١ ؎ کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ٢ ؎۔
Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed the selling of wala, or giving it as gift. [Bukhari 1244, Muslim 1506, Ahmed 4560, Abu Dawud 2919, Nisai 4668, Ibn e Majah 2747] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2747 و 2748)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1236
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف بروایت عبداللہ بن دینار جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ٣ - یحییٰ بن سلیم نے یہ حدیث بطریق: «عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ اس سند میں وہم ہے۔ اس کے اندر یحییٰ بن سلیم سے وہم ہوا ہے، ٤ - عبدالوھاب ثقفی، اور عبداللہ بن نمیر اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عن عبيد اللہ بن عمر عن عبد اللہ بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے اور یہ یحییٰ بن سلیم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٥ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء اس حق وراثت کو کہتے ہیں جو آزاد کرنے والے کو آزاد کردہ غلام کی طرف سے ملتا ہے۔ ٢ ؎: عرب آزاد ہونے والے کی موت سے پہلے ہی ولاء کو فروخت کردیتے یا ہبہ کردیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ممنوع قرار دیا تاکہ ولاء آزاد کرنے والے کے وارثوں کو ملے یا اگر خود زندہ ہے تو وہ خود حاصل کرے، لہٰذا ایسے غلام کا بیچنا یا اسے ہبہ کرنا جائز نہیں جمہور علماء سلف وخلف کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٥)، و الفرائض ٢١ (٦٧٥٦)، صحیح مسلم/ العتق ٣ (١٥٠٦)، سنن ابی داود/ الفرائض ١٤ (٢٩١٩)، سنن النسائی/البیوع ٨٧ (٤٦٦٦)، سنن ابن ماجہ/ الفرائض ١٥ (٢٧٤٧)، ویأتي برقم (٢١٢٦)، (التحفہ: ٧١٥، و ٧١٨٩)، و موطا امام مالک/العتق ١٠ (٢٠)، و مسند احمد (٢/٩، ٧٩، ١٠٧)، سنن الدارمی/ البیوع ٣٦ (٢٦١٤)، والفرائض ٥٣ (٣٢٠٠) (صحیح )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جانور کو جانور سے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Samurah (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade barter of any animal against an animal on credit. [Ahmed 20163, Abu Dawud 3356, Nisai 4631]
صحيح، ابن ماجة (2270)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1237
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے۔ علی بن مدینی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس، جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ احمد بھی اسی کے قائل ہیں، ٥ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانور سے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے۔ اور یہی شافعی، اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو جانور کو ایک جانوروں سے ادھار بیچنا درست نہیں ہے، ہاتھوں ہاتھ (نقد) بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is not proper to sell one animal against two. But, there is no harm in selling against spot payment.’ [Ibn e Majah 2271]
صحيح، ابن ماجة (2271)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1238
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٦ (٢٢٧١)، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٦) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم ﷺ نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔ اتنے میں اس کا مالک آگیا وہ اس کا مطالبہ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چناچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کرلیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟
Sayyidina Jabir (RA) reported that a slave came to the Prophet ﷺ and pledged allegiance over hijrah and the Prophet ﷺ did not perceive that he was a slave. When his master came with the intention to take him away, the Prophet ﷺ said, “Sell him to me.” So, he bought him against two black slaves. Thereafter, he never took pledge of allegiance from anyone till he had asked him if he was a slave. [Muslim 1602, Abu Dawud 3358, Nisai 4621, Ibn e Majah 2869, Ahmed 14778] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1239
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلام سے نقدا نقد خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب ادھار ہو تو اس میں اختلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٣ (البیوع ٤٤)، (١٦٠٢)، سنن ابی داود/ البیوع ١٧ (٣٣٥٨)، سنن النسائی/البیعة ٢١ (٤١٨٩)، و البیوع ٦٦ (٤٦٢٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٩٦)، مسند احمد (٣/٣٧٢)، ویأتي عند المؤلف في السیر ٣٦ (١٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٤) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو، گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو، اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Sell gold for gold like for like, and siiver for silver like for like, and date for date like for like, and wheat for wheat like for like, and salt for salt like for like, and barley for barley like for like. If anyone exceeds, in taking or giving then he has dealt in interest. Sell gold for silver as you like on spot payment, and wheat for dates as you like on spot payment, and barley for dates as you like on spot payment.” (credit and less measure are disallowed). [Muslim 1587, Abu Dawud 3349, Nisai 4571, Ibn e Majah 2254] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2254)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1240
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبادہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ گیہوں کو جو سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ٣ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اور خالد نے ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ نے ابوالاشعث سے اور ابوالاشعث نے عبادہ سے اور عبادہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: خالد کہتے ہیں: ابوقلابہ نے کہا: گیہوں کو جو سے جیسے سے چاہو بیچو۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، ٤ - اس باب میں ابوسعید، ابوہریرہ، بلال اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٥ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے صرف برابر برابر ہی بیچنے کو جائز سمجھتے ہیں اور جب اجناس مختلف ہوجائیں تو کمی، بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بیع نقداً نقد ہو۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ جو کو گیہوں سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ٦ - اہل علم کی ایک جماعت نے جو سے بھی گیہوں کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے، الا یہ کہ وزن میں مساوی ہوں، پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (البیوع ٣٦)، (١٥٨٧)، سنن ابی داود/ البیوع ١٢ (٣٣٤٩، ٣٣٥٠)، سنن النسائی/البیوع ٤٤ (٤٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٩)، مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/٤٣ (٤٥٦٤، ٤٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٤)، من غیر ہذا الوجہ ۔
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا) : سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو ۔
Nafi reported that he and Sayyidina lbn Umar (RA) went to Sayyidina Abu Sa’eed ﷺ who said to them: I heard with my two ears that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Don’t pay gold for gold but like for like, and silver for silver but like for like. Do not pay more or less. Do not delay payment (to the future) but make payment on the spot.” (Bukhari 1097, Muslim 1584, Nisai 4570, Ahmed 111494]
١ - رباء کے سلسلہ میں ابو سعید خدری ؓ کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، ابوہریرہ، ہشام بن عامر، براء، زید بن ارقم، فضالہ بن عبید، ابوبکرہ، ابن عمر، ابودرداء اور بلال ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤ - مگر وہ جو ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، جب کہ بیع نقدا نقد ہو، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سود تو ادھار بیچنے میں ہے اور ایسا ہی کچھ ان کے بعض اصحاب سے بھی مروی ہے، ٥ - اور ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ابو سعید خدری نے جب ان سے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابن مبارک کہتے ہیں: صرف ١ ؎ میں اختلاف نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سونے چاندی کو بعوض سونے چاندی نقداً بیچنا بیع صرف ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں بقیع کے بازار میں اونٹ بیچا کرتا تھا، میں دیناروں سے بیچتا تھا، اس کے بدلے چاندی لیتا تھا، اور چاندی سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ حفصہ ؓ کے گھر سے نکل رہے ہیں تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: قیمت کے ساتھ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated : I used to sell camels against dinars in the market, Baqi, In return I would take dirhams and would also sell for dirham and take dirnars. Then I came to Allah’s Messenger .i-, 3i’ and found him coming out of the house of Hafsah. I asked him about it and he said, “There is no harm in that against a (determined) price.” [Ahmed 4883, Abu Dawud 3354, Nisai 4593, Ibn e Majah 2262]
ضعيف، ابن ماجة (2262) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (494)، ضعيف أبي داود (727 / 3354)، الإرواء (1326) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1242
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف سماک بن حرب ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ٢ - سماک نے اسے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور داود بن ابی ھند نے یہ حدیث سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے موقوفاً روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ اگر کوئی سونا کے بدلے چاندی لے یا چاندی کے بدلے سونا لے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی احمد اور اسحاق کا بھی قول ہے، ٤ - اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ١٤ (٣٣٥٤)، سنن النسائی/البیوع ٥٠ (٤٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥١ (٢٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٣)، مسند احمد (٢/٣٣، ٥٩، ٩٩، ١٠١، ١٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” سماک “ اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے اور تلقین کو قبول کرتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر ؓ پر موقوف کیا ہے )
مالک بن اوس بن حدثان ؓ کہتے ہیں کہ میں (بازار میں) یہ کہتے ہوئے آیا: درہموں کو (دینار وغیرہ سے) کون بدلے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے کہا اور وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس تھے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، اور جب ہمارا خادم آ جائے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم (اس کے بدلے) تمہیں چاندی دے دیں گے۔ (یہ سن کر) عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: سونے کے بدلے چاندی لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو ١ ؎، گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو ۔
Maalik ibn Aws ibn Hadathan (RA) narrated: I advanced (into the market) saying, “Who will exchange my dinars for dirhams?” Talhah ibn Ubaydullah who was sitting by Umar ibn Khattab said (to me), “Show me your gold and come back (after a while) when my servant comes and I will pay you by silver.” Umar ibn Khattab exclaimed, “Certainly not! By Allah, you will pay him the dirham (now) or return to him his gold. For, Allah’s Messenger said, ‘Silver for gold is interest unless it is prompt and on spot (payment), and wheat for wheat is interest unless it is prompt and on spot (payment), and barley for barley is interest unless it is prompt and spot (payment), and dates for dates is interest unless it is prompt and spot (payment)’.” [Bukhari 1081, Muslim 1586]
صحيح، ابن ماجة (2253)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1243
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «إلاھاء وھاء» کا مفہوم ہے نقدا نقد۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چاندی کے بدلے سونا، اور سونا کے بدلے چاندی کم و بیش کر کے بیچنا جائز تو ہے، مگر نقدا نقد اس حدیث کا یہی مطلب ہے، نہ یہ کہ سونا کے بدلے چاندی کم و بیش کر کے نہیں بیچ سکتے، دیکھئیے حدیث (رقم ١٢٤٠ )۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے «تأبیر» ١ ؎ (پیوند کاری) کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہوگا ٢ ؎ الا یہ کہ خریدنے والا (خریدتے وقت پھل کی) شرط لگالے۔ اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہوگا الا یہ کہ خریدنے والا (خریدتے وقت مال کی) شرط لگالے ۔
Saalim reported from his father that he heard Allah’s Messenger say, “If anyone buys palm-trees after the dates are fertilised then its fruit belongs to the seller unless the buyer has placed a condition. And if anyone buys a slave who owns property then the property belongs to the seller unless the buyer has placed a condition’ [Bukhari 1106, Muslim 1543, Ibn e Majah 2211, Abu Dawud 3433, Nisai 4636] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2210 - 2212)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1244
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح اور بھی طرق سے بسند «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت ہے آپ نے فرمایا: جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہوگا الا یہ کہ خریدنے والا (درخت کے ساتھ پھل کی بھی) شرط لگالے اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا الا یہ کہ خریدنے والا (غلام کے ساتھ مال کی بھی) شرط لگالے ، ٣ - یہ نافع سے بھی مروی ہے انہوں نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے کھجور کا کوئی درخت خریدا جس کی پیوند کاری کی جا چکی ہو تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہوگا الا یہ کہ خریدنے والا (درخت کے ساتھ پھل کی بھی) شرط لگالے ، ٤ - نافع سے مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس نے کوئی غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہوگا الا یہ کہ خریدنے والا (غلام کے ساتھ مال کی بھی) شرط لگالے، ٥ - اسی طرح عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں، ٦ - نیز بعض لوگوں نے یہ حدیث نافع سے، نافع نے ابن عمر سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٧ - عکرمہ بن خالد نے ابن عمر سے ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے سالم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ ٨ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن سالم عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے، ٩ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ١٠ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «تأبیر»: پیوند کاری کرنے کو کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ کھجور کے خوشے میں رکھ دیتے ہیں، جب وہ گابھا کھلتا اور پھٹتا ہے تو باذن الٰہی وہ پھل زیادہ دیتا ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر پیوند کاری نہ کی گئی ہو تو پھل کھجور کے درخت کی بیع میں شامل ہوگا اور وہ خریدار کا ہوگا، جمہور کی یہی رائے ہے، جب کہ امام ابوحنیفہ کا یہ قول ہے کہ دونوں صورتوں میں بائع کا حق ہے، اور ابن ابی لیلیٰ کا کہنا ہے کہ دونوں صورتوں میں خریدار کا حق ہے، مگر یہ دونوں اقوال احادیث کے خلاف ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ١٧ (٢٣٧٩)، صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢١١)، (تحفة الأشراف: ٦٩٠٧) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع ٩٠ (٢٢٠٣)، و ٩٢ (٢٢٠٦)، والشروط ٢ (٢٧١٦)، صحیح مسلم/البیوع (المصدر المذکو ر)، سنن ابی داود/ البیوع ٤٤ (٣٤٣٣)، سنن النسائی/البیوع ٧٥ (٤٦٣٩)، و ٧٦ (٤٦٤٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢١٠)، موطا امام مالک/البیوع ٧ (٩)، مسند احمد (٢/٦، ٩، ٥٤، ٦٣، ٧٨)، من غیر ہذا الوجہ ۔