ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہوجائے گا ١ ؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہوگا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ٢ ؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے ، آپ نے فرمایا: میں خواب میں قید (پیر میں بیڑی پہننا) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ٣ ؎، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As the time draws near, the dream of a believer will not be false and the truest dream will be of one who is truest in speech. And, the dream of the Muslim is a portion of the forty-six portions of Prophet ﷺ Hood. And dreams are of three kinds: good dreams are glad tidings from Allah, sad dreams are from the devil and there are dreams about what man experiences with him self. So, when one of you sees a dream that he does not like then he must stand up and spit (out to a side) and he must not mention it to the people”. He also said, “I love to see a chain in my dream because the noblest fetters are to be steadfast in religion and I hate the fetters in the neck”. [Bukhari 7017, Muslim 2263]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2270
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ قریب ہونے کا مطلب تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے: پہلا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد قرب قیامت ہے اور اس وقت کا خواب کثرت سے صحیح اور سچ ثابت ہوگا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد دن اور رات کا برابر ہونا ہے، تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد زمانہ کا چھوٹا ہونا ہے یعنی ایک سال ایک ماہ کے برابر، ایک ماہ ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک گھڑی کے برابر ہوگا۔ ٢ ؎: اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: پہلا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ابتدائی دور میں چھ ماہ تک آپ کے پاس وحی خواب کی شکل میں آتی تھی، یہ مدت آپ کی نبوت کے کامل مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے اس طرح سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔ ٣ ؎: کیونکہ طوق پہننے سے اشارہ قرض دار رہنے، کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب ہوتا ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A believer’s dream is a portion of the forty-six portions of Prophet ﷺ Hood. [Bukhari 6983, Muslim 2264] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2271
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابورزین عقیلی، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو، عوف بن مالک، ابن عمر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہوگا ، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: البتہ بشارتیں باقی ہیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, messenger ship and Prophet ﷺ Hood have ceased. So, there is no Messenger after me and no Prophet ﷺ ”. That seemed hard on the people. So he added, “But the mubashirat (glad tidings)”. The sahabah said, “O Messenger of Allah, ﷺ and what are the mubashirat (glad tidings)?” He said, “Dreams of a Muslim and they are a portion of the portions of Prophet ﷺ Hood”. [Ahmed 13825] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2272
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی بعثت اس امت کے لیے سب سے عظیم بشارت تھی، اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر جو احسان اس امت پر کیا ہے ایسا احسان کسی دوسری امت پر نہیں کیا، اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفراز کیا، رب العالمین اپنے اس احسان کا ذکر کچھ اس طرح فرما رہا ہے «لقد من اللہ علی المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم» (آل عمران: ١٦٤ )، آپ کی ذات گرامی اس امت کے لیے سراپا بشارت ہی بشارت تھی، دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کے فرمان کے مطابق بشارتوں میں سے اچھے خواب کے علاوہ کوئی دوسری چیز باتی نہ رہ گئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح البخاری/التعبیر ٢ (٦٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢)، وط/الرؤیا ١ (١)، و مسند احمد (٣/٦٧) (صحیح )
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشری في الحياة الدنيا» ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے (یونس: ٦٤ ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔
Ata ibn Yasar narrated: A man from Egypt asked Sayyidina Abu Darda (RA) about those words of Allah the Majestic, the Glorious: For them are glad tidings in the life of this world. (10: 64) He said, “No one besides you and one other man has asked me to explain this verse since I had asked Allah’s Messenger ﷺ about it. When I had asked him, Allah Messenger ﷺ also disclosed that no one has asked him besides me since the verse was revealed. It means good dreams that a Muslim sees or is shown them”. [Ahmed 22751]
صحيح، الصحيحة (1786)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عبادہ بن صامت ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر یونس (٣١٠٦) (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٧) (صحیح) (سند میں ایک مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے الصحیحہ رقم: ١٧٨٦ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سچے خواب وہ ہیں جو سحری (صبح) کے وقت آتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that the Prophet ﷺ said, ‘The truest of dreams are those seen a little before dawn’. [Ahmed 11650]
ضعيف، الضعيفة (1732) // ضعيف الجامع الصغير (887) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2274
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٢)، وانظر سنن الدارمی/الرؤیا ٩ (٢١٩٢) (ضعیف) (سند میں دراج بن سمعان ابو السمح کی ابوالہیثم سے روایت ضعیف ہے، اور ابو لہیعہ میں بھی حافظہ میں اختلاط (گڑبڑی) کی وجہ سے ضعیف ہیں )
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشری في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ about Allah’s words: For them are glad tidings in the life of this world. (10: 64) He said, ‘This is a good dream that a Muslim sees or is shown." [Ahmed 22750] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (1786)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2275
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١ (٣٨٩٨) (تحفة الأشراف: ٥١٢٣) (صحیح) (ابن ماجہ کی سند متصل ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، اس لیے کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کرسکتا ہے ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who sees me in a dream has indeed seen me, for the devil does not take up my appearance”. [Ibn Majah 390O Ahmed 3798] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3900)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2276
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوقتادہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، جابر، انس، ابو مالک اشجعی کے والد، ابوبکرہ اور ابوحجیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٢ (٣٩٠٠) (تحفة الأشراف: ٩٥٠٩)، و مسند احمد (١/٣٧٥، ٤٠٠، ٤٤٠)، وسنن الدارمی/الرؤیا ٤ (٢١٨٥) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنے بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، ایسا کرنے پر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے ۔
Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The Ru’ya (good dream) is from Allah while the hulm (bad dream) is from the devil. Thus if one of you sees something that he dislikes then let him spit three times to his left and seek refuge in Allah from the evil of this dream. Then it will not harm him”. [Bukhari 3392 Muslim 2261] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2277
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابورزین عقیلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے ١ ؎، ابورزین کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو ۔
Sayyidina Abu Razin Uqayli (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, the dream of the believer is a part of the forty parts of Prophet ﷺ Hood. It is at the feet of a bird as long as he does not speak about it. When be speaks about it, it settles”. The narrator thought that the Prophet ﷺ said, “Talk not about it except to an intelligent person or to a friend”. [Ahmed 16205]
ابورزین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے ۔
Sayyidina Abu Razin Uqayli (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “A Muslim’s dream is a part of the forty six parts of Prophet ﷺ Hood. It is on the foot of a bird as long as he does not relate it. But when he relates it, it settles”.
صحيح انظر ما قبله (2278)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2279
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے، ٣ - حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے وكيع بن حدس کہا ہے جب کہ شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے وكيع بن عدس کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپ ﷺ کہا کرتے تھے: مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے ، آپ ﷺ کہا کرتے تھے: جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Dreams are of three kinds: true dreams, dreams following a person’s personal experience and sad dreams which are from the devil. If anyone sees what he dislikes then he must stand up and offer salah”. He also said, “I like to see a chain but I dislike being fettered in the neck. The chain is symbolic of steadfastness on religion”. He also said, “If anyone sees me than I am really seen and the devil cannot imitate me”. He also said, “Do not relate the dream save to a learned or to a well-wisher”. [Muslim 2266] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (119 و 120 و 1341)، الروض النضير (1162)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2280
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس، ابوبکرہ، ام العلاء، ابن عمر، عائشہ، ابوموسیٰ، جابر، ابو سعید خدری، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وھو طرف من الحدیث الأول في الکتاب رقم ٢٢٧٠) (تحفة الأشراف: ١٤٤٩٦) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، قیامت کے دن اسے جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا ۔
It is reported on the authority of Sayyidina Ali (RA), the narrator thought that he reported from the Prophet ﷺ that if anyone lies while describing his dream, then he will be charged on the Day of Resurrection to tie a knot to a seed of barley”. [Ahmed 568]
صحيح، الصحيحة (2359)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2281
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that he Prophet ﷺ said, “If anyone describes a false dream then, on the day of Resurrection, he will be asked to tie a knot between two seeds of barley and he will never be able to tie them together”. [Bukhari 7042] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2283
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٤٥ (٧٠٤٢)، سنن ابی داود/ الأدب ٩٦ (٥٠٢٤)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٨ (٣٩١٦) (تحفة الأشراف: ٩٥٨٦)، و مسند احمد (١/٢١٦، ٦٤٦، ٣٥٩) (وانظر تخریج حدیث رقم ١٧٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا پھر اپنا جو ٹھا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ فرمایا: علم سے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “While I was asleep, a bowl of milk was brought to me. I drank from it. Then I gave what remained to Umar (RA) ibn Khattab’. (His sahabah (RA) asked, “so, what is your interpretation of it, O Messenger of Allah, ﷺ ? He said, “Knowledge”. [Bukhari 82]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2284
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ، ابن عباس، عبداللہ بن سلام، خزیمہ، طفیل بن سخبرہ، ابوامامہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علم سے اس کی تعبیر بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دودھ میں بکثرت فائدے ہیں اور رب العالمین اسے گوبر اور خون کے درمیان سے نکالتا ہے اسی طرح علم کے فوائد بےانتہا ہیں، اسے بھی رب العالمین شک اور جہالت کے درمیان سے نکالتا ہے پھر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٢ (٨٢)، وفضائل الصحابة ٦ (٣٦٨١)، والتعبیر ١٥ (٧٠٠٦)، و ١٦ (٧٠٠٧)، و ٣٤ (٧٠٢٧)، و ٣٧ (٧٠٣٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩١)، ویأتي عند المؤلف في المناقب ١٨ (٣٦٨٧) (تحفة الأشراف: ٦٧٠٠) (صحیح )
ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: دین سے ١ ؎۔
Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf reported from some sahabah that the Prophet ﷺ said, “While I was asleep, I saw people being presented to me. They had on them shirts some of whose went up to their chests, some others lower down (up to their navel or knees). Umar (RA) was presented to me and on him was a shirt trailing (on the ground)”. They asked him, “How do you interpret it, O Messenger of Allah, ﷺ He said “Religion”. [Bukhari 23 Muslim 2390]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2285
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عمر ؓ اپنے دین میں اس طرح کامل ہیں اور اسے اس طرح مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے کہ عمر ؓ کا دین ان کے لیے اٹھتے، بیٹھتے، سوتے جاگتے ایک محافظ کی طرح ہے، جس طرح قمیص جسم کی حفاظت کرتی ہے گویا عمر ؓ دینی اعتبار سے اور لوگوں کی بنسبت بہت آگے ہیں اور ان کے دین سے جس طرح فائدہ پہنچ رہا ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد لوگ ان کے دینی کاموں اور ان کے چھوڑے ہوئے اچھے آثار سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
اس سند سے ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
Abd ibn Humayd reported from Yaqub ibn Ibrahim ibn Sa’d, who from his father, who from Salih ibn Kaysan, from Zuhri, from Abu Umamah, from Abu Sa’eed Khudri from the Prophet ﷺ a hadith of the same meaning. --------------------------------------------------------------------------------
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Bakrah reported that one day the Prophet ﷺ asked, “Which of you has seen a dream?” A man said, “I saw as though a scale descended from the heaven. You and Abu Bakr (RA) were weighed and you outweighed Abu Bakr. Abu Bakr (RA) and Umar (RA) were weighed and Abu Bakr (RA) was heavier. Umar (RA) and Uthman were weighed and Umar (RA) outweighed. Then the scale was raised up”. They discerned grief on the face of Allah’s Messenger ﷺ . [Abu Dawud 46341]
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated: Someone asked Allah’s Messenger ﷺ about Waraqah. So, Khadijah told him, “He had confirmed you and he died before you declared (your mission)”. So, Allah’s Messenger said, “I was shown him in my dream. He had on him a white dress. If he were of the people of the fire then he would be wearing garments other than that.
ضعيف، المشکاة (4623) // ضعيف الجامع الصغير (792) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2288
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ اگر کوئی مسلمان خواب میں اپنے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کے جسم پر سفید کپڑا دیکھے تو یہ اس کے حسن حال کی پیشین گوئی ہے کہ وہ جنتی ہے، ورقہ بن نوفل خدیجہ ؓ کے چچیرے بھائی تھے انہوں نے آپ ﷺ کا حال سن کر آپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جو فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے وہ ناموس اکبر ہے، اپنے بڑھاپے پر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس وقت آپ کا ساتھ ضرور دوں گا جس وقت آپ کی قوم آپ کو گھر سے نکال دے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٦) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن متروک الحدیث راوی ہے، خود متن سے بھی اس حدیث کا منکر ہونا واضح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہوگئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی (یعنی سب آسودہ ہوگئے ١ ؎ ) ۔
Sayyidina Abdullah Ibn Umar (RA) reported about the Prophets ﷺ dream of Abu Bakr (RA) and Umar (RA) He said, “I saw people gathered (at a well). Abu Bakr (RA) drew a bucket or two (from the well) and he had some weakness. Allah will forgive him. Then Umar (RA) stood up and pulled it and it had turned into a large bucket. I have not seen a strong man do as he did till the people were well replenished, and they went down to their resting places. [Bukhari 7020]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ ابن عمر ؓ کی روایت سے صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد عمر بن خطاب ؓ کی مضبوط خلافت وامارت کا دور ہے۔