حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حذیفہ ؓ نے بیان کیا: آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہوگا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں ١ ؎، عمر ؓ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر ؓ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ابو وائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) . asked, “Which of you remembers the sayings of Allah’s Messenger ﷺ about fitnah?” So he Hudhayfah said, “I.” He then narrated, “The trial of a man lies in his family, wealth, children and neighbours (concerning rights attached to them which he violates). They are atoned by salah, fasting, sadaqab, enjoining righteousness and forbidding evil.” Umar (RA) said, “This is not what I asked. I asked about the trial and commotion that will rise like waves of the ocean.” He said, O Amir-ul-Mumineen (Commander of the faithful), there is between you and it a closed door.” Umar asked, “Will it he opened or broken?” He said, “It will be broken.” So, hesaid, “in that case, it will not be closed till the Last Hour.’ Abu Wail said in the hadith of Hammad that he said to Masruq, “Ask Hudhayfah, what is the door ?“ He said, “That is Umar (RA) himself [Bukhari 525,Muslim 144] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3555)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2258
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ گھر کی ذمہ داری سنبھالنے والے سے اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلہ میں ادائے حقوق کے ناحیہ سے جو کوتاہیاں ہوجاتی ہیں تو نماز، روزہ، صدقہ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر وغیرہ یہ سب کے سب ان کے لیے کفارہ بنتے ہیں۔ ٢ ؎: حذیفہ ؓ نے جو کچھ بیان کیا عمر ؓ کی شہادت کے بعد حقیقت میں اسی طرح پیش آیا، یعنی فتنوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا، اور امن وامان نام کی کوئی چیز دنیا میں باقی نہیں رہی، چناچہ ہر کوئی سکون و اطمینان کا متلاشی ہے۔
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ١ ؎ آپ نے فرمایا: سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا ۔
Sayyidina Ka’b ibn Ujrah narrated Allah’s Messenger ﷺ came to us and we were nine people made up of five and four either of the two numbers representing Arabs and non-Arabs. He said, “Listen ! Have you heard that there will be after me, rulers? if anyone goes to them and, despite their falsehood, vouches for their truth and, despite their tyranny, helps them over their oppression, then he does not belong to me and I am not his and he will not make it to my pond. And as for him who does not go to them and does not aid them in their oppression and does not vouch their lies to be true, he is of me and I belong to him and he will come to me at the pond.’ [Nisai 4219] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)
صحيح مضی بزيادة فی متنه (617)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
ہارون کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے «عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن کعب بن عجرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
ہارون کہتے ہیں کہ ہم ہم سے محمد نے «عن سفيان عن زبيد عن إبراهيم وليس بالنخعي عن کعب بن عجرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مسعر کی حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے، اور ابراہیم سے مراد ابراہیم نخعی نہیں ہیں۔ اس باب میں حذیفہ اور ابن عمر ؓ سے بھی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2259
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیعة ٣٥ (٤٢١٢)، و ٣٦ (٤٢١٣) (تحفة الأشراف: ١١١١٠)، و مسند احمد (٤/٢٤٣) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
انطر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١١١٠٦) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہوگا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A time will come on the people when the patient among them on his religion will be like one who holds live coal (in his hand).”
صحيح، الصحيحة (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2260
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ پر آگ کا انگارہ رکھنے والا بےانتہا مشقت و تکلیف برداشت کرتا ہے اسی طرح اس زمانے میں اپنے دین کی حفاظت اسی وقت ممکن ہوگی جب ثبات قدمی اور صبر عظیم سے کام لیا جائے گا، کیونکہ دین پر قائم رہنے والا ایسی مصیبت میں گرفتار ہوگا جیسے چنگاری کو ہاتھ پر رکھنے والا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتادوں؟ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) نہ رہا جائے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood by certain people who were seated. He said, “Shall I inform you of the best of you and the worst of you ?“ They observed silence. So he repeated his words three times, and a .man said, “Of course, O Messenger of Allah, ﷺ Inform us of the best of us and the worst of us.” He said, “The best of you is he from whom his good is expected and his evil is not apprehended. And the worst of you is he from whom his good is not anticipated but his evil is feared.” [Ahmed 3808] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، المشکاة (4993)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2263
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کردیئے جائیں گے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When men of my ummah walk with conceit and children of kings serve them, the kings of Persia and Rome, then worse of them will rule over the best of them.”
صحيح، الصحيحة (957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2261
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٢٥٢) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ، ضعیف ہیں اگلی سند کی متابعت سے یہ حدیث بھی صحیح ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا ، جب عائشہ ؓ آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث یاد کی ١ ؎، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) narrated: Allah protected me with something that I heard from Allah’s Messenger ﷺ when Chosroes was ruined. He asked, ‘Who has succeeded him?” They said, ‘His daughter .” So, the Prophet ﷺ said, ‘People will not prosper when their affairs are dictated by a woman.” Sayyidina Abu Bakrah said, “When Aisha (RA) came, meaning to Busrah, I remembered the saying of Allah’s Messenger ﷺ and thus Allah saved me with this.” [Bukhari 4425] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (2456)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی، عثمان ؓ جب شہید کردیے گئے اور علی ؓ کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی، پھر طلحہ اور زبیر ؓ مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ ؓ سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں، پھر ان سب کی رائے متفق ہوگئی کہ عثمان ؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں، علی ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that the Prophet ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of your rulers and the worst of them? The best of them are they whom you love and they love you and you pray for them and they pray for you. And the worst of them are they whom you despise and they despise you and you curse them and they curse you.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2264
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو عدل و انصاف سے کام لیں گے، ان کے اور تمہارے درمیان محبت قائم ہوگی وہ تمہارے خیرخواہ اور تم ان کے خیرخواہ ہو گے، اور کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو ظلم و زیادتی میں بےمثال ہوں گے، ان میں شر کا پہلو زیادہ غالب ہوگا، اسی لیے تم ان سے اور وہ تم سے بغض رکھیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٩) (صحیح) (سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: ٩٠٧ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمراں ہوں گے جن کے بعض کاموں کو تم اچھا جانو گے اور بعض کاموں کو برا جانو گے، پس جو شخص ان کے برے اعمال پر نکیر کرے وہ مداہنت اور نفاق سے بری رہا اور جس نے دل سے برا جانا تو وہ محفوظ رہا، لیکن جو ان سے راضی ہو اور ان کی اتباع کرے (وہ ہلاک ہوگیا) ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ١ ؎۔
Umm e Salamah (or Abu Salamah) reported from the Prophet ﷺ that he said, There will come over you rulers whom you like and whom you dislike. So, he who dislikes their evil will be absolved, and he who hates them will be safe, but he who is pleased and obeys (will be destroyed). So, it was said, O Messenger of Allah, ﷺ Shall we not light them ?‘ He said, No, as long as they offer salah. [Muslim 1854]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2265
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: منکر کا انکار اگر زبان سے ہے تو ایسا شخص نفاق سے بری ہے، اور دل سے ناپسند کرنے والا اس منکر کے شر اور وبال سے محفوظ رہے گا، لیکن جو پسند کرے اور اس سے راضی ہو تو وہ منکر کرنے والوں کے ساتھ ہے، یعنی جس سزا کے وہ مستحق ہوں گے اس سزا کا یہ بھی مستحق ہوگا، منکر انجام دینے والے بادشاہوں سے اگر وہ نماز کے پابند ہوں قتال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تاکہ فتنہ سے محفوظ رہ سکیں، اور امت اختلاف و انتشار کا شکار نہ ہو، جب کہ نماز کی پابندی نہ کرنے والا تو کافر ہے، اس لیے اس سے قتال جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (١٨٥٤)، سنن ابی داود/ السنة ٣٠ (٤٧٦٠) (تحفة الأشراف: ١٨١٦٦)، و مسند احمد (٦/٢٩٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے حکمراں، تمہارے اچھے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار لوگ، تمہارے سخی لوگ ہوں اور تمہارے کام باہمی مشورے سے ہوں تو زمین کی پیٹھ تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہتر ہے، اور جب تمہارے حکمراں تمہارے برے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار تمہارے بخیل لوگ ہوں اور تمہارے کام عورتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, When your rulers are the best of you and your rich the most generous of you and your affairs are decided on mutual consultation among you then the surface of earth is better for you than its belly. But, when your rulers are the worst of you and your rich are the most niggardly of you and your affairs are in the hands of your women then the belly of the earth is better for you than its surface. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (5368 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (646) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2266
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف صالح المری کی روایت سے جانتے ہیں، اور صالح المری کی حدیث میں ایسے غرائب ہیں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا، حالانکہ وہ بذات خود نیک آدمی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٦٢٠) (ضعیف) (سند میں صالح بن بشیر المری ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایسے زمانہ میں ہو کہ جو اس کا دسواں حصہ چھوڑ دے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہوجائے گا، پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو اس کے دسویں حصہ پر عمل کرے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, You are in an era when if one of you neglects even one-tenth of what he is commanded, he will perish. But, a time will come when if anyone does only one-tenth of what he is commanded, he will be safe.’
ضعيف، الضعيفة (684)، المشکاة (179)، الروض النضير (1076) // ضعيف الجامع الصغير (2038) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2267
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف نعیم بن حماد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوذر اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس وقت جب کہ دین کا غلبہ ہے اس کے معاونین کی کثرت ہے ایسے وقت میں شرعی امور میں سے دسویں حصہ کا ترک کرنا اور اسے چھوڑ دینا باعث ہلاکت ہے، لیکن وہ زمانہ جو فسق و فجور سے بھرا ہوا ہوگا، اسلام کمزور اور کفر غالب ہوگا، اس وقت دین کے معاونین قلت میں ہوں گے تو ایسے وقت میں احکام شرعیہ کے دسویں حصہ پر عمل کرنے والا بھی کامیاب و کامران ہوگا، لیکن اس دسویں حصہ میں ارکان اربعہ ضرور شامل ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٧٢١) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” نعیم بن حماد “ حافظہ کے سخت ضعیف ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة رقم: ٢٥١٠، وتراجع الالبانی ٢٢٤ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: فتنے کی سر زمین وہاں ہے اور آپ نے مشرق (پورب) کی طرف اشارہ کیا یعنی جہاں سے شیطان کی شاخ یا سینگ نکلتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger stood on the pulpit and said, “Here is the land of mischief and trials” and he pointed to the east, “from where rises the horn of the devil.” Or he said, “The horn of the sun.” [Ahmed 5109, Bukhari 3279, Muslim 6648]
صحيح تخريج فضائل الشام / الحديث الثامنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2268
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے فتنہ کا ظہور مدینہ کی مشرقی جہت (عراق) سے ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی یہاں تک کہ (فلسطین کے شہر) ایلیاء میں یہ نصب کیے جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will emerge from Khurasan black flags. No one will be able to check them till they are posted at Eeliya.” (which is Baytal Maqdas). --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (6420) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2269
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا: ”محمد ﷺ کی امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا، اللہ کا ہاتھ ( اس کی مدد و نصرت ) جماعت کے ساتھ ہے، جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- سلیمان مدنی میرے نزدیک سلیمان بن سفیان ہی ہیں، ان سے ابوداؤد طیالسی، ابوعامر عقدی اور کئی اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اہل علم کے نزدیک ”جماعت“ سے مراد اصحاب فقہ اور اصحاب علم اور اصحاب حدیث ہیں، ۴- علی بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: جماعت سے کون لوگ مراد ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوبکر و عمر، ان سے کہا گیا: ابوبکر و عمر تو وفات پا گئے، انہوں نے کہا: فلاں اور فلاں، ان سے کہا گیا: فلاں اور فلاں بھی تو وفات پا چکے ہیں تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوحمزہ سکری جماعت ہیں ۱؎، ۵- ابوحمزہ کا نام محمد بن میمون ہے، وہ صالح اور نیک شیخ تھے، عبداللہ بن مبارک نے یہ بات ہم سے اس وقت کہی تھی جب ابوحمزہ باحیات تھے۔
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Indeed Allah will not gather my Ummah - or he said: [Muhammad's]Ummah upon deviation, and Allah's Hand is over the Jama'ah, and whoever deviates, he deviates to the Fire.
ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔
Sa'eed bin Jumhan narrated: Safinah narrated to me, he said: 'The Messenger of Allah(s.a.w) said: Al-Khilafah will be in my Ummah for thirty years, then there will be monarchy after that. ' Then Safinah said to me: 'Count the Khilafah of Abu Bakr,' then he said: 'Count the Khilafah of 'Umar and the Khilafah of 'Uthman.' Then he said to me: 'Count the Khilafah of 'Ali. ' He said: So we found that they add up to thirty years. Sa'eed said: I said to him: 'Banu Umaiyyah claim that the Khilafah is among them.' He said: 'Banu Az-Zarqa' lie, rather they are a monarchy, among the worst of monarchies. '