Sunan At-Tirmidhi 2272

خواب کا بیان

2272Sunan At-Tirmidhi

نبوت چلی گئی اور بشارتیں باقی ہیں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زيَادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ، قَالَ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: لَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ: رُؤْيَا الْمُسْلِمِ، وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ كُرْزٍ، وَأَبِي أَسِيدٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہوگا ، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: البتہ بشارتیں باقی ہیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, messenger ship and Prophet ﷺ Hood have ceased. So, there is no Messenger after me and no Prophet ﷺ ”. That seemed hard on the people. So he added, “But the mubashirat (glad tidings)”. The sahabah said, “O Messenger of Allah, ﷺ and what are the mubashirat (glad tidings)?” He said, “Dreams of a Muslim and they are a portion of the portions of Prophet ﷺ Hood”. [Ahmed 13825] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2272
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی بعثت اس امت کے لیے سب سے عظیم بشارت تھی، اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر جو احسان اس امت پر کیا ہے ایسا احسان کسی دوسری امت پر نہیں کیا، اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفراز کیا، رب العالمین اپنے اس احسان کا ذکر کچھ اس طرح فرما رہا ہے «لقد من اللہ علی المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم» (آل عمران: ١٦٤ )، آپ کی ذات گرامی اس امت کے لیے سراپا بشارت ہی بشارت تھی، دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کے فرمان کے مطابق بشارتوں میں سے اچھے خواب کے علاوہ کوئی دوسری چیز باتی نہ رہ گئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح البخاری/التعبیر ٢ (٦٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢)، وط/الرؤیا ١ (١)، و مسند احمد (٣/٦٧) (صحیح )