طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 1 · 141 hadiths · Page 1 of 8

1Sunan At-Tirmidhi

کوئی نماز بغیر طہارت کے قبول نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ . قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلَّا بِطُهُورٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ، وَيُقَالُ: زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی ٢ ؎ اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے ۔

Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said, "No Salah is accepted without purification and no Sadaqah is accepted from the proceeds, of treacherous dealing." Hannad, in his version has used the word ‘illa’ (except) instead of ’bighair’ (without).

صحيح، ابن ماجة (272)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ٣ ؎۔ ٢- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: طہارت کا لفظ عام ہے وضو اور غسل دونوں کو شامل ہے، یعنی نماز کے لیے حدث اکبر اور اصغر دونوں سے پاکی ضروری ہے، نیز یہ بھی واضح ہے کہ دونوں حدثوں سے پاکی ( معنوی پاکی ) کے ساتھ ساتھ حسّی پاکی ( مکان، بدن اور کپڑا کی پاکی ) بھی ضروری ہے، نیز دیگر شرائط نماز بھی، جیسے رو بقبلہ ہونا، یہ نہیں کہ صرف حدث اصغر و اکبر سے پاکی کے بعد مذکورہ شرائط کے پورے کئے بغیر صلاۃ ہوجائے گی۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے وضو شرط ہے خواہ نفل ہو یا فرض، یا نماز جنازہ۔ ٣ ؎: یہ حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور حسن ہے اس عبارت سے حدیث کی صحت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس باب میں یہ روایت سب سے بہتر ہے خواہ اس میں ضعف ہی کیوں نہ ہو، یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے اس باب میں سب سے صحیح حدیث ابوہریرہ ؓ کی ہے جو صحیحین میں ہے ( بخاری: الوضوء باب ٢، ( ١٣٥) و مسلم: الطہارۃ ٢ (٢٧٥) اور مولف کے یہاں بھی آرہی ہے ( رقم ٧٦) نیز یہ بھی واضح رہے کہ امام ترمذی کے اس قول اس باب میں فلاں فلاں سے بھی حدیث آئی ہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس باب میں اس صحابی سے جن الفاظ کے ساتھ روایت ہے ٹھیک انہی الفاظ کے ساتھ ان صحابہ سے بھی روایت ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس مضمون و معنی کی حدیث فی الجملہ ان صحابہ سے بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢ (٢٧٢) (تحفة الأشراف: ٧٤٥٧) مسند احمد (٢٠٢، ٣٩، ٥١، ٥٧، ٧٣) (صحیح)
2Sunan At-Tirmidhi

طہارت کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْمَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، فَقَالُوا: عَبْدُ شَمْسٍ، وَقَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَهَكَذَا قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْأَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَثَوْبَانَ، وَالصُّنَابِحِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، وَسَلْمَانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ١ ؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے ٢ ؎۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ Muhammad (Peace be upon him) said, "When a Muslim slave", or, "a Believer washes his face while performing ablution then, with the water, or the last drop of water, all his sins committed with his eyes are washed away. When he washes his hands then all sins commited with them are washed away with water or the last drop of water, till he comes out pure from sins."

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٣ ؎، ٢- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ ﷺ سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گناہ جھڑ جاتے ہیں کا مطلب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، اور گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ خالص توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضو جسمانی نظافت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت کا بھی ذریعہ ہے۔ ٣ ؎: بظاہر یہ ایک مشکل عبارت ہے کیونکہ اصطلاحی طور پر حسن کا مرتبہ صحیح سے کم ہے، تو اس فرق کے باوجود ان دونوں کو ایک ہی جگہ میں کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلہ میں مختلف جوابات دیئے گئے ہیں، سب سے عمدہ توجیہ حافظ ابن حجر نے کی ہے ( الف ) اگر حدیث کی دو یا دو سے زائد سندیں ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ حدیث ایک سند کے لحاظ سے حسن اور دوسری سند کے لحاظ سے صحیح ہے، اور اگر حدیث کی ایک ہی سند ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک طبقہ کے یہاں یہ حدیث حسن ہے اور دوسرے کے یہاں صحیح ہے، یعنی محدث کے طرف سے اس حدیث کے بارے میں شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ حسن ہے یا صحیح۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١١ (٢٤٤) (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٢) موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣١) (صحیح)
3Sunan At-Tirmidhi

بے شک طہارت نماز کی کنجی ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ: هُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ١ ؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں ٢ ؎۔

Ali (RA) narrated that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said, "The key to Salah is purifcation. Its tahrim (prohibition) is the takbir (saying Allahu Akbar to begin it) . Its tahlil (legality) is the taslim (saying assalaamu alaykum wa rahamatullah to end it)."

حسن صحيح، ابن ماجة (275)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ٢- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ٣ ؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ٤ ؎ ہیں، ٣- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ اکبر ہی کہہ کر نماز میں داخل ہونے سے وہ سارے کام حرام ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے نماز میں حرام کیا ہے، «اللہ اکبر» کہہ کر نماز میں داخل ہونا نبی اکرم ﷺ کا دائمی عمل تھا، اس لیے کسی دوسرے عربی لفظ یا عجمی لفظ سے نماز کی ابتداء صحیح نہیں ہے۔ ٢ ؎: یعنی صرف «السلام علیکم ورحمة اللہ» ہی کے ذریعہ نماز سے نکلا جاسکتا ہے۔ دوسرے کسی اور لفظ یا عمل کے ذریعہ نہیں۔ ٣ ؎: یہ کلمات تعدیل میں سے ہے اور جمہور کے نزدیک یہ کلمہ راوی کے تعدیل کے چوتھے مرتبے پر دلالت کرتا ہے جس میں راوی کی عدالت تو واضح ہوتی ہے لیکن ضبط واضح نہیں ہوتا، امام بخاری (رح) جب کسی کو صدوق کہتے ہیں تو اس سے مراد ثقہ ہوتا ہے جو تعدیل کا تیسرا مرتبہ ہے۔ ٤ ؎: مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے، لفظ مقارب دو طرح پڑھا جاتا ہے: راء پر زبر کے ساتھ، اور راء کے زیر کے ساتھ، زبر کے ساتھ مقارب الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی حدیث اس کی حدیث سے قریب ہے، اور زیر کے ساتھ مقارب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے، یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے، امام ترمذی (رح) نے یہ صیغہ ولید بن رباح اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کے بارے میں استعمال کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣١ (٦١) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣ (٢٧٥) (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٥) مسند احمد (١/١٢٣، ١٢٩) سنن الدارمی/ الطہارة ٢٢ (٧١٤) (حسن صحیح)
4Sunan At-Tirmidhi

بے شک طہارت نماز کی کنجی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز جنت کی کنجی ہے، اور نماز کی کنجی وضو ہے ۔

Jabir bin ‘Abudllah (RA) said that Prophet ﷺ Muhammad (Peace be upon him) said: “The key to Paradise is Salah (Prayer) and key to to Salah (Prayer) is Wudu (Ablution)”

صحيح بما قبله (3)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 4
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٥٧٦) وانظر مسند احمد (٣/٣٣٠) (ضعیف) (سند میں سلیمان بن قرم اور أبویحیی القتات دونوں ضعیف ہیں، مگر آخری ٹکڑا ” مفتاح الصلاة الوضوء “ پچھلی حدیث کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
5Sunan At-Tirmidhi

بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ، رَوَى هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وقَالَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، فَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: « اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔

Anas (RA) ibn Malik narrated that while going to the privy the Prophet ﷺ said: (O Allah I seek refuge in you). Shubah (RA) said that at a Abu Salih as-Saman, said that at another time he said: (I seek refuge in Allah from evil and the evil-doers, or, from impure male jnns and impure female jinns)

صحيح، ابن ماجة (298)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 5
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- انس ؓ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے، ٣- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں: کہ ہوسکتا ہے قتادہ نے اسے (زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مذکورہ دعا پاخانہ میں داخل ہونے سے پہلے پڑھنی چاہیئے، اور اگر کوئی کھلی فضا میں قضائے حاجت کرنے جا رہا ہو تو رفع حاجت کے لیے بیٹھتے ہوئے کپڑا اٹھانے سے پہلے یہ دعا پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٩ (١٤٢) والدعوات ١٥ (٦٣٢٢) صحیح مسلم/الحیض ٣٢ (٣٧٥) سنن ابی داود/ الطہارة ٣ (٤) سنن النسائی/الطہارة ١٨ (١٩) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩ (٢٩٨) (تحفة الأشراف: ١٠٢٢) مسند احمد (٣/١٠١/٢٨٢) سنن الدارمی/الطہارة ٩ (٦٩٦) (صحیح)
6Sunan At-Tirmidhi

بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت کیا کہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث» اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے ١ ؎۔

Anas (RA) ibn Malik narrated that while going to the privy the Prophet ﷺ said: (I seek refuge in Allah from evil and the evil-doers, or, from impure male jnns and impure female jinns)

صحيح انظر ما قبله (5)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 6
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گندی جگہوں میں گندگی سے انس رکھنے والے جن بسیرا کرتے ہیں، اسی لیے نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت ناپاک جنوں اور جنیوں سے پناہ مانگتے تھے، انسان کی مقعد بھی قضائے حاجت کے وقت گندی ہوتی ہے اس لیے ایسے مواقع پر خبیث جن انسان کو اذیت پہنچاتے ہیں، اس سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھی جاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٠١١) (صحیح)
7Sunan At-Tirmidhi

بیت الخلاء سے نکلتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى اسْمُهُ: عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَلَا نَعْرِفُ فِي هَذَا الْبَابِ إِلَّا حَدِيثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «غفرانک» یعنی اے اللہ: میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں ١ ؎۔

Aisha narrated that when the Prophet ﷺ (Peace be upon him) came out of the toilet, he said: (O Allah! I seek Your forgiveness)

صحيح، ابن ماجة (300)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 7
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے ٢ ؎، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ ہی کی حدیث معروف ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے موقع پر استغفار طلب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد اس کے فضلے کے نکلنے تک کی ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعامات میں سے ہیں جن کا شکر ادا کرنے سے انسان قاصر ہے، اس لیے قضائے حاجت کے بعد انسان اس کوتاہی کا اعتراف کرے، اس موقع کی دوسری دعا سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کردیا اور مجھے عافیت دی کے معنی سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ایک مشکل اصطلاح ہے کیونکہ حدیث حسن میں ایک سے زائد سند بھی ہوسکتی ہے جب کہ غریب سے مراد وہ روایت ہے جو صرف ایک سند سے آئی ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے رتبے کے لحاظ سے حسن ہے اور کسی خارجی تقویت و تائید کی محتاج نہیں، اس بات کو امام ترمذی نے غریب کے لفظ سے تعبیر کیا ہے یعنی اسے حسن لذاتہ بھی کہہ سکتے ہیں، واضح رہے کہ امام ترمذی حسن غریب کے ساتھ کبھی کبھی دو طرح کے جملے استعمال کرتے ہیں، ایک «لانعرفه إلامن هذا الوجه» ہے، اور دوسرا «وإسناده ليس بمتصل» پہلے جملہ سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ حدیث صرف ایک طریق سے وارد ہوئی ہے اور دوسرے سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے، یہاں حسن سے مراد وہ حسن ہے جس میں راوی متہم بالکذب نہ ہو، اور غریب سے مراد یہاں اس کا ضعف ظاہر کرنا ہے اور «إسناده ليس بمتصل» کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سند میں انقطاع ہے یعنی اس کا ضعف خفیف ہے۔ ٣ ؎: یعنی اس باب میں اگرچہ اور بھی احادیث آئی ہیں لیکن عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا حدیث کے سوا کوئی حدیث قوی سند سے ثابت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٧ (٣٠) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠ (٣٠٠) (تحفة الأشراف: ١٧٩٤) سنن الدارمی/الطہارة ١٧ (٧٠٧) (صحیح)
8Sunan At-Tirmidhi

قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے کی مخالفت کے بارے میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا . فقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. قال أبو عيسى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ، وَيُقَالُ: مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ: خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، وَكُنْيَتُهُ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بِبَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي، وَأَمَّا فِي الْكُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلَا فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو ١ ؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔

Abu Ayyub Ansari narrated that Allahs Messenger (Peace be upon him) said, "When you go to the toilet, do not face the qiblah while passing stool or urine nor turn your backs to it, but turn to the east or west." Abu Ayyub (RA) said, "When we arrived in Syria, we found their privies built facing qiblah, so we would turn away from that and would seek Allahs forgiveness."

صحيح، ابن ماجة (318)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 8
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم (معقل بن ابی معقل) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ٣- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء (میدان) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ (امام احمد) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں (البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ خطاب اہل مدینہ سے اور ان لوگوں سے ہے جن کا قبلہ مدینہ کی سمت میں مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام سے شمال والی جانب واقع ہے، اور اسی طرح مکہ مکرمہ سے جنوب والی جانب جن کا قبلہ مشرق ( پورب ) یا مغرب ( پچھم ) کی طرف ہے وہ قضائے حاجت کے وقت شمال یا جنوب کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الوضوء ١١ (١٤٤) والصلاة ٢٩ (٣٩٤) صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٤) سنن ابی داود/ الطہارة ٤ (٩) سنن النسائی/الطہارة ١٩، ٢٠، ٢١ (٢٠، ٢١، ٢٢) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٧ (١٨) (تحفة الأشراف: ٢٤٧٨) موطا امام مالک/القبلة ١ (١) مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢١) سنن الدارمی/ الطہارة ٦ (٦٩٢) (صحیح)
9Sunan At-Tirmidhi

قبلہ کی طرف رخ کرنے میں رخصت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَعَائِشَةَ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔

Jabir ibn Abdullah (Peace be upon him) said, "The Prophet ﷺ (Peace be upon him) forbade us to pass urine while facing the qiblah. But, one year before his death, I saw him face the qiblah."Ibn Lahiah has reported this hadith from Abu Dhubayr who from Jabir who from Abu Qatadah that he saw the Prophet ﷺ (Peace be upon him) pass urine standing. Qutaybah told us about it having been reported it from Ibn Lahiah

صحيح، ابن ماجة (325)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 9
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں جابر ؓ کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوقتادہ، عائشہ، اور عمار بن یاسر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة (١٣) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٨ (٣٢٥) (تحفة الأشراف: ٢٥٧٤) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)
10Sunan At-Tirmidhi

قبلہ کی طرف رخ کرنے میں رخصت

وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر ؓ سے کہ ابوقتادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث (جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ ؓ کا واسطہ ہے) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔

Abu Qatadah (RA) says that he saw Prophet ﷺ Muhammad urinating facing the Qiblah.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 10
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٠٨١) (ضعیف الإسناد)
11Sunan At-Tirmidhi

قبلہ کی طرف رخ کرنے میں رخصت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْكَعْبَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک روز میں (اپنی بہن) حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ١ ؎۔

Hannad reported from Abdullah who from Ubaydullah ibn Umar who from Muhammad ibn Yahya ibn Hibban who from his uncle Wasi ibn Hibban who from Ibn Umar (RA) who said, "I went up the roof of Hafsahs house and saw Allahs Messenger relieving himself, His face was towards Syria and back towards the Ka’bahh."

صحيح، ابن ماجة (322)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 11
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: احتمال یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فعل خاص آپ کے لیے کسی عذر کی بنا پر تھا اور امت کے لیے خاص حکم کے ساتھ آپ ﷺ کا یہ فعل قطعاً معارض ہے، اور پھر یہ کہ آپ اوٹ تھے۔ ( تحفۃ الأحوذی: ١/٢٢، ونیل الأوطارللشوکانی )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٢ (١٤٥) صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٦١١) سنن ابی داود/ الطہارة ٥ (١٢) سنن النسائی/الطہارة ٢٢ (٢٣) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٨ (٣٢٢) (تحفة الأشراف: ٨٥٥٢) موطا امام مالک/القبلة ٢ (٣) مسند احمد (٢/١٢، ١٣) سنن الدارمی/الطہارة ٨ (٦٩٤) (صحیح)
12Sunan At-Tirmidhi

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُولُ إِلَّا قَاعِدًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَبُرَيْدَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ عَائِشَةَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، وَحَدِيثُ عُمَرَ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا ، فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَتَكَلَّمَ فِيهِ، وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ. وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَمَعْنَى النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ قَائِمًا عَلَى التَّأْدِيبِ لَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ تَبُولَ وَأَنْتَ قَائِمٌ.

` ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ١ ؎۔

Aisha (RA) said, "If anyone says that the Prophet ﷺ passed urine standing up then do not confirm him because he never passed urine but sitting down” Ibn Umar (RA) narrated from Umar (RA) that Prophet ﷺ Muhammad saw me urinating while standing and he forbade me saying “ O Umar ! Don’t urinate while standing”. Umar said “I never urinated while standing after that

(حديث عائشة) صحيح، (حديث عمر) ضعيف (حديث عائشة)، ابن ماجة (307) . (حديث عمر)، ابن ماجة (308) // ضعيف سنن ابن ماجة (63)، المشکاة (363)، الضعيفة (934)، ضعيف الجامع (6403) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 12
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عمر، بریدہ، عبدالرحمٰن بن حسنہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ کی یہ حدیث سب سے زیادہ عمدہ اور صحیح ہے، ٣- عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ، چناچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ عمر ؓ کی اس حدیث کو عبدالکریم ابن ابی المخارق نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ایوب سختیانی نے ان کی تضعیف کی ہے اور ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ حدیث عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے کہ عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ یہ حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی حدیث سے (روایت کے اعتبار سے) زیادہ صحیح ہے ٢ ؎، ٤- اس باب میں بریدۃ ؓ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ٥- کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت ادب کے اعتبار سے ہے حرام نہیں ہے ٣ ؎، ٦- عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو یہ پھوہڑ پن ہے ٤ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین عائشہ ؓ کا یہ دعویٰ اپنے علم کے لحاظ سے ہے، ورنہ بوقت ضرورت نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے، ہاں آپ کی عادت مبارکہ عام طور پر بیٹھ ہی کر پیشاب کرنے کی تھی، اور گھر میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی عبدالکریم کی مرفوع روایت کہ ( نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب سے روکا ) ضعیف ہے، جبکہ عبیداللہ العمری کی موقوف روایت صحیح ہے۔ ٣ ؎: یعنی کھڑے ہو کر پیشاب کرنا حرام نہیں بلکہ منع ہے۔ ٤ ؎: دونوں ( مرفوع و موقوف ) حدیثوں میں فرق یوں ہے کہ مرفوع کا مطلب ہے: نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو جب سے منع کیا تب سے انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، اور موقوف روایت کا مطلب ہے کہ عمر ؓ اپنی عادت بیان کر رہے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٢٥ (٢٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٤ (٣٠٧)، ( تحفة الأشراف: ١٦١٤٧)، مسند احمد (٦/١٣٦، ١٩٢، ٢١٣) (صحیح) (تراجع الالبانی /١٢، الصحیحہ: ٢٠١)
13Sunan At-Tirmidhi

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی رخصت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَذَهَبْتُ لِأَتَأَخَّرَ عَنْهُ، فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ثُمَّ قَالَ وَكِيعٌ: هَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ، وسَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قال أبو عيسى: وَهَكَذَا رَوَى مَنْصُورٌ، وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَصَحُّ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا. قال أبو عيسى: وَعَبِيدَةُ بْنُ عَمْرٍو السَّلْمَانِيُّ رَوَى عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَعَبِيدَةُ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ، يُرْوَى عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَسْلَمْتُ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَتَيْنِ، وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ، وَيُكْنَى: أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں (آ کر) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہوگیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔

Abu Wail reported that Hudhayfah (RA) said that Allahs Messenger (Peace be upon him) came to a midden of the people and passed urine standing. Then he brought water for him to perform ablution and began to retreat but he called him until he was just behind him. Then Prophet ﷺ (Peace be upon him) performed ablution and wiped over his socks.

صحيح، ابن ماجة (305)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 13
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- وکیع کہتے ہیں: یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ٢- یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ ؓ بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے ١ ؎ ابو وائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے روایت کیا (مغیرہ کی روایت سے) زیادہ صحیح ہے ٢ ؎، ٣- محدثین میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت دی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حماد اور عاصم نے بھی ابو وائل ہی سے روایت کی ہے مگر ابو وائل نے حذیفہ کے علاوہ مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی روایت کیا ہے، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک راوی نے ایک حدیث دو دو راویوں سے روایت ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ ابو وائل نے دونوں صحابیوں سے سنا ہو۔ ٢ ؎: کیونکہ اعمش والی روایت صحیحین میں بھی ہے جبکہ عام والی روایت صرف ابن ماجہ میں ہے گرچہ وہ بھی صحیح ہے، ( معاملہ صرف زیادہ صحیح ہونے کا ہے )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٠ (٢٢٤) و ٦١ (٢٢٥) و ٦٢ (٢٢٦) والمظالم ٢٧ (٢٤٧١) صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٣) سنن ابی داود/ الطہارة ١٢ (٢٣) سنن النسائی/الطہارة ١٧، ٢٤ (١٨، ٢٦، ٢٧، ٢٨) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣ (٣٠٥) (تحفة الأشراف: ٣٣٣٥) مسند احمد (٥/٣٩٤) سنن الدارمی/الطہارة ٩ (٦٩٥) (صحیح)
14Sunan At-Tirmidhi

قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى وَكِيعٌ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ . وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُرْسَلٌ، وَيُقَالُ: لَمْ يَسْمَعْ الْأَعْمَشُ مِنْ أَنَسٍ وَلَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ نَظَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُهُ يُصَلِّي، فَذَكَرَ عَنْهُ حِكَايَةً فِي الصَّلَاةِ، وَالْأَعْمَشُ اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَاهِلِيُّ، وَهُوَ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانَ أَبِي حَمِيلًا فَوَرَّثَهُ مَسْرُوقٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہوجاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہوجاتے نہیں اٹھاتے تھے ١ ؎۔

Anas (RA) said that when Prophet ﷺ (Peace be upon him) wanted to relieve himself did not raise his lower garment till he was very near the ground.

صحيح، صحيح أبي داود (11)، الصحيحة (1071)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 14
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے: دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک ؓ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مرسل سے منقطع مراد ہے، اس کی تشریح خود امام ترمذی نے کردی ہے کہ اعمش کا انس ؓ سے سماع نہیں ہے، ویسے عام اصطلاحی مرسل: وہ حدیث ہوتی ہے جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد والا راوی ساقط ہو، ایسی روایت ضعیف ہوتی ہے کیونکہ اس میں اتصال سند مفقود ہوتا ہے جو صحیح حدیث کی ایک لازمی شرط ہے، اسی طرح محذوف راوی کا کوئی تعین نہیں ہوتا، ممکن ہے وہ کوئی غیر صحابی ہو، اس صورت میں اس کے ضعیف ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ اور انقطاع کا مطلب یہ ہے کہ سند میں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦ (١٤) (تحفة الأشراف: ٨٩٢) سنن الدارمی/ الطہارة ٧ (٦٩٣) (صحیح)
15Sunan At-Tirmidhi

داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے کی کراہت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ . وَفِي هَذَا الْبَاب: عَنْ عَائِشَةَ، وَسَلْمَانَ، وَأبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ: الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ: كَرِهُوا الِاسْتِنْجَاءَ بِالْيَمِينِ.

ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے ١ ؎۔ اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

Abdullah ibn Abu Qatadah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) disallowed them to touch their penis with their right hand.

صحيح، ابن ماجة (310)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 15
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بائیاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ دائیں ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣) و ١٩ (١٥٤) والأشربة ٢٥ (٥٦٣٠) صحیح مسلم/الطہارة ١٨ (٣٦٧) سنن ابی داود/ الطہارة ١٨ (٣١) سنن النسائی/الطہارة ٢٣ (٢٤، ٢٥) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٥ (٣١٠) (تحفة الأشراف: ١٢١٠٥) مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٠، ٣١٠) سنن الدارمی/ الطہارة ١٣ (٧٠٠) (صحیح)
16Sunan At-Tirmidhi

پتھروں سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قِيلَ لِسَلْمَانَ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، فَقَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ، وَخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ: رَأَوْا أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی ؓ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی ؓ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔

Abdur Rahman ibn Yazid (RA) said that Salman (RA) was told, "Indeed, your Prophet ﷺ teaches you every thing, so much so that even how to relieve yourself. Salman (RA) said. "Yes! He forbade us to face the qiblah when passing stool or urine, or to cleanse ourselves with the right hand, or to use dung or bones to cleanse.”

صحيح، ابن ماجة (316)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 16
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- سلمان ؓ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ٣- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کرلینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٢) سنن ابی داود/ الطہارة ٤ (٧) سنن النسائی/الطہارة ٣٧ (٤١) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٦ (٣١٦) (تحفة الأشراف: ٤٥٠٥) مسند احمد (٥/٤٣٧، ٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح)
17Sunan At-Tirmidhi

دو پتھروں سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ: الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: إِنَّهَا رِكْسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَى زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَهَذَا فِيهِ اضْطِرَابٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ: هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ: لَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَيُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق أَصَحُّ ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ وَكَأَنَّهُ رَأَى حَدِيثَ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَشْبَهَ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا عِنْدِي حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ، وَقَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق مِنْ هَؤُلَاءِ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: مَا فَاتَنِي الَّذِي فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا لِمَا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاق لَيْسَ بِذَاكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ مِنْهُ بِآخِرَةٍ، قَالَ: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتَ الْحَدِيثَ عَنْ زَائِدَةَ وَزُهَيْرٍ فلا تبالي أن لا تسمعه من غيرهما إلا حديث أبي إسحاق، وأبو إسحاق اسمه: عمرو بن عبد الله السبيعي الهمداني، وأبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه ولا يعرف اسمه.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ١ ؎۔ (ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہوگیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ٢ ؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کردیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ٣ ؎۔

Abdullah (RA) : said that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) went out to relieve himself and said to him, "Fetch threee stones for me." Abdullah said, "I brought to him two stones and a piece of dung.He took the stones but threw away the piece of dung, saying, "It is impure."

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 17
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز خود ناپاک و نجس ہو اس سے طہارت حاصل نہیں ہوسکتی، امام احمد اور دارقطنی کی روایت میں «ائتني بغيرها» اس کے بدلے دوسرا پتھر لے آؤ کا اضافہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ قضائے حاجت کے بعد تین پتھر استعمال کرنا واجب ہے خواہ صفائی اس سے کم ہی میں کیوں نہ حاصل ہوجائے، اور اگر تین سے بھی مطلوبہ صفائی حاصل نہ ہو تو مزید بھی پتھر استعمال کئے جاسکتے ہیں البتہ ان کی تعداد طاق ہونی چاہیئے، آج کل صفائی کے لیے ٹشو پیپر استعمال ہوتے ہیں ان کی تعداد بھی اتنی ہی ہونی چاہیئے۔ ٢ ؎: متابعت سے مراد ایک راوی کا دوسرے کے ساتھ اس حدیث کی روایت میں شریک ہونا ہے، اس کے جاننے کا یہ ہوتا ہے کہ اگر راوی ضعیف ہے تو اس کی حدیث کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے اور اگر ثقہ ہے تو اس کا تفرد ختم ہوجاتا ہے۔ ٣ ؎: واضح رہے کہ امام ترمذی نے اسرائیل کی روایت کو زہیر کی روایت پر جسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں جگہ دی ہے تین وجہوں سے ترجیح دی ہے۔ ( الف ) ابواسحاق کے تلامذہ میں اسرائیل: زہیر، معمر اور دیگر لوگوں سے زیادہ ثقہ اور ابواسحاق سبیعی کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ ( ب ) قیس بن ربیع نے اسرائیل کی متابعت کی ہے۔ ( ج ) اسرائیل کا سماع ابواسحاق سبیعی سے اختلاط سے پہلے ہے، ان کی آخری عمر میں نہیں ہے اس کے برخلاف زہیر کا ابواسحاق سے سماع ان کی آخری عمر میں ہے، لیکن صاحب تحفہ الأحوذی کے نزدیک یہ تینوں وجہیں محل نظر ہیں، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تحفہ الاحوذی ج ١ ص ٢٨۔ صاحب تحفۃ الاحوذی کے معارضات کا خلاصہ یہ ہے کہ ( ١) بقول امام ابوداؤد: زہیر اسرائیل کے مقابلہ میں اثبت ہیں۔ ( ٢) زہیر کی بھی متابعت موجود ہے بلکہ دو دو متابعت ہے۔ ( ٣) بقول ذہبی: امام احمد کہتے ہیں کہ زہیر نے ابواسحاق سبیعی سے اختلاط سے پہلے سنا ہے جبکہ اسرائیل نے آخری عمر میں سنا ہے، علاوہ ازیں اگر اسرائیل کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کی روایت ابوعبیدہ سے ہے اور ابوعبیدہ کی اپنے باپ ابن مسعود سے سماع نہیں ہے تو روایت کو ضعیف ماننا پڑے گا، جبکہ زہیر کی روایت سے حدیث متصل ہوتی ہے، اور اکثر ائمہ نے اسے صحیح ہی قرار دہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بہذا السند ( تحفة الأشراف ٩٦٢٢)، وأخرجہ کل من صحیح البخاری/الطہارة ٢١ (١٥٦) و سنن النسائی/الطہارة ٣٨ (٤٢) وسنن ابن ماجہ/الطہارة ١٦ (٣١٤) من طریق الأسود بن یزید عنہ کما في تحفة الأشراف: ٩١٧٠) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، لیکن اس کی سند میں ابو عبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ مولف نے بیان کردیا ہے۔ )
18Sunan At-Tirmidhi

جن سے استنجا کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ . وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَلْمَانَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرُهُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَفِي الْبَاب: عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے ١ ؎۔

Abdullah ibn Masud (RA) narrated that Allahs Messenger (Peace be upon him) "Do not make istinja with dung and bone because that is provision of your brethren among jinn."

صحيح، الإرواء (46)، المشکاة (350)، الضعيفة تحت الحديث (1038)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 18
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوہریرہ، سلمان، جابر، ابن عمر ؓ سے بھی احادیث مروی ہیں۔ ٢- اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے بسند «داود ابن ابی ہند عن شعبی عن علقمہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ «لیلة الجن» میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ٢ ؎ آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جو لمبی ہے، شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں (جنوں) کی خوراک ہے، ٣- گویا اسماعیل بن ابراہیم کی روایت حفص بن غیاث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ٣ ؎، ٤- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ٥- اور اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی صحیح ہے کہ ہڈی اور گوبر دونوں کو آپ ﷺ نے جنوں کا توشہ قرار دیا، اور وہ روایتیں ضعیف ہیں جن میں ہے کہ ہڈی جنوں کا، اور گوبر ان کے جانوروں کا توشہ ہے ( دیکھئیے ضعیفہ رقم: ١٠٣٨)۔ ٢ ؎: امام ترمذی نے اس سند سے جس لمبی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اس کو خود وہ سورة الاحقاف کی تفسیر میں ( رقم: ٣٢٥٨) لائے ہیں ( نیز یہ حدیث مسلم ( رقم ٤٥٠) میں بھی ہے ) اس میں تو صاف ذکر ہے کہ سوال کرنے پر عبداللہ بن مسعود ؓ نے اپنے کو «لیلۃ الجن» میں موجود ہونے سے انکار کیا، اور صحیح بات یہی ہے کہ ابن مسعود ؓ کے اس «لیلۃ الجن» میں موجود رہنے کی تمام روایات ضعیف ہیں، جن میں جنوں نے اپنے کھانے کا سوال کیا تھا، یا جس میں نبیذ سے وضو کا ذکر ہے، ہاں دو تین بار کسی اور موقع سے جنوں سے ملاقات کی رات آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ( الکوکب الدری فی شرح الترمذی ) ٣ ؎: حفص بن غیاث اور اسماعیل بن ابراہیم کی حدیثوں میں فرق یہ ہے کہ حفص کی روایت سے «لا تستنجوا ……» کی حدیث متصل مرفوع ہے، جبکہ اسماعیل کی روایت سے یہ شعبی کی مرسل حدیث ہوجاتی ہے ( اور اس ارسال پر دیگر بہت سے ثقات نے اسماعیل کی متابعت کی ہے ) اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے، مگر صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ( جس کا تذکرہ مؤلف نے کیا ہے ) اس کی صحیح شاہد ہے، نیز دیگر شواہد سے اصل حدیث ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائی فی الکبری) ( تحفة الأشراف: ٩٤٦٥)
19Sunan At-Tirmidhi

پانی سے استنجا کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ البصري، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَخْتَارُونَ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ، وَإِنْ كَانَ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ عِنْدَهُمْ، فَإِنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَرَأَوْهُ أَفْضَلَ، وَبِهِ يَقُولُ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے (یہ بات کہتے) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

Mu’adhah (RA) narrated that Aisha (RA) said (to the women) that they should tell their husbands to cleanse themselves with water as she felt ashamed before them. The Prophet ﷺ (Peace be upon him) used to do that.

صحيح، الإرواء (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 19
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی، انس، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے ١ ؎، وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بار بار آپ احادیث میں یہ جملہ پڑھ رہے ہیں: اسی پر اہل علم کا عمل ہے، تو اہل علم سے مراد محدثین فقہاء اور قرآن وسنت کا صحیح فہم رکھنے والے لوگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٤١ (٤٦) (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٠) (صحیح)
20Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں نبی کا قضائے حاجت کے وقت تو دور تشریف لے جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَأَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَجَابِرٍ، وَيَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَرْتَادُ لِبَوْلِهِ مَكَانًا كَمَا يَرْتَادُ مَنْزِلًا، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے ١ ؎۔

Sayyidla Mughirah ibn Shu’bah narrated that he was travelling wiith Allahs Messenger (Peace be upon him) once. When he wanted to relieve hImself, he went away very far off.

صحيح، ابن ماجة (3301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 20
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن ابی قراد، ابوقتادہ، جابر، یحییٰ بن عبید عن أبیہ، ابو موسیٰ، ابن عباس اور بلال بن حارث ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- روایت کی جاتی ہے کہ نیز نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لیے اس طرح جگہ ڈھونڈتے تھے جس طرح مسافر اترنے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے۔ ٤- ابوسلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا صرف لوگوں کی نظروں سے دور ہوجانے کے لیے کرتے تھے، اب یہ مقصد تعمیر شدہ بیت الخلاء سے حاصل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة (١) سنن النسائی/الطہارة ١٦ (١٧) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٢ (٣٣١) سنن ابی داود/ الطہارة ٤ (٦٨٦) (تحفة الأشراف: ٧٥٤٠) مسند احمد (٤/٢٤٤) (صحیح)