Sunan At-Tirmidhi 2273

خواب کا بیان

2273Sunan At-Tirmidhi

نبوت چلی گئی اور بشارتیں باقی ہیں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ، هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشری في الحياة الدنيا» ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے (یونس: ٦٤ ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔

Ata ibn Yasar narrated: A man from Egypt asked Sayyidina Abu Darda (RA) about those words of Allah the Majestic, the Glorious: For them are glad tidings in the life of this world. (10: 64) He said, “No one besides you and one other man has asked me to explain this verse since I had asked Allah’s Messenger ﷺ about it. When I had asked him, Allah Messenger ﷺ also disclosed that no one has asked him besides me since the verse was revealed. It means good dreams that a Muslim sees or is shown them”. [Ahmed 22751]

صحيح، الصحيحة (1786)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عبادہ بن صامت ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر یونس (٣١٠٦) (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٧) (صحیح) (سند میں ایک مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے الصحیحہ رقم: ١٧٨٦ )